امریکہ میں طیارہ حادثے سے قبل کاک پٹ سے آخری کال: ’ہمارا وقت ختم ہو گیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, کریگ ہوئل
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
امریکہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ایک نجی جیٹ طیارہ اتوار کے روز فلوریڈا کے ایک رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام نو افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ حادثہ کریسٹ ہیون کے قریب پیش آیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نجی کلب مار اے لاگو سے تقریباً 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
حادثہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 50 منٹ پر پیش آیا، جو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 50 منٹ بنتا ہے۔
حادثے کی تصاویر میں رہائشی علاقے کی ایک سڑک پر بننے والا گڑھا دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ جگہ جگہ آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور لیئرجیٹ 60 ماڈل کے طیارے کا ملبہ بکھرا ہوا ہے۔
امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے ایک بیان میں کہا کہ طیارہ آسٹن، ٹیکساس سے روانہ ہوا تھا اور بہاماس جا رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSaul Martinez/Getty Images
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس اور پرواز کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثے سے قبل جیٹ طیارہ سینکڑوں فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے نیچے گر رہا تھا۔
ایئر ٹریفک کنٹرول کے پاس ریکارڈ کی گئی ایک آڈیو میں کسی شخص کو یہ اطلاع دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ’درمیانی شدت کے ہچکولے‘ محسوس کر رہے ہیں اور ان کا عملہ ’برفانی صورتحال‘ سے نمٹ رہا ہے۔
اس کے بعد اسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ طیارہ ’برف باری کی زد میں آ رہا ہے‘ اور ’ہمیں مزید بلندی پر جانے کی ضرورت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چند لمحے بعد اسی آواز نے بتایا کہ طیارہ فی منٹ 10,000 فٹ کی رفتار سے نیچے جا رہا ہے۔
عملے کے ایک رکن نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے چیخ کر کہا ’ہم حدِ رفتار سے تجاوز کرنے کی حالت میں ہیں اور فی منٹ 20,000 فٹ کی رفتار سے نیچے جا رہے ہیں۔' پھر اسی آواز نے کہا 'ہم زمین سے جا ٹکرائیں گے۔‘
پہلی مے ڈے کال کے تقریباً 35 سیکنڈ بعد کاک پٹ سے آخری جملہ یہ سنائی دیا: ’ہمارا وقت ختم ہو گیا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی غیر مصدقہ ویڈیو، جو بظاہر گاڑی کے ڈیش کیمرے سے ریکارڈ کی گئی تھی، وہ لمحہ دکھاتی ہے جب حادثہ ہوا۔
اس میں رہائشی علاقے کی سڑک پر چلتی گاڑیاں نظر آتی ہیں، پھر اچانک ایک طیارہ تقریباً عمودی زاویے سے زمین کی طرف گرتا ہے اور دھماکے کے بعد آگ لگ جاتی ہے۔
فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے حادثے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ویڈیو دیکھنا دہلا کر رکھ دیتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے کہا: ’یہ بالکل ایسے لگتا ہے جیسے کوئی میزائل نیچے آ رہا ہو، پھر ایک زبردست دھماکہ ہوتا ہے اور ملبہ ہر طرف بکھر جاتا ہے۔‘
ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثے کے وقت طیارے میں کون سوار تھا۔
ڈی سینٹس نے کہا: ’فی الحال ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ زمین پر موجود کوئی شخص ہلاک یا زخمی ہوا ہو۔‘
وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے اس حادثے کو ’ہولناک سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف اے اے ایک ٹیم موقع پر بھیج رہی ہے تاکہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کو حادثے کی تحقیقات میں مدد دے سکے۔
شان ڈفی نے مزید کہا: ’آئیے ان افراد کے اہل خانہ اور عزیزوں کے لیے دعا کریں جنھیں ہم نے کھو دیا ہے۔‘
پام بیچ کاؤنٹی فائر ریسکیو نے اسے ایسا واقعہ قرار دیا ہے جس میں ’بڑا جانی نقصان‘ ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پام بیچ کاؤنٹی شیرف آفس نے کہا کہ حادثہ ملٹری ٹریل پر پیش آیا، جو چھ رویہ سڑک ہے اور جس کے اطراف کاروباری مراکز اور کھانے پینے کی جگہیں موجود ہیں۔
پریس کانفرنس میں رون ڈی سینٹس اور مقامی حکام نے بتایا کہ قریبی ٹریلر پارک آبادی سے 600 مقامی رہائشیوں کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق حادثے کے اثرات سے مقامی انفراسٹرکچر کو خاصا نقصان پہنچا ہے، جس میں پانی کی لائنیں بھی شامل ہیں، اور سڑک کو دوبارہ کھولنے میں کم از کم 30 دن لگیں گے۔
حادثے کے وقت علاقے میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کی اطلاعات تھیں، اور پریس کانفرنس کے دوران بھی شدید بارش ہو رہی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ اتوار کی صبح مار اے لاگو میں موجود تھے اور حادثے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل قریبی ہوائی اڈے سے ایئر فورس ون کے ذریعے روانہ ہو گئے تھے۔



















