آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ’ان سینیٹرز نے میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے‘: ایران کے خلاف کارروائی روکنے کے لیے امریکی سینیٹ میں قرارداد پر ٹرمپ کی تنقید

امریکہ کی ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے 48 کے مقابلے پر 50 ووٹوں سے ایک علامتی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ روکیں یا فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کریں۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا: ’ان سینیٹرز نے میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔‘

خلاصہ

  • ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ روکیں یا فوجی کارروائی کے لیے منظوری لیں: امریکی سینیٹ کی قرار داد
  • ’ان سینیٹرز نے میرا کام مشکل بنا دیا ہے‘: ٹرمپ کی سینیٹ قرار دار پر تنقید
  • عمان کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت سہل بنانے کے لیے عارضی راستہ بنانے کا اعلان
  • کسی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: مارکو روبیو
  • اقوام متحدہ کے ادارے کا آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار جہاز رانوں کا انخلا شروع کرنے کا اعلان
  • سوئٹزرلینڈ میں ایران، امریکہ اور ثالث ممالک کے تکنیکی مذاکرات مکمل، چار ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کی ایران کے خلاف کارروائی روکنے سے متعلق امریکی سینیٹ کی قرار داد پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق کانگریس کی قرار داد کو ’بے وقت اور بے معنی‘ قدم قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا: ’میں ایران کو تقریباً شکست کے دہانے پر لے آیا تھا، وہ ہارنے والا تھا، ہمیں عملی طور پر ہر چیز دینے کو آمادہ تھا، اور دہائیوں میں پہلی بار امریکہ اور اس کے صدر، یعنی مجھے، مکمل احترام دے رہا تھا۔‘

    ٹرمپ کے مطابق ایسے وقت میں ’امریکی سینیٹ نے وار پاورز ایکٹ (جنگ سے متعلق اختیار کا قانون) پر بے وقت اور بے معنی ووٹ کیا، جس سے دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سرپرست کو یہ پیغام دیا گیا کہ امریکہ میرے اقدامات سے خوش نہیں ہے اور مجھے رکنا ہو گا۔‘

    سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ’اس طرح دشمن کو فائدہ اور سہولت فراہم کی گئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’چار نکمے ریپبلکنز نے بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیا، اور ایران نے میرے لوگوں سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ ان سینیٹرز نے میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے، مگر میں اسے کسی نہ کسی طریقے سے مکمل کر کے رہوں گا۔ کیوں کہ میں ہمیشہ کام مکمل کرتا ہوں۔‘

    واضح رہے کہ امریکہ کی ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے 48 کے مقابلے پر 50 ووٹوں سے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ روکیں یا فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کریں۔

  2. اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن بازار میں لگی آگ پر رات گئے قابو پا لیا گیا: حکام, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    حکام کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں واقع اتوار بازار میں لگی آگ پر منگل کو رائے گئے قابو پالیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ بھجانے کے اس عمل میں ریسکیو 1122 کی چھ گاڑیاں مصروف رہیں جبکہ پاک بحریہ کی فائر بریگیڈ نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ بازار کے مجموعی طور پر نو حصوں تک پھیل گئی تھی جس کے نتیجے میں 380 سے زائد سٹال متاثر ہوئے۔ ابتدائی طور پر مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 12 کروڑ روپے لگایا جا رہا ہے۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    گذشتہ تین برس کے دوران اسلام آباد کے ایچ نائن اتوار بازار میں آتشزدگی کا یہ چوتھا بڑا واقعہ ہے۔

    جولائی 2024 میں بھی اسی بازار میں آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں 625 سٹال مکمل طور پر جل گئے تھے۔

    حکام کے مطابق ایچ نائن اتوار بازار میں مجموعی طور پر دو ہزار 743 سٹال موجود ہیں۔

  3. عمان کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت سہل بنانے کے لیے عارضی راستہ بنانے کا اعلان

    عمان نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ایک عارضی سمندری راستہ بنائے گا۔

    عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتے ہیں، انھیں بین الاقوامی بحری تنظیم اور عمانی حکام کے ساتھ رابطہ کرنا ہو گا۔

    یہ اعلان ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی سفارتی وفد کے دورہ عمان کے بعد سامنے آیا۔ منگل کو ایک مشترکہ بیان میں ایران اور عمان کہہ چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک محفوظ اور کھلا بحری راستہ برقرار رکھنے کے لیے پُر عزم ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس آبی گزر گاہ میں اپنی خود مختاری اور حاکمیتی حقوق پر بھی زور دیا۔

    انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور اس راستے پر فراہم کی جانے والی خدمات کی لاگت کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی۔

    یہ بیان مسقط میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔

    سوئٹزرلینڈ سے روانگی کے بعد ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان پہنچے تھے، جہاں انھوں نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق اور وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کی۔

