آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 579 ہو گئیں: 517 غیرملکیوں سمیت تقریباً 2000 لاپتہ افراد کی تلاش کا آپریشن جاری

نیپال اور تبت کی سرحد پر بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے جبکہ 517 غیرملکیوں سمیت لگ بھگ 2000 افراد تاحال لاپتہ ہیں جس کی بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب چینی حکام کا کہنا ہے کہ تبت میں سیلاب کے باعث پانچ افراد ہلاک جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 579 ہو گئی:حکام

    نیپال میں حکام نے سیلاب سے متاثر افراد کی تازہ اپ ڈیٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے۔

    نیپال کے قومی ادارہ برائے آفات کے خطرات میں کمی اور انتظام کی جانب سے کہا ہے کہ اب تک تقریباً 4,000 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے تاہم 517 غیرملکی شہریوں سمیت تقریباً 2,000 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    حکام کے مطابق نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے 15,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    کچھ دیر قبل ہم نے نیپالی پولیس کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ 575 غیرملکی شہری لاپتہ ہیں۔

    یاد رہے کہ نیپال کی پولیس اور قومی ادارہ برائے آفات دونوں ادارے الگ الگ ہیں اور ان کے اعداد و شمارجاری کرنے کے دوران دو گھنٹے کا فرق ہے۔

  2. لاپتہ برطانوی خاتون کے شوہر جو ’خود بدترین صورتحال کے لیے تیار کر رہے ہیں‘, جیمس کیلی، بی بی سی

    نیپال کے سیلاب میں لاپتہ ایک برطانوی خاتون کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    وکرم کولگاٹلا کو اب خدشات ہیں کہ آیا ان کی اہلیہ گیتھا ریڈی اچانک آنے والے سیلاب میں زندہ بچ سکی ہیں یا نہیں۔

    لندن سے تعلق رکھنے والے وکرم کا کہنا ہے کہ 43 سالہ گیتھا ہفتے کے روز ایک مذہبی مقام کی زیارت کے لیے اس علاقے گئی تھیں اور انھیں چار ستمبر کو واپس آنا تھا۔

    سیلاب آنے کے بعد سے ان کا گیتھا سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور ان کے بقول برطانوی قونصل خانے سے بھی انھیں ’زیادہ معلومات‘ نہیں مل رہی ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ قونصل خانے نے انھیں بتایا ہے کہ وہ ’تازہ معلومات کے لیے نیپال پر انحصار کر رہے ہیں۔‘

    50 سالہ وکرم اور ان کی 12 اور 14 سالہ دو بیٹیاں کسی بھی خبر کے انتظار میں بے چینی سے وقت گزار رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ میری دو چھوٹی بیٹیاں ہیں اور ان کے سکول اگلے ہفتے شروع ہو رہے ہیں۔ بچے اب بھی اس بات پر یقین نہیں کر رہے۔‘

    ’ان کا خیال ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقے میں پھنسی ہوئی ہیں اور واپس آ جائیں گی۔ موبائل فون کا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے۔ میں انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھیں۔‘

  3. بریکنگ, نیپال میں سیلاب، لاپتہ غیرملکیوں کی تعداد 575 ہو گئی، 149 نیپالی شہری بھی لاپتہ

    نیپالی پولیس نے کہا ہے کہ نیپال میں لاپتہ غیرملکی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 575 ہو گئی ہے۔

    یہ تعداد تقریباً چھ گھنٹے قبل جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں زیادہ ہے جب حکام نے بتایا تھا کہ تقریباً 537 غیرملکی شہری لاپتہ ہیں۔

    پولیس کے مطابق 36 ممالک کے شہریوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان میں انڈیا کے 183 شہری، امریکہ کے 65 شہری اور یوکرین کے 62 شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے 33 شہری بھی لاپتہ ہیں۔

    پولیس کے مطابق 149 نیپالی شہری بھی تاحال لاپتہ ہیں۔

  4. نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، اب تک کی صورتحال پر ایک نظر

    نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ سامنے آ رہا ہے جبکہ لینڈ سلائیڈ کے باعث بننے والی جھیل پر چینی ماہرین بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    کٹھمنڈو میں اس وقت شام ہو چکی ہے۔ بدھ کو ملبے کے ایک بڑے ریلے کے شمالی نیپال کے قصبوں کی جانب بڑھنے کے بعد امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

    تازہ پیش رفت کی اگر بات کی جائے تو چینی حکام بدھ کی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی ایک جھیل کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ پانی بہنے کے خطرے کے باعث صورتحال اس وقت ایک نازک مرحلے میں ہے۔

    اس سے قبل چینی سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ جھیل سے پانی رسنے کے بعد سے امدادی کارروائیاں روکنا پڑی تھیں تاہم بعد میں یہ کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔

    دوسری جانب چین نے تصدیق کی ہے کہ تبت میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔

    نیپال میں پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک 547 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ سیلاب سے کم از کم 1,473 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    نیپالی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق تلاش اور لاشوں کی بازیابی کا عمل تیز کرنے کے لیے مزید 1,200 فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

    نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب سے اب تک 900 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں، جن میں سینکڑوں غیرملکی سیاح شامل ہیں۔ یہ سیاح انڈیا، امریکہ، یوکرین، ملائیشیا، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

  5. میر رضا ہلاکت کیس: پولیس اہلکاروں، ایدھی ڈرائیور اور پوسٹ مارٹم ڈاکٹر کو نوٹسز جاری, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار حالات میں ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دونوں پولیس اہلکاروں، لاش جناح ہسپتال منتقل کرنے والے ایدھی کے ڈرائیور اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو نوٹسز جاری کردیے ہیں اور مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے آغاز پر جمعے کے روز میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ پیش ہوئے جبکہ وکیل جبران ناصر کو بھی کمیشن کے روبرو طلب کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ کراچی میں ’وافلکس‘ نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔

    بعد میں پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور ابتدائی رپورٹ پر بھی سوالات اٹھے، جس کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔

    کارروائی کے دوران جبران ناصر نے بتایا کہ 19 اگست کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی بات ہوئی تھی، تاہم اس وقت نئی انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی اس لیے درخواست کی گئی کہ اسے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ سابقہ انویسٹیگیشن ٹیم نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکم جاری کیا کہ سندھ حکومت سے کہا جائے گا کہ میر رضا کیس کے حوالے سے معلومات رکھنے والے افراد کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کیا جائے، یہ اشتہار اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں شائع ہو اور معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام مقرر کیا جائے۔

    جسٹس عمر سیال نے سندھ حکومت کو پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست، گواہوں کے بیانات، میڈیکل رپورٹ اور اصل دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ 29 جولائی کو دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے موکل جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔

    ان کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجے کے درمیان کوئی پولیس افسر وہاں نہیں آیا، تاہم سوا 12 بجے دو پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔

    جبران ناصر کے مطابق وہ دونوں اہلکار میر رضا کی لاش دیکھنے والے مقامی نرسری کے شخص کی اطلاع پر وہاں پہنچے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ میر رضا کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم کیا۔

    کمیشن کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے فیروز آباد پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ 29 دن گزرنے کے باوجود میر رضا کے قتل کے ملزمان کا تعاقب نہیں کیا جا سکا اور انصاف کے لیے احتجاج جاری رہے گا۔

    جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے والدین کے لیے وہ ان کا بیٹا تھا اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    جبران ناصر کے مطابق جسٹس عمر سیال نے واضح کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی عوام کے لیے کھلی رکھی گئی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

    انھوں نے کہا کہ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کا کام فیکٹ فائنڈنگ ہے، تفتیش کرنا نہیں جبکہ ملزمان کو گرفتار کرنا اور چالان عدالت میں جمع کرانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔

    ’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘، مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج

    دوسری جانب کراچی میں شاہراہِ فیصل پر احتجاج اور مبینہ طور پر سڑک بلاک کرنے کے الزام میں پولیس نے 20 نامزد افراد سمیت تقریباً 100 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    فیروز آباد تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 27 اگست کی رات تقریباً ساڑھے 12 بجے نرسری بس سٹاپ کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً 100 افراد نے صدر سے ایئرپورٹ جانے والی شاہراہِ فیصل کی ٹریک کو مبینہ طور پر بند کر رکھا تھا۔

    پولیس کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور بینرز تھے جبکہ ایک بینر پر ’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘ کا مطالبہ درج تھا۔

    مظاہرین مبینہ طور پر آنے جانے والی گاڑیوں کو بھی روک رہے تھے۔

    ایف آئی آر میں عدنان رضا، دانش رحمان، دانش رضا، فیضان مونٹا، حمزہ خان، رضا حسن سوریا، علی زبیر عرف زبیری، طلحہ، علی ذوہیب، شہریار، سبطین، عمار، عبداللہ، ضرار خالد، احمد، بلال خان، جمیل، طلحہ شیخ، بابر حمید اور شیخ طلحہ بن ناصر کو نامزد کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد افراد کے ساتھ 75 سے 80 دیگر نامعلوم افراد بھی موجود تھے۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو سڑک کھولنے اور منتشر ہونے کے لیے سمجھانے کی کوشش کی، تاہم ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے احتجاج اور نعرے بازی جاری رکھی۔ پولیس نے مقدمے میں ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع، سرکاری اہلکار کے کام میں مداخلت، راستہ روکنے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں یہ مقدمہ درج کیا ہے۔

  6. نیپال میں موسلا دھار بارش جو امدادی کاموں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے, آزادہ مشیری، بی بی سی نیپال

    اس وقت نیپال کے مقام تریشولی میں موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔

    امدادی کارکن پہلے ہی ہمیں بتا چکے تھے کہ موسم کی خراب صورتحال ان کی امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔

    یہ پہاڑی علاقہ ہے اور دریا کے دوسری جانب موجود سب سے زیادہ متاثرہ علاقے اب باقی علاقوں سے کٹ چکے ہیں۔

    یہاں موجود پل بہہ گئے ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ہم ابھی تریشولی دریا کے کنارے سے واپس آئے ہیں جہاں ہنگامی صورتحال سے متعلق انتباہات میں نرمی کے بعد ہماری رسائی ممکن ہوئی تھی۔

    بدھ کے روز فلیش فلڈنگ سے تباہی کے بعد سڑکیں اور عمارتیں پہلے ہی کیچڑ میں ڈوبی ہوئی تھیں اور امدادی کارکن مزید سیلاب کے خدشے کے پیش نظر مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

    ریسکیو اہلکار اس صورتحال سے شدید دباؤ میں ہیں اور یہ بارش ان کے لیے ہرگز مددگار ثابت نہیں ہوگی۔

  7. نیپال میں سیلاب سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ، ریڈ کراس

    بین الاقوامی فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے نیپال میں وفد کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے کہا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق بدھ کے روز آنے والے سیلاب سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    انھوں نے ملک میں مزید سیلاب آنے اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات سے بھی آگاہ کیا۔

    ڈیوّ فشر نے آج صبح ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم یقیناً دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں۔‘

    آئی ایف آر سی نے فوری جان بچانے والی امدادی کارروائیوں کے لیے دو کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک (23 ملین پاؤنڈ؛ 31 ملین ڈالر) کی ہنگامی اپیل جاری کی ہے۔

    تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے پورے عالمی نیٹ ورک کو متحرک کر دیا ہے۔

  8. نیپال میں اچانک سیلاب، 100 سے زیادہ غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا: نیپال ٹورازم بورڈ

    نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق ملک میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد کم از کم 121 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ نیپال میں پولیس کے مطابق اس سیلاب سے مرنے والے کم از کم 547 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    ٹورازم بورڈ کا کہنا ہے کہ جن غیر ملکی افراد کو بچایا گیا ہے ان میں 85 انڈین شہری، 16 چینی شہری اور نو جنوبی کوریائی شہری شامل ہیں جبکہ دیگر افراد کی شہریت کا ابھی تعین نہیں ہو سکا۔

