آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس سے کم از کم 118 متاثرہ افراد ہلاک ، عالمی ادارہ صحت کا ہنگامی صورتحال کا اعلان

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں صحت کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ایبولا سے بچاؤ کی چونکہ کوئی منظور شدہ ادویات یا ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے لوگوں کو صحتِ عامہ کے اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔ ان اقدامات میں ایبولا کے متاثرین کی تدفین کے دوران احتیاطی تدابیر بھی شامل ہیں۔

خلاصہ

  • افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک کم از کم 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کی ویکسین نہ ہونے کے سبب عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی ہنگامی صورتحال بھی قرار دیا ہے۔
  • سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر اب ہم ایران پر کل طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، صدر ٹرمپ
  • ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ 'ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ'
  • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم روکا

لائیو کوریج

  1. کینیا: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پرتشدد مظاہرے، چار افراد ہلاک 30 سے زائد زخمی

    کینیا میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 30 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یہ ہڑتال حکام کی جانب سے پٹرولیم کی قیمتیں 20 فیصد تک ریکارڈ سطح تک بڑھانے کے خلاف کی گئی۔

    احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکیں بند کیں اور ٹائر بھی جلائے۔ وزیر داخلہ کِپچومبا مرکو مین کے مطابق پرتشدد احتجاج کے الزام میں 348 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    نیروبی کے مختلف حصوں اور ملک بھر کے دیگر علاقوں میں پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جنھوں نے جلتے ہوئے ٹائروں اور رکاوٹوں کے ذریعے سڑکیں بند کر رکھی تھیں۔

    یاد رہے کہ کینیا کی انرجی اینڈ پیٹرولیم ریگولیٹری اتھارٹی (ایپرا) نے جمعرات کو ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر قیمتیں بڑھا کر242 شلنگ (1.8 ڈالر) فی لیٹر کی سطح تک پہنچا دیں، جبکہ دیگر ایندھن کی قیمت 1.65 ڈالر تک ہو گئی۔

    ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال کے بعد ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے، جبکہ دارالحکومت نیروبی میں اہم سڑکیں بڑی حد تک خالی رہیں، کاروبار میں مندی رہی جبکہ سکولوں نے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایات کی۔

    یاد رہے کہ کینیا، دیگر کئی افریقی ممالک کی طرح، خلیج سے ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تنازع کے باعث یہ ملک ایندھن کی سپلائی سے متاثر ہوا۔

    وزیر خزانہ جان مبادی نے پیر کو مقامی این ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ’بدقسمتی‘" ہے اور تسلیم کیا کہ اس سے معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

    نیروبی پولیس کے کمانڈر عیسیٰ محمد نے کہا کہ جھڑپوں میں چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پانچ پولیس گاڑیوں اور ایک سویلین گاڑی کو نقصان پہنچا۔

  2. جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس سے متاثرہ 100 سے زائد افراد ہلاک، عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی صورتحال ڈکلیئر کر دی

    افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک کم از ک118 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 390 سے زیادہ کیسز مشتبہ ہیں۔

    براعظم افریقہ میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں صحت کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ایبولا سے بچاؤ کی چونکہ کوئی منظور شدہ ادویات یا ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے لوگوں کو صحتِ عامہ کے اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔

    ان اقدامات میں ایبولا کے متاثرین کی تدفین کے دوران احتیاطی تدابیر بھی شامل ہیں۔

    امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق یوگنڈا میں بھی ایبولا سے متاثرہ دو تصدیق شدہ کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے۔

    ایبولا کی موجودہ قسم کا پھیلاؤ بُنڈی بُگیو وائرس کے باعث ہو رہا ہے جسے عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی ہنگامی صورتحال بھی قرار دیا ہے۔

    جمہوریہ کانگو میں ایک امریکی ڈاکٹر بھی ان افراد میں شامل ہیں جن میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے، یہ بات اس طبی مشنری گروپ اور سی ڈی سی نے کہی ہے جس کے ساتھ وہ کام کر رہے تھے۔ اب انھیں علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔

    سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ جمہوریہ کانگو میں اس وبا کے دوران کم از کم چھ امریکی ایبولا وائرس کے رابطے میں آئے ہیں۔

