لائیو, علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز: شہباز شریف اور عاصم منیر تہران پہنچ گئے، غیر ملکی وفود کی ایران آمد کا سلسلہ جاری
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ چکے ہیں جبکہ دیگر غیرملکی وفود کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 ممالک کے وفود علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔
خلاصہ
ایران کے سابق رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کا تابوت ’امام خمینی مصلیٰ تہران‘ میں رکھ دیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں سوگواران موجود ہیں
سید علی خامنہ ای کی سات روزہ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز آج سے ہو گیا
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 ممالک کے وفود ان تقریبات میں شرکت کریں گے
ان تقریبات میں شرکت کے لیے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے
فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے ایران پہنچ گئے
لائیو کوریج
سنیچر اور اتوار کے روز ملکی اور غیر ملکی پروازیں معمول کے مطابق چلیں گی: ایران سول ایوی ایشن آرگنائزیشن
ایران کے سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سنیچر اور اتوار کے روز ملکی اور بین الاقوامی پروازیں معمول کے مطابق چلیں گی۔
ابوذر شیروڈی نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ ایئرپورٹ پر رش کے باعث وہ اپنی پرواز سے تین سے چار گھنٹے پہلے ہوائی اڈے پہنچیں۔
انھوں نے ایئرلائنز سے بھی کہا کہ وہ امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے لیے پروازوں کی تعداد جہاں تک ممکن ہو کم رکھیں۔
اس سے قبل ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے جمعے اور پیر کے روز پروازوں پر وسیع پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
اعلان کے مطابق مہرآباد ہوائی اڈہ آج بند ہے جبکہ سوموار کو بھی تہران کی فضائی حدود میں تمام پروازیں معطل رہیں گی۔
تاہم سفارتی اور سیاسی پروازیں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سرگرمیوں کو پابندیوں سے آزاد قرار دیا گیا ہے۔
فرانس: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران جون کے آخری ہفتے میں اوسط شرح سے 2,000 زائد اموات ریکارڈ
،تصویر کا ذریعہGamma-Rapho via Getty Images
فرانس میں حکام کا کہنا ہے جون کے آخری ہفتے کے دوران ملک میں اموات کی تعداد میں اوسط شرح سے 2,000 اموات سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اموات ایسی وقت میں ہوئی ہیں جب یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں اموات کی تعداد اس سے پہلے والے ہفتے کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ تھیں۔
فرانس کی وزیرِ صحت سٹیفنی رسٹ نے کہا کہ 45 برس سے زیادہ عمر کے افراد میں اموات میں ’واضح اضافہ‘ دیکھا گیا۔
24 جون کو فرانس میں ملک گیر اوسط درجہ حرارت کے لحاظ سے تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔ پیرس میں درجہ حرارت تقریباً 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ ملک کے تقریباً نصف حصے میں شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔
ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں یورپ کے مختلف حصوں میں مزید شدید درجہ حرارت متوقع ہے۔
بی بی سی ویدر کے مطابق اس وقت ایزورز سے پرتگال اور سپین کی جانب ہوا کے شدید دباؤ کا ایک وسیع نظام تشکیل پا رہا ہے، اور توقع ہے کہ ہفتے کے آخر تک فرانس اور جنوبی برطانیہ میں درجہ حرارت مزید بڑھ جائے گا۔
علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب ’اعلان کردہ شیڈول سے پہلے‘ شروع ہو گئی: ایرانی میڈیا
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے خبر دی ہے کہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب اعلان کردہ وقت سے پہلے شروع ہو گئی۔
ارنا کے مطابق اگرچہ پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب جمعے کی شام شروع ہو گی، تاہم غیر ملکی مہمانوں کی جانب سے خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پہنچ چکے ہیں اور بین الاقوامی حکام اور وفود کا استقبال کر رہے ہیں۔
ارنا کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای کے داماد، مصباح الہدیٰ باقری کنی کو بھی جمعے کے روز شہران سکوائر اور تہران کے مغرب میں واقع گاؤں کنی میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
