آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو ’بامعنی‘ ہو گا یا ’ہرگز نہیں‘ ہو گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے اس پر تنقید کرنے والوں کو ’احمق‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘ تاہم اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاہدے پر دستخط قریب ہیں۔‘

خلاصہ

  • ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو شاندار اور بامعنی ہو گا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہو گا: ٹرمپ
  • ایرانی رہنما باقر قالیباف اور عباس عراقچی قطر کے امیر سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں: ایرانی میڈیا
  • سوات موٹروے پر بس اور وین میں ہونے والے تصادم کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے
  • ایران، امریکہ مذاکرات میں درست سمت میں پیشرفت ہو رہی ہے: شہباز شریف
  • امریکہ کے ساتھ کئی نکات پر فیصلہ ہو چکا لیکن معاہدہ ناگزیر نہیں: ایرانی وزارت خارجہ

لائیو کوریج

  1. باقر قالیباف اور عباس عراقچی قطر کے امیر سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچ گئے: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی قطر کے امیر اور اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

    خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے دونوں سینئر عہدیدار قطر کے وزیرِاعظم سے اہم علاقائی اور سفارتی امور پر بات چیت کریں گے۔

    رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل یہ خبر دی تھی کہ ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی بھی ’منجمد اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی مذاکراتی کمیشن‘ کے سلسلے میں قطر پہنچے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ایران کا دورہ کر چکا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کے اہم مطالبات میں اس کے منجمد مالی وسائل کی بحالی بھی شامل ہے۔

  2. صوابی سوات موٹروے پر بس اور وین میں تصادم، ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سوات صوابی موٹروے پر خورو کوٹھے کے مقام پر ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں ریسکیو 1122 کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

    ریسکیو 1122 حکام کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ حادثہ اُسوقت پیش آیا کہ جب ایک وین سڑک کنارے کھڑی بس سے ٹکرا گئی۔

    ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے وقت فلائنگ کوچ میں سوار 17 مسافر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ پانچ سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔

    ریسکیو 1122 مردان کے مطابق موٹروے پولیس اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے افراد اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

  3. ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو شاندار اور بامعنی ہوگا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کا دفاع کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات پر تنقید کرنے والے خواہ وہ ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’احمق‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘

    صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’یا تو شاندار اور بامعنی ہوگا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔‘

    انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ان سیاستدانوں کو ’تفرقہ پھیلانے والے‘ افراد قرار دیا اور کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو ’میری ہر بڑی کامیابی پر مسلسل تنقید کرتے رہتے ہیں۔‘

    گزشتہ چند روز کے دوران امریکی کانگریس کے متعدد ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان میں ریپبلکن سینیٹر ٹام ٹِلس بھی شامل ہیں، جن کا ذکر صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔

    امریکہ کے کئی سابق عہدیدار، جن میں سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن شامل ہیں، بھی اس ممکنہ معاہدے پر سخت تنقید کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔

  4. امریکہ ایرانی ٹیم کے بلا رکاوٹ اس ایونٹ میں شمولیت کو یقینی بنانے کا پابند ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 2026 فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی قومی فٹبال ٹیم کی شرکت سے متعلق قیاس آرائیوں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی ٹیم کے بلا رکاوٹ اس ایونٹ میں شمولیت کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔

    یہ بیان اُن رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے امریکی ویزا کے حصول میں بار بار پیش آنے والی مشکلات کے باعث قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سوموار 25 مئی کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی سے سوال کیا گیا کہ آیا فیفا ممکنہ امریکی رکاوٹوں کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس پر انھوں نے کہا کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے انتظامی امور کے حوالے سے فیفا بنیادی رابطہ کا ادارہ ہے، تاہم امریکہ بھی شریک میزبان ہونے کے ناطے ذمہ داری رکھتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ ایرانی قومی ٹیم کی بغیر کسی رکاوٹ شرکت کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کرے۔‘

    اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ تربیتی کیمپ کو منتقل کرنے کا فیصلہ فیفا، میکسیکن فٹبال فیڈریشن اور متعلقہ امریکی حکام سے مکمل مشاورت کے بعد کیا گیا تاکہ ممکنہ رکاوٹوں کو پہلے ہی دور کیا جا سکے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی ٹیم کا سفر مکمل طور پر کھیلوں کے مقاصد کے تحت اور فیفا کے ضوابط کے مطابق ہوگا۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ تمام انتظامات بین الاقوامی فٹبال کے اصولوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں تاکہ ایرانی ٹیم عالمی سطح پر مقابلوں میں شرکت کے دوران کسی امتیازی سلوک یا رکاوٹ کا سامنا نہ کرے۔

  5. سعودی عرب میں مناسکِ حج کا آغاز

    حج 2026 کی ادائیگی کے لیے لاکھوں کی تعداد میں سعودی عرب پہنچنے والے مسلمانوں نے منیٰ میں خیموں سے بنے شہر کا رُخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    سعودی عرب میں مناسکِ حج کا آغاز ہو چُکا ہے اور عازمین حج کی منیٰ آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی حج پاسپورٹ فورسز کے کمانڈر صالح بن سعد المربع نے جمعہ کو بتایا تھا کہ بیرون ملک سے 15 لاکھ سے زائد عازمین حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔

    سعودی حکام کے مطابق حج کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور دیگر مقدس مقامات پر حاجیوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ان اقدامات میں حکومت کی جانب سے صحت، ٹرانسپورٹ اور مختلف زبانوں میں رہنمائی سمیت دیگر وسیع تر انتظامات شامل ہیں جبکہ سعودی وزارت صحت کے مطابق رواں سال پہلی مرتبہ عازمین حج کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

  6. روسی سرحد کے قریب برطانوی وزیرِ دفاع کو لے جانے والے رائل ایئرفورس کے طیارے کے سگنل جام, ایمی والکر، بی بی سی نیوز

    برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی کو لے جانے والے رائل ایئر فورس کے ایک طیارے کا سگنل رواں ہفتے روسی سرحد کے قریب پرواز کے دوران جام کر دیا گیا۔

    برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کے روز اُس وقت پیش آیا جب جان ہیلی ایسٹونیا میں تعینات برطانوی فوجیوں سے ملاقات کے بعد برطانیہ واپس جا رہے تھے۔

    اطلاعات کے مطابق اس سائبر حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے۔ حملے کے باعث طیارے کا جی پی ایس نظام تقریباً تین گھنٹے تک معطل رہا، جس کے بعد پائلٹس کو متبادل نیویگیشن سسٹم استعمال کرنا پڑا۔

    یہ واقعہ اُس خبر کے سامنے آنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ گزشتہ ماہ بحیرۂ اسود کے اوپر دو روسی جنگی طیاروں کی جانب سے ایک برطانوی جاسوس طیارے کو ’بار بار اور خطرناک انداز‘ میں روکنے کی خبر منظرِ عام پر آئی تھی۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا جان ہیلی کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا تھا یا نہیں، تاہم اخبار کے مطابق طیارے کی پرواز کا راستہ ایئرکرافٹ ٹریکنگ ویب سائٹس پر دیکھا جا سکتا تھا۔

    برطانوی وزارتِ دفاع سے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

    ایسٹونیا کے دورے کے دوران جان ہیلی نے روسی سرحد کے قریب نیٹو کی فوجی مشقوں میں حصہ لینے والے برطانوی فوجی اہلکاروں سے بھی ملاقات کی۔

    گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے میں ایک روسی ایس یو 35 جنگی طیارہ برطانوی نگرانی کرنے والے ریویٹ جوائنٹ طیارے کے انتہائی قریب آ گیا تھا، جس کے باعث طیارے کا ہنگامی دفاعی نظام فعال ہو گیا اور آٹو پائلٹ نظام عارضی طور پر بند ہو گیا تھا۔

    برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ سنہ 2022 کے بعد روس کی جانب سے سب سے خطرناک کارروائی تھی، اُس وقت ایک ’بے قابو‘ روسی پائلٹ نے بحیرۂ اسود کے اوپر ایک ریویٹ جوائنٹ طیارے پر میزائل داغ دیا تھا۔

    پھر سنہ 2024 میں بھی اُس وقت کے برطانوی وزیرِ دفاع گرانٹ شیپس کو لے جانے والے رائل ائیر فورس کے طیارے کا جی پی ایس سگنل روسی حدود کے قریب پرواز کے دوران جام کر دیا گیا تھا۔

  7. مشرق وسطیٰ کا بحران: تازہ اطلاعات

    ایران کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت متوقع تھی مگر ویزا کے مسائل کی وجہ سے یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف کو مزید ایک سال کے لیے بطور سپیکر پارلیمنٹ منتخب کر لیا گیا ہے۔

    سنہ 2000 میں جنوبی لبنان پر 22 سالہ قبضے کے خاتمے کی سالگرہ کے موقع پر جاری ایک بیان میں لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ’اسرائیل کا مکمل انخلا ایک مستقل قومی مطالبہ ہے۔ ایسا مطالبہ جس کے حصول کے لیے لبنانی حکومت مذاکرات کے ذریعے کام کر رہی ہے۔‘

    ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جنوبی لبنان کے 10 دیہاتوں کو فوری طور پر خالی کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔

  8. چین میں شہباز شریف کا بیان: ’ایران، امریکہ مذاکرات میں درست سمت میں پیشرفت ہو رہی ہے‘

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی ہے۔

    اس سے قبل شہباز شریف کی چینی وزیر اعظم سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

    پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں شہباز شریف چینی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’دنیا خلیجی بحران کے باعث ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے خلوص کے ساتھ کام کیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ ایرانی، امریکی اور خلیجی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ’ہم دعا گو ہیں کہ جلد امن بحال ہو کیونکہ درست سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ میں صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے امن کی کوششوں اور جنگ بندی کے اقدام کی حمایت کی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں امن کی بحالی اور معمول کی اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔‘

  9. امریکہ کے ساتھ کئی نکات پر فیصلہ ہو چکا لیکن معاہدہ ناگزیر نہیں: ایرانی وزارت خارجہ

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاہدے پر دستخط قریب ہیں۔‘

    تہران میں نیوز کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’زیرِ غور کئی نکات پر فیصلہ ہو چکا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاہدہ ناگزیر ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے اور اس مرحلے پر ’ہم جوہری مسئلے کی تفصیلات پر بات نہیں کر رہے۔‘

    بقائی کا مزید کہنا تھا کہ ’دھمکیاں، دباؤ، منفی تاثر دینا اور خاکے شائع کرنا اس خطے کی سیاست کا حصہ ہیں۔ ہم مخالف فریق کے تصورات اور بیانیوں سے قطع نظر میدان عمل میں اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور حقائق دیکھتے ہیں۔‘

    ’ہم ایران کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تیاری اور پیش رفت پر توجہ دے رہے ہیں۔ جہاں ضروری ہو، ہم جواب دیتے ہیں۔ ہمارا اپنا انداز ہے اور ہم دشمن کے انداز اور طریقہ کار کی نقل نہیں کریں گے۔‘

    آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بقائی نے کہا ہے کہ اگرچہ تہران کسی قسم کا ٹول عائد نہیں کرے گا لیکن ’یہ معمول کی بات ہے کہ فراہم کی جانے والی خدمات کی قیمت ہو گی۔‘

    ترجمان نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کا انتظام ساحلی ممالک کے پاس ہے۔ ’ہم آبنائے ہرمز سے ملحق ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ وہاں سکیورٹی فراہم کی جا سکے اور ان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔‘

    بقائی کا کہنا تھا کہ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اس بات کی ’کوئی ضمانت نہیں‘ کہ امریکہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔ مگر ان کے بقول تہران ’دھمکیوں کی پروا نہیں کرتا۔‘

