تالی داس کے بعد مولا داد، کیا شمالی پاکستان ایک نئے گلوف کے خطرے کی زد میں ہے؟

،تصویر کا ذریعہNDMA team shoot
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 18 منٹ
ضلع غذر کے گاؤں مولا داد میں منظور حسین کے لیے دریائے غذر کے پانی کی آواز اب محض بہتے ہوئے پانی کی آواز نہیں رہی بلکہ ایک ممکنہ آفت کی وارننگ بن چکی ہے۔
مولا داد گذشتہ سال گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلوف) سے شدید متاثر ہونے والے تالی داس گاؤں کے عین سامنے دریائے غذر کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔ منظور حسین مقامی ریلیف کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔
چند روز قبل صبح سویرے انھوں نے دریائے غذر سے پانی کے غیر معمولی شور کی آواز سنی تو فوراً دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ پانی کا بہاؤ معمول سے کہیں زیادہ تیز تھا۔ تاہم انھوں نے فوری طور پر خطرے کا اعلان کرنے کے بجائے چند گھنٹے صورتحال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ دوپہر کو جب وہ دوبارہ دریا کے کنارے پہنچے تو پانی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا تھا اور دریا کنارے زمین کا کٹاؤ شروع ہو گیا تھا۔
منظور حسین کہتے ہیں کہ یہی وہ لمحہ تھا جب انھیں اندازہ ہوا کہ اگر لوگوں کو بروقت نہ نکالا گیا تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو اطلاع دی جبکہ دریا کے کنارے آباد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ مقامی لوگوں نے بھی گھروں سے قیمتی سامان، مویشی اور ضروری تعمیراتی سامان نکالنا شروع کر دیا۔ چند ہی گھنٹوں بعد دریا نے زمین کاٹنا شروع کر دی اور کئی تعمیرات اس کی زد میں آ گئیں۔
ریسکیو 1122 غذر کے انچارج راجہ اجمل نظیر کے مطابق دریائے غذر کا پانی قریبی گلیشیئرز سے آنے والے پانی پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ سال اسی برفانی نظام میں پیدا ہونے والی تبدیلی کے باعث دریا کا بہاؤ عارضی طور پر رک گیا تھا، جس سے ایک برفانی جھیل بنی اور پھر اچانک پھٹنے سے تالی داس میں تباہ کن سیلاب آیا تھا۔
اس مرتبہ دریا کا رخ تالی داس کے بجائے مولا داد کی طرف ہے، جہاں مسلسل کٹاؤ جاری ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 16 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ متعدد گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مجموعی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منظور حسین کے مطابق گاؤں کے تقریباً 140 خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں۔ کچھ خاندانوں نے پہاڑی پر خیمے لگا لیے ہیں جبکہ دیگر اپنے رشتہ داروں کے ہاں منتقل ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNDMA team shoot
منظور حسین کہتے ہیں کہ ’ہر روز دریا تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا ہے اور کسی نہ کسی گھر کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ تالی داس کا واقعہ ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ اونچائی پر کھڑے اپنی بستی کو دیکھتے رہتے ہیں، مگر خوف کے باعث کوئی واپس جانے کی ہمت نہیں کرتا۔‘
مولا داد اور تالی داس راوشن کے گلیشیئر نظام سے منسلک علاقے ہیں۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے بی بی سی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق راوشن ان مقامات میں شامل ہے جہاں ایک سے زیادہ ممکنہ خطرناک گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں۔
مولا داد میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال کوئی الگ واقعہ نہیں۔ حکومت پاکستان کے ادارے سپارکو کے تازہ سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی پاکستان میں گلیشیئر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ان کے ساتھ بننے والی برفانی جھیلیں پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔
