خون کے دھبے اور گلیشیئر گرنے کا خطرہ: براڈ پیک پر 10 لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کا مشن کیسا تھا

براڈ پیک آپریشن

،تصویر کا ذریعہWaqar Ali

،تصویر کا کیپشنحادثے کے اگلے دن شروع ہونے والی تلاش اور بچاؤ کی کارروائی کئی دن جاری رہی تھی
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما وقار علی اور نیپالی کوہ پیما سانوں شرپا 30 جولائی کو کے ٹو کے بیس کیمپ میں موجود تھے۔

یہ وہی دن تھا جب نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیما دنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک کو سر کرنے کے لیے کیمپ ون سے آگے بڑھ چکے تھے۔

ان دس کوہ پیماؤں میں ہنزہ کے ہی سہیل سخی بھی شامل تھے۔ وقار علی نے صبح تقریباً نو بجے سہیل سخی سے رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی اور کچھ ہی دیر بعد، تقریباً 10 بجے وقار کو معلوم ہوا کہ براڈ پیک پر ایک بڑا برفانی تودہ گرا ہے۔

یہ اطلاع ملنے پر وقار علی نے ’براڈ پیک‘ پر موجود کوہ پیماؤں سے مختلف ذرائع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم انھیں کامیابی نہیں ملی۔

اُنھوں نے اس حادثے کی اطلاع ان کوہ پیماؤں کے ٹور آپریٹرز کو دی تاہم خود فیصلہ کیا کہ وہ سانوں شرپا کے ساتھ اگلی صبح خود براڈ پیک پر جائیں گے اور وہاں ریسکیو آپریشن میں حصہ لیں گے۔

30 جولائی کو براڈ پیک پر جو برفانی تودا گرا وہ اپنے ساتھ معروف نیپالی کوہ پیما نرمل شرما سمیت 10 کوہ پیماؤں کی زندگی بھی لے گیا۔ ان کوہ پیماؤں جن میں زیادہ تر نیپالی شہری تھے لیکن ان کے ساتھ ایک پاکستانی، ایک امریکی، ایک عمانی اور ایک چینی شہری بھی اس مہم کا حصہ تھے۔

حادثے کے اگلے دن شروع ہونے والی تلاش اور بچاؤ کی کارروائی کئی دن جاری رہی اور ایک مشکل آپریشن اور موسم بہتر ہونے کے بعد براڈ پیک اور اس کے قریب مختلف مقامات سے ملنے والی سات لاشوں اور باقیات کو پہلے سکردو اور پھر اسلام آباد پہنچایا گیا جہاں سے انھیں ان کے متعلقہ ممالک کی جانب روانہ کیا گیا۔

براڈ پیک پر تودہ گرنے سے لاشوں کی وطن روانگی تک کے سفر کو عالمی میڈیا میں بھی بھرپور کوریج ملی۔ بی بی سی نے اس مشکل اور دشوار گزار پہاڑ پر ہونے والے ریسکیو آپریشن سے متعلق جاننے کے لیے اس میں شامل کوہ پیماؤں سے بات کی ہے۔

وقار علی نے براڈ پیک پر کیا دیکھا؟

براڈ پیک ریسکیو آپریشن

،تصویر کا ذریعہwaqar ali

وقار علی کے مطابق اس سیزن میں ’براڈ پیک‘ پر کسی نے الگ سے بیس کیمپ نہیں بنایا تھا بلکہ کے ٹو پر قائم کردہ بیس کیمپ ہی کو استعمال کیا جا رہا تھا۔

جب حادثہ پیش آیا تو کے ٹو بیس کیمپ پر وقار علی اور سانوں شرپا کے علاوہ کوئی ماہر کوہ پیما موجود نہیں تھے۔

تاہم وقار علی اور سانوں شرپا نے 31 جولائی کو بیس کیمپ کے عملے کے ایسے ارکان کے ساتھ مل کر براڈ پیک پر اپنے سفر کا آغاز کیا، جو کہ باقاعدہ کوہ پیما تو نہیں تھے مگر اس امدادی کارروائی میں حصہ لینے کو تیار تھے۔

وقار علی کے مطابق جب وہ حادثے کے بعد براڈ پیک پر پہنچے تو وہاں انتہائی تکلیف دہ مناظر دیکھنے کو ملے۔

وقار علی کہتے ہیں کہ ان کے اندازے کے مطابق ممکنہ طور پر برفانی تودہ براڈ پیک پر 6600 میٹر کی بلندی پر گرا ’جس نے ان کوہ پیماؤں کو مختلف مقامات پر دھکیل دیا تھا۔ مختلف کوہ پیماؤں کا سامان ادھر اُدھر بکھرا ہوا تھا۔ کسی کا بیگ ایک طرف تھا تو کسی اور کا بیگ دوسری طرف۔