    جوہری معاملات پر بات چیت کے حوالے سے ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دی گئی تو دیگر موضوعات پر 60 روز کی مدت میں بات چیت ہو گی۔

    تاہم انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل ان مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

  10. شاید آج ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ جائیں: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر شاید آج (پیر) تک پہنچ جائیں۔

    انڈیا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم اس پر اب بھی کام کر رہے ہیں۔‘

    خیال رہے اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے مذاکرات کاروں کو کہا ہے کہ وہ ’معاہدے کے لیے جلدی نہ کریں۔‘

    تاہم دہلی میں پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم اب بھی اس پر کام کررہے ہیں۔ جیسے میں نے پہلے کہا تھا کہ ہمیں لگا تھا کہ شاید کوئی خبر گذشتہ رات آجائے، لیکن شاید آج آ جائے۔‘

    صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ہمارے پاس ایک خاصی مضبوط تجویز ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق اس تجویز کے خد و خال یہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے اور وقت کا تعین کر کے جوہری امور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس تجویز کو خلیجی ممالک اور عالمی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے۔

    مارکو روبیو کے مطابق: ’جس ملک سے ہم نے بات کی، وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نہ صرف معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست اقدام ہے۔‘

    ان سے پوچھا گیا کہ پھر تاخیر کس بات کی ہے؟ مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ایران کا نظام جواب دینے میں وقت لیتا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’یا تو ہم ایک اچھا معاہدہ کریں گے یا پھر اس معاملے سے کسی اور طرح نمٹیں گے۔‘

  11. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں ایک فوجی کی ہلاکت کا اعلان

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں ’جھڑپوں کے دوران‘ اس کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔

    اسرائیل نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسی واقعے میں ایک اور فوجی شدید زخمی ہوا اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوجی کیسے ہلاک ہوا اور جھڑپ کس مقام پر ہوئی، اس کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

  12. انڈیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ

    انڈیا میں پیر کے روز پیٹرول کی قیمت میں دو روپے 61 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں دو روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

    اس سے پہلے 15 مئی کو بھی انڈیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت تین روپے فی لیٹر بڑھائی گئی تھی۔

    قیمتوں میں یہ اضافہ چار برس کے طویل وقفے کے بعد کیا گیا تھا۔

    اب مزید اضافے کے بعد دہلی میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 102 روپے 12 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 95 روپے 20 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    اپوزیشن جماعت کانگریس نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کانگریس نے لکھا: ’اپنے سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مودی عوام کی جیب کاٹنے میں مصروف ہیں۔‘

  13. صوابی سوات موٹروے پر بس اور کوچ میں تصادم، 11 افراد ہلاک

    موٹروے پولیس کے مطابق خیبر پختونخوا میں سوات صوابی موٹروے پر اسمعاعلہ کے قریب بس اور کوچ میں تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں 11 مسافر ہلاک اور سات شدید زخمی ہو گئے۔

    موٹروے پولیس کا مؤقف ہے کہ حادثہ وین ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا جس نے سڑک کے کنارے کھڑی بس کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔

  14. پاکستان کے امریکہ اور ایران میں ثالث کا کردار ادا کرنے پر انڈیا نے کبھی اعتراض نہیں کیا: امریکی وزیر خارجہ

    انڈیا کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ امریکہ، ایران تنازع میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، کیا انڈیا نے اس پر کسی تشویش کا اظہار کیا۔

    مارکو روبیو کا جواب تھا: ’انڈیا ہمیشہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کی سر زمین سے مسلح دہشت گرد گروہ کام کر رہے ہیں جو انڈیا کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس پر فکر مند رہتے ہیں۔‘

    تاہم، امریکی وزیر خارجہ کے مطابق: ’جہاں تک ایران کے معاملے میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر پاکستان کے کردار کی بات ہے، یہ موضوع کبھی سامنے نہیں آیا۔‘