    اس سے قبل حکام نے 500 سے زیادہ ایسے سیاحوں کی فہرست جاری کی تھی جو اب بھی لاپتہ ہیں۔

    ٹورازم بورڈ کے مطابق زخمیوں اور متاثرہ افراد کے ریسکیو اور انخلا کے لیے تمام ضروری کوششیں جاری ہیں۔

  9. نیپال میں سیلاب، اب تک 538 مرنے والوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں: ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی

    نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاری کے باعث اب تک 538 مرنے والے افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے بعد امدادی اور بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    ادارے نے لاپتہ افراد کی تعداد سے متعلق اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ 977 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن میں 517 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔

    اس سے قبل نیپال پولیس نے کہا تھا کہ بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 489 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    دونوں ادارے ریسکیو آپریشن کے بارے میں الگ الگ اپ ڈیٹس جاری کر رہے ہیں کیونکہ امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

  10. ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے

    ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ 5 (پنجم) 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ انھیں گزشتہ ہفتے خون کی ایک نایاب بیماری کی تشخیص کے بعد علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    اوسلو میں شاہی محل نے اس حوالے سے بیان میں کہا کہ وہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق 06:35 پر اوسلو کے نیشنل ہسپتال میں پُرسکون طور پر وفات پا گئے۔

    اس خبر کے اعلان کے ساتھ ہی محل کی چھت پر نصب شاہی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔

    ان کی وفات سے پہلے شاہی خاندان کے ارکان نے بادشاہ سے عیادت کی جبکہ لوگوں نے محل کے باہر پھول رکھے تھے۔

    ہیرالڈ 14ویں صدی کے بعد ناروے میں پیدا ہونے والے ناروے کے پہلے بادشاہ تھے۔ ان کے بعد ان کے 53 سالہ بیٹے ہاکون نے ان کی جگہ سنبھالی ہے جس کے بعد آج وہ حکومت کے ساتھ ریاستی کونسل کا ایک غیرمعمولی اجلاس منعقد کریں گے۔

    ان کے لواحقین میں ان کی اہلیہ ملکہ سونیا، ان کی بیٹی شہزادی مارتھا لوئیز، ان کے بیٹے اور نئے بادشاہ ہاکون، اور چھ پوتے پوتیاں شامل ہیں۔

    دنیا بھر سے تعزیتی پیغام

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ کی وفات پر اپنی انتہائی دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    سویڈن کے بادشاہ کارل شانزدہم گستاف نے اپنے تعزیتی پیغام میں انھیں ’میرے، میرے خاندان اور سویڈن کے ایک اچھے دوست‘ کے طور پر یاد کیا اور ساتھ ہی ہاکون کے لیے ’کامیابی اور خوش بختی‘ کی دعا کی۔

    شاہی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ سادہ مزاج، قابل احترام اور عوام میں بے حد محبوب تھے، 35 برس تک تخت پر فائز رہنے کے بعد ہیرالڈ کو ایک مقبول اور اصلاحات لانے والی شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنھوں نے بادشاہت کو جدید بنایا۔

    مبصرین نے ہیرالڈ کو قوم کا سرپرست اور عوامی بادشاہ قرار دیا۔ یہ لقب ان کے والد بادشاہ اولاو پنجم کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

    حالیہ برسوں میں ہیرالڈ اور ان کے خاندان کو صحت کے مسائل اور چند تنازعات کا بھی سامنا رہا۔

    ان میں خاص طور پر ان کی بہو میتے ماریت کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات اور ان کے سوتیلے پوتے ماریئس بورگ ہوئیبی کے خلاف مبینہ ریپ کے مقدمے سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

    مورخ اور ٹی وی 2 کے شاہی امور کے نامہ نگار اولے یورگن شولسرود ہانسن نے بی بی سی کو بادشاہ ہیرالڈ کے حوالے سے بتایا کہ ان کے دورِ حکومت میں ناروے کی بادشاہت زیادہ مساوات پسند اور شفاف بنی۔

    جب ناروے کی قومی فٹبال ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے واپس لوٹی تو ہیرالڈ نے شاہی محل میں ان کا استقبال کیا۔

    دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں جب ایڈولف ہٹلر نے ناروے پر حملے کا حکم دیا تو ہیرالڈ کی عمر صرف تین برس تھی۔

    ہیرالڈ کی والدہ اپنے بچوں کے ساتھ سرحد پار کر کے سویڈن چلی گئیں اور بعد میں وہ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی دعوت پر امریکہ گئے۔

    شہزادہ ہیرالڈ جنگ کے اختتام پر اپنے خاندان کے ساتھ ناروے واپس آئے جہاں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور لازمی فوجی خدمت بھی انجام دی۔

    روایت سے ہٹ کر عام شہری خاتون سے شادی

    ایک عام شہری خاتون سے شادی کر کے روایت سے ہٹ کر قدم اٹھایا اور ناروے کے مشکل ترین اوقات میں اتحاد کی علامت بنے رہے۔

    وہ 1957 میں ولی عہد بنے اور 1960 سے 1962 تک آکسفورڈ کے بیلیول کالج میں سماجی علوم، تاریخ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔

    ان کی ملاقات ایک کاروباری شخصیت کی بیٹی سونیا ہیرالڈسن سے ایک تقریب میں ہوئی، لیکن ولی عہد کو ان سے شادی کی اجازت ملنے کے لیے نو سال انتظار کرنا پڑا۔

    ان کے والد، بادشاہ اولاو، ہمیشہ یہ امید رکھتے تھے کہ وہ کسی یورپی شہزادی سے شادی کریں گے۔

    بالآخر انھوں نے اپنے والد سے کہہ دیا کہ اگر انھیں سونیا سے شادی کی اجازت نہ ملی تو وہ ساری زندگی غیر شادی شدہ رہیں گے۔

    آخرکار ان کے والد نے رضامندی دے دی، اور اس جوڑے کی شادی 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں ہوئی۔

  11. نیپال کے سیلاب زدگان: ’پانی کبھی اندر کھینچتا اور کبھی باہر پھینکتا تھا‘

    نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں کی تباہی، سڑکوں کے زیرِ آب آنے اور پلوں کے بہہ جانے کے بعد بچ جانے والے افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ حکام کے مطابق نیپال میں سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور کم از کم 489 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں مزید سیلاب کے خدشے کے پیشِ نظر تیاری کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ اس بات کا خدشہ برقرار ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل پھٹنے کے نتیجے میں مزید سیلاب بھی آ سکتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں پر پڑی رکاوٹیں ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔

  12. نیپال اور تبت میں امدادی کاروائیاں جاری، سیلاب کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پھٹنے کا خطرہ

    ہم نیپال اور تبت کی سرحدی علاقوں کی صورتحال پر آج بھی گہری نظر رکھی ہوئے ہیں کیونکہ اس بات کا خدشہ برقرار ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل پھٹنے کے نتیجے میں مزید سیلاب آ سکتے ہیں۔

    خطے سے موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات کا خلاصہ:

    • چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے اس اطلاع کے بعد کہ دی تھی کہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل سے پانی کا اخراج شروع ہو گیا ہے تبت میں امدادی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔ تاہم بعد میں حکام نے بتایا کہ پانی کا اخراج رک گیا ہے اور امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
    • چینی سرکاری میڈیا کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں میں جھیل کی صورتحال کی نگرانی کے لیے وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔
    • نیپال پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد اب 475 ہو گئی ہے، جبکہ 900 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
    • حکام کی جانب سے537 غیر ملکی شہریوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جن کے بارے میں سیلاب کے بعد اب تک کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ ان میں 178 انڈین، 65 امریکی، 53 یوکرینی، 51 ملائیشین، 33 آسٹریلوی اور 33 برطانوی شہری شامل ہیں۔
    • نیپالی فوج کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے900 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے، جن میں 119 سیاح بھی شامل ہیں۔
    • فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بارش اور غیر متوقع موسمی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کے بقول ’میں نے اپنی زندگی میں اس نوعیت کی تباہی نہیں دیکھی۔‘
    • تبت میں اب تک تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 55 سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و شمار نیپال کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں شامل ہیں یا ان سے الگ ہیں۔
  13. نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب کیوں آیا؟

