لائیو, پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی بیرون ملک دوروں سے واپسی، ’یہ دنیا کے لیے عظیم اور شاندار دن ہے‘: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر تبصرہ

وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر بیرون ملک دورے مکمل کر کے واپس پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مستقل سفارتی مصروفیات کے ذریعے بات چیت، کشیدگی میں کمی اور تصفیہ طلب مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے 'بہت اچھی خبر' ہے۔ تاہم امریکی صدر نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
  • ایران نے افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے کے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کر دی
  • امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت
  • ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے ’مکمل طور پر کھلی‘ ہے۔ تاہم جہازرانی پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ درحقیقت بہت کم بحری جہازوں نے اس راستے سے گزر کیا ہے۔
  • امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی معاہدے تک نافذ رہے گی
  • امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی اطلاعات اور ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کا دورہ کرنے کے عندیے کے بیچ اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں
  • ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہ سکتی۔

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کیا جائے: نواف الثانی

    قطر کے دفاعی انٹیلی جنس آپریشنز کے سابق ڈائریکٹر نواف الثانی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ممکنہ طور پر دوبارہ کھلنے کا معاملہ ’کسی پیش رفت کا سا احساس ضرور دیتا ہے‘، تاہم وہ اس بات پر یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے حقیقی پیش رفت قرار دیا جائے۔

    انھوں نے بی بی سی کے پروگرام ٹُوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک اس حوالے سے بالکل واضح رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔

    نواف الثانی کے مطابق صورتِ حال کو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی حالت کی طرف واپس آنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خلیج کے بہت سے ممالک جنگ بندی کا خیرمقدم کریں گے، تاہم اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں خلیجی ممالک کو شامل نہیں کیا گیا۔

  2. وزیرِ اعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کر کے وطن روانہ

    Shebaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکی پر مشتمل اپنا سہ ملکی دورہ مکمل کر کے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔

    وزیرِ اعظم کو انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمیک، سفیر نیلوفر کایگسز، ترکی کی پارلیمنٹ کے رکن برہان قایاترک اور ترکی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے الوداع کیا۔

    وزیرِ اعظم کا یہ دورہ تین روز پر مشتمل تھا، جس کے دوران انھوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ وہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک ہوئے جہاں مختلف عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

    وززیر اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دوروں کے دوران وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔‘

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیرِ اعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں دیگر حکام کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی شامل تھے، جنھوں نے ایکس پر اس دورے سے متعلق تبصرہ بھی کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سعودی عرب اور قطر کے کامیاب اور مفید دوروں کے بعد اپنے سفارتی مصروفیات کے آخری مرحلے کو بھی مکمل کر لیا ہے، جہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ اہم دو طرفہ ملاقاتیں کی گئیں جن کا مقصد مختلف کلیدی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ بھی نہایت مثبت ملاقات ہوئی، جبکہ فورم کے موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی بامعنی بات چیت کی گئی۔

    اسحاق ڈار نے لکھا کہ ’اس دوران میں نے خود بھی متعدد اہم ملاقاتیں اور تبادلۂ خیال کیے‘۔

    ان کی رائے میں یہ فورم اب ایک عالمی مکالماتی پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے مختلف نقطۂ نظر سامنے آتے ہیں۔

  3. یہ دنیا کے لیے ایک عظیم اور شاندار دن ہے: ٹرمپ, پیٹر بوز، بی بی سی نیوز کے نامہ نگار

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے اعلان کے بعد یہ ’دنیا کے لیے ایک عظیم اور شاندار دن‘ ہے۔

    تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اُس وقت تک ’مکمل طور پر جاری رہے گی‘ جب تک جنگ کے خاتمے سے متعلق ’معاہدہ‘ سو فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔

    ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر بدھ تک جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی طویل المدتی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کر سکتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، جو گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے بالمشافہ مذاکرات کا حصہ تھے، نے کہا ’ناکہ بندی کے تسلسل کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی۔‘

    ادھر تہران نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کی بازیابی اور اسے امریکہ بھیجنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کام کرے گا۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ’مذاکرات میں کبھی کوئی بات نہیں ہوئی۔‘

  4. آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت جاری

    شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔ جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری جہاز معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔

    سائٹ کے مطابق کئی جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جن میں تیل، مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور کیمیکلز کی ترسیل کے لیے مخصوص جہاز بھی شامل ہیں۔