    منگل کے روز بین الاقوامی بحری تنظیم، جو اقوام متحدہ سے وابستہ ادارہ ہے، نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں پر موجود عملے کے 11 ہزار سے زائد ارکان کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ جہاز ران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت محدود ہونے کے بعد سے وہاں پھنسے ہوئے تھے۔

    بین الاقوامی بحری تنظیم نے کہا کہ ان جہاز رانوں کے انخلا کا عمل خطے کے تمام ممالک اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون سے انجام دیا جائے گا۔

  4. ٹرمپ کو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی اجازت درکار ہو گی، امریکہ میں قرارداد منظور, سارین حبیشیان

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے ایک قرار داد منظور کر لی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ روکیں یا فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کریں۔

    منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ میں 50 ارکان نے قرار داد کے حق میں اور 48 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ رائے شماری میں چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں میں جنگ کی مخالفت پائی جاتی ہے۔

    یہی قرار داد جون میں امریکی ایوان نمائندگان سے بھی منظور کی گئی تھی، جہاں چار ریپبلکن ارکان نے تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے اسے منظور کیا۔

    تاہم یہ قرار داد زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہے کیونکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے باوجود اسے صدر ٹرمپ کے پاس غور کے لیے نہیں بھیجا جائے گا اور نہ ہی اسے قانونی حیثیت حاصل ہے۔

    یہ ووٹنگ اس حوالے سے اہم ہے کہ 1973 کے وار پاورز ریزولوشن (جنگ سے متعلق اختیار کا قانون) کے نفاذ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کے دونوں ایوانوں نے کسی صدر کو فوجی کارروائی ختم کرنے کی ہدایت دینے والی متفقہ قرار داد منظور کی ہے۔

    اس قرار داد کی منظوری اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس سے وائٹ ہاؤس پر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سات اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایسی کوئی صورتحال نہیں رہی جس سے امریکی افواج کو واپس بلانے کی ضرورت ہو۔

    اہلکار نے یہ بھی کہا کہ یہ قرارداد صرف اس لیے منظور ہو سکی کیونکہ دو ریپبلکن سینیٹرز مچ میک کونل اور ڈیو میک کارمک اجلاس میں موجود نہیں تھے۔

    وفاقی قانون کے مطابق 60 دن سے زیادہ فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے 28 فروری کو شروع ہوئے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اپریل کی جنگ بندی نے اس مدت کو دوبارہ شمار کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس قومی سلامتی کی بنیاد پر اس مدت میں مزید 30 دن کی توسیع بھی کر سکتا ہے۔

  5. سوئٹزرلینڈ میں ایران، امریکہ اور ثالث ممالک کے تکنیکی مذاکرات مکمل، چار ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق

    ایران کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ثالث ممالک کے ساتھ ہونے والے تکنیکی مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں، جس سے 100 روز سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں ارنا اور تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، جنھوں نے ایرانی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی، نے کہا کہ چار فریقی مذاکرات آئندہ مذاکرات کے طریقۂ کار، ورکنگ گروپس اور عمل در آمد کے نظام پر اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔

    غریب آبادی نے کہا کہ یہ مذاکرات اتوار کو ہونے والے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس کے بعد منعقد ہوئے، جو پیر کی علی الصبح تک جاری رہے۔

    غریب آبادی نے کہا، ’مفاہمتی یادداشت اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے پر عملدرآمد کے طریقۂ کار طے کرنے کے لیے تکنیکی مذاکرات کیے گئے، جن کے نتیجے میں ضروری مفاہمت حاصل کر لی گئی ہے۔‘

    یہ مفاہمتی یادداشت 17 جون کو امریکی اور ایرانی صدور کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ورچوئل طور پر طے پائی تھی۔

    غریب آبادی کے مطابق طے پانے والے اتفاقِ رائے کے تحت آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے، جن میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر، ایرانی وزیر خارجہ، امریکی نائب صدر اور پاکستان و قطر کے وزرائے اعظم شرکت کریں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ فریقین نے چار ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے جو پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، تعمیرِ نو و اقتصادی ترقی، اور نگرانی و عملدرآمد کے معاملات پر کام کریں گے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی مفاہمت اور اتوار شب جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کی روشنی میں مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے درمیان ایک رابطہ نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ لبنان سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک علیحدہ رابطہ سیل بھی قائم کیا جائے گا، جس میں مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے ساتھ پاکستان اور قطر بھی شامل ہوں گے۔

    غریب آبادی کے مطابق چاروں ممالک کے تکنیکی وفود کے سربراہان ورکنگ گروپس اور نئے قائم ہونے والے رابطہ سیلز کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے اور ان کی پیش رفت سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تکنیکی مذاکرات میں ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور ان سے متعلق خدمات کے لیے عمومی لائسنس کے حصول سے متعلق اقدامات بھی زیر بحث آئے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی اتفاقِ رائے ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی فریق نے تیل، پیٹروکیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور متعلقہ خدمات کے لیے عمومی لائسنس جاری کر دیا ہے، جسے امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دیا گیا ہے۔