تازہ تجزیے کے مطابق کم از کم 13 ممکنہ خطرناک گلیشیئر جھیلیں گذشتہ سال کے مقابلے میں مزید پھیل چکی ہیں اور ان میں پانی کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہsparco

،تصویر کا ذریعہsparco

،تصویر کا ذریعہsparco
سپارکو کی نگرانی اور گلیشیئرز میں تبدیلی
سپارکو کی تازہ نگرانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شمالی پاکستان، خصوصاً ہنزہ دریائی طاس، کے گلیشیئر غیر معمولی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں۔
تازہ تجزیے کے مطابق ہنزہ کے 1,556 گلیشیئرز میں سے 93 سکڑ رہے ہیں، 20 آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ باقی نسبتاً مستحکم ہیں۔
ماہرین کے مطابق گلیشیئر کا سکڑنا ہو یا آگے بڑھنا، دونوں صورتوں میں نئی برفانی جھیلیں بن سکتی ہیں یا موجودہ جھیلیں مزید پھیل سکتی ہیں، جس سے گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلوف) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
شمالی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے گلیشیئر پینے کے پانی، زراعت اور پن بجلی کا اہم ذریعہ ہیں، مگر یہی گلیشیئر جھیلیں اگر اچانک پھٹ جائیں تو چند گھنٹوں میں بستیاں، پل، سڑکیں، کھیت، روزگار اور انسانی زندگیاں تباہ کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں تین ہزار سے زائد گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے 131 کو ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہsparco
سپارکو ان 131 ممکنہ خطرناک گلیشیئر جھیلوں کی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے مسلسل نگرانی کر رہا ہے تاکہ گلوف کے خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
سپارکو کے مطابق تازہ تجزیہ 16 جون 2026 کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
اس تجزیے میں ہر جھیل کا رقبہ ناپا گیا اور یہ بھی دیکھا گیا کہ آیا وہ برف سے ڈھکی ہوئی ہے یا اس میں کھلا پانی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ گلیشیئر جھیلوں میں برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔
اسی دوران صرف دو ہفتوں کے اندر ایسی ممکنہ خطرناک جھیلوں کی تعداد (جن پر پہلے برف جمی ہوئی تھی لیکن اب ان میں کھلا پانی موجود ہے) 24 سے بڑھ کر 40 ہو گئی، یعنی تقریباً 66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر غیر منجمد جھیلیں اب بھی اپنی گذشتہ زیادہ سے زیادہ حدود کے اندر ہیں، تاہم کم از کم 13 جھیلیں 2025 میں ریکارڈ کی گئی اپنی زیادہ سے زیادہ سطح سے آگے نکل چکی ہیں۔
تاہم سپارکو کا کہنا ہے کہ صرف کسی جھیل میں کھلا پانی نظر آنا لازمی طور پر فوری خطرے کی علامت نہیں ہوتا۔ زیادہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی جھیل کا رقبہ اپنی سابقہ زیادہ سے زیادہ سطح سے تجاوز کر جائے، کیونکہ اس صورت میں پانی کے ذخیرے میں اضافے اور قدرتی بند کے غیر مستحکم ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، جس سے گلوف کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
سپارکو نے یہ سیٹلائٹ ڈیٹا 16 جون سے قبل حاصل کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNDMA team shoot
وہ علاقے جہاں گلیشیئر جھیلوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
این ڈی ایم اے کی جانب سے بی بی سی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق جن ممکنہ خطرناک گلیشیئر جھیلوں میں پانی کی مقدار اور رقبے میں اضافے کی نشاندہی ہوئی ہے، ان میں سے بیشتر گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا کے بلند پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں۔ یہ علاقے قراقرم، ہندوکش اور مغربی ہمالیہ کے اُن برفانی خطوں کا حصہ ہیں جہاں پاکستان کے بڑے گلیشیئر موجود ہیں۔
این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع ہنزہ اس حوالے سے سب سے نمایاں ضلع کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہاں شیشپر، باتورا، پاسو اور غلکن کے علاقوں میں ممکنہ خطرناک گلیشیئر جھیلوں کی موجودگی رپورٹ کی گئی ہے۔
