آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے تہران میں ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت

ایرانی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ خارجہ’ کے ساتھ محسن نقوی کی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی بدھ کے روز تہران پہنچے تھے۔

خلاصہ

  • سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع' دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے۔
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 'دشمن کی ظاہری اور خفیہ نقل و حرکت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے عسکری مقاصد بھی نہیں چھوڑے ہیں اور وہ جنگ اور مہم جوئی کے نئے مرحلے کی تلاش میں ہے۔'
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور 'وہ فوری طور پر کھل جانی چاہیے۔'
  • ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس کی نگرانی میں 26 بحری جہاز باحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔
  • چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک 'اہم موڑ' پر ہے اور اس وقت جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں ہے تاہم تنازع کا دوبارہ آغاز 'ناقابل قبول' ہوگا۔

لائیو کوریج

  1. پاکستانی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سنگاپور میں پھنسے 20 ایرانی ملاح وطن واپس پہنچ گئے: ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے 20 ایرانی ملاحوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم انسانی اقدام قرار دیا ہے۔

    ایرانی سفیر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاح سنگاپور کی حدود میں اپنے جہاز کی ضبطی کے باعث ایک مشکل صورتحال سے دوچار تھے۔

    انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں حکومتِ پاکستان کی انسان دوست اور خیرسگالی پر مبنی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جن کے نتیجے میں ان ملاحوں کی رہائی ممکن ہوئی۔‘

    ایرانی سفیر نے خاص طور پر وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور وزارتِ خارجہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔

    بیان کے مطابق سفارتی رابطوں اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ان ملاحوں کو سنگاپور سے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جس کے بعد وہ چند گھنٹوں قبل بحفاظت اپنے وطن ایران واپس پہنچ گئے۔

    ایرانی سفیر نے اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثال قرار دیا ہے۔

  2. محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے تہران میں ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ہے۔

    ایران کی حکومت کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری خبر میں اس ملاقات کی تصدیق کی گئی ہے۔

    یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

    ایرانی حکومت کے بیان کے مطابق وزیرِ خارجہ’ کے ساتھ محسن نقوی کی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی بدھ کے روز تہران پہنچے تھے۔

    اس سے قبل مئی کے دوسرے ہفتے میں حسن نقوی تقریباً چار روز ایران میں گزار کر گذشتہ روز منگل کو ہی پاکستان پہنچے تھے، جہاں انھوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباسی عراقچی سمیت متعدد ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

  3. عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں 2600 پوائٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کے رجحان میں اضافے کے وجہ سے انڈیکس میں 2600 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس 167731 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں مکمل جنگ بندی کی پیش رفت کے امکان کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ایک بیرل خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے نیچے آگئی۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے لیے کسی ممکنہ پیش رفت کے امکان کی وجہ سے نیچے آئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے آج صبح ایشیائی مارکیٹوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے اور پاکستان ’سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    شہریار بٹ نے کہا اس کے علاوہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں اس وقت سرمایے کی فراوانی ہے اور سرمایہ کار انویسٹ کرنا چاہتے ہیں جس کی مثال گزشتہ دنوں ایک کمپنی کے حصص کے لیے آئی پی او کی لانچنگ تھی جس میں لوگوں نے مقررہ قیمت سے زیادہ بولیاں دیں۔

    انھوں نے کہا کہ مارکیٹ میں اس سرمایے کی وجہ سے جب بھی کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو تیزی کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔

  4. سلامتی کونسل کو ٹرمپ کی بار بار دھمکیوں کے سامنے خاموش نہیں رہنا چاہیے: اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کا مطالبہ

    اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف امریکی صدر کی بار بار اور روزانہ کی دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہنا چاہئے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق امیر سعید نے امریکی صدر کی بار بار دھمکیوں کے سامنے کونسل کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ ٹرمپ ایران پر بمباری کرنے اور ایران کو ’پتھر کے دور‘ میں لوٹانے کی واضح دھمکی دیتے ہیں اور ملک کی توانائی، اقتصادی اور صنعتی انفرسٹرکچر کی تباہی، ایرانی جوہری سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے یہاں تک کہ ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کے بھی دھمکیاں دے چکے ہیں۔‘

