’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی طرف واپس آئیں: چینی صدر کا امریکہ اور ایران پر زور

چینی میڈیا کے مطابق جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ، امریکہ اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔ چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین اور امریکہ کو حریف کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. چینی صدر کا ایران اور امریکہ پر’اسلام آباد معاہدے‘ کی طرف واپسی کے لیے زور

    تصویر

    چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ، امریکہ اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار چینی صدر نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کیا۔

    چینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران کہا کہ بیجنگ، امریکہ اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔

    اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے کے لیے واشنگٹن پہنچنے کے چند گھنٹے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے چینی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ چین اور امریکہ کو حریف کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔

    تین روزہ دورے کے دوران، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے چینی ہم منصب کا پرتپاک اور خصوصی استقبال کیا گیا، تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران جیسے معاملات پر مشکل بات چیت متوقع ہے۔

  2. اگر امریکہ بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز سات روز میں کھول دی جائے گی: ایرانی وزیرِ خارجہ

    تصویر

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے ’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔‘

    جمعرات کو نیویارک میں صحافیوں اور امریکی تھنک ٹینکس کے ارکان کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کی جانب سے بعض شرائط پوری کر دی جائیں تو آبنائے ہرمز ’سات دن کے اندر دوبارہ کھول دی جائے گی۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ شرائط نئی نہیں ہیں اور وہی ہیں جو اس سے قبل اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں اٹھائی گئی تھیں۔‘

    عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران کا ماننا ہے کہ ’اس معاہدے پر امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل عمل درآمد ہونا بہتر ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ نومبر کے انتخابات کے بعد طے پا سکتا ہے۔‘

    اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے کا وقت ’امریکہ پر منحصر ہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مجوزہ شرائط گذشتہ معاہدے کی شقوں سے مختلف نہیں ہیں۔‘

  3. سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ کے تحفظ کے لیے ’فوجی وسائل‘ بھیجیں گے: فرانسیسی صدر

    ایمانویل میکخواں

    فرانس کے صدر صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ ان ملک سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے تحفظ کے لیے ’فوجی وسائل‘ بھیجے گا۔

    فرانسیسی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے اور حوثیوں کی جانب سعودی عرب کی تیل کی تنبصیبات پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

    سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتی ہیں۔

    فرانس کے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر میکخواں کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مقام کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل بھیجیں گے، یعنی فوجی اہلکار، ریڈارز اور دفاعی نظام۔‘

    انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بحیرۂ احمر میں واقع ینبع میں تیل کی تنصیب کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل، یعنی فوجی، ریڈار اور دفاعی نظام تعینات کریں گے۔‘

    فرانس کے صدر کے مطابق اس فیصلے کو سعودی حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ینبع بندرگاہ روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور حالیہ حملے کے نتیجے میں اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔

    تاہم فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس فوج کا مقصد کسی جنگ یا عسکری تنازع میں شامل ہونا نہیں ہے۔

    ’ہمارا مقصد کسی لڑائی میں حصہ لینا نہیں، بلکہ اس مقام کا تحفظ کرنا ہے۔‘

    انھوں یہ بھی کہا کہ فرانس آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے فرانس خاص طور پر ایران اور عمان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے۔

    فرانسیسی صدر نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری ہی پائیدار حل کا راستہ ہے اور فرانس توانائی کی رسد اور عالمی جہاز رانی کے اہم راستوں کے تحفظ کے لیے سیاسی و سفارتی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے۔

  4. بلوچستان کے گلستان سیکٹر میں پاکستانی اور افغان طالبان فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں گلستان سیکٹر پر افغان طالبان کی جانب سے مبینہ دراندازی کی کوشش کے دوران کئی طالبان جنگجو ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا افغان طالبان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے سرکاری انگلش چینل ’پاکستان ٹی وی‘ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ تاحال جاری ہے، جبکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز سرحد پر مکمل طور پر چوکس اور ہائی الرٹ ہیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی حکام کے مطابق سرحدی علاقوں کی کڑی نگرانی جاری ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فورسز ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    بی بی سی اُردو کے رابطہ کرنے پر بلوچستان میں سرکاری حکام نے بتایا کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے قریب سرحد پر پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سرحدی جھڑپوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جھڑپیں گلستان سیکٹر میں ہوئیں، تاہم انھوں نے اس ضمن میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

    بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے قلعہ عبداللہ میں گلستان سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی سرحدی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور افغانستان کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت کے مطابق بھرپور انداز میں دے گا۔

    یاد رہے کہ گلستان، قلعہ عبداللہ کی تحصیل ہے اور یہ علاقہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے شمال مغرب میں تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    کشیدگی میں حالیہ اضافہ

    یاد رہے کہ جمعرات (25 ستمبر) کی علی الصبح پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے افغانستان میں 10 ’ایسے مقامات پر انتہائی درستگی سے حملے کیے گئے ہیں جو ڈرونز داغنے اور انھیں ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔‘

    پاکستان کی جانب سے ان مقامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تھی.تاہم یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایک ہی دن قبل (24 ستمبر) پاکستان کی سرکاری چینل نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان نے افغانستان سے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ’آٹھ ڈرون مار گرائے‘ ہیں۔

    جمعرات کی صبح پاکستان کی جانب سے تازہ حملے کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ صوبہ قندھار، پکتیا اور خوست میں پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے مںی چار افغان شہری ہلاک ہوئے۔

    انھوں نے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا بھی عندیہ دیا تھا۔

    اس سے قبل، پیر (21 ستمبر) کو پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ’مستند خفیہ اطلاعات‘ کی بنیاد پر سرحد سے متصل افغان علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اُس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی 'خودکش بمباروں' کے علاوہ 28 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    اُسی روز افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پوسٹ میں کہا تھا کہ ’افغان عوام اس جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔‘

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی تازہ لہر کے حوالے سے بی بی سی اُردو کی تفصیلی رپورٹ یہاں پڑھیے۔

  5. بلوچستان کے ضلع کیچ میں فائرنگ سے سندھ سے تعلق رکھنے والے دو افراد قتل: پولیس, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق سندھ سے تھا اور دونوں کو ضلع کیچ کے علاقے کلاتُک میں نشانہ بنایا گیا۔

    بی بی سی اردو کو کلاتُک کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) ابراہیم بلوچ نے بتایا کہ کلاتُک کے بازار میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ریڑھی پر کیلے فروخت کرنے والے دو افراد ہلاک ہوئے۔

    پولیس افسر کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک شخص کا تعلق سندھ کے ضلع کشمور اور دوسرے کا تعلق بے نظیرآباد سے ہے۔

    کلاتُک ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے اندازاً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    کیچ بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے، جس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔

    اس ضلع میں سنگین بےامنی کے واقعات طویل عرصے سے ساتھ پیش آرہے ہیں، تاہم سرکاری حکام کے مطابق صورتحال کی بہتری کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

  6. خطے میں استحکام کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کی ضرورت ہے: پاکستانی وزیر اعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی نیو یارک میں ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ’علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق‘ کیا ہے۔

    ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ’خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت‘ پر زور دیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

  7. صدر ٹرمپ کا ’ترکی کی F-35 پروگرام میں واپسی پر رویہ مثبت‘ ہے: صدر اردوغان

    Erdogan

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ انھیں اعتماد ہے کہ ان کا ملک دوبارہ امریکہ کے F-35 لڑاکا طیارے کے پروگرام میں شامل ہو جائے گا اور انھیں توقع ہے کہ واشنگٹن اس مقصد کے حصول کے لیے ’عملی اور ٹھوس‘ اقدامات کرے گا۔

    جمعرات کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد ترکی واپسی جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر کا کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ترکی کی F-35 پروگرام میں واپسی کے حوالے سے مثبت رویہ ظاہر کیا ہے۔‘

  8. چینی اور امریکی افواج نے ’فسطائی جارحیت‘ کے خلاف شانہ بشانہ جنگ لڑی ہے: چینی صدر

    وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس میں اپنی گفتگو کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب چینی اور امریکی فوج نے ’فسطائی جارحیت‘ کے خلاف شانہ بشانہ جنگ لڑی تھی۔