ششپر گلیشیئر 2022 میں حسن آباد کے مقام پر برفانی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے بعد عالمی توجہ کا مرکز بنا تھا، جبکہ باتورا دنیا کے طویل ترین غیر قطبی گلیشیئرز میں شمار ہوتا ہے۔ سپارکو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاسو گلیشیئر نمایاں طور پر سکڑ رہا ہے، جبکہ غلکن کے اطراف متعدد گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں۔
ضلع چترال دوسرے نمایاں ضلع کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں پندورو چھات، لشٹ، ریشون اور بونی کو ممکنہ خطرناک مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔ ریشون اور بونی ماضی میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک آنے والی سیلابی ریلوں سے متاثر ہوتے رہے ہیں، جبکہ لشٹ اور پندورو چھات ہندوکش کے بلند برفانی علاقوں میں واقع ہیں۔
ضلع غذر کی اشکومن وادی کے دو مقامات بھی این ڈی ایم اے کی فہرست کا حصہ ہیں۔ اشکومن گلگت بلتستان کی اُن وادیوں میں شمار ہوتی ہے جہاں متعدد گلیشیئر موجود ہیں اور ماضی میں برف پگھلنے اور سیلابی ریلوں کے باعث مقامی آبادی، رابطہ سڑکوں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہsparco
اسی طرح ضلع گانچھے میں براہ اور خپلو، جبکہ ضلع شگر میں ارندو کو بھی ممکنہ خطرناک علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ علاقے پاکستان کے بڑے برفانی اور آبی نظاموں سے جڑے ہوئے ہیں۔ بالخصوص گانچھے اور شگر کی وادیاں اُن دریائی نظاموں کا حصہ ہیں جو بڑے گلیشیئرز سے نکلنے والے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے ریکارڈ کے مطابق ہنزہ کے باتورا اور غلکن، گانچھے کے براہ اور خپلو، شگر کے ارندو اور غذر کے راوشن کے گرد و نواح میں ایک سے زیادہ گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں۔ متعدد جھیلوں کی موجودگی ان علاقوں میں خطرات کی شدت اور پیچیدگی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ممکنہ خطرناک گلیشیئر جھیلوں کا مسئلہ اب کسی ایک وادی یا ضلع تک محدود نہیں رہا بلکہ شمالی پاکستان کے تقریباً تمام بڑے برفانی خطوں تک پھیل چکا ہے۔ اگرچہ ہنزہ اور چترال اس حوالے سے سب سے نمایاں اضلاع ہیں، تاہم غذر، گانچھے اور شگر بھی اُن علاقوں میں شامل ہیں جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ گلیشیئر جھیلوں سے وابستہ خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNDMA team shoot
ہنزہ کے گلیشیئر
سپارکو کے مطابق ہنزہ دریائی طاس بالائی دریائے سندھ کے اُن علاقوں میں شامل ہے جہاں گلیشیئر سب سے زیادہ متحرک ہیں۔ 13,535 مربع کلومیٹر پر محیط اس علاقے میں 1556 گلیشیئر موجود ہیں، جو مجموعی طور پر 3,130.84 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور علاقے کے تقریباً 23 فیصد حصے پر محیط ہیں۔
ہسپر گلیشیئر اس طاس کا سب سے بڑا گلیشیئر ہے، جس کا رقبہ تقریباً 389 مربع کلومیٹر ہے۔
سپارکو کی جانب سے 2013 سے 2025 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ہنزہ کے تمام گلیشیئر ایک جیسا ردعمل نہیں دکھا رہے۔
اس عرصے کے دوران 93 گلیشیئر سکڑے، جبکہ 20 گلیشیئرز میں تبدیلی دیکھی گئی۔ مجموعی برفانی رقبے کا تقریباً 99.65 فیصد حصہ نمایاں تبدیلی سے محفوظ رہا۔
رپورٹ میں چار نمایاں گلیشیئرز کا الگ جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ پاسو گلیشیئر تقریباً 815 میٹر پیچھے ہٹ گیا، جہاں برف کی تہہ پتلی ہونے، گلیشیئر کے نچلے حصے کے سکڑنے اور برفانی تودوں کے ٹوٹنے کے شواہد ملے۔
اس کے برعکس ششپر گلیشیئر تقریباً 498 میٹر آگے بڑھا۔ اسی گلیشیئر کی پیش قدمی کے نتیجے میں بننے والی برفانی جھیل اور بعد ازاں آنے والے سیلاب سے حسن آباد اور شاہراہ قراقرم کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی دوران خردوپن گلیشیئر میں 239 سے 425 میٹر تک برفانی حرکت ریکارڈ کی گئی۔
