یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’تہران اپنی سات شرائط پر بدستور قائم‘، عباس عراقچی کی صدر اور کابینہ کو امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات پر بریفنگ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر مسعود پزشکیان اور وفاقی کابینہ کو ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ ایرانی صدر کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق، عباس عراقچی نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے وزرا کو مذاکرات اور سفارتی رابطوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
خلاصہ
- ابہا میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر انخلا کی ہدایت، سعودی عرب کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں: امریکہ
- تہران اپنی پہلے سے اعلان کردہ سات شرائط پر بدستور قائم ہے: عباس عراقچی کی پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ
- امید ہے امریکہ دیگر راستوں کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے گا: ایران
- عرب خلیج میں قطری ایل این جی ٹینکر پر حملہ، سعودی عرب اور قطر کی شدید مذمت
- اسرائیل میں حکومت سازی کی دوڑ شروع: کیا نیتن یاہو اقتدار بچا پائیں گے؟
- ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امید ہے مگر متحدہ عرب امارات بدترین صورتحال کے لیے بھی تیار ہے: صدارتی مشیر
- کسی بھی جارحیت کا جواب کب اور کس حد تک دینا ہے، یہ دھمکیاں دینے والے طے نہیں کریں گے: ایرانی وزیر دفاع
لائیو کوریج
آبنائے ہرمز بحران: برطانیہ میں کینسر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی ادویات کی قلت کا خدشہ
برطانیہ میں فارمیسیز کی نمائندہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث بعض اہم ادویات کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے ادویات کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
برٹش انڈیپنڈنٹ فارمیسیز ایسوسی ایشن کے مطابق کئی اہم ادویات کا ذخیرہ تشویشناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ برطانیہ اپنی تقریباً تین چوتھائی ادویات بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے نقل و حمل میں رکاوٹوں نے سپلائی چین پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔
تنظیم کے مطابق یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی بہت سی ادویات کی تیاری کے لیے بھی خام مال درکار ہوتا ہے، جو عموماً چین اور انڈیا سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سپلائی میں رکاوٹوں کے سبب دواؤں کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
جن ادویات کی قلت کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے ان میں بلڈ پریشر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا پروپرانولول، کینسر کے مریضوں کے لیے درد کش ادویات اور کولیسٹرول کم کرنے والی بعض ادویات شامل ہیں۔
برٹش انڈیپنڈنٹ فارمیسیز ایسوسی ایشن کی صدر لیلیٰ ہینبیک نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحری راستوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے پہلے سے موجود سپلائی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ان کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی کے مسائل کے باعث بعض فارمیسیز کو دوائیں نقصان برداشت کرکے فراہم کرنا پڑ رہی ہیں، جس سے ان پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
برٹش انڈیپنڈنٹ فارمیسیز ایسوسی ایشن انگلینڈ اور ویلز میں تقریباً پانچ ہزار فارمیسیز کی نمائندگی کرتی ہے۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے (آئی ڈی سی پی سی) کے وزیر لیو ہائی شنگ پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق لیو ہائی شنگ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں۔ اسلام آباد آمد پر سینیٹر انوشہ رحمان خان اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (ایشیا پیسیفک) ڈاکٹر محمد فیصل نے ان کا استقبال کیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ چینی رہنما اپنے دورے کے دوران پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ وہ دو نومبر کو اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح تقریب کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔
بیان کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی رابطوں کا حصہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور ہر موسم کی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔
انگور اڈہ سرحد پر افغان فائرنگ کا مؤثر جواب دیا گیا: پاکستانی حکام کا دعویٰ
اطلاعات کے مطابق افغان سرحدی پوسٹوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افغان سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی فورسز کے مؤثر ردعمل کے بعد افغان طالبان کے اہلکار بعض سرحدی پوسٹیں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
بیان کے مطابق پاکستانی فورسز نے سرحدی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا اور علاقے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تاحال پاکستانی حدود میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق سکیورٹی فورسز ہر قسم کی سرحدی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
تاہم، اس معاملے پر افغان حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