اس سے قبل تہران کے گورنر اور تدفین کی تقریب کی انتظامی کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ تقریب کا آغاز چار جولائی بروز ہفتہ کی صبح ’امام خمینی مسجد‘ میں ایک ’الوداعی تقریب‘ کے ساتھ ہو گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے وزیرِ اعظم اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے ایران پہنچ گئے ہیں۔
دونوں علیحدہ، علیحدہ پروازوں کے ذریعے ایرانی دار الحکومت پہنچے جہاں ایران کے اعلی سول ملٹری حکام نے ان کا استقبال کیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 ممالک کے وفود ان تقریبات میں شرکت کریں گے۔
،تصویر کا ذریعہPM Office
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ کا پاکستان اور انڈیا کے درمیان ٹریک ٹو سفارتکاری کی کوششوں کا خیرمقدم, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے انڈیا اور
پاکستان کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے
ہوئے واضح کیا ہے کہ پڑوسی ممالک کے درمیان مذاکرات اور تعلقات کی بہتری وقت کی
اہم ضرورت ہے، جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
انھوں نے اس بات پر افسوس اور حیرت کا اظہار کیا کہ جب بھی کشمیر کی
قیادت یا کشمیری سیاست دان دونوں ممالک کے درمیان امن اور بات چیت کی وکالت کرتے
ہیں، تو انڈیا کے سیاسی حلقوں اور میڈیا میں اسے متنازع بنا دیا جاتا ہے اور ان پر
تنقید کی جاتی ہے۔
عمر عبداللہ کا شکوہ
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی
ضلع شوپیان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے سول سوسائٹی کی جانب سے
وزیرِ اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے مشترکہ خط
کی تائید کی۔ انھوں نے اس سوچ پر سوال اٹھایا جو کشمیر سے اٹھنے والی امن کی
آوازوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر میری
معلومات درست ہیں تو پچھلے دنوں آر ایس ایس کے سب سے
بڑے لیڈر موہن بھاگوت نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کو ایک دوسرے سے بات چیت کرنی
چاہیے اور دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔‘
’اب اگر آر ایس ایس یہ کہے تو کسی کو
اعتراض نہیں ہوتا، لیکن جب جموں کشمیر کے سیاسی رہنما یہی یہ بات کرتے ہیں تو
ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ہمیں ملک مخالف قرار دینے کی کوشش
کی جاتی ہے۔ اگر امن اور مذاکرات کی اپیل کا کچھ حلقوں سے خیرمقدم کیا جاتا ہے، تو
جموں و کشمیر سے آواز اٹھنے پر اسے متنازع کیوں بنا دیا جاتا ہے؟‘
عمر عبداللہ نے انڈیا کے سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشہور
قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دوست
بدلے جا سکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ سرحدوں پر مستقل امن اور خطے کی ترقی کا واحد
راستہ سفارت کاری اور بات چیت ہی ہے۔
ٹریک ٹو سفارت کاری اور ’آپریشن سندور‘
واضح رہے ماضی میں جب بھی باقاعدہ سرکاری سطح پر ہونے
والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تو پسِ پردہ یا غیر سرکاری سفارت کاری ’ٹریک ٹُو‘نے دونوں ممالک کو جوڑے
رکھا۔
حالیہ دنوں میں کولمبو یا دیگر مقامات پر ہونے والی غیر رسمی نشتوں اور
خطے میں پیدا ہونے والی تزویراتی تبدیلیاں، بشمول ماضی کے عسکری آپریشنز جیسے کہ
'آپریشن سندور کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ہمیشہ
ٹریک ٹو مراسم کو متحرک کرتی رہی ہے۔
ان غیر سرکاری چینلز میں دونوں ممالک کے ریٹائرڈ سفارت کار، فوجی حکام
اور دانشور سرگرم رہتے ہیں تاکہ کشیدگی کو جنگ کی حد تک بڑھنے سے روکا جا سکے۔ عمر
عبداللہ کے مطابق ’جب دونوں
ممالک کے مابین پسِ پردہ سفارت کاری اور سو سے زائد مقتدر شہریوں کے دستخطوں سے
امن خطوط جاری ہو رہے ہیں، تو اس عوامی جذبے کا احترام کیا جانا چاہیے نہ کہ اس پر
سیاست چمکائی جائے۔‘
انڈیا، پاکستان مذاکرات کا پس منظر اور تعطل کا لامتناہی سلسلہ
انڈیا اور پاکستان کے تعلقات پچھلی ساڑھے تین سے چار دہائیوں سے شدید
اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ کشمیر کا دیرینہ مسئلہ دونوں کے درمیان بنیادی تنازع
رہا ہے، جس کی وجہ سے تین بڑی جنگیں اور متعدد چھوٹی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ماضی میں
آگرہ سربراہی کانفرنس، لاہور امن اعلامیہ اور جامع مذاکرات جیسے بڑے
اقدامات کیے گئے لیکن ہر بار یہ کوششیں کسی نہ کسی بڑے واقعے جیسے کارگل جنگ،
ممبئی حملوں یا حالیہ برسوں میں پلوامہ اور گذشتہ سال پہلگام میں ہونے والے مسلح حملے
کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئیں۔
پہلگام حملے کے بعد نئی دلّی کا موقف مزید سخت ہو گیا ہے، جہاں انڈین
حکومت کا اصرار ہے کہ ’دہشت
گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘۔ دوسری طرف، جموں و کشمیر کی مقامی قیادت
