پراسرار حالات میں مرنے والے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی قبر کشائی عین وقت پر مؤخر کیوں ہوئی؟

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پراسرار حالات میں مرنے والے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ’24 گھنٹے کی کشمکش‘ کے بعد پولیس سرجن کراچی کی جانب سے تشکیل دیا گیا اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کر دیا گیا ہے اور اب میر رضا علی کی قبر کشائی ’متوقع طور پر‘ ہفتے کی صبح کی جائے گی۔

جمعے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں جبران ناصر نے کہا کہ بحال کیا گیا بورڈ والدین کی کسی ’ذاتی پسند‘ کے مطابق نہیں، بلکہ ان کا واحد مطالبہ یہ تھا کہ قانون اور ضابطۂ کار پر عمل کیا جائے۔

اس سے قبل جمعے کو میر رضا علی کی قبر کشائی اس وقت مؤخر کر دی گئی تھی جب اہلخانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیکل بورڈ میں ’راتوں رات‘ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

میر رضا علی کے اہلخانہ کا مؤقف تھا کہ قبر کشائی سے متعلق عدالتی حکم کے بعد کراچی پولیس سرجن کی جانب سے تشکیل دیے گئے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی کی گئی جس سے نہ صرف اہلخانہ کا اعتماد مجروح ہوا بلکہ قبر کشائی کے عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھے۔

یاد رہے کہ کراچی میں ’وافلکس‘ نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور بعدازاں اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔

کئی روز گزر جانے کے باوجود پولیس تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی ہے جبکہ میر رضا علی کی لاش اور جائے وقوعہ کے حالات اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے باوجود پولیس یہ گتھی بھی نہیں سلجھا سکی کہ میر رضا علی کی موت کیسے ہوئی۔

جمعرات (چھ جولائی) کو اہلخانہ کی درخواست پر مقامی عدالت نے 25 سالہ میر رضا علی کی موت کی ازسر نو تحقیقات کے لیے والد کی جانب سے دائر کردہ قبر کشائی کی درخواست منظور کی تھی۔ عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سندھ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ’جلد از جلد میڈیکو لیگل بورڈ‘ تشکیل دیں تاکہ قبر کشائی کی جا سکے۔

تاہم بورڈ کی تشکیل کے بعد جمعہ کے روز جب متعلقہ عملہ، ڈاکٹرز اور رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل طارق روڈ سوسائٹی قبرستان میں پہنچے تو اس موقع پر والدین کی جانب سے میڈیکل بورڈ پر عدم اعتماد کیا گیا، جس کے بعد قبر کشائی کا عمل مؤخر کر دیا گیا۔

اہلخانہ کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے بی بی سی سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت کے ایک افسر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جو خلافِ قانون تھا۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی نوٹیفیکیشن کے بعد رات گئے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور سات ارکان کو تبدیل کر کے نئے نام شامل کیے گئے اور بعد میں ایک تیسرا نوٹیفکیشن جاری کر کے دونوں بورڈز کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی۔

جبران ناصر نے بتایا کہ اہلِخانہ نے اس نئے بورڈ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد پولیس سرجن نے فارنزک اور پیتھالوجی کے ماہرین پر مشتمل آٹھ رکنی بورڈ تشکیل دیا تھا جس پر اہلخانہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، لیکن رات گئے اچانک اس میں تبدیلیاں کر دی گئیں۔

ان کے مطابق یہ تبدیلیاں نہ صرف قانون بلکہ عدالت کے حکم کے بھی منافی ہیں، کیونکہ سندھ کے متعلقہ قانون کے تحت قبر کشائی کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار پولیس سرجن کے پاس ہے۔

اُنھوں نے الزام لگایا کہ اس سارے عمل کا مقصد قبر کشائی میں تاخیر پیدا کرنا ہے کیونکہ یہ کارروائی صرف ایک مرتبہ ہو سکتی ہے اور تاخیر سے ممکنہ شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

جبران ناصر نے پولیس کی تفتیش پر بھی کئی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش مکمل ہونے کے دعوے اس وقت کیے جا رہے ہیں جب عدالت ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اطمینان نہ ہونے کے باعث دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دے چکی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مدعی کا بیان بھی بروقت ریکارڈ نہیں کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے گولی کا خول بھی عدالت کے حکم کے بعد دوبارہ تلاشی لینے پر برآمد ہوا جس پر اہلخانہ کو تحقیقات کی شفافیت پر مزید خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے صرف منتخب حصے سامنے لائے جا رہے ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے گزرنے والے ہر شخص کی جانچ ہونی چاہیے۔