وقار علی

،تصویر کا ذریعہWaqar Ali

،تصویر کا کیپشنوقار علی براڈ پیک پر تودہ گرنے کے بعد امدادی کارروائی شروع کرنے والوں میں شامل تھے

’میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دیکھ سکتا تھا کہ گلیشیئر پر خون نظر آ رہا تھا۔ ہمیں ایک مقام پر، جو کہ تقریباً 4200 میٹر پر تھا، اندازہ ہوا کہ شاید کوئی لاش پڑی ہے۔ ہم نے برف کھودی تو وہاں سے ایک لاش نکل آئی۔ اسے ہم نے محفوظ کیا تو پھر تھوڑی ہی فاصلے پر ہمیں اندازہ ہوا کہ ایک اور لاش بھی موجود تھی۔ اس کو برف سے نکالا گیا اور پھر ہمیں ایک تیسری نامکمل لاش بھی ملی تھی۔‘

وقار علی کا کہنا تھا کہ ’ان لاشوں کو ہم نے محفوظ طریقے سے پیک کیا اور انھیں ایسے مقام پر لے کر آئے جہاں ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر اتر سکے کیونکہ ہم نے دو مکمل اور ایک نامکمل لاش کے ملنے کی اطلاع فراہم کردی تھی اور ہمیں کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر ان لاشوں کو لینے کے لیے آ سکتا تھا۔‘

ان کے مطابق ’ہم نے کدالوں اور بیلچوں کی مدد سے ہیلی پیڈ بنایا اور وہاں ہیلی کاپٹر نے لینڈنگ کی تھی۔ یہ مشکل لینڈنگ تھی تاہم یہ محفوظ طریقے سے مکمل ہو گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسی ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے ممتاز کوہ پیما سرباز خان بھی پہنچے تھے۔

ڈرون سے لاشوں کے مقام کی شناخت ہوئی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

براڈ پیک پر حادثے کے وقت کے ٹو پر بھی مختلف کوہ پیماؤں کی مہم جوئی جاری تھی جن میں عابد بیگ، شہزاد بیگ، نیپالی کوہ پیما منگما جی اور دیگر شامل تھے۔

یہ سب کوہ پیما آپس میں قریبی تعلق رکھتے ہیں اور ان پاکستانی اور نیپالی کوہ پیماؤں میں ایک مشترکہ تعلق یہ ہے کہ وہ سب نرمل پرجا کو اپنا استاد مانتے ہیں۔

وقار علی کے مطابق حادثے کی اطلاع ملنے پر منگما جی جو کے ٹو پر چھ ہزار میٹر کی بلندی کے قریب موجود تھے، مہم جوئی ترک کرکے واپس بیس کیمپ پہنچے۔

وقارعلی کا کہنا تھا کہ ’دوسرے دن ہم دوبارہ ’براڈ پیک‘ پر ریسکیو آپریشن شروع کرنا چاہتے تھے مگر اس موقع پر نیپالی کوہ پیما منگما جی نے ہمیں ہدایت کی کہ ابھی ہم یہ آپریشن شروع نہ کریں بلکہ وہ ڈرون کے ذریعے پہلے تلاش کا کام کریں گے اور پھر اس کے بعد زمینی آپریشن شروع کیا جائے۔‘

پاکستانی کوہ پیما کے مطابق منگما جی نے ڈرون کے ذریعے تلاش کا کام کیا اور بتایا کہ چار لاشیں اس وقت اس مقام پر پڑی ہیں جہاں برفانی تودا گرا تھا اور یہ مقام تقریباً 5600 میٹر کے لگ بھگ بلندی پر ہے۔

وقار علی کا کہنا تھا کہ ’اس دوران ہمیں منگما جی نے بتایا کہ اُنھوں نے ممکنہ طور پر لاشوں کا مقام شناخت کرلیا ہے اور وہ خود بھی بیس کیمپ پہنچ گئے تھے۔ میں شہزاد اور سرباز خان دوبارہ کیمپ ون کی طرف جارہے تھے کہ ہمیں منگما جی کا پیغام ملا کہ ہم واپس پہنچ جائیں، مل کر منصوبہ بندی کرکے تلاش کا کام کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ایک اور لاش کے مقام کی شناخت ہوئی۔ یہ جگہ اس کے قریب تھی جہاں سے پہلے لاشیں ملی تھیں۔

براڈ پیک ریسکیو آپریشن

،تصویر کا ذریعہwaqar ali

’ٹریکر کی لوکیشن تبدیل ہو رہی تھی‘

ہنزہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور کوہ پیما عابد بیگ بھی براڈ پیک حادثے کے وقت کے ٹو پر اپنی مہم جوئی کے لیے چھ ہزار میٹر سے بلندی پر موجود تھے۔

حادثے کا سننے کے بعد اُنھوں نے اپنی مہم جوئی ترک کی اور واپس بیس کیمپ پہنچ گئے، جہاں پر اُنھوں نے منگما جی کے ساتھ مل کر مہم جوئی میں شرکت کی۔