    انھوں نے اقوام متحدہ کے ارکان کو متنبہ کیا کہ ایران کے نقطہ نظر سے یہ خاموشی ایک ’خطرناک عمل‘ کو جنم دے سکتی ہے ہے جسے انھوں نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی جانب سے طاقت اور جارحیت کے خطرے کو معمول بنانے کا نام دیا۔

  5. ایران کو طاقت کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ’خوش فہمی‘ ہے: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے لکھا کہ ایران کو طاقت کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا محض ایک خوش فہمی ہے۔

    انھوں نے یہ بات سوشل نیٹ ورک ایکس پراپنے ایک پیغام میں کہی۔

    ایرانی صدر نے لکھا کہ ’ایران نے اپنے وعدوں پر مسلسل عمل کیا ہے اور جنگ کو روکنے کے لیے تمام آپشنز تلاش کیے ہیں؛ ہماری طرف سے تمام راستے کھلے ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’ایران کو طاقت کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ سفارت کاری میں باہمی احترام جنگ سے زیادہ دانشمندانہ، محفوظ اور زیادہ پائیدار ہے۔‘

    مسعود پزشکیان کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں تاہم اگر تہران معاہدے پر رضامند نہیں ہوا تو مزید حملے کیے جائیں گے۔

  6. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خبروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم جمعرات کے روز آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔
    • امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ’ایرانی پرچم بردار‘ ایک آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے روک لیا اور اس کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
    • قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے ایک پریس کانفرنس میں بتیا ہے کہ ’راؤل کاسترو اور دیگر افراد پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔‘
    • سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک صدر ٹرمپ کے ’جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع‘ دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
    • پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک بار پھر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایران کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
    • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی ظاہری اور خفیہ نقل و حرکت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے عسکری مقاصد بھی نہیں چھوڑے ہیں اور وہ جنگ اور مہم جوئی کے نئے مرحلے کی تلاش میں ہے۔‘
    • پاکستان کی وفاقی حکومت نےعیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کردیا ہے۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کی تعطیلات 26، 27 اور 28 مئی تک ہوں گی۔
    • چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور روس کو ’ذمہ دار بڑی طاقتوں‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی انصاف کا تحفظ کرنا چاہیے اور ’ہر قسم کی دھونس دھمکیوں اور تاریخ کو پیچھے دھکیلنے والے اقدامات ‘کی مخالفت کرنی چاہیے۔
  7. ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں، تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید حملے کریں گے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔

    جنگ بندی کے قیام کے لیے ’آپریشن ایپک فیوری‘ روکنے کے تقریباً چھ ہفتے بعد بھی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس ہفتے کہا تھا کہ وہ مزید حملوں کی منظوری دینے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم مذاکرات کو مزید وقت دینے کے لیے انھوں نے یہ فیصلہ مؤخر کر دیا۔

    انھوں نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کے آخری مرحلے میں ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ یا تو ہم معاہدے تک پہنچ جائیں گے یا پھر ہمیں کچھ ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو قدرے ناخوشگوار ہوں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ہم اس عمل کو ایک موقع دے رہے ہیں۔ مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں زیادہ لوگوں کی ہلاکت کے بجائے کم جانی نقصان کو ترجیح دوں گا۔ صورتحال کسی بھی سمت جا سکتی ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی حکومت نے ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران کے ردعمل کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ شروع کرنے کے عندیے کے جواب میں کہا ہے کہ ’یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔‘

  8. امریکی بحریہ کا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے خلاف کارروائی کا دعویٰ: جہاز کو معائنے کے بعد رخ تبدیل کرنے کا کہا گیا، سینٹ کام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ’ایرانی پرچم بردار‘ ایک آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے روک لیا اور اس کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔

    سینٹ کام کے مطابق بدھ کے روز بحیرۂ عمان میں ’امریکی بحریہ نے ایم ٹی سیلیسٹیئل سی نامی ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی ٹینکر پر سوار ہو کر کارروائی کی، جس پر شبہ تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہ کی جانب سفر کرتے ہوئے امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امریکی افواج نے جہاز کا معائنہ کرنے اور عملے کو راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت دینے کے بعد اسے جانے کی اجازت دے دی۔‘

    سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج بحری ناکہ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک 91 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے تاکہ پابندیوں پر عمل یقینی بنایا جا سکے۔

  9. امریکہ نے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے ایک پریس کانفرنس میں بتیا ہے کہ ’راؤل کاسترو اور دیگر افراد پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔‘

    بلانش کے مطابق کاسترو اور دیگر ملزمان پر طیارہ تباہ کرنے اور قتل کے چار مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سنہ 1996 میں جب کیوبن فوجی طیاروں نے دو شہری جہازوں کو مار گرایا تھا تو اس واقعے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے خاندان دہائیوں سے ’انصاف‘ کے منتظر ہیں۔

    اس حادثے میں ہلاک ہونے والے چار افراد 44 برس کے آرمینڈو الیخاندری جونیئر، 29 برس کے کارلوس البرٹو کوسٹا، 24 برس کے ماریو مانوئل دے لا پینیا اور 29 برس کے پابلو مورالس کے نام لینے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل بلانش نے کہا کہ ’کاسترو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف فردِ جرم ایک وفاقی عدالت نے جاری کی ہے۔‘

    بلانش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، ٹرمپ انتظامیہ ان لوگوں کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہے جو امریکیوں کو قتل کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ اپنے شہریوں کو نہ بھولتا ہے اور نہ ہی بھولے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ممالک اور ان کے رہنماؤں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ امریکیوں کو نشانہ بنائیں اور پھر جوابدہی سے بچ جائیں۔‘

    راؤل کاسترو کون ہیں؟

    94 برس کے راؤل کاسترو کیوبا کے سابق رہنما ہیں اور وہ 15 برس تک مُلک کی قیادت کر چُکے ہیں۔

    انھوں نے اپنے بڑے بھائی فیدل کاسترو کی جگہ مُلک کی سربراہی سنبھالی، جو سنہ 1959 سے اس جزیرہ نما ملک کے رہنما تھے، جب انھوں نے آمر فلجینسیو باتیستا کے خلاف کامیاب کیوبن انقلاب کی قیادت کی تھی۔

    سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے راؤل کاسترو نے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا اور ایک ایسی گوریلا فورس کے کمانڈر رہے جو حکومت کے خاتمے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

    راؤل کاسترو نے بطور رہنما کمیونسٹ پارٹی کی یک جماعتی حکمرانی کو برقرار رکھا۔

    انھوں نے سنہ 2014 سے سنہ 2016 کے درمیان امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی نگرانی کی، جس میں سنہ 2016 میں صدر براک اوباما کے ساتھ تاریخی مذاکرات بھی شامل تھے۔

    لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پابندیوں میں اضافے کے باعث تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔

    راؤل نے سنہ 2021 میں کیوبا کی صدارت اور کمیونسٹ پارٹی کی قیادت موجودہ صدر میگوئل دیاس کانیل کے حوالے کر دی، لیکن بہت سے لوگ اب بھی انھیں ہی ملک کا سب سے طاقتور شخص سمجھتے ہیں۔

    اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت انھوں نے کیوبا کی کانگریس سے کہا تھا کہ ’جب تک میں زندہ ہوں، میں وطن، انقلاب اور سوشلزم کے دفاع کے لیے تیار رہوں گا۔‘

  10. جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتکاری کو موقع دینے پر ٹرمپ اور ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کو سراہتے ہیں: سعودی عرب

    سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع‘ دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں فیصل بن فرحان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ: ’سعودی عرب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو سراہتا ہے کہ انھوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا، (ایسا معاہدہ جو) آبنائے ہرمز میں باحفاظت سمندری نقل و حمل کی آزادی کو 28 فروری 2026 سے قبل کی حالت میں بحال کرنے اور تمام متنازع نکات کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کی جو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مؤثر ہو۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کو بھی نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    ’سعودی عرب توقع رکھتا ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک مضمرات سے بچنے کے لیے اس موقع سے استفادہ کرے گا اور ایک جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے ہونے والی کوششوں کا فوری مثبت جواب دے گا تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن حاصل کیا جا سکے۔‘

  11. دشمن جنگ کے نئے مرحلے کی تلاش میں، ایران نے جنگ بندی کو آپریشنل صلاحیتیں بڑھانے کے لیے استعمال کیا: محمد باقر قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی ظاہری اور خفیہ نقل و حرکت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے عسکری مقاصد بھی نہیں چھوڑے ہیں اور وہ جنگ اور مہم جوئی کے نئے مرحلے کی تلاش میں ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق اپنے آڈیو پیغامات میں قالیباف کا کہنا تھا کہ سیاسی اور اقتصادی دباؤ ڈالنے کا مقصد ایران کو پسپا کرنا ہے لیکن انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے عسکری انفراسٹرکچر جنگ بندی کے ایک مہینے کو اپنی آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

    اپنے آڈیو پیغام میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اطراف سیاسی ماحول ان کے ایران سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

  12. آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتے ہیں، معاہدے پر پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور ’وہ فوری طور پر کھل جانی چاہیے۔‘

    بدھ کو ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں آبنائے ہرمز کھلوانی ہے اور وہ فوری طور پر کھلنی چاہیے۔‘

    ایران کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوئی ’جلدی نہیں ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’میں بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے لوگوں کا بھلا چاہتے ہیں یا نہیں۔‘

    ’ایران میں اس وقت بہت غصہ ہے کیونکہ لوگ بُری حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کافی ہلچل ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔‘

  13. گذشتہ 24 گھنٹوں میں 26 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس کی نگرانی میں 26 بحری جہاز باحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینر شپس اور دیگر کمرشل جہاز شامل تھے، جو اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے گزرے۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری براڈکاسٹر آئی آر آئی بی کے مطابق کم از کم پانچ ’سپر ٹینکرز‘ آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ خبر رساں ادارے نے مزید بتایا کہ مزید جہازوں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق چین اور جنوبی کوریا سے ہے، نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے اجازت طلب کی ہے۔

  14. متحدہ عرب امارات کی ’عراقی سرزمین سے کیے جانے والے سنگین دہشتگرد حملوں‘ کی مذمت

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ ’عراقی سرزمین سے کیے جانے والے بلا اشتعال ڈرون حملوں‘ کی مذمت کرتا ہے، جس میں سنیچر کو براکہ نیوکلیئرپاور پلانٹ پر کیا جانے والا ڈرون حملہ بھی شامل ہے جس سے پلانٹ کے باہری حصے میں موجود ایک جنریٹر کو نقصان پہنچا تھا۔

    بدھ کو ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک اور خلیجی تعاون کونسل کے رُکن ممالک میں اہم سویلین اداروں پر عراقی سرزمین سے ہونے والے ’سنگین دہشتگرد حملوں‘ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

    وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو اپنی ’خودمختاری‘، ’فضائی حدود‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنے بیان میں عراق کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ’متعلقہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان خطرات کا فوری اور ذمہ دارانہ طریقے سے سدِباب کرے۔‘

    عراقی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے کی مذمت کی تھی، تاہم اس کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کے بیان پر کوئی ردِعمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

  15. ایران، امریکہ مذاکرات کی بحالی کی کوششیں: پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک بار پھر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایران کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

    وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وزیر داخلہ کا یہ ’دورہ پچھلے دورے کا تسلسل ہے اور ان کا ایجنڈا (امریکہ اور ایران کے درمیان) مذاکرات کی بحالی ہے۔‘

    اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب سے قریب سمجھی جانے والی خبر ایجنسی تسنیم نے بھی پاکستانی وزیرِ داخلہ کے تہران پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

    خیال رہے محسن نقوی تقریباً چار روز ایران میں گزار کر گذشتہ روز منگل کو ہی پاکستان پہنچے تھے، جہاں انھوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباسی عراقچی سمیت متعدد ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    منگل کو ایران سے واپسی کے بعد محسن نقوی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنے دورے سے متعلق آگاہ بھی کیا تھا۔

    حکومتِ پاکستان کی جانب سے وزیرِ داخلہ کے دورے کی تفصیلات تو شیئر نہیں کی گئیں، لیکن یہ دورے ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

  16. عیدالاضحیٰ کی تعطیلات 26 سے 28 مئی تک، نوٹیفیکیشن جاری

    پاکستان کی وفاقی حکومت نےعیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کردیا ہے۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کی تعطیلات 26، 27 اور 28 مئی تک ہوں گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

    یاد رہے کہ عیدالضحیٰ کا تہوار پاکستان میں بدھ 27 مئی کو منایا جائے گا جبکہ 26 کو حج کی چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

  17. چین اور روس کو’ہر قسم کی دھونس دھمکیوں اور تاریخ کو پیچھے دھکیلنے والے اقدامات ‘کی مخالفت کرنا چاہیے: صدر شی

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور روس کو ’ذمہ دار بڑی طاقتوں‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی انصاف کا تحفظ کرنا چاہیے اور ’ہر قسم کی دھونس دھمکیوں اور تاریخ کو پیچھے دھکیلنے والے اقدامات ‘کی مخالفت کرنی چاہیے۔

    چینی صدر نے یہ بات چین اور روس کی جانب سے تجارت، ٹیکنالوجی،سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے معاہدوں کے ایک سلسلے پر دستخط کی تقریب کے دوران کہی۔

    یاد رہے کہ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 20 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    چینی صدر نے کہا کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور اب جامع سٹریٹیجک پارٹنر شپ کی اعلیٰ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

    ان کے مطابق دونوں ممالک نے برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام کا مظاہرہ کیا ہے اور دوطرفہ تعلقات ایک ’نئے نقطۂ آغاز‘ میں داخل ہو گئے ہیں۔

    شی جن پنگ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چین اور روس کو تمام سطحوں پر روابط اور تبادلے جاری رکھنے چاہییں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی میں جدت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔

    روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے: پوتن

    چینی صدر کی گفتگو کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بیرونی دباؤ اور عالمی منڈیوں میں منفی رجحانات سے محفوظ ہے۔

    صدر پوتن کے مطابق روس اور چین آزاد خارجہ پالیسیاں اختیار کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور عالمی سطح پر استحکام پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے رہیں گے۔

  18. پوتن کا چین کے ساتھ تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند ‘ہونے کا دعویٰ اور چین کا محتاط رویہ, لورا بیکر نامہ نگار بی بی سی کا تجزیہ

    روسی صدر پوتن نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ روس اور چین کے درمیان تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں۔

    ہم اس جملے کو پہلے بھی سن چکے ہیں۔ گزشتہ سال جون اور ستمبر میں چین کے دوروں کے دوران پوتن اور ان کے حکام بھی یہی بات کہہ چکے تھے۔

    تاہم یہ بیان ہمیشہ روس کی جانب سے آتا ہے۔

    یہ درست ہے کہ دوطرفہ تجارت ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے لیکن جب زبان اور اندازِ بیان کی بات آتی ہے تو چین زیادہ محتاط، حتیٰ کہ قدرے محتاط اور دور اندیشی سے کام لیتا ہے۔

    شی جن پنگ اپنے ہم منصب کو ’پرانا دوست‘ کہتے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ’غیر متزلزل‘ قرار دے چکے ہیں۔