مچوہر گلیشیئر میں بھی نمایاں پیش قدمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں اس کے کنارے مزید پھیل گئے۔
سپارکو کے مطابق 2013 سے 2025 کے دوران آگے بڑھنے والے گلیشیئرز کے باعث برفانی رقبے میں 8.12 مربع کلومیٹر اضافہ ہوا، جبکہ سکڑنے والے گلیشیئرز کی وجہ سے 2.82 مربع کلومیٹر برفانی رقبہ کم ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق ششپر، خردوپن اور مچوہر جیسے آگے بڑھنے والے گلیشیئر بعض اوقات وادیوں کا راستہ روک کر عارضی برفانی جھیلیں تشکیل دے سکتے ہیں، جبکہ پاسو جیسے سکڑتے ہوئے گلیشیئر نئی جھیلوں کے بننے یا موجودہ جھیلوں کے مزید پھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہsparco

،تصویر کا ذریعہsparco
23 سال کی ریکارڈ کم برف باری
انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) اور قومی ادارہ برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے گلیشیئروں کو سب سے بڑا چیلنج موسمیاتی تبدیلی، موسم کے پیٹرن میں تبدیلی اور کم ہوتی برفباری ہے۔
آئی سی آئی ایم او ڈی کے مطابق اس سال ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں گذشتہ 23 سال کے ریکارڈ میں سب سے کم موسمی برف ریکارڈ کی گئی۔ یہ معمول سے تقریباً 23.6 (تئیس) فیصد کم تھی جبکہ سندھ طاس (انڈس بیسن) میں برف کی مقدار معمول کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد کم رہی۔
آئی سی آئی ایم او ڈی کے گلیشیئر ماہر ڈاکٹر شیر محمد کے مطابق گذشتہ تقریباً 24 برسوں کے دوران پاکستان میں زیادہ تر برس ایسے گزرے ہیں جن میں برفباری معمول سے کم رہی، جبکہ چند برسوں میں برفباری معمول کے مطابق یا اس سے زیادہ ہوئی۔ ان کے مطابق کم برفباری کا یہ مسلسل رجحان گلیشیئروں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کے گلیشیئر ماہر جنید عزیز بتاتے ہیں کہ گذشتہ چند برسوں کے مقابلے میں قراقرم کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت ایک سے اڑھائی ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف درجہ حرارت میں اضافے کا نہیں بلکہ موسم کے پیٹرن میں تبدیلی کا بھی ہے۔ پہلے گلیشیئروں کی بلندی پر زیادہ تر برف پڑتی تھی، مگر اب انھی علاقوں میں بارش بھی ہو رہی ہے۔ سردیاں کم ہورہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک عامل ذمہ دار نہیں بلکہ کئی عوامل کارفرما ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی بنیادی وجہ ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی، سیاحت میں اضافہ، گاڑیوں کی آمدورفت اور کنکریٹ کی عمارتوں کی تعمیر بھی مقامی سطح پر درجہ حرارت بڑھانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ ان تمام عوامل کے باعث گلیشیئر پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
جنید عزیز کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال تک سیاحتی مقام ناران کے آغاز میں موجود گلیشیئر عوام کی دلچسپی کا مرکز ہوا کرتا تھا، مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ اس سال ناران سے بٹہ کنڈی اور اس سے آگے تک موجود کچھ گلیشیئر نظر نہیں آتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سال سردیوں میں برفباری کم ہوئی جبکہ درجہ حرارت زیادہ رہا، جس کے اثرات گلیشیئروں پر واضح ہیں۔ گلیشیئر سکڑ رہے ہیں اور ان کے پگھلنے سے نئی گلیشیائی جھیلیں بننے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNDMA team shoot
ہمالیہ اور قراقرم کے گلیشیئر 65 فیصد زیادہ تیزی سے پگھلے
