جاپان کی انڈین آموں پر پابندی: کیا پھلوں میں موجود کیڑے دوسرے ممالک میں پہنچ کر فصلیں تباہ کر سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مریدولیکا جھا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
دنیا میں آموں کا سب سے بڑا پیداواری ملک انڈیا ہےجہاں آم کی لگ بھگ 1000 کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں، جن کا ذائقہ دنیا کے کئی ممالک میں پسند کیا جاتا ہے۔
انڈیا کے آموں کے پرستار ممالک میں سے ایک جاپان بھی ہے۔ لیکن اس سال جاپان میں رہنے والے افراد آموں کا ذائقہ نہیں چکھ سکیں گے کیونکہ جاپان نے اس سال انڈیا سے آموں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی کیڑوں کے خاتمے کے عمل میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد لگائی گئی ہے۔
اس سے قبل 1980 کی دہائی میں بھی جاپان نے انڈیا سے آم خریدنے بند کر دیے تھے۔
یہ پابندی ایک احتیاطی اقدام کے طور پر عائد کی گئی تھی۔ جاپان کو خدشہ تھا کہ انڈیا سے پھلوں کے کیڑوں کے انڈے یا لاروے ان کے ملک تک پہنچ سکتے ہیں جس سے خود جاپانی زراعت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہDhiraj Singh/Bloomberg via Getty Images
اس کے تقریباً بیس برس بعد کے بعد جاپان نے انڈین آموں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے لیکن تاریخ ایک بار پھر خود کو دہراتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
دو دہائیوں بعد جاپان نے ایک بار پھر انڈیا سے آموں کی درآمد روک دی ہے۔ یہ فیصلہ جاپان کی جانب سے انڈیا کی ٹریٹمنٹ سہولیات میں خامیاں پائے جانے کے بعد کیا گیا۔
درحقیقت ہر سال آم کے موسم میں جاپان دہلی میں اپنے معائنہ کار بھیجتا ہے۔ یہ اہلکار ’ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ‘ نامی ایک خصوصی عمل کے ذریعے آموں کا معائنہ کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ایک ایسا عمل ہے جو آموں کو کیڑوں اور ان کے انڈوں سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں پھل کو ایک مخصوص مدت کے لیے گرم ہوا کے چیمبر میں رکھا جاتا ہے، جس سے پھل کے اندر موجود کیڑے اور لاروے ختم ہو جاتے ہیں۔
اس سال معائنے کے دوران آموں کے ٹریٹمنٹ کے عمل میں خامیاں پائی گئیں۔
اس کے بعد جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا اور انڈین آموں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ جاپانی حکام کے مکمل طور پر مطمئن ہونے تک انڈیا سے آموں کی درآمد معطل رہے گی۔ یہ پورا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آموں کا عروج کا موسم جاری ہے۔
برآمد کنندگان پہلے ہی کئی ممالک میں جاری کشیدگی کے باعث متاثر ہیں۔ سمندری راستوں میں خلل کے باعث شپنگ انشورنس کی لاگت بڑھ گئی ہے، جس سے شپنگ کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا اثر نہ صرف آموں کی برآمد پر بلکہ دیگر اشیا کی برآمد پر بھی پڑ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRaj K Raj/Hindustan Times via Getty Image
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینٹرل انسٹیٹیوٹ فار سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر کے سابق ریسرچ ڈائریکٹر شیلندر راجن نے کہا کہ ’اگر کسی کھیپ میں مقررہ حد سے زیادہ باقیات یا دیگر خامیاں پائی جائیں تو اسے روک دیا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’ہر ملک کے اپنے قواعد ہوتے ہیں لیکن جاپان کو سخت ترین منڈیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کے حکام معمولی خامیوں کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرایا گیا تھا کیونکہ وہ فروٹ فلائی سے بچنا چاہتے تھے۔‘
کیا جاپان میں انڈین آموں پر پابندی دیگر ممالک میں آموں کی کھپت کو کم کرے گی؟
اس کے جواب میں شیلندر راجن کہتے ہیں کہ انڈیا اپنے زیادہ تر آم خلیجی ممالک کو برآمد کرتا ہے، جہاں قواعد جاپان کی طرح سخت نہیں ہیں۔
ان کے مطابق یہ پابندی بڑے اثر کا باعث بننے کا امکان نہیں رکھتی۔
وہ کہتے ہیں کہ ہر ملک کے اپنے ضوابط اور معیار ہوتے ہیں، اور برآمد کنندہ ممالک کو اسی کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوتا ہے۔
انڈیا بھی اسی کے مطابق اپنے نظام میں بہتری لا رہا ہے۔