    چینی رہنما عموماً محتاط انداز اختیار کرتے ہیں اور وہ بلند آہنگ بیانات دینے کے بجائے اپنی برتری برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    چین وہ شراکت دار ہے جس کی روس کو ضرورت ہے اور اس کے پاس وہ معاشی طاقت اور سفارتی اثر و رسوخ موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ تعلقات کے رخ اور شرائط طے کر سکتا ہے۔

  19. موجودہ عالمی صورتحال پیچیدہ، تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہو گا: چینی صدر شی جن پنگ

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک ’اہم موڑ‘ پر ہے اور اس وقت جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں ہے تاہم تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔

    چینی صدر نے یہ بات روسی صدر پوتن سے ملاقات کے دوران کہی جو اس وقت چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں جہاں وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ بیجنگ میں ایک سربراہی اجلاس میں شریک ہیں۔

    چینی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں اور گزشتہ 25 برسوں کے دوران روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم میں 30 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ پوتن کا اس سال پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

    شی جن پنگ ’عزیز دوست‘ ہیں: روسی صدر

    روسی سرکاری میڈیا تاس (TASS) کے مطابق صدر پوتن نے شی جن پنگ کو پہلے کی طرح ایک بار پھر ’عزیز دوست‘ قرار دیا۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ چین اور روس کے تعلقات جس سطح تک پہنچے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک مسلسل ’باہمی سیاسی اعتماد اورسٹریٹیجک تعاون کو مضبوط‘ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ’ناگزیر‘ ہے: شی جن پنگ

    مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ یہ خطہ اس وقت ایک ’اہم موڑ‘ پر ہے اور جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ چینی رہنما کے مطابق جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ’ناگزیر‘ ہے جبکہ تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔

    چینی صدر شی نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کے لیے چار نکاتی تجویز کا مقصد بین الاقوامی اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط بنانا اور کشیدگی کم کرنے، تنازع کو گھٹانے اور امن کے فروغ میں مدد دینا ہے۔‘

    یاد رہے کہ یہ چار نکاتی تجویز گزشتہ ماہ ابو ظہبی کے ولی عہد سے ملاقات کے دوران پیش کی گئی تھی، جس میں پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون کی بالادستی، اور ترقی و سلامتی کے لیے مربوط حکمت عملی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، شی جن پنگ نے اس ملاقات میں اپنے ابتدائی کلمات میں پوتن سے کہا کہ دونوں ممالک کو ترقی کے عمل میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔

    بیجنگ میں ہونے والی دونوں ملکوں کے صدر کی ابتدائی مختصر نشست ختم ہو چکی ہے جس کے بعد کریملن کی جانب سے جاری ایجنڈا کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ایک ’وسیع فارمیٹ‘ کی ملاقات طے ہے۔

    اس دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ بھی علیحدہ مذاکرات کریں گے۔

  20. جنگ میں واپسی کی صورت میں امریکہ کو بہت سے ’سرپرائز‘ ملیں گے: عباس عراقچی کا دعویٰ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ شروع کرنے کے عندیے کے جواب میں کہا ہے کہ ’یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ بچا ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔‘

    عباس عراقچی نے ٹرمپ کی دھمکی آمیز بیان کے بعد جوابی بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دیا جس میں کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد امریکی کانگریس نے اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا ہے۔ ‘

    عباس عراقچی کے مطابق ’اب یہ باضابطہ طور پر تصدیق ہو گئی ہے کہ ہماری طاقتور مسلح افواج دنیا کی پہلی طاقت تھی جس نے جدید اور مشہور F-35 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔"

    اس پوسٹ کے آخر میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے جو سیکھا اور جو علم ہم نے حاصل کیا ہے اس کے ساتھ، یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی اور بھی بہت سی حیرتیں ساتھ لائے گی۔‘

    منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’ مزید کہا کہ ’ایران کے پاس دو، تین دن اور ہیں، شاید جمعے، سنیچر اور اتوار یا اگلے ہفتے کی ابتدا تک کا وقت ہے۔‘

    خیال رہے صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ انھوں نے منگل کو ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں کی درخواست پر انھوں نے اسے مؤخر کیا۔