کا ماننا ہے کہ بات چیت بند ہونے سے سب سے
زیادہ کشمیری عوام کو متاثر ہوتے ہیں کیونکہ سرحد پر گولہ باری اور اندرونی بدامنی
کا خمیازہ انھیں ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
’مسلسل مکالمہ امن کی ضمانت‘
عمر
عبداللہ کا یہ بیان اس سیاسی اور جغرافیائی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا
میں پائیدار امن کے حصول کے لیے ہچکچاہٹ اور خوف کا ماحول ختم کرنا ہوگا۔
مبصرین
کہتے ہیں کہ ’عمرعبداللہ کا یہ دو ٹوک موقف کہ مذاکرات پر جموں و کشمیر کے رہنماؤں کو
نشانہ بنانا بند کیا جائے، دراصل نئی دلّی کے سیاسی رویوں کے تضاد کو بے نقاب کرتا
ہے۔‘
صحافی ہارون ریشی کہتے ہیں ’اگر آر ایس ایس جیسے
نظریاتی گروپ یا ملک کے دیگر حصوں کے دانشور امن کی بات کر سکتے ہیں، تو کشمیری
قیادت کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے عوام کے تحفظ اور خوشحالی کے لیے
دونوں ہمسایہ ممالک کو میز پر آنے کی دعوت دے سکے، کیونکہ مسلسل مکالمہ ہی امن کی ضمانت
ہے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے جنازے میں شرکت کے لیے تہران روانہ
،تصویر کا ذریعہPMO
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے ایران روانہ ہو گئے۔
وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی پاکستانی وفد میں شامل ہیں۔
ان یورپی ممالک کو علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا جنھوں نے امریکی، اسرائیلی حملوں کی حمایت کی تھی: ایرانی وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ یورپ کے ان
ممالک کے وفود کو سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب میں مدعو نہیں
کیا گیا جنھوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی سرکاری سطح پر حمایت کی
تھی۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تاہم مشرقی یورپ کے ممالک کے وفود اس
تقریب میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’تقریباً 100 ممالک یا تو سرکاری وفود
یا پھر اہم شخصیات اور عوامی تنظیموں کو ان تقریبات میں شرکت کے لیے
بھیجیں گے۔‘
اسماعیل بقائی کا مزید کہنا ہے کہ کم از کم آٹھ ممالک کے سربراہانِ
مملکت، یعنی صدور یا وزرائے اعظم، اور 12 ممالک کے پارلیمانی سپیکر اس تقریب میں
موجود ہیں۔ بڑی تعداد میں ممالک کے وزرائے خارجہ، دیگر وزرا اور خصوصی نمائندے بھی
تقریب میں شریک ہیں۔‘
علی خامنہ ای کی آخری رسومات، مختلف ممالک کے وفود کی آمد جاری
علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے مختلف ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنافغانستان کا وفد علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے پہنچ گیا ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانڈین وفد علی خامنہ ای اور ان کے اہلخانہ کے تابوتوں کے سامنے سے گزر رہا ہے
منی پور میں 20 گھر نذر آتش، راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کی تقسیم کرنے والی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا, مرزا اے بی بیگ، بی بی سی اُردو
،تصویر کا ذریعہPTI
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں آتشزدگی کے تازہ واقعے نے ایک بار پھر یہ باور کرایا ہے کہ تین سال قبل پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات کی آگ ابھی تک پوری طرح سے نہیں بجھ سکی ہے۔
یکم جولائی کو منی پور کے ضلع کامجونگ میں میانمار کی سرحد کے ساتھ واقع ایک گاؤں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ایک وقفے کے بعد کوکی اور ناگا برادریوں کے درمیان کا تنازع دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو متعدد مکانات کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسے مودی حکومت کے 'تقسیم پسندانہ نظریے' کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
حزب اختلاف کے رہنما نے کہا کہ 'منی پور برسوں سے جل رہا ہے، اور نفرت اور تشدد کی آگ میں ایک بار پھر 20 گھر جل کر خاکستر ہو گئے۔'
انھوں نے ہندی زبان میں ایک پوسٹ میں لکھا: 'دو حکومتوں اور صدر راج کے ہوتے ہوئے بھی، تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، لاتعداد خاندان بکھر چکے ہیں۔ منی پور جس ناقابل برداشت اذیت کو برداشت کر رہا ہے، اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔'
انھوں نے مزید لکھا: 'یہ مودی سرکار کے تفرقہ انگیز نظریے کا نتیجہ ہے، جو لوگوں کو مذہب، ذات، زبان، علاقہ اور شناخت کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے۔'