    سی ڈی سی نے کہا کہ وہ ’براہِ راست متاثر ہونے والے ان امریکیوں کے محفوظ انخلا میں معاونت کر رہا ہے لیکن یہ تصدیق نہیں کی کہ اس میں کتنے افراد اس میں شامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ نے جمہوریہ کانگو کے لیے سطح چار کی سفری وارننگ بھی جاری کر دی ہے، جو اس کی سب سے سخت سطح ہے، جس میں وہاں سفر سے گریز کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔

    ایبولا ایک نایاب مگر مہلک بیماری، وائرس کے سبب ہونے والی اس بیماری کی علامات کیا ہیں

    عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے۔

    تاہم عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کووڈ جیسی وبا کے ابتدائی مرحلے میں ہیں

    اس وبا سے نمٹنا مشکل ہے کیونکہ اس میں ایک نایاب قسم شامل ہے جس کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں ہے اور کیسز ایسے علاقے میں سامنے آئے ہیں جو تنازع سے متاثر ہے۔

    یاد رہے کہ ایبولا ایک نایاب مگر مہلک بیماری ہے جو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    ایبولا وائرس عموماً جانوروں کو متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں کو لیکن انسانوں میں وبا اس وقت شروع ہو سکتی ہے جب لوگ متاثرہ جانوروں کو کھاتے یا سنبھالتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس کی علامات ظاہر ہونے میں دو سے 21 دن لگتے ہیں۔ یہ اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور فلو کی طرح شروع ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور تھکن شامل ہیں۔

    جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، قے اور اسہال شروع ہو جاتے ہیں اور یہ اعضا کی ناکامی کا باعث بن سکتی ہے جس سے کچھ مریضوں میں اندرونی یا بیرونی خون کا اخراج بھی ہو سکتا ہے۔

    یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں متاثرہ جسمانی رطوبتوں جیسے خون یا قے کے ذریعے پھیلتا ہے۔

    ایبولا کے اس پھیلاؤ میں کیا مختلف ہے اور کیا اس کی کوئی ویکسین ہے؟

    ماہرین کے مطابق کانگو میں اس بیماری کا پھیلاؤ ایبولا کی بنڈی بُگیو قسم کی وجہ سے ہوا ہے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سامنے نہیں آئی تھی۔

    بنڈی بُگیو نے اس سے پہلے صرف دو وبائیں پھیلائی ہیں، جن میں تقریباً ایک تہائی متاثرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایبولا کی یہ نایاب قسم چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

    بنڈی بُگیو کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، تاہم تجرباتی ویکسینز تیار کی جا رہی ہیں۔

    یہ ممکن ہے کہ ایبولا کی ایک دوسری قسم (جسے زائیر کہا جاتا ہے) کی ویکسین کچھ تحفظ فراہم کرے۔

    بنڈی بُگیو کے خلاف خاص طور پر تیار کردہ کوئی ادویات بھی موجود نہیں ہیں، جس سے علاج مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ وبا ایک ایسے علاقے میں پھیل رہی ہے جہاں تنازع جاری ہے اور اس سبب تقریباً ڈھائی لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں اور لوگ سرحد پار ہمسایہ ممالک میں آ جا رہے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت اور طبی فلاحی تنظیم میڈیسن سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کانگو میں علاج کے مراکز قائم کر رہے ہیں اور ردعمل کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ علامات کی اطلاع دینے کے لیے ایک مفت نمبر 151 فراہم کیا گیا ہے۔

    مقامی افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ درج ذیل اقدامات کریں:

    • سماجی فاصلہ اختیار کریں
    • ان افراد کی لاشوں یا مردہ جانوروں سے رابطے سے گریز کریں جن کی موت اس وائرس کی علامات کے ساتھ ہوئی ہو
    • کچا گوشت نہ کھائیں کیونکہ کم پکا ہوا کھانا وائرس منتقل کرسکتا ہے
    • علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً صحت کے ماہرین کو اطلاع دیں۔
  3. ایران میں منڈلاتے جنگ کے بادل اور حکومت حامی 110 جوڑوں کی شادی کی تقریبات

    ایرانی حکومت کے تبلیغی پروگراموں کے تسلسل اور سڑکوں پر موجود حکومتی حامیوں کے جم غفیر کے ساتھ ساتھ اب تہران سے 110 جوڑوں کی شادی کی تقریب امام حسین سکوائر میں منعقد کیے جانے کی خبر موصول ہوئی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق دو روز قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ اجتماعی شادیوں کی تقریبات کی اس مہم کے لیے لاکھوں افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے۔