عابد بیگ کا کہنا تھا کہ تلاش کی کارروائی کے دوسرے دن پاکستانی اور نیپالی کوہ پیماؤں کی قابلِ ذکر تعداد امدادی سرگرمیوں کے لیے جمع ہو چکی تھی۔

’ہم سب نے مشترکہ طور پر سب سے سینیئر منگما جی کو اس ریسکیو ٹیم کا سربراہ تسلیم کرلیا تھا۔ ہم سب اس لیے اکٹھے ہوئے تھے کہ شاید ہم ان کے زندہ بچ جانے میں مدد فراہم کرسکیں۔ مگر جب ان کے ٹریکر کی لوکیشن چیک کی تو اُمیدیں کم ہونے لگیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سہیل سخی کے ٹریکر کی لوکیشن چیک کی گئی تو ہم پر انکشاف ہوا کہ پہلے اس کی لوکیشن چھ ہزار دو سو میٹر پر تھی جبکہ اب اس کی لوکیشن چار ہزار میٹر پر پائی جا رہی تھی۔

اس طرح جن کوہ پیماؤں کے ٹریکر دستیاب تھے، ان کے ساتھ بھی یہی سلسلہ تھا کہ حادثے سے پہلے ان کی لوکیشن اوپر تھی اور حادثے کے بعد سب ٹریکر کی لوکیشن سو سے لے کر دو، تین سو میٹر نیچے تھی۔ یہ ہمیں بتانے کے لیے کافی تھا کہ ہمیں ان کے زندہ بچ جانے کی امید نہیں کرنی چاہیے۔

براڈ پیک آپریشن

،تصویر کا ذریعہwaqar ali

،تصویر کا کیپشنتلاش اور بچاؤ کے آپریشن میں نیپالی کوہ پیما بھی شامل تھے

’گلیشیئر ٹوٹ کر گر رہا تھا اور ہم بال بال بچے‘

عابد بیگ کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران بھی انھیں خطرات کا سامنا رہا۔

’میں اور سرباز اگلی صبح ایک مقام پر گلیشیئر کا ملبہ کھود کر لاش تلاش کر رہے تھے کہ اچانک ہم نے اس مقام پر سے آواز سنی جہاں پر پہلے ملبہ گرا تھا۔ یہ آواز ایسی تھی جیسے کچھ ٹوٹ رہا ہو۔ ہم فوراً سمجھ گئے کہ گلیشیئر ٹوٹ کر گر رہا ہے۔

’اس وقت ہم ایک کھائی میں ریسکیو کررہے تھے۔ ہم دونوں فوراً وہاں سے بھاگے اور کوئی 30 سیکنڈ کے فرق سے بچے۔ جب ہم وہاں سے بھاگے تو اس وقت اوپر سے ملبہ ہمارے سامنے آ کر گرا۔ اگر ہمارے حواس بحال نہ ہوتے اور ہم چوکنا نہ ہوتے اور اس آواز پر توجہ نہ دیتے تو شاید یہ ملبہ ہمارے اوپر گر جاتا۔

ملبہ گرنے کے بعد ’میں نے اور سرباز نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور سوچا چلو ہم بچ گئے۔ اب یہ ریسکیو آپریشن جاری رکھ سکتے ہیں۔‘

عابد بیگ کا کہنا تھا کہ وہ جس مقام پر پہلے ملبہ کھود رہے تھے وہاں پر اب اور ملبہ گر چکا تھا۔ ’ہمارا کام دگنا ہو گیا تھا مگر ہم نے لاشوں کو تلاش کرنا تھا۔ اس لیے ہم نے دوبارہ اپنا کام شروع کیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہمیں وہاں سے دو اور لاشیں مل گئیں۔‘

Broad Peak

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی ہم ان لاشوں کو محفوظ ہی کررہے تھے کہ اس کے فوراً بعد ہمیں ایک اور لاش نظر آئی۔ ہمیں فوراً سمجھ میں آگیا کہ یہ لاش اوپر ملبے سے آئی ہے۔‘

عابد بیگ کا کہنا تھا کہ باقی لاشوں کی تلاش کا کام نیپالی کوہ پیماؤں نے کیا۔

ان کے مطابق پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش برآمد نہیں کی جا سکی لیکن اس کے ممکنہ مقام کی نشاندہی کر لی گئی تھی۔

’ہمیں اندازہ ہے کہ سہیل سخی کی لاش کہاں پر ہے مگر ہمارے لیے کیا کسی کے لیے بھی وہاں پر اس وقت آپریشن کرنا ممکن نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اور سرباز نے فیصلہ کیا ہے کہ جب گلیشیئر تھوڑا پگھل جائے گا اور راستے آسان ہوجائیں گے تو ہم دوبارہ ستمبر میں سہیل سخی اور ایک اور نیپالی کی لاش کو نکالنے کے لیے جائیں گے۔‘