کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار حالات میں ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دونوں پولیس اہلکاروں، لاش جناح ہسپتال منتقل کرنے والے ایدھی کے ڈرائیور اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو نوٹسز جاری کردیے ہیں اور مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے آغاز پر جمعے کے روز میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ پیش ہوئے جبکہ وکیل جبران ناصر کو بھی کمیشن کے روبرو طلب کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ کراچی میں ’وافلکس‘ نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔
بعد میں پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور ابتدائی رپورٹ پر بھی سوالات اٹھے، جس کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔
کارروائی کے دوران جبران ناصر نے بتایا کہ 19 اگست کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی بات ہوئی تھی، تاہم اس وقت نئی انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی اس لیے درخواست کی گئی کہ اسے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ سابقہ انویسٹیگیشن ٹیم نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکم جاری کیا کہ سندھ حکومت سے کہا جائے گا کہ میر رضا کیس کے حوالے سے معلومات رکھنے والے افراد کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کیا جائے، یہ اشتہار اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں شائع ہو اور معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام مقرر کیا جائے۔
جسٹس عمر سیال نے سندھ حکومت کو پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست، گواہوں کے بیانات، میڈیکل رپورٹ اور اصل دستاویزات کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ 29 جولائی کو دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے موکل جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔
ان کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجے کے درمیان کوئی پولیس افسر وہاں نہیں آیا، تاہم سوا 12 بجے دو پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔
جبران ناصر کے مطابق وہ دونوں اہلکار میر رضا کی لاش دیکھنے والے مقامی نرسری کے شخص کی اطلاع پر وہاں پہنچے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ میر رضا کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم کیا۔
کمیشن کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے فیروز آباد پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی مذمت کی۔
انھوں نے کہا کہ 29 دن گزرنے کے باوجود میر رضا کے قتل کے ملزمان کا تعاقب نہیں کیا جا سکا اور انصاف کے لیے احتجاج جاری رہے گا۔
جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے والدین کے لیے وہ ان کا بیٹا تھا اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جبران ناصر کے مطابق جسٹس عمر سیال نے واضح کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی عوام کے لیے کھلی رکھی گئی ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
انھوں نے کہا کہ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کا کام فیکٹ فائنڈنگ ہے، تفتیش کرنا نہیں جبکہ ملزمان کو گرفتار کرنا اور چالان عدالت میں جمع کرانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔
’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘، مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج
دوسری جانب کراچی میں شاہراہِ فیصل پر احتجاج اور مبینہ طور پر سڑک بلاک کرنے کے الزام میں پولیس نے 20 نامزد افراد سمیت تقریباً 100 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
فیروز آباد تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 27 اگست کی رات تقریباً ساڑھے 12 بجے نرسری بس سٹاپ کے قریب پیش آیا، جہاں تقریباً 100 افراد نے صدر سے ایئرپورٹ جانے والی شاہراہِ فیصل کی ٹریک کو مبینہ طور پر بند کر رکھا تھا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور بینرز تھے جبکہ ایک بینر پر ’میر رضا علی کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘ کا مطالبہ درج تھا۔
مظاہرین مبینہ طور پر آنے جانے والی گاڑیوں کو بھی روک رہے تھے۔
ایف آئی آر میں عدنان رضا، دانش رحمان، دانش رضا، فیضان مونٹا، حمزہ خان، رضا حسن سوریا، علی زبیر عرف زبیری، طلحہ، علی ذوہیب، شہریار، سبطین، عمار، عبداللہ، ضرار خالد، احمد، بلال خان، جمیل، طلحہ شیخ، بابر حمید اور شیخ طلحہ بن ناصر کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد افراد کے ساتھ 75 سے 80 دیگر نامعلوم افراد بھی موجود تھے۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو سڑک کھولنے اور منتشر ہونے کے لیے سمجھانے کی کوشش کی، تاہم ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے احتجاج اور نعرے بازی جاری رکھی۔
پولیس نے مقدمے میں ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع، سرکاری اہلکار کے کام میں مداخلت، راستہ روکنے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں یہ مقدمہ درج کیا ہے۔