    ’جنفدہ مہم‘ کے زیر اہتمام یہ اجتماعی شادیاں ایک ایسے حالات میں شروع کی گئی ہیں جب تھی جب ہ ایران کو سیاسی اور اقتصادی بحرانوں، بڑے پیمانے پر ملک گیرمظاہروں اور حالیہ برسوں میں دو حالیہ جنگوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی حکومت نے اپنے حامی رضاکاروں کے لیے ہتھیاروں کے تربیتی کورسز کا آغاز کیا ہے۔

    دوسری جانب جنگ اور مستقبل کے بارے میں فکرمند کچھ شہریوں نے ان حکومتی اقدامات کو پروپیگنڈا اور پریشان کن قرار دیا۔

  4. لبنان میں اسرائیلی حملوں سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی: لبنانی وزارت صحت

    لبنان کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ مارچ کے آغاز سے حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران اسرائیلی حملوں سے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    وزارت نے پیر کے روز ہلاکتوں کی تعداد 3,020 بتائی۔ جنگ بندی کے باوجود ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 17 اپریل کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 400 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، یہ تعداد دونوں اطراف کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔

    امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت اسرائیل کو حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حملے کرنے کی اجازت ہے۔

    جمعے کو جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد سے، جنوبی لبنان اور وادی بیکا کے قصبوں اور دیہاتوں پر اسرائیلی حملے جاری ہیں، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو شدید حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد لبنان میں موجود ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ جنگ میں داخل ہوئی۔

    جنگ بندی معاہدے کے باوجود ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لبنان اور اسرائیل نے جمعے کے روز جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع کرنے پر اتفاق کیا، مذاکرات جون کے آغاز میں دوبارہ متوقع ہیں۔

  5. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم رہنماؤں کی درخواست پر ایران پر متوقع فوجی حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
    • ایران نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ سعودی عرب نے عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط کی تجویز دی ہے۔ دوبسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کا پورا حق حاصل ہے۔
    • پاکستان نے 17 مئی 2026 کو متحدہ عرب امارات کے شہر براکہ میں قائم نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
    • پاکستان میں جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پیر کو جاری کردہ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا اپریل کے عرصے میں ایف ڈی آئی کم ہو کر 1.409 ارب ڈالر رہ گئی۔
    • موجودہ مالی سال میں اپریل کے مہینے کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32 کروڑ ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں تھا۔
    • خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے دو مختلف واقعات پیش آئے ہیں جن میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • فلسطین حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والی 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑے کو روک رہی ہیں۔
  6. سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر اب ہم ایران پر کل طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، صدرٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم رہنماؤں کی درخواست پر ایران پر متوقع فوجی حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ان سے اپیل کی کہ ایران کے خلاف طے شدہ کارروائی روک دی جائے کیونکہ اس وقت اہم سفارتی مذاکرات جاری ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ان رہنماؤں کی رائے ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایسا معاہدہ ممکن ہے جو نہ صرف امریکہ بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک کے لیے بھی قابلِ قبول ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان رہنماؤں کے احترام میں انھوں نے امریکی حکام اور فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران پر کل متوقع حملہ نہ کیا جائے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکی فوج کو کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر کارروائی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔

  7. پاکستان میں رواں مالی سال غیر ملکی سرمایہ کاری 31 فیصد کم ہو کر 1.4 ارب ڈالر رہ گئی، سٹیٹ بینک آف پاکستان, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پیر کو جاری کردہ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا اپریل کے عرصے میں ایف ڈی آئی کم ہو کر 1.409 ارب ڈالر رہ گئی۔

    اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں پاکستان میں خالص غیر ملکی سرمایہ کاری 5 کروڑ 45 لاکھ ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ سرمایہ کاری 17 کروڑ 88 لاکھ ڈالر تھی۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بجلی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری، جو مجموعی ایف ڈی آئی میں سب سے بڑا حصہ رکھتی ہے، مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل کے دوران کم ہو کر 78 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہ گئی، جبکہ گذشتہ سال اسی مدت میں یہ ایک ارب ڈالر تھی۔

    دوسری جانب تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران 52 لاکھ ڈالر کا انخلا ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں اس شعبے میں 11 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آئی تھی۔

    تاہم مالیاتی خدمات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل کے دوران اس شعبے میں ایف ڈی آئی بڑھ کر 65 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہو گئی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 59 کروڑ 36 لاکھ ڈالر تھی۔