عباس عراقچی کی صدر اور کابینہ کو امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات پر بریفنگ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر مسعود پزشکیان اور وفاقی کابینہ کو ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔
ایرانی صدر کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق، عباس عراقچی نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے وزرا کو مذاکرات اور سفارتی رابطوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ نے کابینہ کو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل اور اس سے متعلق تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ مذاکرات کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
حوثیوں کے دو ڈرون مار گرائے، بیلسٹک میزائل بھی ناکام بنا دیا: یمنی فورسز کا دعویٰ
یمن کی سرکاری فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ تعز کے علاقے صبر میں حوثیوں کے دو ڈرون مار گرائے ہیں۔
فورسز کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو بھی راستے میں روک لیا، جس کے بعد وہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
یمنی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز خطے میں کسی بھی ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
تہران اپنی پہلے سے اعلان کردہ سات شرائط پر بدستور قائم ہے: عباس عراقچی کی پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران مذاکرات اور سفارتی معاملات میں اپنی پہلے سے اعلان کردہ سات شرائط پر بدستور قائم ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی امریکہ کے لیے سات شرائط میں پابندیوں کا خاتمہ، منجمد فنڈز کی رہائی اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی سمیت دیگر نکات شامل تھے۔
کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی کے مطابق عباس عباس عراقچی نے ارکان کو حالیہ علاقائی اور سفارتی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وفود کے حالیہ دورۂ ایران اور ان سے ہونے والی ملاقاتوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
حسن قشقاوی نے بتایا کہ ان ملاقاتوں میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی شریک تھے۔
انھوں نے کہا کہ اجلاس میں ایران کے رہبر اعلیٰ کی جانب سے ’کسی بھی غیر معمولی صورتحال‘ کے لیے تیاری سے متعلق ہدایات کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ مسلح افواج کی مکمل تیاری اور دفاعی استعداد کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
سعودی عرب کی قطر کے گیس بردار جہاز پر حملے کی مذمت
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے خلیج عرب کے پانیوں میں قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کے ملکیتی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز ’المیادہ‘ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سمندری جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈالنے والی تمام کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔ بیان کے مطابق اس طرح کے حملے بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور توانائی کی ترسیل کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
سعودی عرب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے اور عالمی سطح پر سمندری نقل و حمل کی آزادی اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
سعودی اتحاد کا دعویٰ: حوثیوں کا میزائل اور ڈرون تباہ
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیا ہے۔
اتحاد کی جانب سے جاری بیان کے مطابق میزائل کو سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی جانب بڑھتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ ایک الگ بیان میں اتحاد نے کہا کہ صوبہ عسیر میں ایک حوثی ڈرون کو بھی روک کر مار گرایا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل سعودی شہری دفاع کے ادارے نے عسیر کے شہروں ابہا اور خمیس مشیط میں ممکنہ حملے کے خطرے کے پیش نظر وارننگ جاری کی تھی اور شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی تھی۔
حکام نے علاقہ مکینوں سے کہا تھا کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
حکومت کا پیٹرول قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار، اضافی رقم صارفین کو منتقل کرنے کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی
وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے آئل ریفائنریز کو ہدایت کی ہے کہ درآمدی قیمت اور ریفائنری کی سطح پر مقررہ قیمت کے درمیان فرق سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے، جبکہ اس سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی کابینہ نے نئے طریقہ کار کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے متعلقہ درآمدی جہاز کے اصل اخراجات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
حکومت نے ریفائنریز کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ 30 روز تک پیٹرول کی قیمت کے تعین میں پریمیم، دیگر اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کی سطح 7 مارچ 2026 کے مطابق برقرار رکھی جائے، جسے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے قبل کی بنیاد تصور کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق درآمدی قیمت اور ریفائنری قیمت میں پیدا ہونے والا فرق پیٹرولیم لیوی کی مد میں قومی خزانے میں جمع ہوگا، اور اسی رقم کے برابر ریلیف پیٹرول کی قیمت میں کمی کے ذریعے صارفین کو دیا جائے گا۔