تاہم، بعد ازاں جمعے کی شب جبران ناصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’24 گھنٹے کی کشمکش‘ کے بعد پولیس سرجن کراچی کی جانب سے تشکیل دیا گیا اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کر دیا گیا ہے۔

اہلخانہ کا کیا موقف ہے؟

رضا علی کے والد میر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا پولیس کی تحقیقات پر اعتماد ابتدائی دنوں ہی میں ختم ہونا شروع ہو گیا تھا۔

ان کے مطابق پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات پیدا ہوئے پھر تحقیقاتی ٹیم نے اہلِخانہ کو اعتماد میں نہیں لیا اور مختلف اوقات میں مختلف بیانیہ سامنے آتا رہا۔

اُن کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اُنھوں نے عدالت سے رجوع کیا تاکہ قبر کشائی اور نئے پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی اصل وجہ کا تعین ہو سکے اور جب عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ تشکیل پا گیا تھا تو پھر راتوں رات اس میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

میر حسین کے مطابق اس کیس کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اُن کا بیٹا اُس مقام تک کیسے پہنچے جہاں سے اس کی لاش ملی۔ انھوں نے اس شبے کا اظہار کیا کہ اُن کے بیٹے کا قتل شاید کہیں اور ہوا اور لاش بعد میں وہاں پھینکی گئی۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ خاندان نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی اور متعدد ایسے سوالات سامنے آئے جن کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔

والد نے مطالبہ کیا کہ اُن کے بیٹے کی موت کی تمام پہلوؤں سے مکمل تحقیقات کی جائیں۔

میر حسین نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے غسل کے دوران اپنے بیٹے کی میت پر تشدد کے نشانات دیکھے اور اسی بنیاد پر دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست دی ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی مخصوص شخص پر براہِ راست الزام نہیں لگا رہے، تاہم ان کے خیال میں اس کیس میں پیشہ ورانہ رقابت یا دیگر محرکات بھی زیرِ تفتیش آنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل حقائق صرف جامع اور غیر جانبدار تحقیقات سے ہی سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب بی بی سی کی جانب سے جب فیروز آباد پولیس کے تفتیشی شعبے سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے اس بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کیا اور واضح کیا کہ اسی ایس ایس پی سی آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی حقائق سامنے لائے گی۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم پر پولیس سرجن کے اعتراضات

میر رضا علی کی پُراسرار موت کی وجوہات جاننے کے لیے جو ابتدائی پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا، اس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی مزید سوالات اٹھ گئے تھے اور پولیس سرجن سمعیہ سید نے اس رپورٹ میں خامیوں کی نشان دہی کی تھی۔

بی بی سی کو ملنے والی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کا پوسٹ مارٹم موت کے 21 سے 36 گھنٹے بعد کیا گیا جبکہ اُن کے سینے پر بڑے زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش پر تعفن کے آثار نمایاں تھے، جسم پر شدید سوجن اور رنگ میں تبدیلی آ چکی تھی۔

جمعرات کے روز عدالت پیشی پر میڈیا سے گفتگو میں میر رضا علی کے والد میر حسین نے کہا تھا کہ پولیس نے ’ابھی تک ہمارا بیان ریکارڈ نہیں کیا‘ اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے بیٹے کی لاش کا ’پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کیوں غائب ہیں۔‘

میر حسین کے وکیل جبران ناصر نے ایکس پر لکھا: ’ہم نے ابتدائی ناقص معائنے کرنے والے میڈیکو لیگل افسر کے خلاف تحقیقات کے لیے پولیس سرجن کے پاس الگ سے شکایت بھی دائر کی ہے۔‘

بدھ کے روز ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایس پی ایسٹ کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران نہ تو لاش کے ایکسرے کیے گئے اور نہ ہی داخلی زخم پر موجود بارود کے نشانات کا کیمیکل تجزیہ ہوا۔

سمعیہ سید کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں داخلی زخم کو خارجی زخم سے نمایاں طور پر بڑا بتایا گیا ہے اور داخلی و خارجی زخم کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری تھی۔