بہت سے ممالک پھلوں اور سبزیوں کی درآمد سے پہلے ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ کی شرط رکھتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پھلوں کو درآمد کرنے کے ساتھ کوئی بیماری نہ آئے۔ جاپان اس معاملے میں خاص طور پر سخت سمجھا جاتا ہے۔
یہ سختی جاپان کے طویل تجربے کا نتیجہ ہے۔ 1970 کی دہائی میں ملک کے جنوبی حصے میں فروٹ فلائی پھیلنا شروع ہوئی، جس سے آم، پپیتا اور دیگر کئی پھلوں کی فصلیں متاثر ہوئیں۔ اس مسئلے کے خاتمے کے لیے جاپان نے بڑے پیمانے پر ایک مہم شروع کی۔
یہ ایک طویل اور مہنگا عمل تھا جس میں کئی سال لگے۔
اس تجربے کے نتیجے میں کاشتکاری اور درآمدات سے متعلق ضوابط مزید سخت کر دیے گئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کیڑوں کے لیے صفر برداشت کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔
دو دہائیوں پر محیط پابندی کے خاتمے کے لیے انڈیا میں ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (VHT) کے کئی پلانٹس قائم کیے گئے اور برآمدات کا آغاز ہوا۔

،تصویر کا ذریعہBhaskar Paul/The India Today Group via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا آموں کا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے۔ زرعی اور پراسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(اپیڈا) کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیا دنیا کی مجموعی آموں کی پیداوار کا تقریباً 40 سے 45 فیصد پیدا کرتا ہے۔
یہاں آموں کی تقریباً 1000 اقسام دستیاب ہیں جن کا ایک بڑا حصہ ملک کے اندر ہی استعمال ہو جاتا ہے۔
شمال سے جنوب تک آموں کی اقسام اور ذائقے مختلف ہوتے ہیں۔ عام طور پر کھانے کے علاوہ اسے مختلف طریقوں سے محفوظ بھی کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سب سے بڑا پیداواری ملک ہونے کے باوجود آموں کی برآمدات کم رہتی ہیں۔
اپیڈا کے مطابق ملک نے 2024-25 میں تقریباً 30 ہزار ٹن تازہ آم برآمد کیے۔ ان میں سے سب سے زیادہ برآمدات متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ، کویت اور قطر کو کی گئیں۔
جاپان اور انڈیا کے درمیان معاہدے کے تحت آموں کی کچھ مخصوص اقسام برآمد کی جاتی تھیں، جن میں الفانسو، کیسر، بنگانپلی، لنگڑا، چونسا اور مالیکا شامل ہیں۔
الفانسو ہمیشہ سے ایک مقبول انتخاب رہا ہے۔ مہاراشٹر کے رتنگیری اور دیوگڑھ میں اگایا جانے والا یہ آم اپنے ذائقے، خوشبو اور گودے کی وجہ سے ممتاز سمجھا جاتا ہے۔
یہ قسم جاپانی منڈی میں ایک لگژری سمجھی جاتی تھی، لیکن اب اسے غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔
مختلف تجارتی رپورٹوں کے مطابق انڈیا سے جاپان کو آموں کی برآمد عام طور پر ہر سال چند سو ٹن سے لے کر تقریباً دو ہزار میٹرک ٹن تک رہی ہے۔
یہ مجموعی برآمدات کے ایک فیصد سے بھی کم سمجھی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کے مطابق یہاں مسئلہ مقدار کا نہیں بلکہ معیار کا ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے معیار کے سخت کنٹرول کے لیے جانا جاتا ہے، اس نے انڈیا سے آموں کی درآمد روک دی ہے۔
جاپان جیسے ملک کے لیے یہ صرف آموں کا معاملہ نہیں بلکہ پورے برآمدی نظام کی ساکھ کا سوال ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا ایک اشارتی اثر بھی ہو سکتا ہے یعنی ایسا اثر جس سے دوسرے لوگ یا ممالک بھی اسی طرح سوچنا شروع کر دیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا اثر صرف جاپان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ دیگر غیر ملکی منڈیوں کے لیے بھی ایک اشارہ بن سکتا ہے۔
انڈیا کے لیے یہ بحران ایسے وقت میں آیا ہے جب آم کی فصل، خصوصاً کئی اعلیٰ اقسام، پہلے ہی متاثر ہو چکی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مینگو گروورز ایسوسی ایشن آف انڈیا، لکھنؤ کے صدر ایس انصرام علی نے کہا، ’جاپان سے ایک ٹیم آئی تھی اور اس نے آموں کو مسترد کر دیا۔ ہمیں اس کا علم برآمد کنندگان کے ذریعے ہوا۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔‘
آم کی پیداوار کے بارے میں انصرام علی کا کہنا ہے کہ ’سردیوں میں شدید سردی اور اس کے بعد درجہ حرارت میں اضافے نے پھل کی پیداوار کو متاثر کیا۔ اتر پردیش میں آم کی پیداوار ماضی کے مقابلے میں بہت کم رہی، اور جو کچھ پیدا ہوا وہ بھی طوفانوں سے متاثر ہوا۔‘
انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سال آم کا موسم جون میں ہی ختم ہو سکتا ہے۔‘




