حکومت نے تمام ریفائنریز کو روزانہ کی بنیاد پر مقامی فروخت اور ادائیگیوں کی تفصیلات اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ وصولیوں کی تصدیق اور حساب کتاب یقینی بنایا جا سکے۔
سعودی عرب کے دفاعی تحفظ کے لیے اپنے وعدوں پر قائم ہیں: امریکہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں اور سکیورٹی وعدوں کا پابند ہے اور آئندہ بھی ان پر عمل کرتا رہے گا، خاص طور پر دفاعی نوعیت کے وعدوں پر۔
مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے دفاعی وعدے پورے کیے ہیں اور مستقبل میں بھی ان کی پاسداری جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی امور پر مسلسل رابطے موجود ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق سعودی حکام کے ساتھ نہ صرف باقاعدہ سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں بلکہ حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی ولی عہد اور امریکی صدر کے درمیان بھی متعدد بات چیت ہوئی ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہے اور مملکت کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں تعاون جاری رکھے گا۔
انھوں نے اس بات کا خیرمقدم بھی کیا کہ دیگر ممالک بھی سعودی عرب کو حملوں سے محفوظ رکھنے اور اس کے دفاع میں معاونت کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے شہر ابہا میں ہنگامی وارننگ جاری، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت
سعودی عرب کے شہر ابہا میں قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم برائے ہنگامی حالات کی جانب سے ایک وارننگ جاری کی گئی ہے، جس میں شہریوں اور رہائشیوں کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری رہنمائی کے مطابق وارننگ موصول ہونے کی صورت میں شہریوں کو پرسکون رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
حکام نے ہدایت کی ہے کہ لوگ فوری طور پر کسی محفوظ مقام، عمارت یا کھڑکیوں سے دور اندرونی کمرے میں پناہ لیں اور خطرہ ٹلنے تک وہیں موجود رہیں۔ شہریوں کو گھروں یا عمارتوں سے غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے اور کھلی جگہوں، شیشوں، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔
سول ڈیفنس کے مطابق اگر کوئی شخص باہر موجود ہو تو اسے قریبی عمارت میں داخل ہونے یا کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے پناہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح عوام سے کہا گیا ہے کہ خطرناک مقامات پر جانے، ہجوم لگانے اور تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے گریز کریں۔
ڈرائیونگ کے دوران وارننگ موصول ہونے کی صورت میں گاڑی کو محفوظ مقام پر روکنے اور پلوں یا بلند عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سعودی حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات اور ہدایات پر اعتماد کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں متعلقہ ایمرجنسی نمبرز پر رابطہ کریں۔
حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ میزائلوں، ڈرونز یا ان کے ممکنہ اثرات سے متعلق تصاویر، ویڈیوز یا معلومات شائع کرنا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
امید ہے امریکہ دیگر راستوں کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے گا: ایران
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کشیدگی کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے امید ہے کہ امریکہ بھی دیگر راستوں کے بجائے عقل و دانش اور سفارت کاری کا انتخاب کرے گا۔
عباس عراقچی نے جاری امن کوششوں کے حوالے سے کہا کہ ’ہم اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دوسری جانب بھی اتنی دانشمندی ہوگی کہ وہ دوسرے راستوں کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسلح افواج کے اعلیٰ حکام کو ایران کے سپریم کمانڈر کی جانب سے دی جانے والی ہدایات نے واضح کر دیا ہے کہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج کا مشن بالکل واضح ہے اور وہ گذشتہ دو جنگوں کے تجربات کی روشنی میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور تیار ہیں۔
افغان فوج کو 222 نئے تربیت یافتہ اہلکار مل گئے
افغان وزارتِ دفاع کے 209 الفتح کور کے تربیتی مرکز سے 222 نوجوان اہلکار تین ماہ کی عسکری اور نظریاتی تربیت مکمل کرنے کے بعد فارغ التحصیل ہو گئے۔
فارغ التحصیلی کی تقریب میں وزارتِ دفاع کے تربیت و تعلیم کے سربراہ شیخ داد محمد محمدی اور 209 الفتح کور کی قیادت سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے نئے اہلکاروں کو نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی ذمہ داری کے تقاضوں پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ انھوں نے کہا کہ تربیت یافتہ اہلکار ملک کے دفاع اور سکیورٹی کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق تین ماہ کے تربیتی پروگرام کے دوران اہلکاروں کو عسکری مہارتوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور پیشہ ورانہ تربیت بھی فراہم کی گئی، تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر سکیں۔
تقریب کے اختتام پر فارغ التحصیل ہونے والے اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور حاصل کردہ تربیت کو ملکی سکیورٹی اور دفاعی فرائض کی انجام دہی کے لیے بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کیا۔
چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار آج پاکستان پہنچیں گے
چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شنگ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر آج اپنے پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق لیو ہائی شنگ اپنے دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ وہ دو نومبر کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کی تقریب کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری اعلیٰ سطح اور بین الجماعتی روابط کا حصہ ہے، جو دونوں ممالک کے مابین قریبی تعاون اور دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق اس دورے سے پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم کی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
عرب خلیج میں قطری ایل این جی ٹینکر پر حملہ، قطر کی شدید مذمت
قطر نے عرب خلیج میں اپنے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار ٹینکر ’المیادہ‘ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سمندری آمدورفت کی سلامتی اور عالمی توانائی رسد کے لیے ایک خطرناک اقدام قرار دیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ نے سنیچر کے روز جاری بیان میں کہا کہ ’المیادہ‘ نامی ٹینکر، جو قطری گیس ٹرانسپورٹ کمپنی نقلات کی ملکیت ہے، عرب خلیج میں سفر کے دوران حملے کا نشانہ بنا۔ وزارت کے مطابق یہ واقعہ عالمی توانائی سپلائی اور بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ قطر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے اثاثوں، قومی مفادات، جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق متعلقہ حکام نے واقعے کی وجوہات اور اس میں ملوث عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
قطر نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز کارروائیاں خطے کے امن و استحکام اور عالمی معیشت دونوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
بیان میں خاص طور پر توانائی بردار جہازوں کو نشانہ بنانے سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے حملوں کے سمندری ماحول اور خطے کے ممالک کی آبی سلامتی پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
علاقائی کشیدگی کے باعث یاماہا قطر موٹو جی پی ریس سے دستبردار
جاپانی موٹرسائیکل ساز کمپنی یاماہا نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث آئندہ سنیچر قطر میں ہونے والی موٹو جی پی ریس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر یاماہا کی ٹیم دوحہ کا سفر نہیں کرے گی اور قطر گراں پری میں حصہ نہیں لے گی۔
دوسری جانب ایونٹ کے منتظمین نے یاماہا کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریس کے انعقاد کی تیاریاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور مقابلے اپنے طے شدہ شیڈول کے تحت ہوں گے۔
موٹو جی پی سیزن کا بیسواں مرحلہ چھے سے آٹھ نومبر کے درمیان قطر کے لوسیل انٹرنیشنل سرکٹ میں منعقد ہونا ہے، تاہم یاماہا کی عدم شرکت کو ایونٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ دوسرا بڑا بین الاقوامی کھیلوں کا ایونٹ ہے جو خطے کی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔ اس سے قبل دو نومبر کو ڈاکار ریلی کے منتظمین نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ ایڈیشن سعودی عرب میں منعقد نہیں کیا جائے گا۔ منتظمین کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں حالیہ پیش رفت اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں کیا گیا۔
ڈاکار ریلی کا اگلا مرحلہ یکم سے 15 جنوری 2027 تک ہونا تھا، تاہم اب منتظمین سعودی عرب کے بجائے کسی متبادل میزبان ملک کے انتخاب پر غور کر رہے ہیں۔
سعودی اتحاد کا حوثیوں کو شہریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ، نئی فوجی کارروائیوں کا اعلان
سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے حوثی باغیوں سے یمن میں شہریوں اور شہری تنصیبات کے خلاف تمام "دشمنانہ کارروائیاں" بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے اہم عسکری اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا کے زیر استعمال اہم اہداف کو غیر مؤثر بنانے کے لیے ہدفی فوجی آپریشن کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد حوثی ملیشیا کی سرگرمیوں کا سدباب کرنے کے لیے ضروری آپریشنل اقدامات جاری رکھے گا اور انہیں عملی جامہ پہناتا رہے گا۔
ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں کو شہریوں اور شہری تنصیبات کے خلاف تمام جارحانہ اور "بے رحمانہ" کارروائیاں فوری طور پر بند کر دینی چاہییں۔
بیان میں کارروائیوں کی مزید تفصیلات یا نشانہ بنائے گئے مقامات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم اتحاد نے واضح کیا کہ خطے میں سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اس کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسرائیل میں حکومت سازی کی دوڑ شروع: کیا نیتن یاہو اقتدار بچا پائیں گے؟
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ تیز ہو گئی ہے، جہاں حالیہ انتخابات میں کوئی بھی بڑا سیاسی کیمپ واضح پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ ایک طرف سابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحاد کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ’یشر‘ پارٹی کے رہنما گادی آئزنکوٹ ممکنہ اتحادیوں کا دائرہ وسیع کرنے میں مصروف ہیں۔