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

  5. فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تین روزہ دورہ ایران مکمل، تصفیہ طلب مسائل کے پرامن حل پر زور

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا تین روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔

    پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    بیان کے مطابق بات چیت میں خطے میں پائیدار امن لانے پر توجہ مرکوز کی گئی، خاص طور پر ابھرتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول، جاری سفارتی مصروفیات اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تعاون پر مبنی اقدامات پر زور دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مستقل سفارتی مصروفیات کے ذریعے بات چیت، کشیدگی میں کمی اور تصفیہ طلب مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

  6. پاکستان کا چار سال بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کا اجرا, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کا اجرا کر دیا ہے، جو اس کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) پروگرام کے تحت پرکشش شرائط پر جاری کیا گیا۔

    وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اس کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ تین سالہ یورو بانڈ کو عالمی مالیاتی منڈیوں اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی حاصل ہوئی، جو پاکستان کی معاشی صورتحال پر اعتماد کی بحالی کا اشارہ ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ بروقت اجرا سے پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ میں موجودگی مضبوط ہوئی ہے اور مستقبل کی مالیاتی سرگرمیوں کے لیے زیادہ مؤثر قیمتوں کے تعین میں مدد ملے گی۔

    ان کے مطابق اہم نکات میں چار سال بعد مارکیٹ میں کامیاب واپسی، مشکل عالمی ماحول میں سرمایہ کاروں کی مضبوط دلچسپی، بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں میں بہتر پوزیشننگ شامل ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ یہ پیش رفت سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے اور مارکیٹ میں پائیدار موجودگی بحال کرنے کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ اپنے روابط کو مزید مستحکم کرے گا جبکہ جی ایم ٹی این اور بین الاقوامی سکوک پروگراموں کے لیے مالیاتی مشیروں کی تقرری کے لیے جلد درخواستیں طلب کی جائیں گی۔

  7. ایران پر مجموعی طور پر لگ بھگ 11 ہزار حملے کیے گئے: اسرائیلی فوج

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایران پر بمباری کے نئے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایران میں مجموعی طور پر 10 ہزار 800 حملے کیے ہیں۔

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق سے متعلق نیوز ایجنسی ’ہرانا‘ نے سات اپریل تک 1701 ایرانی شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ اسی روز صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان میں توپخانوں کے ذریعے 14 ہزار 900 حملے کیے گئے جبکہ فضائی بمباری میں 2500 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی فوج کا مزید کہنا تھا کہ لبنان میں حملے کے دوران 165 کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    لبنانی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ لبنان میں چھ ہفتوں سے جاری تنازعے میں 2100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔

  8. ایران کے حوالے سے ’بہت اچھی خبر‘ ہے: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ’بہت اچھی خبر‘ ہے۔ تاہم امریکی صدر نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

    ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کچھ دیر پہلے بہت اچھی خبریں موصول ہوئی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ایران کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں چیزیں بہت اچھی چل رہی ہیں۔‘

    جب صدر سے یہ سوال کیا گیا کہ یہ اچھی خبر کیا ہے؟ تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ کو جلد اس کے بارے میں پتہ چل جائے گا، کیونکہ یہ وہ کام ہے جو ہونا ضروری تھا اور یہ ایک منطقی قدم ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ہو گا۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ ہو گا۔‘

    ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر بدھ تک جنگ کے خاتمے کے لیے طویل مدتی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کر سکتے ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ آبنائے ہرمز کی صورتحال سے بہت خوش ہیں اور وہ چین میں ان سے ملاقات کے منتظر ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل میں اپنے بیان میں کہا کہ ’صدر شی جن پنگ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جس رفتار سے اسے کھولا گیا ہے اس سے بہت خوش ہیں۔ چین میں ہماری ملاقات خاص اور شاید تاریخی ہو گی۔ میں صدر شی سے ملاقات کا منتظر ہوں، اور ہم مل کر بہت کچھ کریں گے!‘

    خیال رہے کہ امریکی صدر 14 اور 15 مئی کو چین کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں، جو اس سے قبل مارچ میں شیڈول تھا، تاہم ایران جنگ کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

  9. ایران نے افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے کے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کر دی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ تہران نے اپنی افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کرنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق بقائی نے جمعہ کو کہا کہ ’افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین کی طرح مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔‘

    اس سے قبل ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران نے افزودہ یورینیم کو ایران سے ہٹانے اور اسے امریکہ لانے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ مل کر کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    صدر نے جمعہ کو بارہا اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ’اگلے دو دنوں میں‘ ایک سمجھوتہ طے پا جائے گا اور یہ کہ امن مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں ہوں گے۔

  10. آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے۔ جمعے کو ایرانی وزیر خارجہ کے اس اعلان کے بعد خام تیل کی فی بیرل قیمت 98 ڈالر سے کم ہو کر 88 پر آ گئی ہے۔

    ایران نے فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیلی حملے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔

    آبی گزرگاہ کے ذریعے ٹینکرز کی آمدورفت بند ہونے سے عالمی منڈیوں میں دستیاب تیل اور گیس کی مقدار میں زبردست کمی ہوئی تھی اور خام تیل کی قیمت 110 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔

    تنازعہ سے پہلے خام تیل کی فی بیرل قیمت 70 ڈالر سے کم تھی۔

  11. برطانیہ اور فرانس آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی مشن کی قیادت کریں گے: وزیر اعظم کیئر سٹارمر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیر اعظم کیئرسٹارمر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک فرانس کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے راستوں کی حفاظت کے لیے ایک کثیر القومی مشن کی قیادت کرے گا۔

    سٹارمر نے 49 ممالک کے نمائندوں کی ایک میٹنگ کے بعد اس بات پر زور دیا کہ یہ ’خالصتاً پرامن اور دفاعی‘ ہو گا اور اسے صرف اس وقت نافذ کیا جائے گا جب خطے میں فوجی تنازعات ختم ہو جائیں گے۔

    فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد سے ایران نے آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا جس سے عالمی توانائی اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں۔

    جمعے کے روز ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ راستہ اب ’مکمل طور پر کھلا‘ ہے۔

  12. امریکہ کی مزید ایک ماہ کے لیے ممالک کو روسی تیل خریدنے کی اجازت

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی حکومت نے اس چھوٹ میں توسیع کی ہے جس کے تحت ممالک کو تقریباً مزید ایک ماہ کے لیے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن ایران کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔

    اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ تیل پہلے سے ہی آئل ٹینکرز پر لدا ہو اور سمندر میں موجود ہو۔

    امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ اب ممالک 16 مئی تک روسی تیل خرید سکتے ہیں، حالانکہ امریکی حکام نے دو روز قبل یہ کہا تھا کہ ان کا استثنیٰ میں توسیع کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    اس فیصلے کو توانائی کی عالمی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے واشنگٹن کی کوششوں کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں حالیہ تنازعات کے بعد بڑھی ہیں۔

    تاہم لائسنس کے متن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس استثنیٰ میں ایران، کیوبا اور شمالی کوریا سے متعلق لین دین شامل نہیں ہے، یعنی ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں برقرار ہیں۔

    یہ اجازت 30 دن کی چھوٹ کی جگہ لے لیتی ہے جس کی میعاد 11 اپریل کو ختم ہو گئی تھی۔

  13. 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکر جنوبی انڈیا کے قریب پہنچ گیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہTankerTrackers

    سمندری نقل و حمل کی نگرانی کرنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز کے مطابق امریکی پابندیوں کی چھوٹ کے آخر روز ایرانی سپر ہیوی ٹینکر ڈورنا تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر انڈیا پہنچنا والا ہے۔ یہ خام تیل ایک انڈین ریفائنری کو فراہم کیا جائے گا۔

    ٹینکر ٹریکرز کے مطابق اس ایرانی سپر ہیوی ٹینکر کو آخری بار 13 اپریل 2026 کو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی سے چند گھنٹے قبل دیکھا گیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز اب جنوبی انڈیا کے ساحل پر خودکار شناختی نظام (AIS) پر نمودار ہوا ہے، جو ایک معیاری سمندری نظام ہے جو بحری جہازوں کی شناخت اور ٹریک کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکہ نے گذشتہ ماہ تیل و گیس کی بین الاقوامی مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے کی غرض سے سمندر میں پہلے سے موجود بحری جہازوں پر لدے ایرانی تیل کی خرید و فروخت سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

  14. قالیباف کی ٹرمپ کے دعوؤں کی تردید

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہ سکتی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے ردِعمل میں قالیباف نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں آبنائے ہرمز کی آمد و رفت متاثر ہو گی۔

