ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
اسماعیل بقائی نے عمان کے خلاف امریکی حکام کے ’دھمکی آمیز بیانات‘ کی سخت مذمت
کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ کے ایک خودمختار رکن ملک کو ’بلیک میل‘ کرنے کی کوشش
قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے
مطابق جمعے کے روز جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے امریکی وزیرِ خزانہ کی جانب سے
عمان پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کی مذمت کی۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کے عمان کو ’تباہ کر دینے‘ سے متعلق بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق بقائی نے
کہا کہ ’اس قسم کا رویہ امریکی نظامِ حکمرانی اور پالیسی سازی کے ’اخلاقی زوال‘ کی
عکاسی کرتا ہے۔‘
ایرانی ترجمان نے زور دے کر کہا
کہ ’بے بنیاد الزامات کے تحت عمان پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی ’مکمل طور پر
غیر قانونی‘ ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی
اصولوں کے خلاف ہے۔
انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا
کہ ’وہ ایسے اقدامات کے خلاف ذمہ دارانہ ردِعمل ظاہر کرے تاکہ بین الاقوامی قانونی
اصولوں کی خلاف ورزی کو معمول بننے سے روکا جا سکے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی کا یہ بیان ایسے
وقت سامنے آیا جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو خبردار کیا تھا کہ
اگر عمان، ایران کو آبنائے ہرمز میں ٹولنگ سسٹم قائم کرنے میں مدد دیتا ہے تو
امریکہ اس پر ’سخت‘ پابندیاں عائد کرے گا۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی
جانب سے عمان کو ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام سے متعلق کسی معاہدے
کی صورت میں ’تباہ کر دینے‘ کی دھمکی کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت بعد سامنے آیا۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک غیر سرکاری مسودے کے کچھ نکات شائع کیے، جسے 14 نکاتی
مفاہمتی یادداشت قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں
کہا گیا کہ اس مجوزہ مسودے کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی
ختم کرے گا، ایران کے قریب سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں گی اور آبنائے ہرمز
میں غیر فوجی بحری آمد و رفت بحال کی جائے گی جس کا نظم و نسق ایران اور عمان کے
پاس ہوگا۔