آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ، پزشکیان نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے، ’ہم نے مذاکرات میں فوجی کارروائی سے کئی گنا زیادہ حاصل کیا‘، ایران

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر امریکہ اور ایران کے درمیان باضابطہ طور پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بدھ کی رات ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد یہ نافذ المعل ہو گیا ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں
  • وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور یہ اب نافذ العمل ہو گیا
  • امریکی حکام کے مطابق 14 نکات پر مشتمل اس معاہدے کے مطابق ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا جبکہ ملک کی ’دوبارہ تعمیر اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ دیے جائیں گے
  • معاہدے میں ’لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے‘ کا اعلان کیا گیا
  • معاہدے کے مطابق امریکہ اور ایران ’زیادہ سے زیادہ 60 دن میں بات چیت کرنے اور حتمی معاہدے کے لیے پرعزم ہیں، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے
  • امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے ’درست رویہ اختیار نہ کیا‘ تو دوبارہ لڑائی شروع ہو سکتی ہے

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کی لبنان میں موجودگی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی: ایران

    ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کی مسلسل موجودگی جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ ہوگی۔

    ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر ’قبضہ‘ جاری رکھا تو ’ضروری اقدامات‘ کیے جائیں گے۔

    لبنان اس معاہدے میں تنازعات کا ایک اہم نکتہ بن گیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان معاہدے کا حصہ نہیں ہے، جب کہ لبنانی صدر جوزف عون نے اصرار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے ملک کی بات چیت امریکہ اور ایران معاہدے سے ’آزاد‘ ہے۔

  2. ہم نے مذاکرات میں فوجی کارروائی سے کئی گنا زیادہ حاصل کیا: قالیباف

    ایران کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بدھ کی شام ایک تفصیلی انٹرویو میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر ردعمل دیا اور اسے امریکہ کے ساتھ فوجی مقابلے سے کہیں بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

    یاد رہے کہ وہ امریکی نمائندوں کے ساتھ ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے تھے،مسٹر قالیباف کے کچھ بیانات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

    انھوں نے انٹرویو میں میں کہا کہ ’ہم جو کچھ فوجی کارروائی سے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس سے کئی گنا زیادہ ہم نے مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا، اس کا کوئی موازنہ نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہر جنگ میں کچھ کامیابیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اگر یہ کامیابیاں آخر کار کسی قانونی اور سیاسی دستاویز میں تبدیل نہ ہوں اور درج نہ کی جائیں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، نہ تاریخ میں اور نہ ہی میدان میں حاصل شدہ کامیابیوں کو ثابت کرنے میں۔‘

    ’ہمیں عقل مندی سے آگے بڑھنا چاہیے اور جو گرہ ہاتھ سے کھل سکتی ہو اسے دانتوں سے کھولنے کی ضرورت نہیں، صرف نعرہ لگانا طاقت نہیں ہوتا اور اگر آپ دو بار نعرہ لگائیں اور عمل نہ کریں تو یہ رویہ دشمن کی مدد ہے۔‘

    باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کا مطلب جھک جانا نہیں ہے بلکہ عین عقل اور ہوشیاری ہے، ہم اس مقام پر ہیں کہ اپنے فائدے حاصل کر رہے ہیں۔‘

    ’آبنائے ہرمز ایک ممکنہ صلاحیت تھی جسے دشمن نے اپنی کارروائیوں سے عملی بنا دیا۔ آبنائے ہرمز کا انتظام اور کنٹرول اس کے کنارے والے ممالک کا حق ہے اور ہمیں اس پر خود مختاری حاصل ہے اور یقیناً خدمات کے بدلے فیس لیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کارروائی کے جواب میں کارروائی، شق 13 میں بیان کی گئی ہے۔ ہم نے اس کے لیے نگران مقرر کیے ہیں؛ یعنی ہمیں اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ یہاں کچھ افراد بطور نگران موجود ہوں۔ یہاں تک کہ ثالثی کرنے والوں کے بارے میں بھی ہمیں ایک دوسرے سے اتفاق کرنا ہوگا اور ممکن ہے دوسرے ممالک یہ کام کریں۔ لیکن یقین رکھیں کہ اگر وہ کوئی اقدام نہیں کریں گے تو ہم بھی کوئی جوابی اقدام نہیں کریں گے۔‘