    ایران اس سے قبل اعلان کر چکا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے اختتام تک آبنائے ہرمز تمام تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھلی رہے گی۔

    محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا عمل ’متعین راستے‘ کے تحت اور ’ایران کی اجازت‘ سے کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر دیے گئے بیانات سے نہیں بلکہ زمینی حقائق سے ہوتا ہے کہ آبنائے کھلی ہے یا بند اور اس پر کون سے ضابطے لاگو ہوں گے۔

    انھوں نے امریکی صدر کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ صدر ٹرمپ نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے، ’اور ساتوں جھوٹے تھے‘۔

    محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے ان جھوٹوں سے نہ تو جنگ جیتی اور نہ ہی وہ مذاکرات میں کسی نتیجے تک پہنچ سکیں گے۔‘

  15. ٹرمپ کا تقریب کے دوران پاکستان کا شکریہ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایریزونا میں ٹرننگ پوائنٹ ایکشن کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے حوالے سے دن بھر دیے گئے اپنے اہم بیانات کو ایک بار پھر دہرایا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ’مکمل طور پر کھلا اور کاروبار کے لیے تیار‘ قرار دیا ہے۔ تاہم امریکہ کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک ’مکمل طور پر نافذ‘ رہے گی جب تک یہ ’لین دین‘ سو فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔

    صدر نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ امریکہ اور ایران مل کر افزودہ یورینیم، یا ان کے بقول ’جوہری گرد‘ نکالیں گے اور اسے ایران سے باہر لے جائیں گے۔ حالانکہ اس سے قبل آج ہی ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ افزودہ یورینیم کہیں منتقل نہیں کیا جا رہا۔

    خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے نیٹو کا بھی ذکر کیا جس پر نوجوان قدامت پسندوں پر مشتمل حاضرین کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں نیٹو کی حمایت ناکافی رہی اور یہ مدد بہت تاخیر سے پیش کی گئی جبکہ ان کے بقول امریکہ نیٹو پر تقریباً ایک کھرب ڈالر خرچ کرتا ہے۔

    صدر نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی ’غیر معمولی‘ جنگ بندی کو بھی سراہا اور کہا کہ 78 برس میں یہ پہلی بار ہوا ہے۔

    اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی کوششوں میں ’غیر معمولی مدد‘ پر پاکستان اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  16. ٹرمپ نے میڈیا کو دیے انٹرویوز میں کیا بتایا؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صحافیوں سے گفتگو کے دوران متعدد انٹرویوز دیے، جن میں ایران سے متعلق مذاکرات پر تفصیل سے بات کی۔ ان کے بیانات کے اہم نکات یہ ہیں:

    • صدر ٹرمپ نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایران نے ’ہر چیز پر اتفاق‘ کر لیا گیا ہے جس میں ایران سے جوہری مواد نکالنا بھی شامل ہے۔
    • فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں اب کوئی بڑا رکاوٹی نکتہ باقی نہیں رہا اور تحریری معاہدہ ’انتہائی قریب‘ ہے۔
    • بلومبرگ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے امریکہ کی جانب سے منجمد رقوم کی واپسی کے بغیر ہی اپنا جوہری پروگرام غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ نیوز نیشن کو دیے گئے انٹرویو میں ان کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے یورینیم افزودگی روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
    • صدر ٹرمپ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران نے امریکہ کو اپنی حدود میں داخل ہونے اور افزودہ یورینیم اکٹھا کرنے کی اجازت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ مل کر ’آہستگی سے‘ کارروائی کرے گا اور بڑے آلات کی مدد سے یہ مواد نکال کر امریکہ لے جایا جائے گا۔
    • صدر ٹرمپ نے ایگزیوس کو بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی خاطر مذاکرات کار اس ہفتے کے اختتام پر دوبارہ ملاقات کر سکتے ہیں۔ اسی خبر رساں ادارے نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران افزودہ یورینیم کے بدلے 20 ارب ڈالر کی منجمد رقوم کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    • ایرانی مطالبے سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف صدر ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیے گئے اعلانات کو ہی مستند سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ گمنام ذرائع کو۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری ہے مگر مذاکرات میڈیا کے ذریعے نہیں کیے جائیں گے۔
    • ایران کی جانب سے تاحال صدر ٹرمپ کے بیان کردہ نکات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ مذاکرات میں اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افزودہ یورینیم کہیں منتقل نہیں کیا جا رہا۔
  17. آبنائے ہرمز کھول دی گئی مگر ایران نے کیا حد برقرار رکھی ہے؟