    غریب آبادی نے مزید کہا کہ مفاہمت کے تحت 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی کے معاہدے پر فوری عمل در آمد کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ یہ رقم دو اقساط میں جاری کی جائے گی اور ہر قسط چھ ارب ڈالر پر مشتمل ہو گی۔

    اس سے قبل ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد قالیباف نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ رقم امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

    اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہم ایک منصفانہ اور معقول معاہدے کے حوالے سے بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ جو رقم جاری کی جا رہی ہے اسے خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا، اور یہ خوراک صرف امریکہ سے خریدی جائے گی۔ مکئی، سویا بین اور دیگر ضروری زرعی اجناس ہمارے کسانوں سے حاصل کی جائیں گی۔‘

    دریں اثنا امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے 60 روزہ رعایت (ویور) کا اعلان بھی کیا ہے۔

  6. امریکہ نے ایران کی قومی ٹیم پر پابندیاں نرم کر دیں

    امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ورلڈ کپ میں ایرانی قومی ٹیم کے سفری انتظامات پر پابندیاں نرم کر دی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق امریکہ نے ایرانی ٹیم کو اپنے اگلے میچ سے دو روز قبل امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    عالمی کپ کے میزبان کی حیثیت سے امریکہ کی جانب سے ایرانی ٹیم پر عائد پابندیوں کے ایک حصے کے طور پر، ٹیم کو اپنے میچ سے ایک دن پہلے امریکہ جانے کی اجازت دی گئی تھی اور ان کے ویزے کی شرائط کے مطابق انھیں میچ کے اسی دن فوری طور پر امریکی سرزمین سے نکلنا تھا۔

    اس پابندی کی وجہ سے ایرانی قومی ٹیم نے اپنے کیمپ کی جگہ کو امریکہ کے ایریزونا سے میکسیکو میں تیجوانا منتقل کر دیا تھا۔

    ایران نے ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں اب تک دو میچ کھیلے ہیں اور ٹیم کا تیسرا میچ مصر کے خلاف 27 جون کو سییٹل میں ہو گا۔

  7. بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کار مناسب وقت پر ایران پہنچیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران یہ سمجھنے میں غلطی پر ہے کہ اس کے جنگ میں متاثر ہونے والے جوہری مراکز کا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے معائنہ نہیں کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایجنسی کے معائنہ کار ’مناسب وقت‘ پر ایران میں موجود ہوں گے۔

    اس سے چند گھنٹے قبل انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران نے مکمل طور پر اور بغیر کسی شرط کے اعلیٰ ترین سطح پر جوہری معائنوں پر طویل مدت (یہاں تک کہ ہمیشہ کے لیے) اتفاق کیا ہے‘ اور یہ بھی کہا کہ ’اگر ایران اس پر راضی نہ ہوتا تو مزید مذاکرات نہ ہوتے۔‘

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کا جنگ سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے ایجنسی کو رسائی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے یہ بیانات بظاہر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گذشتہ روز کے بیان کے ردعمل میں تھے، جنھوں نے کہا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی واپسی پر اتفاق کیا ہے۔

  8. کسی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے اپنے خلیجی دورے کا آغاز کیا، جس دوران وہ کویت اور بحرین بھی جائیں گے تاکہ تہران سے متعلق معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔

    وزیر خارجہ نے ابوظہبی پہنچنے پر کہا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ملک کو اس پر ٹول یا فیس عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔

    مارکو روبیو کے مطابق انھیں نہیں لگتا کہ اس معاملے پر خطے میں کسی کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں کے تمام ممالک بھی اسی مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔

  9. اقوام متحدہ کے ادارے کا آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار جہاز رانوں کا انخلا شروع کرنے کا اعلان

    اقوام متحدہ سے منسلک انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں پر موجود عملے کے 11 ہزار سے زائد ارکان کے انخلا کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ وہ جہاز ران ہیں جو ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر عائد پابندیوں کے بعد سے خطے میں پھنسے ہوئے تھے۔

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا کہ ان جہاز رانوں کے انخلا کا آپریشن خطے کے تمام ممالک اور امریکہ کے قریبی تعاون سے کیا جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق پھنسے ہوئے ملاحوں اور سمندری مسافروں نے مہینوں تک شدید مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ایران امریکہ معاہدہ سمندری سلامتی کی بحالی کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

  10. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایرانی صدر مسعود پزشکیان اپنا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے
    • اپنے دورہ پاکستان کے دوران پزشکیان نے وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی
    • اسلام آباد میں ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ ’رہبر اعلیٰ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ایران نے وقار کے ساتھ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت حاصل کی ہے‘
    • ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