  3. امریکہ-ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ میں تین نکات اہم ہیں, تجزیہ: گیری او ڈونوہو

    واشنگٹن میں، ہم نے سینئر امریکی حکام کے ساتھ ایک غیر معمولی بریفنگ کا مشاہدہ کیا جنھوں نے ہمیں ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کا متن لفظ بہ لفظ پڑھ کر سنایا۔

    اس دستاویز کے تین اہم نکات میرے لیے نمایاں تھے، سب سے پہلے جوہری مسئلے پر۔ سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے یا حاصل کرنے کا عہد کیا ہے۔ فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیل تک پہنچنے کے لیے اسے اپنی اولین شرط قرار دیا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں مقامی طور پر کمزور کیا جائے گا۔ امریکہ نے ابتدائی طور پر ایران سے مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، اس لیے یہ ایک نئی پیش رفت ہے۔

    دوسرا آبنائے ہرمز کھلنے کے معاملے پر امریکی حکام نے کہا کہ 60 دنوں تک وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد ایران اور پڑوسی ممالک کو بات چیت کرنی ہوگی کہ اس مسئلے کو کیسے نمٹا جائے۔

    اس سے یہ امکان باقی رہتا ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کے لیے ٹول عائد کیے جائیں گے، جب کہ تنازع شروع ہونے سے پہلے ایسی کوئی فیس نہیں تھی۔

    تیسرا 300 بلین ڈالر کا متنازعہ ایران تعمیر نو کا فنڈ ہے۔ ٹرمپ نے پہلے اس کی رپورٹوں کو ’جعلی خبروں‘ کے طور پر بیان کیا ہے، لیکن فنڈ معاہدے کے متن میں شامل ہے۔

    سینئر امریکی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو اس فنڈ کے لیے ’ایک فیصد بھی‘ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس پر عمل درآمد کا انحصار ایران کے رویے اور تہران کے اپنے وعدوں پر عمل کرنے پر ہوگا۔

    آنے والے دنوں میں اس معاہدے کی شق کے حساب سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔ لیکن اہم سوال یہ ہوگا کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​سے امریکہ کو اصل میں کیا حاصل ہوا؟

  4. امریکی اور ایرانی صدر کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تصاویر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تصدیق کے ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی یادداشت پر دستخط کرنے کی ایک ویڈیو جاری کی، جو ورسائی کے محل میں کھانے کی میز پر ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    ویڈیو میں فرانسیسی صدر بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے دیے گئے کاغذ پر دستخط کر رہے ہیں۔

    اس ویڈیو کی دلچسپ بات یہ ہے کہ کیمرہ مفاہمت کی یادداشت کے فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے لمحے کو نمایاں کرتا نظر آتا ہے اور امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کرتا ہے۔

    چند منٹ بعد، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے مسعود پیزشکیان کی ایک تصویر شائع کی، جس میں ایرانی صدر نے کیمرے کے سامنے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کے ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط دکھائی دے رہے ہیں۔

  5. امریکہ اور ایران کے درمیان نافذ العمل ہونے والے 14 نکاتی معاہدے میں کیا ہے؟

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیتے ہیں۔ اس معاہدے کو 14 نکاتی ’مفاہمتی یادداشت‘ کہا گیا ہے۔

    دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے پر بات چیت کا اعلان کیا ہے، تاہم اس میعاد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

    لبنان سمیت تمام محازوں پر جنگ بندی: معاہدے کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور اتحادی لبنان سمیت ’تمام محاذوں‘ پر فوجی کارروائیوں کو ’فوری اور مستقل‘ ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔

    ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام: امریکہ اور ایران ’ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے‘ اور فریقین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

