تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاجی مظاہرہ نہ ہو سکا، مظاہرین کی گرفتاریاں

،تصویر کا ذریعہVideograb
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے خلاف بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں تنظیم کو مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مقامی صحافیوں کے مطابق مظاہرے کو روکنے کے لیے تربت میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ مظاہرے سے قبل ہی تربت شہر میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔دوسری جانب سرکاری حکام نے جمعرات کو سات خواتین کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
اس مظاہرے سے ایک روز قبل محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ضلع کیچ میں 30 یوم کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی تھی۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا لوگوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال کو مسترد کیا ہے۔
’تربت شہر میں فدا شہید چوک پر مظاہرے کی کال دی گئی تھی‘
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے کوئٹہ کے بعد دو جولائی کو ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کو انسداددہشت گردی کی عدالت سے دی جانے والی سزا کے خلاف تربت شہر میں مظاہرے کی کال دی گئی تھی۔
اس ٘مظاہرے کو شام میں شہر کے مرکزی علاقے فدا شہید چوک پر منعقد ہونا تھا۔ مظاہرے سے ایک روز قبل ضلع کیچ میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 کے تحت ہرقسم کی جلسے جلوسوں پر ایک ماہ کے لیے پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔
مقامی صحافیوں نے بتایا کہ مظاہرے سے قبل شہر میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جس کی وجہ سے شہر کے بعض علاقے ویرانی کا منظر پیش کرتے رہے۔
انھوں نے بتایا کہ بھاری نفری کے باوجود کچھ خواتین اور بچے مظاہرے کے لیے جمع ہوئے لیکن ان کو مظاہرہ نہیں کرنے دیا گیا۔
ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو بتایا کہ سات کے قریب خواتین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا دعویٰ ہے کہ گرفتاریوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ مظاہرے کو روکنے کے لیے شہر میں سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جس کے باعث ان کے بقول شہر کے مرکزی علاقے میں کرفیو کا سماں تھا۔
سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
اس مظاہرے کے حوالے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابریوسفزئی کا کہنا ہے کہ بلوچیکجہتی کمیٹی کی کال ناکام رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ تربت میں احتجاج کی کال کو لوگوں نے مسترد کیا اور وہاں معمولات زندگی جاری رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے امن و استحکام کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔




