  14. ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے: محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی راہداری کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    جمعرات کی شام المنار ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ اس راہداری کا ایک حصہ ایرانی پانیوں میں اور دوسرا عمانی پانیوں میں واقع ہے، جبکہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر جہازوں کی آمد و رفت کا انتظام کریں گے۔

    ان کے بقول اس منصوبے کی تفصیلات طے کر لی گئی ہیں اور راہداری کا مقام واضح طور پر متعین کر دیا گیا ہے۔

    محسن رضائی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کی شرائط پر عمل کرتا ہے اور تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور جہاز اسی نئے راستے سے گزر سکیں گے۔ ’یہ ایک نئی گزرگاہ ہے جو آبنائے ہرمز کے وسط میں واقع ہے۔‘

    انھوں نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کو واشنگٹن کی جانب سے ایرانی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط قرار دیا۔ ان شرائط میں سرفہرست مغربی ایشیا میں جاری جنگوں، خصوصاً لبنان اور غزہ کے تنازعات، کے خاتمے کے لیے کوششیں شامل ہیں۔

    محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی شرائط کی ایک فہرست تیار کی ہے جو امریکہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ ان کے مطابق فی الحال ایران نے آبنائے ہرمز کے وسط سے جہازوں کی محدود اور عارضی آمد و رفت کی اجازت دی ہے، جبکہ مستقبل میں بحری نقل و حمل کی صورتحال کا انحصار واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی مفاہمت میں پیش رفت پر ہوگا۔

  15. نیپال میں سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 475 ہو گئی، آرمی کا 900 افراد کو بچانے کا دعویٰ

    نیپالی حکام نے سیلاب کے نتیجے میں 475 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ نیپالی آرمی کا کہنا ہے کہ اب تک متاثرہ علاقوں سے 900 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

    نیپال پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 8 بج کر 15 منٹ) تک ضلع رسووا میں بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 475 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکہ ہے۔

    پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں پر پڑی رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب نیپال کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں، جن میں رسووا اور نوواکوٹ اضلاع شامل ہیں، سے 900 افراد کو نکال لیا ہے۔

    فوج کے مطابق بچائے جانے والوں میں 119 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جن میں 92 انڈین شہری ہیں۔

    جیسا کہ ہم پہلے بھی خبر دے چکے ہیں کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے غیر ملکی سیاحوں میں انڈین شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

    فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام بسنیٹ نے ایک فوجی بیرک کے باہر قائم ہیلی کاپٹر لینڈنگ فیلڈ پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچائے گئے تمام 900 افراد زخمی ہیں اور ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، تاہم انھوں نے ان کی حالت کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    انھوں نے تسلیم کیا کہ بارش اور غیر متوقع موسمی حالات نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل بسنیٹ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’اپنی زندگی میں اس نوعیت کی تباہی نہیں دیکھی۔‘

  16. تبت سے 555 سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے: چینی سرکاری میڈیا

    چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا نے خبر دی ہے کہ حکام نے تبت میں پھنسے 555 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

    بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے بعد تبت سے معلومات بہت محدود مقدار میں سامنے آئی ہیں، جس کی بڑی وجہ چین کے سخت میڈیا ضوابط ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و شمار نیپال کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات سے مطابقت رکھتے ہیں یا ان سے الگ ہیں۔

    زنہوا کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نکالے گئے سیاحوں کی شہریت کیا تھی۔ تاہم انڈیا، آسٹریلیا اور امریکہ نے کہا ہے کہ ان کے شہری بھی اس آفت میں لاپتا افراد میں شامل ہیں۔

  17. نیپال میں سیلاب سے 469 افراد ہلاک، 500 سیاحوں سمیت 900 تاحال لا پتہ

    بدھ کے روز نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے سیالاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک نیپال میں 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    نیپالی پولیس کا کہنا ہے کہ سیلاب اور تودے گرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 469 ہو گئی ہے۔

    جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نیپالی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے تریشولی کے نزدیک ایک سرنگ سے 350 افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ فوج اندر پھنسے مزید 100 افراد کو کوششوں میں مصروف ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کی شب نیپالی حکام نے بتایا تھا کہ 900 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں 500 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

  18. ایران کی ترکی میں امریکی صدر کو قتل کرنے کے منصوبے کی تردید: نیتن یاہو نے یہ جھوٹی افواہ ٹرمپ کو ڈرانے کے لیے پھیلائی، محسن رضائی کا دعویٰ

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکی میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حزب اللہ کے نزدیک سمجھے جانے والے ال منار نیٹورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی کا کہنا تھا کہ دورہ ترکی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے اور ٹرمپ کے چھوٹے بیٹے کو قتل کرنے کی افواہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے پھیلائی تھی۔

    انٹرویو کے دوران محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے ایرانیوں کی جانب سے ٹرمپ کے قتل کی سازش کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلا کر ٹرمپ کو خوفزدہ کر دیا ہے، جس سے ان کے فیصلہ سازی کے عمل میں خلل پڑا ہے۔

    ’ٹرمپ اس خبر کے خوف سے (ترکی کے دورے کے دوران) ایک فوڈ ٹرک کے کارکن کی طرح اِدھر اُدھر گھومتے رہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کوئی فیصلہ کرلے تو اس پر عمل درآمد کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، ’لیکن یہ خبر محض نیتن یاہو کی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔‘

    یاد رہے کہ جولائی میں ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر ٹرمپ نے خفیہ طور پر متبادل طیارہ استعمال کیا تھا۔

    ترکی سے واپسی پر انھوں نے میڈیا کے نمائندوں اور اور وائٹ ہاؤس کے بیشتر عملے کو صدارتی طیارے ’ایئر فورس ون‘ پر سوار کروایا، جو کہ ایک فریب تھا۔

    یہ ایک پیچیدہ چال تھی جس میں صدر ٹرمپ کو ایئرفورس ون پر سوار ہونے کے بعد ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا اور بعدازاں لینڈنگ کے بعد انھیں دوبارہ اُسی طیارے پر سوار کروایا گیا۔

    اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ایک انٹیلیجنس اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایئر فورس ون کے خلاف ایرانی میزائل حملہ ہو سکتا ہے۔

    بعد ازاں صدر ٹرمپ نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسری پرواز اور مختلف طیارے میں سفر کروں۔ مجھے وہی کرنا ہوتا ہے، جو وہ کہتے ہیں۔‘

  19. پاکستان اور کویت نے ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کر دیے

    پاکستان اور کویت نے ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت پاکستان کی وزارت فاع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 2023 میں طے پانے والے ’دفاعی تعاون معاہدے‘ کے موجودہ فوجی تعاون کے فریم ورک کو تقویت ملے گی۔

    جمعرات کو پاکستان کی وزارت دفاع سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نئے معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج، تربیت اور استعداد کار میں اضافے، سرحدی نظم و نسق اور دفاعی تعاون کے دیگر باہمی طور پر طے شدہ شعبوں میں کویت کی مسلح افواج کی معاونت کریں گی۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کویت کے وزیر دفاع عشیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کویتی وفد، جس میں کویت کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد درج سعد الشریعان شامل تھے، راولپنڈی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات کی۔

    بیان کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، سکیورٹی تعاون اور پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

  20. ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی قطری رہنماؤں سے ملاقات، خطے میں ’کشیدگی میں کمی‘ کا مطالبہ

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقات کے دوران خطے میں ’کشیدگی میں کمی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

    ملاقات کی مزید تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق قطری وزیرِ خارجہ نے ’سفارتی راستے کو دوبارہ اختیار کرنے کی ضرورت‘ پر زور دیا اور اختلافات کے حل اور ’خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے‘ کے لیے مذاکرات کی تجویز دی۔

    اس سے قبل الثانی نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی اور ’کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے موزوں حالات پیدا کرنے‘ کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