دریں اثنا دو کوکی تنظیموں نے دو الگ الگ بیانات میں گھر جلائے جانے کی مذمت کی ہے۔ کمیٹی آن ٹرائبل یونیٹی اور کوکی سی ایس او (سول سوسائٹی آرگنائزیشن) ورکنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالم (این ایس سی این) اور میانمار میں قائم شانی نیشنلسٹ آرمی کے تعاون سے اس 'منصوبہ بند حملے' کو انجام دیا گيا ہے۔
کوکی تنظیموں کے مطابق مسلح گروہوں نے یہ حملہ آسام رائفلز کی جانب سے فائیمول میں قائم سکیورٹی چوکی خالی کرنے کے ایک دن بعد کیا ہے، جس کے نتیجے میں گاؤں غیر محفوظ رہ گیا تھا۔ انھوں نے 11 جون کو سرحدی گاؤں کلتوہ پر ہونے والے اسی نوعیت کے حملے کا بھی حوالہ دیا، جو ان کے بقول کامجونگ ضلع میں کوکی دیہاتیوں کے خلاف 'منظم اور مہدف تشدد' کے ایک تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق تنظیم کا کہنا ہے کہ 'عینی شاہدین کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس تقریباً 20 کوکی جنگجو سرحدی ستون نمبر 102 کے قریب واقع فائیکوہ گاؤں سے دریائے نامیا عبور کر کے آئے اور ناگا آبادیوں پر منظم حملہ کیا۔ مقامی لوگ جان بچانے میں کامیاب ہوگئے، لیکن ان کے مکانات جلا دیے گئے۔'
تنظیم نے مزید کہا کہ کھیروں گرام میں سنہ 2023 سے مقیم 365 برمی پناہ گزینوں کے لیے قائم 20 عارضی کیمپ بھی نذرِ آتش کر دیے گئے ہیں۔
جبکہ ناگا ولیج گارڈ کا کہنا ہے کہ 'ناگا آبادیوں پر حملے اس وقت ہوئے جب دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے فائیمول کے 20 متروک گھروں کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی تھی، اور صرف چند منٹ بعد ناگا بستیوں پر یلغار کی گئی۔'
تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اسی طرز پر ترتیب دیا گیا تھا جیسے لانچاہ (کوکی) گاؤں کو جلائے جانے کے بعد 7 مئی کو تین تانگکھل ناگا دیہات 'زی چورو، وانگلی، اور ناملی پر حملہ کیا گیا تھا۔
دریں اثنا، منی پور پولیس نے پیپلز ریوولیوشنری پارٹی آف کانگلیپاک نامی میتئی شدت پسند تنظیم کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا۔ ان پر امپھال ایسٹاور امپھال ویسٹ اضلاع میں گھروں پر کیے گئے متعدد گرینیڈ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل اپریل میں راکٹ نما حملے میں دو کمسن بچوں کی ہلاکت کے بعد ٹرونگلوبی میں مشتعل ہجوم نے جلمول میں واقع سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے کیمپ پر دھاوا بول دیا، جو ریاست کے دو اہم متحارب قبائل میتئی اور کوکی زور والے علاقوں کے درمیان ایک بفر زون میں واقع ہے۔ اسی دوران سی آر پی ایف کی فائرنگ میں تین مظاہرین ہلاک ہو گئے۔
بی بی سی کی ٹیم نے موقع پر دیکھا کہ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور احتجاج کرنے لگیں۔ ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمیں حکومت سے کوئی امید نہیں رہی۔ پچھلے کئی برسوں میں جتنی بھی ہلاکتوں کے واقعات ہوئے، آج تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تشدد میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں، مگر کسی کو انصاف نہیں ملا۔'
دو سال قبل لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے کہا تھا 'منی پور ایک سال سے امن کا انتظار کر رہا ہے، اس سے پہلے یہ 10 سال تک پرامن تھا۔ منی پور میں اب بھی جل رہا ہے، اس پر کون توجہ دے گا؟'
یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر باضابطہ طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈونا ہیو، اس عہدے پر صرف 18 ماہ فائز رہنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔
ان کے استعفے کا اعلان جون کے اواخر میں کیا گیا تھا، لیکن وہ جمعرات دو جولائی تک باضابطہ طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہے۔
امریکی فوج کی جانب سے اس تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ میجر جنرل کرسٹوفر نوریگا، ڈونا ہیو کے جانشین کے نام کے اعلان اور تقرری کی توثیق ہونے تک ’یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج‘ کے قائم مقام کمانڈر کے فرائض انجام دیں گے۔
ڈونا ہیو کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے اعلیٰ عہدوں میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس عہدے کا درجہ ’فور اسٹار‘ سے کم کر کے ’تھری اسٹار‘ کمانڈ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
جنرل ڈونا ہیو جو اس سے قبل 18ویں ایئر بورن کور اور 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کی کمان سنبھال چکے ہیں، بنیادی طور پر وہ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران افغانستان سے نکلنے والے آخری امریکی فوجی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی میتیں تہران کی مسجد میں رکھ دی گئیں