  8. مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ اپریل میں خسارے میں رہا, تنویر ملک، صحافی

    موجودہ مالی سال میں اپریل کے مہینے کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32 کروڑ ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں تھا۔ اپریل میں اس خسارے کی بڑی وجوہات مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں اور درآمدات میں اضافہ ہیں۔

    پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ گذشتہ برس اسی مہینے یہ خسارہ محض ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔

    مالی سال 2026 کے پہلے 10 ماہ کے دوران مجموعی خسارہ 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا، جب کہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ میں یہ تبدیلی عالمی معاشی دباؤ، درآمدات میں اضافے اور برآمدات کی کمزور رفتار کا نتیجہ ہے۔ خدمات کے شعبے میں سرپلس میں کمی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں معمولی کمی نے بھی خسارے میں اضافہ کیا ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو پاکستان کا درآمدی بل مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے تجارتی اور بیرونی خسارے پر دباؤ برقرار رہے گا۔ پاکستان اپنی مجموعی درآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر خرچ کرتا ہے۔

    جے ایس گلوبل کے تجزیہ کار وقاص غنی کے مطابق پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال فی الحال مستحکم ہے، تاہم یہ زیادہ تر قرضوں اور بیرونی فنانسنگ پر انحصار کرتی ہے، نہ کہ غیر قرضہ جاتی سرمایہ کاری پر۔

    ان کا کہنا ہے کہ حالیہ پانڈا بانڈ کے اجرا سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی معیشت پر اعتماد رکھتے ہیں، تاہم حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معیشت کی بنیادی مسابقتی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، جو تجارتی خسارے اور بیرونی شعبے کی نازک صورتحال کی بڑی وجوہات ہیں۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں مالی سال 2026 کے لیے معمولی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی پیش گوئی کی ہے، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ قرار دی گئی ہے۔

  9. ایران کا سعودی عرب کی جانب سے عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز کی تصدیق سے انکار

    ایران نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ سعودی عرب نے عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط کی تجویز دی ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ اس متعلق کوئی مخصوص منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔‘

    حالیہ دنوں میں امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل سمیت متعدد ذرائع ابلاغ کے اداروں نے خبر دی تھی کہ سعودی عرب نے ایران کو عدم جارحیت کے ایک معاہدے پر دستخط کی پیشکش کی تھی۔

    یار رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایران نے اپنے متعدد پڑوسی ممالک کو بھی ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

  10. ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے: روسی وزیر خارجہ

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کا پورا حق حاصل ہے۔

    روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق لاروف کا کہنا تھا کہ ’بنیادی اصول یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے کسی بھی دوسرے فریق کی طرح ایران کو بھی پرامن توانائی کے مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کا پورا حق حاصل ہے۔‘

    یورینیم کی افزودگی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم نکتہ ہے۔

    سوموار کے روز ہی ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ۔‘

    انھوں نے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات قطعی ہے کہ یہ کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر ہم بات چیت یا سمجھوتہ کریں۔ معاہدہ عدم پھیلاؤ کے تحت ایران کے افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔‘

    اس سے قبل گذشتہ روز ایران خبر رساں ادارے فارس نے خبر دی تھی کہ امریکہ نے مذاکرات کی بحالی کے لیے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی امریکہ کو حوالگی سمیت پانچ شرطیں عائد کر رکھی ہیں۔

  11. باجوڑ میں پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں دو اہلکار ہلاک, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے دو مختلف واقعات پیش آئے ہیں جن میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) باجوڑ محمد خالد خان نے ان واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اہلکار سید عزیز کو تحصیل سلارزئی کے علاقے ڈاگ قلعہ جبکہ سید قادر کو تبئی کے مقام پر پولیو ڈیوٹی سے واپسی پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    ڈی پی او کے مطابق ان واقعات کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج پولیو مہم کا پہلا روز تھا جو کہ 24 مئی تک جاری رہے گی اور اس کے لیے ضلع باجوڑ میں 1500 سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔

    بعد ازاں دونوں اہلکاروں کی نماز جنازہ باجوڑ پولیس لائن گراؤنڈ میں ادا کر دی گئی۔

    خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور گورنر فیصل کریم کنڈی نے باجوڑ میں پولیو ٹیموں پر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس نے ان حملوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

  12. اسرائیلی فوج نے غزہ سے 450 کلو میٹر دور صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کو روکنا شروع کر دیا