    آبنائے ہرمز

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں اعلان کیا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر کھلی‘ ہے۔ یہ جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونا ہے۔

    عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ تجارتی جہازوں کو ایران کی جانب سے پہلے اعلان کردہ ’مربوط راستے‘ کے ذریعے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    ان کا اشارہ غالباً اس نقشے اور دو بحری راستوں کی طرف ہے جنھیں پاسدارانِ انقلاب نے جاری کیا اور جن کے بارے میں گذشتہ ہفتے ایرانی میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹنگ کی گئی تھی۔

    اس نقشے کے مطابق خلیج کی سمت جانے والے جہازوں کو ایران کے جزیرے لارک کے شمال سے گزرنا ہو گا جبکہ خلیج عمان کی طرف جانے والے بحری جہاز جزیرے کے جنوب میں واقع راستہ اختیار کریں گے۔

    نقشے میں خلیج اور خلیجِ عمان کو ملانے والے آبی راستے کے وسطی حصے کو ’خطرناک علاقہ‘ قرار دیا گیا ہے جہاں سے گزرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔

    ایران نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ جو جہاز مقررہ راستوں پر عمل نہیں کریں گے انھیں بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے یا پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حملے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

    اگرچہ جمعے کے روز خلیج میں جہازرانی کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی تاہم بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی سروسز کے مطابق بہت کم جہاز درحقیقت آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ بعض جہازوں کو واپس مڑتے یا رک جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

  18. معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایریزونا کے شہر فینکس میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کی۔

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور وہ ہفتے کے اختتام تک بھی چلتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مثبت پیش رفت ہو رہی ہیں جن میں لبنان سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایرانی حکام کی جانب سے دیے گئے ان بیانات کو بھی کم اہم قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے اختلافات ہیں بھی تو انھیں دور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کے بقول وہ نہیں سمجھتے کہ اختلافات بہت زیادہ یا بنیادی نوعیت کے ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے تو امریکی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔

  19. امریکی وفد چند دنوں میں دوبارہ پاکستان آ سکتا ہے: سی بی ایس نیوز

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہPool/Getty Images

    امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام چند دنوں کے اندر ایران سے دوبارہ مذاکرات کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔

    سی بی ایس نے ’مشاورت سے واقف متعدد افراد‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے اعلیٰ امریکی حکام کو دوبارہ پاکستان بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات پیر کے روز سے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ تاہم امن معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ جنگ بندی کے موجودہ معاہدے میں توسیع کی کوششوں کے تحت جمعرات کو پاکستان کے آرمی چیف نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات بھی کی۔

  20. آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کے بیان اور ایران کی وضاحت سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    کہا جاتا ہے کہ اصل بات باریکیوں میں چھپی ہوتی ہے۔

    اور جب معاملہ جنگ، امن اور علاقائی سلامتی کا ہو تو یہ بات اور بھی زیادہ درست ثابت ہوتی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ آج کے دن کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو غیر معمولی طور پر مثبت انداز میں پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم جب تفصیلات کی بات آتی ہے تو اب بھی کئی ابہام موجود ہیں اور ایرانی موقف میں بھی تضاد دکھائی دیتا ہے۔

    امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلے ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن بعد ازاں ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اس اہم بحری راستے پر کچھ حدیں برقرار ہیں۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے زیادہ توجہ ’مربوط راستوں‘ پر مرکوز رکھی ہے اور عراقچی کے بیان سے اس حصے کو نظر انداز کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت ’مکمل طور پر کھلی‘ رہے گی۔

    اس کے علاوہ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔ یہ صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران اپنا جوہری مواد امریکہ کے حوالے کرے گا۔ لیکن امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات ابھی حتمی مرحلے تک نہیں پہنچے۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ مذاکرات جو آمنے سامنے نہیں بلکہ فاصلے سے کیے جا رہے ہیں، اب بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار نظر آتے ہیں۔

    صدر کا پُرامید انداز درست بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو یہ پہلا موقع نہیں ہو گا جب ان کے بیانات عملی حقائق سے آگے نکل گئے ہوں۔