    مارکو روبیو کا کہنا تھا: ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس پر اعتراض کریں گے۔ پاکستان کے ساتھ ان کا مسئلہ مختلف ہے۔‘

  15. آبنائے ہرمز کھول کر وقت کا تعین کر کے جوہری امور پر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز ہے: مارکو روبیو

    انڈیا کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ کیا ایران پر کوئی نئی خبر ہے؟

    امریکی وزیر خارجہ کا جواب تھا: ’اس پر ابھی کام چل رہا ہے۔‘

    صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ہمارے پاس ایک خاصی مضبوط تجویز ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق اس تجویز کے خد و خال یہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے اور وقت کا تعین کر کے جوہری امور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔

    مارکو روبیو نے امید ظاہر کی کہ ’ہم اسے ممکن بنا لیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس تجویز کو خلیجی ممالک اور عالمی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے۔

    مارکو روبیو کے مطابق: ’جس ملک سے ہم نے بات کی، وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نہ صرف معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست اقدام ہے۔‘

    ان سے پوچھا گیا کہ پھر تاخیر کس بات کی ہے؟ مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ایران کا نظام جواب دینے میں وقت لیتا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’یا تو ہم ایک اچھا معاہدہ کریں گے یا پھر اس معاملے سے کسی اور طرح نمٹیں گے۔‘

    سوال ہوا کہ کیا لبنان بھی اس معاہدے کا حصہ ہو گا؟

    اس پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’لبنان پر الگ سے کام ہو رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک لبنان میں مسلح حزب اللہ کا وجود ہے، تب تک امن کا حصول مشکل ہو گا۔

  16. وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت ظاہر کر دی گئی

    بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والے مبینہ حملہ آور کی شناخت ناصر بیسٹ کے نام سے کی گئی جو میری لینڈ کے علاقے ڈنڈالک کے رہائشی تھے۔

    سی بی ایس نیوز کو حاصل دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیسٹ نے جون 2025 میں بھی وائٹ ہاؤس کے ایک داخلی راستے کو بند کر دیا تھا اور اہلکاروں کو بتایا تھا کہ وہ یسوع مسیح ہیں اور گرفتاری چاہتے ہیں۔ بیسٹ کو ذہنی معائنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور انھوں نے جولائی 2025 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس کے علاقے تک رسائی کی کوشش کی تھی۔

    اس کے بعد بیسٹ کو سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے گرفتار کیا اور واشنگٹن میں وفاقی کنٹرول والی جگہ پر غیر قانونی داخلے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک جج نے انھیں وہاں سے دور رہنے کا حکم دیا تھا۔

    ڈی سی سپیریئر کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق غیر قانونی داخلے کے الزام میں ابتدائی پیشی کے بعد بیسٹ کو رہا کر دیا گیا تھا، تاہم وہ سات اگست 2025 کی سماعت میں پیش نہ ہوئے، جس کے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

    قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ سنیچر کے روز بیسٹ وائٹ ہاؤس کے باہر دوبارہ نمودار ہوئے، جہاں انھوں نے ایک بیگ سے ریوالور نکالا اور امریکی سیکرٹ سروس کے ایک چیک پوائنٹ پر فائرنگ شروع کر دی۔

    قانون نافذ کرنے والے ذرائع کے مطابق جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا۔

  17. امریکہ، ایران امن معاہدے کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکہ، اسرائیل اور ایران میں جنگ بندی کے معاہدے کی امید پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں تیزی آئی ہے۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ’بڑی حد تک طے ہو چکا ہے‘ اور اس کی تفصیلات کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔

    تاہم ایک دن بعد انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم سے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے میں جلدی نہ کریں۔

    پیر کی صبح ایشیا میں برینٹ خام تیل کی قیمت پانچ فیصد کمی کے ساتھ 98 ڈالر اور 36 سینٹ پر آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 3.5 فیصد کمی کے بعد 91 ڈالر اور 50 سینٹ ہو گئی۔