    انہوں نے کہا ’چینی عوام نے تاریخ کے اس باب کو کبھی فراموش نہیں کیا اور نہ ہی امریکی عوام نے۔‘

    اسی تناظر میں صدر شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی و ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے تحت چین آنے کی دعوت دی جائے گی۔

    چین اور امریکہ کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر شی جن پنگ نے یہ بھی کہا کہ دو پانڈا امریکہ میں اپنے نئے گھر اٹلانٹا زو میں امریکی عوام سے ملیں گے۔

    پانڈا تحفے میں دینا طویل عرصے سے چین کی سفارتی دوستی اور خیرسگالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    اپنی تقریر کے اختتام پر صدر شی نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آئیے اپنے عوام کی توقعات پر پورا اتریں اور تاریخی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ آئیے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے مسلسل کام کریں اور مل کر ایک بہتر دنیا کی تعمیر کریں۔‘

  9. امریکہ اور چین کے درمیان تعاون کے بغیر دنیا کے مسائل کا حل تلاش کرنا مشکل ہے: صد شی جن پنگ

    چین کے صدر شی جن پنگ

    چین کے صدر شی جن پنگ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’خوبصورت‘ امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے پر خوشی ہے اور وہ مہمان نوازی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں۔

    جمعرات کو چینی صدر اپنی اہلیہ کے ہمراہ وائٹ ہاؤس پہنچے تھے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی خاتون اول نے ان کا استقبال کیا۔

    وائٹ ہاؤس میں باضابطہ ملاقات سے قبل دونوں صدور نے تفصیلی گفتگو بھی کی ہے۔

    چینی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور چین کو آپس میں رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    شی جن پنگ کا مزید کہنا تھا کہ ’چین اور امریکہ دو مختلف ممالک ہیں، لیکن کھلے، گہرے اور مسلسل مکالمے کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور باہمی اعتماد کو فروغ دے سکتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے اور صدر ٹرمپ کے درمیان باہمی احترام پایا جاتا ہے اور دونوں رہنما ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

    ’ہمیں خلوص نیت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے‘ کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات ’ایک دوسرے سے جڑے ہوئے‘ ہیں۔

    ان کے مطابق چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔

    ’اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون دنیا کے ہر مسئلے کو حل نہیں کر سکتا، لیکن اس کے بغیر دنیا کے بہت سے مسائل کا حل تلاش کرنا بھی بہت مشکل ہو جائے گا۔‘

    اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کا اور چین صدر کا تعلق ’باہمی احترام‘ پر مبنی ہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اور چین نے مل کر ’دونوں ممالک کو درپیش مسائل پر غیر معمولی پیش رفت‘ حاصل کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک ’زیادہ متوازن تجارتی تعلق‘ قائم کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس میں امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی بھی شامل ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور ’سپر انٹیلی جنس‘ سے متعلق اہم معاملات پر بھی بات چیت کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ آج ان شعبوں میں کیے جانے والے فیصلے ’آنے والی کئی دہائیوں تک امن اور خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔‘

  10. چینی صدر شی جن پنگ وائٹ ہاؤس پہنچ گئے

    وائٹ ہاؤس

    چین کے صدر شی جن پنگ وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس آمد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب سے مصافحہ کیا اور مسکراہٹ کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔

    استقبال کی باقاعدہ تقریب کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ وائٹ ہاؤس میں اہم امور پر بات چیت کریں گے۔

  11. پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے ’فضائی حدود کی خلاف ورزی‘ پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا: افغان وزارت خارجہ

    افغانستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے کابل میں تعینات پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اور ’افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی‘ اور افغان صوبوں میں ’پاکستانی فوج کے فضائی حملوں‘ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

    خیال رہے جمعرات کو پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ ڈرون اور فضائی حملوں کے ذریعے ’افغان طالبان حکومت کے زیر کنٹرول‘ 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں ان کے مطابق ’دہشتگردوں کی پناگاہیں، انفراسٹرکچر اور ڈرون لانچنگ‘ سائٹس موجود تھیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اہداف پاکستان میں ہونے والے حملوں اور 23 ستمبر کو افغان طالبان کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ناکام ڈرون حملے سے منسلک تھے۔