ڈاکٹر شیر محمد نے بتایا کہ آئی سی آئی ایم او ڈی کی تحقیق کے مطابق ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے گلیشیئر 2011 سے 2020 کے دوران 2000 سے 2009 کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد زیادہ تیزی سے پگھلے جبکہ 1990 سے 2020 کے درمیان ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے پورے خطے میں گلیشیئروں کے رقبے میں تقریباً 12 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ان کے برفانی ذخائر میں بھی تقریباً 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان بھی اسی ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے خطے کا حصہ ہے، جہاں گلیشیئرز موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی گلیشیئر پگھلنے کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلیں تیزی سے بن رہی ہیں۔ مختلف سرکاری اور تحقیقی اداروں کے مطابق گذشتہ برسوں میں ملک میں گلیشیائی جھیل پھٹنے (گلوف) کے 150 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن سے انسانی جانوں، گھروں، سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں اور آبپاشی کے نظام کو نقصان پہنچا۔ یہ وہ واقعات ہیں جو ریکارڈ ہوئے ہیں مگر ایسے واقعات بھی ہوسکتے ہیں جو ریکارڈ نہیں ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر شیر محمد کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال گلگت بلتستان کے علاقوں میں گیارہ فلیش فلڈ کے واقعات ہوئے جس میں ایک واقعہ گلوف تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ نئی گلیشیائی جھیلیں بن رہی ہو جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے مگر یہ جھیلیں بہرحال خطرے کی نشانی ضرور ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNDMA team shoot
گلیشائی جھیلوں کے رقبے میں اضافہ
سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے مشرقی ہندوکش کے علاقے میں 2000 سے 2020 کے دوران گلیشیائی جھیلوں کے مجموعی رقبے میں اضافہ ہوا۔ تحقیق کے مطابق ان جھیلوں کا رقبہ 2000 میں تقریباً 9.72 مربع کلومیٹر تھا، جو 2020 تک بڑھ کر 12.36 مربع کلومیٹر ہو گیا۔
آئی سی آئی ایم او ڈی اور این ڈی ایم اے کے مطابق ممکنہ طور پر 131جھیلیں ایسی ہیں جو خطرناک ہوسکتی ہیں۔ اس میں چالیس سے پچاس جھیلیں ایسی ہیں جو زیادہ خطرناک ہوچکی ہیں جبکہ 13 جھیلیں ایسی ہیں جو انتہائی خطرناک ہوچکی ہیں اور ان کا پانی مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ان جھیلوں کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔
گلیئشر بڑھ رہے ہوں اور کم ہو رہے ہیں اس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ گلیشیائی جھیلیں ہیں۔
ڈاکٹر شیر محمد کے مطابق گلیشیائی جھیلیں بننے کا عمل ایک طویل قدرتی عمل ہے اور اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے عام وجہ گلیشیئر کا تیزی سے پگھلنا اور پیچھے ہٹنا ہے۔ جب درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر کا پگھلاؤ بڑھ جاتا ہے تو اس کا کنارہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگتا ہے۔ اس کے بعد گلیشیئر کے سامنے یا کناروں پر موجود خالی جگہ میں پگھلا ہوا پانی جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ گلیشیائی جھیل کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی علاقوں میں یہ پانی گلیشیئر کے چھوڑے ہوئے مٹی، پتھروں اور برف کے ملبے (مورن) کے پیچھے جمع ہوتا ہے۔ اگر جھیل کو روکنے والی یہ قدرتی دیوار کمزور ہو جائے تو پانی اچانک خارج ہو سکتا ہے، جسے گلیشیائی جھیل پھٹنے (گلوف) کا واقعہ کہا جاتا ہے۔
تاہم گلیشیائی جھیلیں صرف پگھلاؤ کی وجہ سے نہیں بنتیں۔ بعض اوقات گلیشیئر کے رویے میں اچانک تبدیلی بھی اس عمل کو متاثر کر سکتی ہے، جسے گلیشیئر کا آگے بڑھنا (گلیشیئر سرج) کہا جاتا ہے۔ گلیشیئراس وقت آگے بڑھتا ہے جب کوئی گلیشیئر معمول کی رفتار کے مقابلے میں اچانک بہت تیزی سے آگے بڑھنے لگتا ہے۔ یہ تیز حرکت چند مہینوں سے لے کر کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔
ڈاکٹر شیر محمد کے مطابق گلیشیئر آگے بڑھنے کے دوران گلیشیئر کے نیچے موجود پانی کا دباؤ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پگھلا ہوا پانی برف اور زمین کے درمیان رگڑ کو کم کر دیتا ہے، جس سے گلیشیئر کے آگے بڑھنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں گلیشیئر کے نیچے موجود نرم اور پانی سے بھری تلچھٹ بھی اس حرکت کو آسان بنا دیتی ہے۔