اسی سلسلے میں آئزنکوٹ نے اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ سے ملاقات کی ہے، جبکہ ان کی اسرائیل بیتینو کے سربراہ آویگدور لیبرمین سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ ان رابطوں کا مقصد بُدھ کو صدر آئزک ہرزوگ کی جانب سے جماعتوں سے مشاورت شروع ہونے سے قبل ممکنہ حکومتی اتحاد کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔
صدر ہرزوگ بدھ کو سرکاری انتخابی نتائج موصول ہونے کے بعد مختلف جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور ان کی سفارشات کی بنیاد پر کسی ایک رہنما کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دیں گے۔ منتخب رہنما کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔
66 سالہ آئزنکوٹ نے ممکنہ اتحادی جماعتوں کے لیے چار بنیادی شرائط رکھی ہیں: اسرائیل کو ایک یہودی، جمہوری اور لبرل ریاست تسلیم کرنا، آزادی کے اعلامیے کے اصولوں کی پاسداری، تمام شہریوں کے لیے فوجی یا قومی خدمت کی حمایت، اور حماس کو دہشت گرد تنظیم مانتے ہوئے اس کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے عزم کا اظہار۔
آئزنکوٹ نے اشارہ دیا ہے کہ جو بھی جماعت ان اصولوں سے اتفاق کرے گی، وہ حکومت میں شامل ہو سکتی ہے۔ انھوں نے الٹرا آرتھوڈوکس یا عرب جماعتوں کو براہ راست خارج نہیں کیا۔
انھوں نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن کے قیام، فوجی بھرتی سے متعلق قانون سازی اور موجودہ کنیسٹ سپیکر امیر اوہانہ کی تبدیلی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
دوسری جانب جوائنٹ لسٹ کے رہنما احمد طیبی نے عندیہ دیا ہے کہ ان کی جماعت حکومت میں شامل ہوئے بغیر ایک متبادل اتحاد کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت نئی حکومت کے خلاف ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک یا کنیسٹ کی تحلیل کی حمایت نہیں کرے گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ’تبدیلی‘ کیمپ اور الٹرا آرتھوڈوکس یونائیٹڈ تورہ جوڈازم پارٹی کے درمیان بھی غیر رسمی رابطے جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں اقلیتی حکومت کے مختلف فارمولوں پر بات کی جا رہی ہے، جن میں بعض جماعتوں کی جانب سے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا آپشن بھی شامل ہے۔
ادھر نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں، ایتامار بن گویر اور بیزلیل سموترچ سمیت، مسلسل رابطے میں ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ ایسی کسی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے جو عرب جماعتوں کے ووٹوں پر انحصار کرے۔
انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو مخالف یہودی جماعتوں نے 48 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ رعام اور جوائنٹ لسٹ سمیت عرب جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر 19 نشستیں ہیں۔ اگر یہ تمام جماعتیں ایک اتحاد میں شامل ہو جائیں تو انھیں 67 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل ہو سکتی ہے، تاہم اس امکان پر اپوزیشن اتحاد کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں۔
عرب جماعتیں اب تک صرف ایک مرتبہ باضابطہ طور پر اسرائیلی حکومت کا حصہ بنی ہیں، جب 2021 میں منصور عباس کی قیادت میں رعام نے مخلوط حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی، تاہم یہ اتحاد 2022 میں ختم ہو گیا تھا۔ منصور عباس نے اس تجربے کو دوبارہ دہرانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
دریں اثنا، جوائنٹ لسٹ کے رہنما یوسف جبارین نے کہا ہے کہ ان کی جماعت حکومت میں شامل ہوئے بغیر پارلیمنٹ میں آئزنکوٹ کی حمایت پر غور کر سکتی ہے، اگرچہ غزہ جنگ سمیت بعض معاملات پر ان کے تحفظات برقرار ہیں۔
اگرچہ آئزنکوٹ خود کو نیتن یاہو کے متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن سلامتی اور غزہ سے متعلق کئی بنیادی امور پر ان کے خیالات نیتن یاہو کے مؤقف سے خاصے قریب سمجھے جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بحالی پر قطری ثالثی جاری، ایران امریکی جواب کا منتظر
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے امریکہ کی جانب سے ایرانی تجاویز اور سوالات کا جواب ضروری ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے پارلیمان کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشاورت کا عمل جاری ہے، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ اس کا انحصار دوسرے فریق کے ردعمل پر ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ اس دورے کے دوران امریکی حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے اپنی پہلے سے اعلان کردہ سات شرائط پر بدستور قائم ہے اور اب واشنگٹن کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق قطر کی ثالثی میں دو روز سے جاری رابطوں کے بعد بھی معاہدے کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس کے لیے ایران کے مطالبات پر عمل درآمد ضروری ہوگا۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ تہران نے ابتدائی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روز کی مہلت دی تھی، لیکن اب یہ مدت کم ہو کر صرف دو دن رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ پیش رفت کا انحصار امریکہ کے جواب اور عملی اقدامات پر ہوگا۔