  12. ہیکرز کا ہزاروں ایف بی آئی اہلکاروں کا ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ، تحقیقات کا آغاز

    ایف بی آئی

    امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سائبر کرائم میں ملوث ایک گروپ کے اس دعوے کی تحقیقات کر رہا ہے کہ اس نے ادارے کے تقریباً 38,000 ملازمین کی حساس معلومات چوری کر لی ہیں۔

    ہیکرز کے گروپ شائنی ہنٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایف بی آئی کے تمام اہلکاروں کے نام، عہدوں، بیج نمبر، گھروں کے پتے، فون نمبرز اور پارٹنرز کی تفصیلات سمیت دیگر معلومات موجود ہیں۔

    برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر (این سی ایس سی) کے سابق سربراہ پروفیسر کیاران مارٹن نے کہا کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو ’ڈیٹا لیک کے حوالے سے یہ ممکنہ طور پر انتہائی سنگین نوعیت کے واقعات میں سے ایک ہوگا۔‘

    ایکس پر جاری ایک بیان میں ایف بی آئی نے کہا کہ وہ اس دعوے سے آگاہ ہے اور ادارہ ’اس معاملے کی بھرپور انداز میں تحقیقات کر رہا ہے۔‘

    ہیکرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے پیر کی رات ایف بی آئی کے سرورز میں دراندازی کی اور منگل کو صحافیوں سے رابطہ کر کے مبینہ طور پر چوری شدہ معلومات کے نمونے اور سکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔

    بی بی سی نے مبینہ ڈیٹا کے ایک محدود حصے کا جائزہ لیا ہے، جو بظاہر حقیقی معلوم ہوتا ہے، اگرچہ اس کی مکمل تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مبینہ طور پر لیک ہونے والے بعض ریکارڈز میں ایف بی آئی اہلکاروں کی ڈیوٹیوں اور تعیناتیوں سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں، جن میں چینی جاسوسی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں، روسی انٹیلی جنس سرگرمیوں کی نگرانی اور منشیات فروش کارٹیلز کے خلاف تحقیقات جیسے حساس شعبے شامل ہیں۔

    شائنی ہنٹرز ایک بین الاقوامی ہیکر گروپ سمجھا جاتا ہے، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی ابتدا فرانس سے ہوئی تھی۔

  13. چینی صدر سے بات چیت میں آرٹیفشل انٹیلیجنس ’ایک بڑا موضوع‘ ہوگا: امریکی صدر

    Trump and Xi

    چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آرٹیفشل انٹیلیجنس بات چیت کے دوران ’ایک بڑا موضوع‘ ہوگا۔

    ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ٹرمپ نے لکھا: ’چین کے صدر شی کے ساتھ ایک بڑا دن۔ سپر انٹیلیجنس (ایس آئی) گفتگو کا ایک اہم موضوع ہوگی، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اسے اسی حد تک محدود رکھا جائے جہاں یہ اس وقت ہے اور چین کا مؤقف بھی یہی ہے۔‘

    ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی کہا تھا کہ وہ آرٹیفشل انٹیلیجنس کی اصطلاح کو تبدیل کر کے اسے ’سُپر انٹیلیجنس‘ کہنا پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کے بقول ’مصنوعی ذہانت‘ کی اصطلاح اس ٹیکنالوجی کو ’جعلی‘ یا کم حقیقی ظاہر کرتی ہے۔

    انہوں نے ماضی میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں سبقت حاصل کرنی چاہیے۔ اسی ماہ انہوں نے کہا تھا: ’آرٹیفشل انٹیلیجنس کے میدان میں جو جیتے گا، وہی فتح حاصل کرے گا۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس شعبے میں نئے اور سخت قوانین نافذ کرنے کے سخت مخالف ہیں۔

  14. امریکی اور چینی صدور کی متوقع ملاقات: ’شی جن پنگ آج پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں‘, لورا بکر، نامہ نگار برائے چین

    Chinese and American Presidents

    توقع ہے کہ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کی میزبانی کریں گے۔

    صدر شی جن پنگ 2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پہلی ملاقات کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔

    اس وقت چین امریکی تجارت اور ٹیکنالوجی پر کافی حد تک انحصار کرتا تھا، لیکن گذشتہ تقریباً نو برسوں کے دوران بیجنگ نے ان دونوں شعبوں میں اپنی کمزوریوں کو کم کرنے کے لیے وسیع اقدامات کیے ہیں۔

    چین اب 120 سے زائد ممالک کا بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔ اسے اب اپنی مصنوعات کی فروخت کے لیے امریکی منڈی کی زیادہ ضرورت نہیں اور وہ ٹرمپ دور میں عائد کیے گئے تجارتی ٹیرفس کے اثرات کا بھی مقابلہ کر چکا ہے۔

    ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی چینی کمپنیوں نے نمایاں ترقی کی ہے۔ کئی شعبوں میں وہ مغربی حریفوں کے ساتھ فرق کم کرنے میں کامیاب رہی ہیں، جبکہ انسانی شکل کے روبوٹس کی تیاری میں چین دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرا ہے۔

    صدر شی نے دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک کی حیثیت کو عالمی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے، حتیٰ کہ امریکہ کے روایتی اتحادی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے وہ خود کو ایک مضبوط اور مستحکم رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں، جن کا تقابل اکثر ناقدین کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر متوقع سیاسی انداز سے کیا جاتا ہے۔

    اس ملاقات کا شاندار انعقاد بھی شی جن پنگ کے لیے ایک سفارتی کامیابی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ عالمی سطح پر ان کے مقام کو ٹرمپ کے مساوی رہنما کے طور پر اجاگر کرتا ہے۔

    مذاکرات کے آغاز پر شی جن پنگ کا خیال غالباً یہ ہوگا کہ اس وقت سفارتی اور سٹریٹجک سودے بازی میں مضبوط پوزیشن ان ہی کے پاس ہے۔

  15. اسلام آباد اورپنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری، نوٹیفیکشن جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    رینجرز
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کے چار اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری کا نوٹیفیکیشن وزارت داخلہ نے جاری کر دیا گیا ہے۔

    وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور حکومت پنجاب کی درخواست پر رینجرز کی تعیناتی اور رینجرز کو قانونی اختیارات کے تحت مکمل معاونت کی اجازت دی ہے۔

    اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکشن میں کہا گیا ہے کہ انتشاری اور مسلح جتھوں کے حملوں پر رینجرز اورپولیس مناسب اور ضروری جوابی ایکشن لے اور رینجرز اور پولیس کسی بھی پرتشدد سرگرمی یا خطرے سے نمٹنےکے لیے مکمل اقدامات کرے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ رینجرز اہلکار امن و امان اورسکیورٹی معاونت کے لیے تمام ضروری ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز صوبہ پنجاب کی حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ کو خط لکھا تھا۔

    حکومتِ پنجاب کے مراسلے کے مطابق رینجرز تعینات کرنے کی درخواست ’امن و امان کی متوقع صورتحال کے پیشِ نظر‘ کی گئی۔

    ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ مراسلہ صوبائی پولیس کی درخواست پر ’سکیورٹی میں معاونت‘ کے لیے بھیجا گیا۔

    ترجمان کے بیان کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی تین کمپنیوں، اٹک میں پانچ ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک، ایک کمپنی تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

  16. طائف اور ینبع پر حملوں کی کوشش ناکام، حوثیوں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیے: ترکی المالکی

    یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی فورسز نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرتے ہوئے سعودی شہروں طائف اور ینبع پر حملوں کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

    اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ حوثی گروہ کے ان اقدامات کا ’سخت اور بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔‘

    ترکی المالکی نے مزید کہا کہ حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور مملکت کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔

  17. سعودی عرب آئندہ ’چند روز میں‘ متاثرہ تیل تنصیبات بحال کر سکتا ہے: آرامکو چیف امین ناصر

    Saudi Arabia
    ،تصویر کا کیپشنسعودی وزارت دفاع کے ترجمان آرامکو تنصیبات پر ہوئے حملے میں استعمال ہونے والے مبینہ میزائلوں اور ڈرونز کے ٹکڑے دکھا رہے ہیں

    سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ’آرامکو‘ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے جاپانی جریدے ’نکی ایشیا‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سعودی عرب میں حملوں سے متاثرہ تیل تنصیبات کی بحالی آئندہ چند روز میں ہو سکتی ہے جبکہ تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستے قائم کرنے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