پولیس سرجن کے مطابق لاش کے ہاتھوں پر بارودی ذرات یا گن پاؤڈر کی موجودگی جاننے کے لیے بھی نمونے نہیں لیے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ لاش کی ڈی کمپوزیشن کی نوعیت بھی واضح نہیں اور چہرہ ناقابلِ شناخت ہونے کے باوجود شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے کا نمونہ نہیں لیا گیا۔

اُدھر کراچی پولیس کے سربراہ آزاد خان نے ڈاکٹر سمیعہ کے بیانات پر کہا تھا کہ ڈاکٹر سمیعہ نے نہ تو خود پوسٹ مارٹم کیا اور نہ ہی لاش دیکھی اور صرف تصویروں کی بنیاد پر اپنی رائے دی ہے۔

بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کا کہنا تھا کہ ’اگر خاندان والے کہیں گے اور قانونی تقاضے پورے ہوں گے تو دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔‘

ان کے مطابق ’پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس نہیں دیتی، یہ رپورٹ میڈیکل رپورٹ ہوتی ہے جو ڈاکٹر دیتے ہیں لہذا ایم ایل او نے جو رپورٹ دی ہے پولیس نے ابھی تک جو اپنی رائے بنائی ہے اسی رپورٹ کی بنیاد پر بنائی ہے۔‘

پولیس سرجن کے بیان پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے آزاد خان کا کہنا تھا ’انھوں نے اگر کوئی آبزرویشن دی ہے، تو انھیں تحریری طور دینی چاہیے تھی بجائے اس کے کہ وہ میڈیا پر دیں۔ اس کا ایک طریقۂ کار ہے اور وہ طریقۂ کار یہ ہے کہ بورڈ بنے اور بورڈ جو رائے دے گا پولیس اس کے حساب سے چلے گی۔‘

’والدہ کو کہہ کر گیا تھا دس منٹ میں آ رہا ہوں‘

میر رضا علی 28 جولائی کو اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے باہر نکلے تھے کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔

لیکن دس منٹ کا یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا اور ایک دن بعد پولیس کو ان کی لاش ملی۔

میر رضا علی کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے پولیس نے ایک تین رُکنی کمیٹی قائم کی ہے جس کی سربراہی

سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ کے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو سونپی گئی ہے جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن محمد عثمان سدوزئی بھی اس میں شامل ہیں۔

اُن کے والد میر حسین علی کی جانب سے کراچی کے فیروز آباد تھانے میں دائر کی جانے والے مقدمہ کی ایف آئی آر میں بتایا گیا تھا کہ اُن کا 25 سالہ بیٹا 28 جولائی کی شب اپنی دکان وافلکس بہادر آباد چورنگی سے اپنی گاڑی پر گھر آیا۔

ایف آئی آر کے مطابق میر رضا علی نے اپنی والدہ کو تقریباً چار بجے رات کو بتایا کہ وہ ’دس منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے۔‘

مدعی کے مطابق میر رضا علی کا موبائل فون ان کے پاس ہی تھا لیکن کافی دیر بعد جب بیٹا واپس نہیں آیا تو ان کی بیگم نے بیٹے کے نمبر پر کال کی جو بند تھا۔

میر رضا علی کی والدہ نے مدعی کو نیند سے اٹھا کر بتایا جس کے بعد وہ اپنے طور پر بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اِس دوران انھوں نے 15 پر بھی اطلاع دی تھی۔

ایک روز بعد پولیس کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون میں شادی قلعہ کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش ملی۔ لیکن اس لاش کی شناخت آسان نہیں تھی۔

ایس ایچ او کامران قریشی کے مطابق ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد انھیں گولی مار کر قتل کیا گیا۔‘

تاہم پولیس کے مطابق ’جسم کے بعض حصوں پر جلنے کے نشانات بھی موجود تھے جس کے باعث شناخت مشکل تھی۔‘

پولیس کے مطابق مقتول کے والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق مقتول کے سینے پر ایک گولی ماری گئی۔

میر حسین علی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اُن کے ’دو ہی بچے تھے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک کسی سے دشمنی، لین دین کے معاملے کا تعلق ہے، تو ایسا بالکل کچھ نہیں تھا۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔‘

اُن کے مطابق ’جس دن ایف آئی آر کٹی، اس کے اگلے ہی دن بچے کی باڈی مل گئی۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ اُن کا بیٹا انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں پڑھتا تھا اور مارکیٹنگ کے شعبے کا آنر سٹوڈنٹ تھا۔ ’وہ ایک بہت ہی لائق اور قابل بچہ تھا۔‘