،تصویر کا ذریعہIsna
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی میتوں کو تہران کی ایک مسجد میں رکھ دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق ایران آنے والے کچھ غیر ملکی مہمانوں نے تہران میں دعائیہ تقریب میں شرکت کر کے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری رہے گا۔
اس تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی تہران میں موجود ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، تاجکستان، چین اور انڈیا کے حکام بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔
متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ منصوبے کے مطابق، علی خامنہ ای کی ’الوداعی اور جنازے‘ کی تقریب کئی مراحل میں اور مسلسل کئی دنوں تک منعقد کی جائے گی۔
تہران اور پھر قم میں جنازے کے بعد، ان کی تدفین کی تقریب آئندہ جمعرات کو مشہد میں متوقع ہے، تاہم اس سے قبل انھیں عراق کے شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا۔
افغان طالبان نے ٹریفک اور بارڈر پولیس کا نام تبدیل کر کے ’شرطہ‘ رکھ دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان حکومت نے ٹریفک اور بارڈر پولیس کا نام تبدیل کر کے ’شرطہ‘ رکھ دیا ہے۔
طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے سرکاری فرمان کے مطابق کیا گیا ہے جس میں ’غیر ملکی اور اجنبی‘ اصطلاحات کے خاتمے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
عربی اصطلاح شرطہ کا مطلب پولیس ہے اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک میں پولیس کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
اس سے پہلے تین مئی کو اخوندزادہ کی ہدایت پر ریاستی اداروں کے ناموں سے انگریزی لفظ ’نیشنل‘ ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔
اس کے بعد متعدد سرکاری محکموں نے اس لفظ کا استعمال ترک کر دیا تھا۔ مثال کے طور پر وزارت قومی دفاع کا نام تبدیل کر کے وزارت دفاع رکھ دیا گیا۔ نیشنل انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کا نام تبدیل کر کے جنرل ڈائریکٹوریٹ پروٹیکشن رکھ دیا گیا۔
ایرانی حکام کو خامنہ ای کے جنازے میں دو کروڑ افراد کی شرکت کی توقع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی تقریبات کو اکثر حکمران اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایرانی قیادت بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کو اسلامی جمہوریہ اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے عوامی وفاداری کی تجدید کے طور پر پیش کرے گی۔
یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا نئے سپریم لیڈر ان تقریبات کے دوران عوام کے سامنے آئیں گے یا نہیں۔ خامنہ ای کے صاحبزادے جنگ کے بعد سے عوامی منظرنامے سے دور رہے ہیں اور بیانات کے ذریعے ہی رابطے میں رہے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین سمیت اعلیٰ حکام نے ایرانی عوام سے ان تقریبات میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
انتظامی کمیٹی کے سربراہ اور اول نائب صدر محمد رضا عارف نے بتایا کہ تہران صوبے میں چار اور پانچ جولائی کو عام تعطیل ہوگی، جبکہ چھ جولائی کو ملک بھر میں چھٹی ہوگی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامام خمینی مصلیٰ میں پانچ تابوت رکھے گئے ہیں جن میں چار بڑے اور ایک چھوٹا تابوت ہے جس کے بارے میں گمان ہے کہ یہ علی خامنہ ای کی نواسی کا تابوت ہے
تہران میں تقریبات کی نگرانی کرنے والے آئی آر جی سی (IRGC) کے سینئر کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا کہ حکام کو ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے اور یہ تعداد دو کروڑ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
حکام نے شدید گرمی اور ہجوم کے پیشِ نظر خبردار بھی کیا ہے اور لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ صحت اور حفاظت سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔
فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے بتایا کہ سکیورٹی اور معاونت کی فراہمی کے لیے 10 ہزار سے زائد اہلکاروں اور 10 فوجی ہسپتالوں کو متحرک کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تقریبات کے دوران ڈیڑھ لاکھ اہلکار الرٹ رہیں گے۔
ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ چھ جولائی کو تہران اور نو جولائی کو مشہد کی فضائی حدود بند رہیں گی۔
تہران کے ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا آغاز
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے ہو گیا ہے۔