    60 دن میں حتمی معاہدہ: دستاویز کے تیسرے نکتے کے مطابق، امریکہ اور ایران 60 روز میں بات چیت اور حتمی معاہدے کو حاصل کرنے کا عہد کریں گے، اس ٹائم لائن کو باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ 60 روز کا آغاز دونوں ممالک کے رہنماؤں کے باضابطہ طور پر مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے بعد شروع ہوں گے۔

    امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: چوتھے نکتے میں کہا گیا ہے کہ ایک بار مفاہمت نامے پر دستخط ہونے کے بعد، امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بندرگاہوں پر موجود ’کسی قسم‘ کی رکاوٹ کو ہٹانا شروع کر دے گا۔ حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کے 30 روز کے اندر امریکہ نے ایران کے اطراف سے امریکی افواج کو ہٹانے کا وعدہ کیا ہے۔ عملی طور پر، اس کا مطلب ہے کہ امریکی فوج 28 فروری کو لڑائی شروع ہونے سے پہلے اپنی پوزیشن پر واپس آجائے گی۔

    آبنائے ہرمز کی بحالی: معاہدے کے مطابق یہ ناکہ بندی 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس دوران امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے ذریعے جتنے بحری جہازوں کو جانے کی اجازت دیتا ہے وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی طرف سے بحال ہونے والی ٹریفک کے تناسب سے ہو گا۔

    معاہدے کے مطابق ایران آبنائے کے ذریعے تجارتی جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت دینے کے لیے ’اپنی بہترین کوششوں کا استعمال کرتے ہوئے انتظامات کرے گا۔‘

    جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد سے یہ امریکہ کا ایک اہم مقصد رہا ہے۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی اور فوجی ’رکاوٹوں‘ کو دور کرنے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے آپریشن کرنے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک فوری طور پر بحال ہو جائے گی۔

    ایران کی تعمیر نو کے لیے رقم: ایم او یو کے چھٹے نکتے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور علاقائی شراکت دار ایران میں تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کا ایک منصوبہ تیار کریں گے۔

    پابندیوں کا خاتمہ: امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کی جائیں، جس کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔

    جوہری ہتھیاروں کی ممانعت: دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’غیر مؤثر' کرنے پر آمادہ ہوگا۔

    ’سٹیٹس کو:‘ معاہدے کے نویں اور 10 ویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔

    عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ امریکہ نئی پابندیاں نہیں لگائے گا۔ اس دوران، یہ تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر متعلقہ خدمات، جیسے بینکنگ لین دین اور نقل و حمل کے لیے ایران کو چھوٹ دے گا۔

    یہ نکتہ مذاکرات کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ رہا ہے۔ ایران نے طویل عرصے سے اصرار کیا تھا کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں۔

    ایران کے منجمد اثاثے: دستاویز کا 11 ویں نکتے کے مطابق ایم او یو پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ ’مکمل طور پر منجمد یا محدود فنڈز فراہم کرنے کا عہد کرتا ہے‘ اور اس طریقہ کار پر بات چیت کے دوران اتفاق کیا جائے گا۔

    ایک امریکی اہلکار نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ کچھ اثاثے جاری کیے جائیں گے جب کہ مفاہمت نامے کے بعد کی بات چیت جاری رہے گی جب ایران معاہدے کے پہلوؤں کی تعمیل کرتا ہے، جیسے کہ اس کے انتہائی افزودہ یورینیم سے نمٹنے کے لیے آغاز کرنا۔

    دیگر تین نکات: دستاویز کے آخری چند نکات طے پا جانے والے نکات کی مانیٹرنگ اور اور حتمی معاہدے سے متعلق ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران مفاہمت نامے کے نفاذ اور مستقبل کے معاہدے کی تعمیل کی نگرانی کے لیے ایک میکنزم قائم کریں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی عملی شکل کیسے ہو گی۔

    آخر میں میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

  6. آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ’ایران فیس وصول کرے گا‘

    ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ریاستی ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ’جنگ سے پہلے کی صورتحال میں واپس نہیں جائے گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران کا حق ہے اور یقیناً ہم خدمات کے عوض فیس وصول کریں گے۔‘