    فلسطین حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والی 50 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑے کو روک رہی ہیں۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بیڑے کو غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل (460 کلومیٹر) دور روکا جا رہا ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے اس اقدام کو غیرقانونی قزاقی قرار دیا ہے۔

    جی ایس ایف کی ویڈیو نشریات میں مسلح کمانڈوز کو کئی کشتیوں پر چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل اسرائیل کی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کو ’محض اشتعال دلانے کا اقدام‘ قرار دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ اس میں ’دو پرتشدد ترک گروہ‘ شامل ہیں۔

    اس سے قبل اس بیڑے میں شام ایک کشتی پر سوار پاکستانی شہری سعد ایدھی نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کشتیاں صبح سے صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کا پیچھا کر رہی تھیں اور انھوں نے کشتیوں کا روکنا شروع کر دیا ہے۔

    گذشتہ ماہ اسرائیلی افواج نے اسی فلوٹیلا کی 22 کشتیوں کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب روک لیا تھا۔

    اس واقعے میں کشتیوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جن میں سے دو کے علاوہ باقی سب کو اگلے ہی روز شدید بین الاقوامی ردِعمل کے بعد یونان کے جزیرے پر رہا کر دیا گیا تھا۔

  13. جرمنی کی متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں پر حالیہ ایرانی فضائی حملوں کی مذمت: ’جوہری تنصیبات پر حملے پورے خطے کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘

    جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ جرمنی ’متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں پر ایران کے حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت‘ کرتا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں جرمن چانسلر نے ’جوہری تنصیبات‘ پر حملے کو پورے خطے کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

    متحدہ عرب امارات نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ابو ظہبی کے قریب براکہ جوہری بجلی گھر کے باہر ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے والے ایک جنریٹر میں آگ لگ گئی۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیانات میں کسی ملک کا نام نہیں لیا اور صرف یہ کہا تھا کہ ڈرون ’مغربی سرحد‘ سے داخل ہوئے تھے۔

    جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، اپنے پڑوسیوں کو دھمکیاں دینا بند کرے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے کھولے۔

  14. مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی شرائط کا جواب بھیج دیا ہے اور پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکراتی عمل جاری ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکی شرائط کا جواب بھیج دیا ہے اور پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔

    سوموار کے روز اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران امریکی تجویز کے مندرجات کے بارے میں بتایا کہ جب تہران نے 14 نکاتی منصوبہ پیش کیا تو امریکہ نے اس پر اپنے خدشات کا اظہار کیا اور اس کے جواب میں ہم نے بھی اپنی تحفظات سامنے رکھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے امریکی فریق نے عوامی طور پر 14 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا جس کے بعد ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے ان کے نکات اور شرائط کا ایک مجموعہ موصول ہوا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا تہران کی جانب سے 14 نکاتی منصوبہ بھیجے جانے کے اگلے ہی دن انھیں امریکی شرائط موصول ہوئیں۔

    ’گذشتہ چند دنوں میں ان نکات کا جائزہ لیا گیا اور اس کے جواب میں ہماری طرف سے ردِعمل بھی فراہم کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔‘

  15. پنجاب سے گندم کی ترسیل کا معاملہ: خیبر پختونخوا کی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے، سہیل آفریدی

    خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب سے خیبر پختونخوا گندم کی ترسیل پر پابندی کو صوبے کی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت کوئی بھی صوبہ خوراک کی ترسیل بند نہیں کر سکتا اور یہ فری ٹریڈ ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے اور ’وفاقی حکومت کے علم میں لانے کے باوجود کوئی پنجاب حکومت کو اس سے منع نہیں کر رہا ہے۔،

    سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ آج خیبرپختونخوا کا رہائشی پاکستان میں سب سے مہنگا آٹا خرید رہا ہے۔

    ’تیل، بجلی، گیس، منرل اور مائنز خیبر پختونخوا پیدا کر رہا لیکن جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے یہ اس میں سیاسی تعصب سے کام لے رہے ہیں۔‘

    وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی عوام کے ساتھ امتیازی سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    ’یہ آیسا ہے کہ آپ خیبر پختونخوا کی عوام کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ کوئی فیصلہ کریں جس سے آپ کو نقصان ہو۔‘

  16. انڈیا نے اقلیتوں اور میڈیا کی آزادی کے متعلق نیدرلینڈز کی تشویش مستر د کردی: ’انڈیا شاید واحد ایسا ملک ہے جہاں یہودیوں کو کبھی ستایا نہیں گیا‘