    امین ناصر نے بتایا کہ آرامکو اپنے موجودہ تین بڑے برآمدی راستوں کے علاوہ خام تیل کی ترسیل کے لیے ’چوتھے اور پانچویں راستے‘ کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کمپنی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بیرون ملک تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے پر بھی غور کر رہی ہے، جس میں جاپان سمیت دیگر ممالک میں ذخیرہ گاہوں کا قیام شامل ہے۔

    یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آرامکو کو اس وقت یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔

    حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کی اہم آبی گذرگاہ باب المندب سے سعودی جہازوں کی آمدورفت بھی محدود کر رکھی ہے، جو سعودی تیل برآمدات کے لیے ایک اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

    دوسری جانب، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بھی بڑی حد تک بند ہے، جس سے خطے میں توانائی کی سپلائی اور عالمی منڈیوں کو درپیش خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

  18. عالمی جہاز رانی کو پہلے کبھی اتنا خطرہ نہیں لاحق ہوا جتنا اس بار ہوا: انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن

    سمندری نقل و حمل کی صنعت
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سربراہ آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ انھوں نے عالمی جہاز رانی کو جنگوں اور تنازعات سے کبھی اتنا متاثر ہوتے نہیں دیکھا جتنا اس وقت ہو رہا ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ سمندری نقل و حمل کی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    ان کے مطابق جون سے اب تک آبنائے ہرمز اور روس یوکرین جنگ سے متعلق واقعات میں تقریباً 100 بحری کارکن جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاز رانی کی صنعت کو تنازعات کی زد میں آنے سے بچانے کے لیے سیاسی عزم ناگزیر ہے۔

    آرسینیو ڈومینگیز نے زور دے کر کہا کہ آئی ایم او سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے اصول کا دفاع جاری رکھے گی اور جہاز رانی پر رکاوٹیں یا اضافی محصولات عائد کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرے گی۔

  19. لاہور، اسلام آباد جی ٹی روڈ کے مختلف مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے, احتشام شامی، صحافی

    کنٹینرز

    پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر وسطی پنجاب کے اضلاع سے گزرنے والے دو دریاؤں کے پُلوں کے اِردگرد سڑک کے کناروں پر کنٹینرز لا کر کھڑے کر دیے گئے ہیں جبکہ ان مقامات پر ریت اور مٹی سے بھری بوریاں بھی لائی جا رہی ہیں۔

    دریائے چناب اور دریائے جہلم کے جی ٹی روڈ پر واقع پُل لاہور سے اسلام آباد کو ملاتے ہیں۔ موٹر وے بند ہونے کی صورت میں لاہور کو اسلام آباد سے ملانے کا دوسرا راستہ جی ٹی روڈ کا ہی ہے اور اگر جی ٹی روڈ پر واقع اِن دو دریاؤں کے پُلوں کو بند کر دیا جائے تو یہ راستہ غیرمؤثر ہو جاتا ہے۔

    ضلع جہلم میں بھی تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر راستوں کو بند کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور انتظامیہ کے ایک سینیئر افسر کے مطابق دریائے جہلم پُل، منگلا پُل اور سوہاوہ سمیت لگ بھگ دس مقامات کے اِردگرد کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں۔

    کنٹینرز

    جہلم پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر دریائے جہلم پر واقع پلوں پر رینجرز تعینات کی جائے گی اور آئندہ احکامات موصول ہونے کے بعد ہی کنٹینرز کے ذریعے راستوں کو بلاک کیا جائے گا۔

    یہی صورتحال دریائے چناب کی بھی نظر آ رہی ہے جہاں چناب پُل کے دونوں اطراف ریت کی بوریاں رکھنے کے ساتھ ساتھ کنٹینرز بھی پہنچائے گئے ہیں۔

    گجرات اور جہلم کی ضلعی انتظامیہ کے افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال دونوں دریاؤں کے پلوں کے اردگرد خندقیں کھودنے کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ ماضی میں تحریک انصاف کے احتجاج کو روکنے کے لیے خندقیں کھودی گئی تھیں۔