    ملک اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے 60 دن کے بعد فیس لینا شروع کرے گا۔

    امریکی صدر ٹرمپ کے دستخط کردہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایران، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک ’وسیع تر‘ معاہدہ کرے گا۔

    ایک اہلکار کے مطابق امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران اپنے حقوق کو ’سخت انداز میں‘ استعمال کرے گا، لیکن خلیجی ممالک کبھی بھی ایسے مستقبل کو قبول نہیں کریں گے جس میں ٹول یا فیس کا نظام نافذ ہو۔

  7. ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے: وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر الیکٹرانک دستخط کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک مفصل پوسٹ میں شہباز شریف نے لکھا کہ ’متعلقہ حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط ہونا اس بات کا اظہار ہے کہ فریق تنازع کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور ابتدائی اقدام کے طور پرایران فوراً آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اور امریکہ فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔‘

    بیان کے مطابق ’پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کی حمایت سے، اس اہم موقع کی یاد میں اور تکنیکی سطح کے مذاکرات کے آغاز کے لیے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ سرکاری تقریب کی میزبانی کرے گا۔‘

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دلی مبارکباد اور مخلصانہ خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جن کی سفارت کاری سے ثابت قدم وابستگی اور پرامن حل کو ترجیح دینے کے موقف نے ایک بار پھر ایسے تنازعے کو ختم کرنے میں مدد دی جو خطے اور اس سے باہر تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ میں امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی لگن اور انتھک کاوشوں کو بھی سراہتا ہوں، جن کی قیمتی خدمات اس کامیابی میں اہم رہیں۔‘

    پاکستانی وزیر اعظم نے ایرانی حکام کے لیے پیغام میں لکھا کہ ’میں ایران کے سپریم لیڈر، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے لیے اپنی گہری عزت اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں، جنھوں نے اپنی دانشمندی، دور اندیشی اور مدبرانہ قیادت کے ذریعے امن کے مقصد کو اپنایا۔‘

    ’میں ایرانی مذاکراتی ٹیم بشمول محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور سکندر مومنی کی کوششوں کا بھی اعتراف کرنا چاہتا ہوں، جن کے صبر، استقامت اور تعمیری روابط کے عزم نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

    انھوں نے امن مذاکراتی عمل میں معاون کردار ادا کرنے پر قطر کی قیادت کی بھی تعریف کی اور سعودی عرب، ترکی اور مصر کے کردار کی بھی تعریف کی۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا، جن کی انتھک محنت، بے لوث خدمات اور مؤثر کردار اس پیشرفت کو ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے میں نہایت اہم رہے۔‘

    اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور یہ اب نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جس کے تحت اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

    وہ فرانس کے شہر ایویان لیباں میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

    14 نکات پر مشتمل یہ معاہدہ، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جا رہا ہے، کے مطابق ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور اس میں ملک کی ’دوبارہ تعمیر اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا۔

    تاہم معاہدے کے متن میں کئی سوالات کے جواب موجود نہیں اور بہت سے اہم مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں۔

  8. حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی مدت کوئی حتمی یا لازمی ڈیڈ لائن نہیں ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی مدت کوئی حتمی یا لازمی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔‘

    پیرس پہنچنے کے بعد ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا وہ معاہدے کے لیے کسی سخت ڈیڈ لائن کو دیکھتے ہیں ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اس میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔‘

    موجودہ معاہدے کے مطابق دونوں فریق 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’اگر دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے پاس بالکل نہ ہونا ’کسی حد تک غیر منصفانہ‘ ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بیلسٹک میزائل اس معاملے سے مختلف ہیں جسے ہم جوہری ہتھیاروں کے تناظر میں زیرِ بحث لاتے ہیں۔ لیکن اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک کے پاس ایسے میزائل ہیں تو میرا خیال ہے کہ متناسب حد تک ایران کے پاس بھی ہونا قابلِ قبول ہے۔‘