اس دوران ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں خامنہ ای کا تابوت اس مرکز میں لایا گیا۔
دیکھیے یہ تصویری جھلکیاں۔۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی سات روزہ تقریبات، کب کیا ہو گا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تین جولائی سے ہو رہا ہے جو نو جولائی تک جاری رہیں گی۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی تدفین کی تقریبات کے منتظمین نے ایران اور عراق میں کئی تقریبات کا اعلان کیا ہے۔
ایران نے 13 جون کو جنازے اور تدفین کے منصوبوں کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ اعلان 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں خامنہ ای کی ہلاکت کے لگ بھگ تین ماہ بعد کیا گیا تھا۔
تین جولائی، بین الاقوامی خراج عقیدت کی تقریب
تین جولائی کو بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنما ایک خصوصی تقریب میں خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ غیر ملکی عوامی وفود کے لیے تقریبات کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہو گا جبکہ دیگر ممالک کے اعلی حکام دوپہر دو بجے اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔
چار، پانچ جولائی: عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب
تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز ’گرینڈ مصلیٰ‘ میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب منعقد کی جائے گی۔ چار جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے دروازے کھولے جائیں گے اور پانچ جولائی کو رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ مرکزی نمازِ جنازہ پانچ جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔
خامنہ ای کے علاوہ، ان کی صاحبزادی بشریٰ حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے لیے رکھے جانے کی توقع ہے۔
چھ جولائی: تہران میں جنازے کا جلوس
یہ جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ شروع ہوگا۔ منتظمین نے دارالحکومت میں پھیلے ہوئے ایک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ متوقع ہجوم کے لیے کوئی ایک سڑک کافی نہیں ہوگی۔ حکام کو امید ہے کہ یہ تقریب شام تک اختتام پذیر ہو جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سات جولائی: قم میں جنازے کا جلوس
یہ تقریب ایران کے مذہبی مرکز میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے شروع ہو گی جس میں جمکران مسجد کے اندر ایک سینئر عالمِ دین نماز کی امامت کریں گے۔
آٹھ جولائی: نجف اور کربلا میں جلوس
عراق میں ایران کے ثقافتی اتاشی، غلام رضا اباذری نے بتایا کہ میت سات جولائی کی شام نجف پہنچے گی۔ میت کی ایران واپسی سے قبل، آٹھ جولائی کو نجف میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے اور کربلا میں سہ پہر چار بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔
نو جولائی: مشہد میں تدفین
خامنہ ای کی تدفین شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔
علی خامنہ ای کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے سربراہی میں وفد تہران پہنچ گیا، وزیر اعظم شہباز شریف آج ایران روانہ ہوں گے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسید علی خامنہ ای کا تابوت
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ایک وفد تہران پہنچ چکا ہے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد آج (جمعہ) تہران روانہ ہو گا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی تہران پہنچ چکے ہیں جہاں آمد پر ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے اُن کا استقبال کیا۔
سید علی خامنہ ای کے جنازہ اور تدفین کی سات روزہ تقریبات کا آغاز آج (تین جولائی) سے تہران میں ہو رہا ہے جبکہ اِن تقریبات کا اختتام نو جولائی کو مشہد میں حرم امام رضا میں تدفین پر ہو گا۔
آج تہران میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ’خراج عقیدت‘ کی تقریب منعقد ہو گی جس کے لیے دنیا بھر سے عالمی رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے۔
جمعرات کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں تہران پہنچنے والے وفد میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، جماعتِ اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل تھے۔
سات روزہ تقریبات کے دوران علی خامنہ ای کی میت جلوس کی شکل میں ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جائی جائے گی اور بلآخر نو جولائی کو اُنھیں مشہد میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