پاکستان اور انڈیا کے الزامات، بی ایل اے کا تذکرہ اور روس کی افغانستان سے جڑی تشویش: اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کیا ہوا؟

X.com

،تصویر کا ذریعہX.com

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 10 منٹ

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستان اور انڈیا کے نمائندوں کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام سے متعلق الزامات عائد کیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں انڈیا کی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے، جس کے لیے افغان سرزمین پر سرگرم بعض دہشت گرد گروہوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو انڈیا کی طالبان سے بڑھتی ہوئی قربت پر حیرت نہیں، کیونکہ یہ تبدیلی پاکستان کی کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی۔

پاکستان کی جانب سے ملک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث شدت پسند گروہوں کو ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دینے کے معاملے پر بھی دونوں ملکوں کے نمائندوں کے درمیان گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ پاکستانی مندوب نے خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے انڈیا کی پراکسی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے اور مبینہ طور پر اس کی معاونت اور مالی مدد حاصل کرتی ہے۔

انڈین نمائندے نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانیہ سرکاری سرپرستی میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی خصوصی نائب نمائندہ جارجیٹ گیگنن نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں اور اس مسئلے پر تعمیری مکالمہ ضروری ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی، انسانی بحران اور افغانستان کے مستقبل پر تفصیلی بحث ہوئی۔

اقوامِ متحدہ نے انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم اور معاشی مشکلات پر تشویش ظاہر کی، جبکہ روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

’اپنی ناکامیوں کا الزام پڑوسی ممالک پر عائد کرنا پاکستان کی پرانی عادت ہے‘ انڈین مندوب کا الزام

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں انڈیا کے مستقل نمائندے سفیر ہریش پریتھم نے انڈیا کے مؤقف کے دس اہم نکات پیش کیے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سفیر ہریش نے کہا کہ افغانستانی برآمدات کے لیے انڈیا ایک بڑی منڈی بن چکا ہے جبکہ انڈیا کی جانب سے قائم کردہ خصوصی فضائی مال برداری راہداری، پاکستان کی جانب سے افغانستان پر مسلط تجارتی اور ٹرانزٹ رکاوٹوں اور دہشت گردی سے بالکل مختلف ہے۔

انڈیا کے نمائندے نے کہا کہ اقوام متحدہ اور کثیرالجہتی نظام کوئی ایسا ’مینو‘ نہیں جس میں پاکستان اپنی پسند کے مطابق انتخاب کرے۔

انھوں نے پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملوں، سرحد پار فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

سفیر ہریش نے الزام عائد کیا کہ اپنی ناکامیوں کا الزام پڑوسی ممالک پر عائد کرنا پاکستان کی پرانی عادت ہے اور دنیا کو گمراہ کرنے کی یہ کوشش ناکام ہو گی۔ انھوں نے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فوجی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’کسی قتلِ عام کو فوجی کارروائی کا نام دینے سے ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ شہریوں کو قتل، زخمی یا یتیم کرنا دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں کہلا سکتا۔‘

انھوں نے پاکستان پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بین الاقوامی قانون اور اسلامی یکجہتی کی باتیں کرتے ہوئے رمضان المبارک میں فضائی حملے کرنا کھلی منافقت کی مثال ہے۔‘

سفیر ہریش نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی حکومت کا اپنے ہی ملک کے اندر گروہوں کو ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دینا دراصل سرکاری سرپرستی میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیہ ہے جسے مذہبی اصطلاحات میں پیش کیا جا رہا ہے۔

https://x.com/AmbHarishP

،تصویر کا ذریعہhttps://x.com/AmbHarishP

پاکستان کا جواب: ’افغانستان میں انڈیا کی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے‘

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان اور انڈین نمائنوں کے بیانات پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مارچ میں کی گئی کارروائیوں سمیت پاکستان کے تمام اقدامات صرف افغانستان سے سرگرم دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف تھے، اور ان کا مقصد افغان عوام کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں تھا۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں میں ڈرون ذخیرہ گاہوں، تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہو رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ یہ حملے انتہائی درست، سوچے سمجھے اور پیشہ ورانہ انداز میں کیے گئے اور کسی ہسپتال، منشیات بحالی مرکز یا شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے فوراً بعد وزارتِ اطلاعات کی جانب سے حملوں کی ویڈیوز جاری کی گئیں جن سے اہداف کی نوعیت واضح ہوتی ہے، جبکہ ثانوی دھماکوں سے اسلحہ ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بیشتر مقررین نے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، تاہم تقریباً تمام شرکا نے ان نکات پر تشویش ظاہر کی، سوائے انڈیا کے۔

پاکستانی نمائندے نے انڈین مندوب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے افغانستان میں ترقیاتی اور انسانی امداد کے منصوبوں کی طویل فہرست پیش کی، لیکن اس کا اصل مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا تھا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں انڈیا کی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے، جس کے لیے افغان سرزمین پر سرگرم بعض دہشت گرد گروہوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ انھوں نے خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے انڈیا کی پراکسی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بی ایل اے کو ’فتنہ الہندوستان‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ تنظیم پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام پھیلانے کے لیے انڈیا کی معاونت اور مالی مدد حاصل کرتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو انڈیا کی طالبان سے بڑھتی ہوئی قربت پر حیرت نہیں، کیونکہ یہ پالیسی تبدیلی پاکستان کی کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