    ایک اور سوال کے جواب میں جس میں پوچھا گیا تھا کہ معاہدے کے بعد امریکہ اپنی فوج خلیج میں کتنے عرصے تک برقرار رکھے گا ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کچھ عرصے تک۔‘

  9. تجزیہ: ایران کی توجہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے معاشی پہلوؤں پر زیادہ ہے, بی بی سی فارسی کی نامہ نگار غنچہ حبیبزاد کا تجزیہ

    ایران کی معیشت کئی برسوں سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    تخمینوں کے مطابق تہران کے 24 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے غیر ملکی بینکوں میں منجمد ہیں۔

    تاہم حالیہ جنگ نے ایران کو اس سے کہیں زیادہ مالی نقصان پہنچایا ہے، جو ممکنہ طور پر ان منجمد اثاثوں کی مالیت سے تقریباً دس گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔

    ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی لاگت تقریباً 270 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    حالیہ جنگ سے قبل بھی مغربی پابندیوں، جو بنیادی طور پر ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کے باعث عائد کی گئی تھیں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

    ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے موجودہ معاشی صورتحال اور پابندیوں سے پیدا ہونے والی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پابندیاں ختم کرانے کے بدلے میں ’ہتھیار نہیں ڈالے گا‘۔

    دوسری جانب عام شہری بھی اس معاشی بحران سے بری طرح متاثر ہیں۔

    رواں سال جنوری میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز بھی ملک کی معاشی صورتحال کے خلاف عوامی غم و غصے کے باعث ہی ہوا تھا۔ تاہم مبصرین کے مطابق اب ایران کی اقتصادی حالت اُس وقت کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہو چکی ہے۔

    اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ کے ساتھ ہونے والا کوئی معاہدہ ایران کی معیشت میں نئی جان ڈالنے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔

  10. عالمی منڈیوں میں استحکام اور تیل کی قیمتوں میں کمی جلد مُمکن نہیں: ماہرین, واشنگٹن سے بی بی سی نیوز کے نامہ نگار ڈینیل بُش کا تجزیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو عالمی تیل کی منڈیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے جی7 اجلاس میں کہا ہے کہ معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد توانائی کی قیمتیں تیزی سے جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔

    پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’تیل کی قیمتیں جلد ہی اس سطح پر آ جائیں گی جہاں وہ چار ماہ قبل تھیں۔‘

    تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ منڈیوں کو مکمل طور پر مستحکم ہونے میں کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جب تک امریکہ اور ایران آئندہ دو ماہ کے دوران حتمی امن معاہدے پر مذاکرات مکمل نہیں کر لیتے، جہاز رانی کی کمپنیاں آبنائے ہرمز میں اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کرنے سے محتاط رہیں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع بھی ہو جائے، تب بھی قیمتوں میں کمی آنے اور اس کے فوائد صارفین تک منتقل ہونے میں وقت لگتا ہے۔

    بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد بھی توانائی کی ترسیل کو مکمل طور پر معمول پر آنے اور چھ ماہ قبل والی سطح تک پہنچنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    امریکی حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتیں راتوں رات کم نہیں ہوں گی، کیونکہ خطے میں توانائی کی ترسیل کو معمول پر آنے میں وقت درکار ہوگا۔

  11. بلوچستان بجٹ: تعلیم کے بعد امن و امان کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے بجٹ پیش کردیا گیا جس میں تعلیم کے بعد دوسرے نمبر پر امن وامان کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔

    بجٹ وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بدھ کی شام بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی محاصل کے علاوہ بلوچستان کے اپنے وسائل اور دیگر مدات سے مجموعی آمدن کا تخمینہ ایک ہزار 134 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ سات سو 97 ارب اور ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ ڈھائی سو ارب روپے کے لگ بھگ ہے جبکہ بجٹ میں 45 ارب روپے کا بچت ظاہر کیا گیا ہے۔

    بجٹ میں پہلی ترجیح تعلیم کے شعبے کو دیتے ہوئے اس کے لیے مجموعی طور پر 197 ارب 28 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    اگرچہ تعلیم کا بجٹ سب سے زیادہ ہے تاہم اس کا بڑا حصہ تنخواہوں اور دیگر غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہے۔

    امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امن وامان کے شعبے کے لیے دوسرے نمبر پر سب زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امن وامان کے لئے 107 ارب 92 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    رقم مختص کرنے کے حوالے سے صحت کا شعبہ تیسرے نمر پر ہے جس کے لیے مجموعی طور پر 73 ارب 99 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

    سماجی تحفظ کے شعبے کے لئے 15 ارب 13 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    ترقیاتی شعبے میں رواں مالی سال کے بجٹ کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی پیداواری شعبوں کے مقابلے میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے شعبے کے لیے زیادہ رقم رکھی گئی ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس شعبے کا ترقیاتی بجٹ 27ارب روپے ہے۔

    ماہرین کے مطابق بلوچستان میں زراعت، کانکنی، ماہی گیری اور لائیو سٹاک اور صنعتوں کا شمار پیداواری شعبوں میں ہوتا ہے۔

    بجٹ میں زراعت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ چار ارب 19کروڑ روپے، کان کنی کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب 45 کروڑ روپے، محکمہ ماہی گیری و ساحلی ترقی کا ترقیاتی بجٹ 34 کروڑ 60 لاکھ روپے، صنعت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ چار ارب روپے 20کروڑ جبکہ لائیو سٹاک کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب روپے ہے۔

    سینئر صحافی عرفان سعید کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پیداواری شعبے بلوچستان میں لوگوں کے معاش اور روزگار کے فطری ذرائع ہیں۔

    عرفان سعید کے مطابق بلوچستان میں روزگار کے مواقع کم ہونے سے پہلے ہی سرکاری شعبے پر ملازمتوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر پیداواری شعبوں کی ترقی کے لیے زیادہ رقم مختص کی جائے تو یہ سرکاری شعبے پر روزگار کے لیے دبائوکو کم کرنے میں مدد دے گی۔

    بجٹ میں سرکاری شعبے پانچ ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں وفاقی حکومت کے طرز پر سات فیصد اضافہ کیا گیا۔

    بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ نئی الیکٹرک گاڑیوں پر سو فیصد صوبائی ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔

  12. بریکنگ, صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان ممکنہ طور پر امن معاہدے پر دستخط کریں گے: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔‘

    نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ تجویز ’زیر غور ہے اور ابھی اس پر غور کیا جا رہا ہے‘۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے جی7 اجلاس کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ جمعہ کے روز امن معاہدے پر دستخط کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب کے لیے وہاں رک جائیں۔

  13. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کیا ہے؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو کے دوران اعلیٰ امریکی حکام نے صحافیوں کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر بریفنگ دی ہے۔

    بی بی سی بھی اس بریفنگ میں شریک تھا۔ 14 نکات یا شقوں پر مشتمل اس معاہدے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

    لبنان سمیت تمام محازوں پر جنگ بندی: معاہدے میں ’تمام محاذوں بشمول لبنان فوری اور مستقل فوجی کارروائیوں کے خاتمے‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    60 دن میں حتمی معاہدہ: امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔

    امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: امریکہ 30 دن کے اندر ایران پر عائد اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اس دوران بحری آمدورفت کو جنگ سے قبل کی سطح کے مطابق بحال کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ حتمی معاہدے کے 30 دن کے اندر امریکہ ایران کے اطراف سے اپنی افواج کے انخلا کا بھی پابند ہوگا۔

    آبنائے ہرمز کی بحالی: اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز 60 دن تک بغیر ٹول کے کھلی رہے گی، جس کے بعد ایران خلیجی ممالک، خصوصاً عمان کے ساتھ مل کر اس پر طویل المدتی معاہدہ کرے گا۔

    ترقیاتی فنڈ: امریکہ اور علاقائی شراکت دار کم از کم 300 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کریں گے جو ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے ہوگا۔

    تمام پابندیاں ختم: امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کی جائیں، جس کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔

    جوہری ہتھیاروں کی ممانعت: دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’موقع پر ملا کر غیر مؤثر‘ کرنے پر آمادہ ہوگا۔

    بی بی سی کے رپورٹرز گیری او ڈوناہو اور ڈین بش نے بھی ان تفصیلات کا جائزہ لیا ہے، جن کی رپورٹس اس سے قبل شائع کی جا چکی ہیں۔

  14. ایران اگر معاہدے پر قائم نہ رہا تو دوبارہ بمباری کی جا سکتی ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو اس پر دوبارہ بمباری کی جا سکتی ہے۔‘

    صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا معاہدے میں کوئی ایسا قابلِ نفاذ طریقہ موجود ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک سکے، ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو وہ ایران پر جہنم برپا کر دیں گے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کے معاملے میں فوجی کارروائی ہی ایک قابلِ عمل راستہ ہے۔‘

  15. ایران کو تعمیرِ نو کی مد میں فنڈز ’صرف اُس صورت میں ملیں گے جب وہ درست اقدامات کرے گا‘: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کو تعمیر نو کے فنڈ تک رسائی صرف اسی صورت میں دی جائے گی جب وہ ’صحیح اقدامات‘ کرے گا۔

    صحافیوں کے سوالات کے دوران ٹرمپ سے ان رپورٹس کے بارے میں پوچھا گیا کہ امریکہ ایران کو تیل کی فروخت اور 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ تک رسائی کی اجازت دے سکتا ہے۔

    اس پر ان کا کہنا تھا ’صرف اس صورت میں جب وہ صحیح طریقے سے کام کریں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران نے ’خود کو قابو میں نہ رکھا تو اسے دوبارہ حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔‘

    تاہم اس سے کُچھ ہی دیر قبل انھوں نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کو 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ انھوں نے ان رپورٹس کو ’جھوٹی خبر‘ قرار دیا۔

  16. لبنان، ایک ایسا معاملہ اور ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں کام کرنا ہوگا: ٹرمپ

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’لبنان کا معاملہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں کام کرنا ہوگا۔‘

    جی 7 مُمالک کے اجلاس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو جاری ہے اور وہ اس وقت ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہے ہیں۔

    اسی دوران انھوں نے کہا کہ ’وہ امید کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ پورے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے معاہدے کا آغاز بھی ثابت ہوگا۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’لبنان میں امن کا قیام ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ہمیں کام کرنا ہوگا‘، تاہم ان کے مطابق ’اصل بڑا معاہدہ ایران سے متعلق ہے‘۔

  17. امریکہ ایران کو کوئی رقم ادا نہیں کرے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم فراہم نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کو 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ انھوں نے ان رپورٹس کو ’جھوٹی خبر‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انھیں کوئی رقم نہیں دیتے، ہم انھیں کچھ بھی نہیں دیتے۔‘

    ٹرمپ نے بعد ازاں آئندہ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان میں خلیجی ممالک بھی شامل ہوں گے اور بات چیت کا مرکز ’غیر جوہری امور‘ ہوں گے، جن میں ایران کے ’روایتی بیلسٹک میزائل‘ بھی شامل ہیں۔

    ان کے مطابق ’انھیں کچھ میزائل رکھنے پڑتے ہیں کیونکہ دوسرے ممالک کے پاس بھی ہیں آپ کو بھی کچھ رکھنے پڑتے ہیں۔‘

    صدر نے بتایا کہ انھیں مشورہ دیا گیا تھا کہ ایران کو کسی بھی قسم کے میزائل رکھنے سے روکا جائے، تاہم ان کے بقول ’معاملات ایسے آگے نہیں بڑھتے‘۔

  18. ایران نہ خود جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انھیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر جلد دستخط کیے جائیں گے۔

    ان کے مطابق ’کل یا ممکن ہے اس کے اگلے دن‘ معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ نہ تو خود جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انھیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ان کے مطابق اس شق کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ایران کو دیگر ممالک سے جوہری ہتھیار خریدنے سے بھی روکتی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ معاہدے کی ایک کاپی اسرائیل کو بھی بھیجی گئی ہے جسے انھوں نے ’اچھا شراکت دار‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ ’حزب اللہ کے حوالے سے وہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں‘۔

    ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کا بھی ذکر کیا اور 2020 میں ہونے والے اس حملے کا حوالہ دیا جس میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے۔

    انھوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن) پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ معاہدہ ’جوہری ہتھیار کی طرف جانے کا راستہ تھا‘۔

    بعد ازاں انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بیامن نیتن یاہو کا ذکر کرتے ہوئے، جن پر حالیہ دنوں میں انھوں نے ناراضی کا اظہار کیا تھا، کہا کہ وہ ’اچھے انسان ہیں‘ لیکن کبھی کبھی ’زیادہ جذباتی ہو جاتے ہیں‘۔

    ٹرمپ کے مطابق نیتن یاہو کو ’زیادہ نرم رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے‘، اور انھوں نے کہا کہ ’ہر بار جب کوئی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والا شخص آتا ہے تو آپ کو کوئی عمارت گرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

  19. ایران میں نئی حکومت زیادہ سمجھدار اور کم شدت پسند ہے، پاکستان اور قطر نے مذاکرات میں اہم کرداد ادا کیا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میری رائے میں یہ حکومت کی تبدیلی ہے‘۔

    ان کے مطابق ایران کے پاس اب ’نئی قیادت‘ ہے جو ’زیادہ سمجھدار‘ اور ’کم شدت پسند‘ ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے ذریعے حکومت کی تبدیلی حاصل ہو چکی ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے پاکستان اور قطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور قطر دونوں نے مذاکرات کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔‘

    انھوں نے جی7 اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کا آغاز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ انھیں فرانس میں خوش آمدید کہنا ’جی7 کی تاریخ کے سب سے کامیاب اجلاسوں میں سے ایک‘ ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’اجلاس مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امن معاہدے پر دستخط کے بعد منعقد ہوا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو کھولا گیا ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا گیا ہے۔‘

    انھوں نے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایران معاہدے کے لیے آمادہ نہ ہوتا تو یہ بمباری کا سلسلہ جاری رہتا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں، کوئی یہ نہیں کہے گا لیکن میرا خیال ہے کہ یہ وہی ہے۔ ایک قیادت ختم ہو گئی، دوسری قیادت بھی ختم ہو گئی اور تیسری قیادت بھی جزوی طور پر ختم ہو رہی ہے۔۔۔ میرا خیال ہے یہ حکومت کی تبدیلی ہے۔‘

  20. امریکی میڈیا میں سامنے آنے والا معاہدے کا متن اصل نہیں: وائٹ ہاؤس, بی بی سی نیوز کے سفارتی امور کے نامہ نگار پال ایڈمز کا تجزیہ

    وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر کمیونیکیشنز سٹیون چیونگ نے کہا ہے کہ سی این این کی جانب سے شائع کیا گیا ایک دستاویز، جسے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے متن کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ’اصل نہیں‘۔

    تاہم سی این این کا یہ ورژن پہلے بلومبرگ کی جانب سے شائع کیے گئے متن سے مماثلت رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ یہ وہی حتمی الفاظ نہ ہوں جو جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب میں دستخط کے لیے پیش کیے جائیں گے، لیکن اس سے اس دستاویز کے بارے میں کچھ اہم نکات سامنے آتے ہیں، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے اور دو ماہ پر محیط تفصیلی مذاکرات کے آغاز کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ’اقدامات کرے گا‘۔

    جوہری مسئلے سے متعلق شقیں غیر واضح ہیں۔ تہران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، جبکہ ایران ماضی میں بھی متعدد بار ایسا وعدہ کر چکا ہے۔ دیگر تمام جوہری معاملات کو ’حتمی معاہدے میں مناسب طور پر حل کیا جائے گا‘۔

    اگرچہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں برقرار رہیں گی، لیکن امریکہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے استثنیٰ جاری کرے گا، جبکہ مذاکرات کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے بھی دستیاب کر دیے جائیں گے۔