    گذشتہ ہفتے جب انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نیدرلینڈز کے دو روزہ دورے پر پہنچے تو نریندی مودی سے ملاقات سے قبل نیدر لینڈز کے وزیر اعظم راب جیٹن نے انڈین وزیرِ اعظم کے دورے سے متعلق سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیدر لینڈز اور یوروپی یونین کے رکن ممالک کو انڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں تشویش ہے۔

    مقامی اخبار ’ڈی فوکسکرانٹ‘ کے مطابق راب جیٹن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ تشویش صرف پریس کی آزادی کے بارے میں نہیں بلکہ یہ اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی ہے جو اس وقت شدید دباؤ میں ہیں۔ اس کا تعلق مسلمانوں اور دوسری چھوٹی اقلیتی برادریوں سے ہے۔‘

    ’ہمیں اس بارے میں تشویش لاحق ہے کہ انڈیا کس حد تک ایک ایسے جمہوری ملک کے طور پر قائم رہتا ہے جہاں تمام مذہبی گروپوں کے لیے یکساں حقوق ہوں۔‘

    نیدر لینڈرز کے وزیر اعظم نے کہا کہ انڈیا کی حکومت کو اس بارے میں آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔

    تاہم انڈیا نے نیدرلینڈرز کی تشویش کو یہ کہہ کر مستر کر دیا ہے یہ انڈیا کے جمہوری نظام، تہذیبی اختلاط اور مذہبی رواداری کے بارے میں سمجھ کی کمی کا نتیجہ ہے۔

    یوروپی ممالک سے متعلق انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان سیبی جارج نے کہا کہ انھوں نے نیدر لینڈز کے وزیر اعظم کا بیان نہیں دیکھا ہے۔ ’میں نے انڈیا میں اقلیتوں کے حقوق اور آزادی اظہار سے متعلق وسیع تر سوالات کا جواب دیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دنیا میں کوئی بھی انڈیا جیسا ملک نہیں جہاں اتنے سارے مذاہب۔ ہندوازم، بدھ ازم، جین ازم، سکھ ازم وجود میں آئے اور بدستور فروغ پا رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا شاید واحد ایسا ملک ہے جہاں یہودیوں کو کبھی ستایا نہیں گیا۔

    ’یہاں مسیحی حضرت عیسی اور مسلمان پیغمبر حضرت محمد کے عہد میں ہی آ گئے تھے اور آج کروڑوں کی تعداد میں یہاں موجود ہیں اور انڈیا کے جمہوری نظام میں فروغ پا رہے ہیں۔‘

  17. ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ۔‘

    انھوں نے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات قطعی ہے کہ یہ کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر ہم بات چیت یا سمجھوتہ کریں۔ معاہدہ عدم پھیلاؤ کے تحت ایران کے افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔‘

    بقائی نے امریکہ اور ایران کے درمیان شرائط کے تبادلے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ایران کے مطالبات واضح ہیں۔‘ ان کے مطابق ’مثال کے طور پر ایران کے منجمد اثاثوں پر سے پابندیاں ختم ہونے کو اپنی شرط کہتے ہیں جبکہ ہم اسے اپنا مطالبہ قرار دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ اب بین الاقوامی سطح پر قابلِ اعتبار نہیں رہا‘، اور خطے کے ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو حالیہ مہینوں کے واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ان کے بقول امریکی موجودگی نے خطے کے امن کو بہتر بنانے کے بجائے اسے شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘

  18. متحدہ عرب امارات کے جوہری بجلی گھر پر ڈرون حملہ، پاکستان اور انڈیا کی مذمت

    پاکستان نے 17 مئی 2026 کو متحدہ عرب امارات کے شہر براکہ میں قائم نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی جوہری تنصیب کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کا موقف ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے اقدامات انسانی جانوں، ماحول اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے تباہ کن اور ناقابلِ تلافی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سویلین نیوکلیئر انفراسٹرکچر کا تحفظ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی اصول ہے جس پر ہر صورت میں عمل ہونا چاہیے۔‘

    پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ ’وہ زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    بیان کے مطابق خطے میں پائیدار امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

    دوسری جانب انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے براکہ کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں جوہری بجلی گھر میں لگنے والی آگ کے بعد فوری طور پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا متحدہ عرب امارات میں براکہ کے جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنانے والے حملے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔”