انھوں نے افغان مندوب کی جانب سے افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کا خیرمقدم کیا، تاہم انڈین مندوب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نہ تو ٹی ٹی پی اور نہ ہی بی ایل اے کی مذمت کی، حالانکہ ان گروہوں کے حملوں میں متعدد پاکستانی شہری، خواتین، بچے اور سکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ پاکستان انڈیا کی پالیسیوں اور مبینہ کردار سے بخوبی آگاہ ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو کسی قسم کی کوئی حیرت نہیں۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں دہائیوں سے جاری تنازعات اور عدم استحکام کے اثرات کسی بھی ملک سے زیادہ پاکستان نے برداشت کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن، خوشحالی اور استحکام سے سب سے زیادہ فائدہ بھی پاکستان ہی کو پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے ایک مستحکم افغانستان ناگزیر ہے۔

https://x.com/PakistanPR_UN

،تصویر کا ذریعہhttps://x.com/PakistanPR_UN

’انڈیا دہشت گردی کا ریاستی سرپرست ہے‘

عاصم افتخار احمد نے انڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انڈیا کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ انڈیا دہشت گردی کا ریاستی سرپرست ہے، نہ صرف انڈیا کے زیرِ انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلکہ افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھی، اس کے علاوہ انڈیا کھلے عام دیگر مقامات پر بھی دہشت گردی کی معاونت، پشت پناہی اور مالی مدد کر رہا ہے۔

انھوں نے شمالی امریکہ، کینیڈا اور اس ملک، امریکہ میں ٹارگٹ کلنگز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری میں اب انڈیا کی بیرونِ ملک ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت کی کارروائیوں سے متعلق خدشات اور آگاہی بڑھ رہی ہے اور سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ انڈیا کے نمائندے کے حالیہ ریمارکس پاکستان کے خدشات کی مزید تصدیق کرتے ہیں اور ان کا طرزِ عمل سلامتی کونسل اور عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ گذشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں 1200 سے زائد پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کے بقول یہ افراد عام شہری تھے جن کے خاندان، خواب اور بہتر مستقبل کی امیدیں تھیں، لیکن وہ دہشت گردی کا نشانہ بنے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ انڈیا سلامتی کونسل میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان میں ہونے والے خونریزی کے واقعات میں اپنے مبینہ کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ انڈیا بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کی بات کرتا ہے، تاہم پاکستان کے نزدیک انڈیا کا اپنا ریکارڈ سوالات کی زد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات موجود ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین اور بچیوں کے حقوق پر گفتگو کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا کے اندر مذہبی اقلیتوں، بشمول مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کے ساتھ سلوک پر بھی سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق انڈیا میں اختلافی آوازوں کے لیے ماحول محدود ہوتا جا رہا ہے۔

انھوں نے انڈیا پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دینا بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی روح کے منافی ہے۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں کرکٹ اور کھیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے ذریعے امن اور ہم آہنگی کے پیغامات دینے کے دعووں کے ساتھ عملی رویوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنے داخلی مسائل پر توجہ دے اور پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف جارحانہ اور مداخلت پسند پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

’افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں‘

افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خصوصی نائب نمائندہ جارجیٹ گیگنن نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں بظاہر استحکام نظر آتا ہے، تاہم ملک کو درپیش انسانی، معاشی اور انسانی حقوق کے بحران بدستور سنگین ہیں اور مہاجرین کی واپسی اور محدود وسائل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خواتین اور بچیوں پر پابندیاں، بے روزگاری اور انسانی ضروریات کی کمی نہ صرف عوامی مشکلات بڑھا رہی ہیں بلکہ ملک کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا رہی ہیں۔

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی بندشوں، سکیورٹی واقعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تجارت، انسانی امداد اور عوامی روابط متاثر ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سرحدی جھڑپوں میں شہری ہلاکتیں تشویشناک ہیں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ نے دونوں ممالک سے کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

جارجیٹ گیگنن نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں اور اس مسئلے پر تعمیری مکالمہ ضروری ہے۔

انھوں نے افغانستان سے متعلق دوحہ عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طالبان حکام کے ساتھ رابطے کا مقصد ان کی حکومت کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ افغان عوام کی مدد، صورتحال کی نگرانی اور افغانستان کو عالمی برادری میں دوبارہ شامل کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

روس کا پاکستان، افغانستان سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات جاری رکھنے پر زور

اجلاس میں روس کی نائب مستقل مندوب آنا ایوستگنیوا نے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے اور روس اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے افغانستان میں داعش خراسان (آئی ایس کے) کی موجودگی کو خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہے اور بیرونی مالی معاونت حاصل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق داعش افغانستان میں موجود دیگر شدت پسند گروہوں سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

روسی مندوب نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن، دہشت گردی اور منشیات سے پاک معاشرہ نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