جنید عزیز کا کہنا تھا کہ ایک اور وجہ گلیشیئر کے اوپری حصے میں کئی برسوں تک برف کا جمع ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ جب برف کا وزن اور دباؤ ایک حد سے بڑھ جائے تو گلیشیئر غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور اچانک تیزی سے نچلے حصے کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ حالیہ عرصہ میں اس کی بڑی مثال ہنزہ کا شیشپر گلیئشر ہے۔ جھیل بنی، سیلاب آیا۔ اب وہ پیچھے ہٹ چکا ہے۔
سادہ الفاظ میں، گلیشیائی جھیلیں عموماً دو بڑے عملوں سے بن سکتی ہیں: ایک، گلیشیئر کا مسلسل پگھلنا اور پیچھے ہٹنا؛ دوسرا، بعض علاقوں میں گلیشیئر کا اچانک تیز حرکت کرنا یا سرج کرنا۔ دونوں صورتوں میں پانی کے جمع ہونے، جھیل کے حجم بڑھنے اور قدرتی بند کے کمزور ہونے سے گلوف کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے
بروقت وارننگ سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں
ضلع غذر کے تالی داس اور مولا داد کے علاقے کسی حد تک خوش قسمت رہے ہیں کہ بروقت اطلاع اور فوری انخلا کے باعث گذشتہ سال اور رواں سال بڑے جانی نقصان سے محفوظ رہے۔ تاہم ماہرین اور متعلقہ ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ البتہ بروقت تیاری، مسلسل نگرانی اور مؤثر ابتدائی وارننگ کے ذریعے انسانی جانوں کے نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
جنید عزیز کے مطابق اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تعاون سے گلوف ون اور گلوف ٹو منصوبوں کے تحت کمیونٹی بیسڈ ارلی وارننگ سسٹمز متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان نظاموں میں مقامی آبادی کو خطرات کی نگرانی اور بروقت اطلاع رسانی کے عمل کا باقاعدہ حصہ بنایا جاتا ہے۔
ان کے مطابق حال ہی میں گلگت بلتستان کے ایک علاقے میں فلیش فلڈ آیا۔ اگرچہ اس کی حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا، تاہم ابتدائی وارننگ سسٹم کی بدولت لوگوں نے وقت پر انخلا کر لیا، جس سے کئی قیمتی جانیں بچ گئیں۔
جنید عزیز کے مطابق گلگت بلتستان کے بعض حساس علاقوں میں ایسے نظام نصب کیے گئے ہیں جو دریا کے پانی کی سطح، بارش، درجہ حرارت اور دیگر خطرے کی علامات کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ جب غیر معمولی صورتحال سامنے آتی ہے تو مقامی رضاکار، سائرن، موبائل پیغامات اور دیگر ذرائع کے ذریعے آبادی کو فوری طور پر خبردار کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان نظاموں کا ایک اہم حصہ مقامی کمیونٹی کی تربیت بھی ہے۔ دیہات کے رہائشیوں کو بتایا جاتا ہے کہ خطرے کی صورت میں کون سے راستے اختیار کرنے ہیں، محفوظ مقامات کہاں واقع ہیں اور کس طرح چند منٹوں میں انخلا کیا جا سکتا ہے۔
گلیشیئر ماہر ڈاکٹر شیر محمد کے مطابق پہاڑی علاقوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ گلیشیائی جھیل پھٹنے سے پیدا ہونے والا سیلابی پانی انتہائی تیزی سے نچلی وادیوں کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر لوگوں کو چند گھنٹے پہلے بھی اطلاع مل جائے تو وہ محفوظ مقامات تک پہنچ سکتے ہیں۔
آئی سی آئی ایم او ڈی کے مطابق گلگت بلتستان میں کمیونٹی بیسڈ فلڈ ارلی وارننگ سسٹمز کے ذریعے مقامی آبادی، سرکاری اداروں اور ماہرین کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلیشیائی جھیل پھٹنے جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے صرف قدرتی خطرات کی نگرانی کافی نہیں، بلکہ مقامی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور آبادی کے درمیان مؤثر رابطہ، ہنگامی منصوبہ بندی اور بروقت وارننگ کا نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق گلیشیائی سیلاب کے دوران سب سے قیمتی چیز وقت ہوتا ہے۔ اگر خطرے کی اطلاع بروقت پہنچ جائے تو جانی نقصان کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، چاہے تباہی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو۔


