    بیان میں مزید کہا گیا کہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور تنازع کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی جانب واپسی کی جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ شب متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ جوہری بجلی گھر کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی تھی۔

    ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اس واقعے کے نتیجے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے ہونے کی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تابکاری کی اطلاع ہے۔‘

  19. ایبولا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟

    اب سے کُچھ دیر قبل ہم نے آپ کو یہ خبر دی تھی کہ عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔ ایبولا کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟ آئیے اس بارے میں جانتے ہیں۔

    ایبولا کیا ہے؟

    ایبولا ایک خطرناک اور مہلک بیماری ہے جو ایک وائرس کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بیماری نایاب ہے مگر شدید نوعیت کی ہوتی ہے اور اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ایبولا وائرس کی تین اقسام ایسی ہیں جو وباؤں کا سبب بنتی ہیں اور موجودہ وبا ’بنڈی بوجیو‘ وائرس سے پھیل رہی ہے۔

    ایبولا کیسے منتقل ہوتا ہے؟

    یہ وائرس انسانوں کے درمیان متاثرہ جسمانی رطوبتوں، جیسے خون، قے اور دیگر رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

    یہ کتنا خطرناک ہے؟

    ماضی میں بنڈی بوجیو ایبولا وائرس سے ہونے والی وباؤں میں تقریباً 30 فیصد متاثرہ افراد ہلاک ہوئے۔

    علامات ظاہر ہونے میں کتنا وست لگتا ہے؟

    وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 2 سے 21 دن کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

    اس کی علامات ہیں کیا؟

    ابتدائی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور فلو جیسی ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور تھکن شامل ہیں۔ تاہم بیماری کے بڑھ جانے پر قے، اسہال شروع ہو جاتا ہے اور جسم کے اعضا متاثر ہونے لگتے ہیں۔ بعض مریضوں میں اندرونی اور بیرونی خون بہنے کی علامات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

    ایبولا کہاں سے شروع ہوتا ہے؟

    یہ بیماری عموماً متاثرہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، خاص طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں سے۔

    کیا اس سے بچاؤ کی ویکسین موجود ہے؟

    ایبولا کی تین میں سے ایک قسم ’زئیر‘ کے لیے ویکسین دستیاب ہے، تاہم اس وائرس کی جو قسم اس وقت پھیل رہی ہے یعنی ’بنڈی بوجیو‘ اس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں ہے۔

  20. عالمی ادارہِ صحت نے کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا

    عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔

    ادارے کے مطابق کانگو کے مشرقی صوبے اتوری میں پھیلنے والی اس وبا میں اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز اور 80 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں تاہم یہ صورتحال عالمی وبا یعنی پینڈیمک کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔

    ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اصل تعداد کے مقابلے میں رپورٹ ہونے والے کیسز کم ہو سکتے ہیں اور یہ وبا اس وقت کی صورت حال سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے جس کے باعث مقامی اور علاقائی سطح پر اس کے پھیلاؤ کا خدشہ موجود ہے۔

    ادارے کے مطابق اس وقت ایبولا کی جو قسم پھیل رہی ہے وہ ’بنڈی بوجیو وائرس‘ سے پیدا ہوتی ہے، جس کے خلاف تاحال نہ تو کوئی منظور شدہ دوا موجود ہے اور نہ ہی ویکسین دستیاب ہے۔

    ایبولا کی ابتدائی علامات میں بخار، پٹھوں میں درد، تھکن، سر درد اور گلا خراب ہونا شامل ہیں جبکہ بعد میں قے، اسہال، جسم پر خارش اور خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق وائرس کے آٹھ کیسز لیبارٹری میں تصدیق شدہ ہیں جبکہ دیگر مشتبہ کیسز اور اموات اتوری کے دارالحکومت بونیا سمیت تین دیگر علاقوں، اور سونے کی کانوں والے شہروں مونگوالو اور روامپارا میں سامنے آئے ہیں۔

    دارالحکومت کنشاسا میں بھی وائرس کے ایک کیس تصدیق ہو چکی ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ شخص اتوری سے واپس آیا تھا۔

    ادارے نے مزید بتایا کہ یہ وائرس کانگو سے باہر بھی پھیل چکا ہے اور ہمسایہ ملک یوگنڈا میں دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یوگنڈا کے حکام کے مطابق جمعرات کے روز وفات پانے والے 59 سالہ شخص میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