    جاپان کا نکئی 225 انڈیکس بھی 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ پہلی بار 65 ہزار پوائنٹس کی سطح سے تجاوز کر گیا۔ اس اضافے کو آبنائے ہرمز جلد کھلنے کی توقع سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

    برطانیہ اور امریکہ کی توانائی اور مالیاتی مارکیٹیں پیر کے روز سرکاری تعطیل کی وجہ سے بند ہیں۔

  18. امریکہ، ایران معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا، نہ کوئی جانتا ہے کہ وہ ہے کیا‘: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے کہ وہ ہے کیا۔ اس پر ابھی مکمل طور پر مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔‘

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہو گا، اس طرح کا نہیں جیسا کہ اوباما نے کیا تھا، جس نے ایران کو بڑی مقدار میں رقم دی اور جوہری ہتھیار کے لیے ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ جو معاہدہ وہ کرنے جا رہے ہیں، وہ اوباما والے معاہدے کے ’بالکل برعکس‘ ہے۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ معاہدہ نہ تو کسی نے دیکھا ہے نہ کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے پر تنقید کرنے والوں کی بات نہ سنی جائے، ’میں خراب معاہدے نہیں کرتا۔‘

  19. ہمارے خاندان کو بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے ملاقات کا کوئی علم نہیں تھا: علیمہ خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایکس اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ بیرسٹر گوہر (چیئرمین پی ٹی آئی) اور سہیل آفریدی (وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا) نے محسن نقوی (وفاقی وزیر داخلہ) سے ملاقات کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان کو اس ملاقات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کا کوئی رکن اس ملاقات میں موجود تھا۔‘

    علیمہ خان بنیادی طور پر ایک ایکس پوسٹ کا جواب دے رہی تھیں، جس میں تحریر کیا گیا تھا کہ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور محسن نقوی کی ملاقات بیرسٹر گوہر کے گھر میں ہوئی۔

    اس کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر علیمہ خان کی پوسٹ کا حوالہ دے کر اپنا مؤقف بیان کیا۔ انھوں نے لکھا: ’میری محسن نقوی سے ملاقات بنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور صوبے کے امن و امان کے حوالے سے تھی اور اس میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔‘

    گذشتہ روز پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے ایک بار پھر تحریک انصاف کا یہ مطالبہ دہرایا کہ ’عمران خان کا علاج ان کی فیملی کی موجودگی میں اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں الشفا انٹرنیشنل ہسپتال سے کرایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ’ہمارا رویہ مزید سخت ہو گا۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پریس کانفرنس میں ممبران صوبائی اسمبلی اور وزرا کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت جمعے کے روز احتجاج میں شرکت کی ہدایت بھی کی۔

  20. کانگریس ٹرمپ کے ایران سے متعلق اقدامات کو روک سکتی ہے: ڈیموکریٹ رکن کانگریس

    امریکہ میں ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس رو کھنہ نے این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریس میں کہا ہے کہ اب کانگریس میں ’وار پاورز ریزولوشن‘ منظور کرانے کے لیے مطلوبہ حمایت موجود دکھائی دیتی ہے۔

    پس منظر کے طور پر یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن قیادت نے جمعرات کو اس قرارداد پر ووٹنگ منسوخ کر دی تھی، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی افواج واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا تھا، کیونکہ واضح ہو گیا تھا کہ ریپبلکن اراکین کے پاس اس قانون سازی کو روکنے کے لیے ووٹ ناکافی ہیں۔

    رو کھنہ نے کہا کہ ’بہت سے ریپبلکن یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ انھوں نے کسانوں سے بات کی ہے جو کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور کنٹرول کے باعث نائٹروجن، امونیا اور یوریا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگے پیٹرول کی وجہ سے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔‘

    رو کھنہ کے بقول ’یہ تمام صورتحال ٹرمپ پر مذاکرات کی طرف آنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس اہم ہے۔ حتیٰ کہ اگر قرارداد منظور نہ بھی ہو، تب بھی ہم صدر پر دباؤ ڈالتے ہیں اور امید ہے کہ یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔‘