’60 روزہ لائسنس‘: امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت کیوں دی اور پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت ایران کو 60 دن تک ایرانی خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ عارضی لائسنس ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے کہ جب سوئٹزر لینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔ اس سے قبل دونوں ملکوں نے پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے۔

اس مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ نے ایرانی خام تیل اور پیٹرولیئم مصنوعات کی برآمدات کے لیے چھوٹ دینے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ کے اجازت نامے میں انشورنس، بینکنگ خدمات اور نقل و حمل کے لین دین کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس لائسنس میں خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور ایران سے نکلنے والی پیٹرولیئم مصنوعات کی امریکہ میں درآمد بھی شامل ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے سلسلے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور کھلی راہداری اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں جوہری تنصیبات کے جائزے کی اجازت دینے کا عہد کیا ہے۔

تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ تہران نے جوہری تنصیبات کے معائنوں کے حوالے سے ’کوئی نئی یقین دہانی نہیں کرائی۔‘

ایرانی تیل کی فروخت کے لیے 60 روزہ لائسنس کا مطلب کیا ہے؟

امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اس فریم ورک کے حصے کے طور پر امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کیا ہے۔ خیال رہے کہ تاریخی طور پر اس پابندی نے تہران کی معیشت کو شدید دباؤ میں رکھا تھا۔

ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا معاملہ مفاہمتی یادداشت کی شق سات میں درج تھا۔

اس کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔

اس امریکی اقدام کی بدولت کئی دہائیوں میں پہلی بار ایران کو امریکی ڈالر میں تیل فروخت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ پابندیوں میں اس نرمی کے تحت ایرانی تیل براہِ راست امریکہ بھی درآمد بھی کیا جا سکتا ہے۔

اس اقدام سے بینکاری لین دین، انشورنس اور نقل و حمل سے متعلق معاملات ممکن ہو جائیں گے جبکہ ایران کو خام تیل فروخت کرنے کے لیے ماضی میں استعمال کیے جانے والے پیچیدہ نیٹ ورکس کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔

پاکستان ایران کا پڑوسی ملک ہے جہاں سے ہر روز ایرانی ڈیزل اور پیٹرول سرحد پار صوبہ بلوچستان میں بکنے کے علاوہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھی پہنچتا ہے۔

یہ ایرانی تیل پاکستان سمگل ہو کر آتا ہے جس کی قیمت مقامی ڈیلرز اور سپلائرز طے کرتے ہیں۔ تاہم ان کی قیمت پاکستان کی تیل کمپنیوں کی جانب سے فروخت کیے جانے والے ڈیزل اور پیٹرول سے کم ہوتی ہے۔

ہم نے ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاکستان میں ایرانی تیل کے کاروبار پر ہونے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں اس شعبے کے ماہرین سے بات کی ہے۔

کیا پاکستان ایران سے خام تیل اور پیٹرولیئم مصنوعات خرید سکے گا؟

پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول کی سالانہ کھپت کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں کی کھپت تقریباً ستر لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ پاکستان میں ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ پاکستان آئل رپورٹ میں مالی سال 2025 کے جو اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں ان کے مطابق پاکستان نے تقریباً 20 لاکھ کے قریب ڈیزل درآمد کیا اور 50 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ڈیزل مقامی ریفائنریوں میں پیدا کیا گیا۔

مقامی طور پر پیٹرول کی پیداوار تقریباً 20 لاکھ ٹن تھی جب کہ 50 لاکھ ٹن کے قریب پیٹرول باہر سے درآمد کیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مقامی ریفائنریز نے تقریباً سالانہ 90 لاکھ ٹن کے قریب خام تیل کو پراسس کر کے اس سے تیل مصنوعات پیدا کیں جن میں پیٹرول، ڈیزل کے علاوہ فرنس آئل، ایل پی جی اور لبریکنٹس بھی شامل تھے۔

پاکستان خام تیل کی زیادہ تر خریداری سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ خام تیل امریکہ سے بھی منگواتا ہے۔

پاکستان میں تیل کمپنیوں کے خلیجی ممالک سے طویل مدتی معاہدے بھی ہیں جیسے کہ ڈیزل کے لیے پاکستان سٹیٹ آئل کا کویت پیٹرولیئم کارپوریشن سے معاہدہ ہے۔

تو کیا اب پاکستان ایران سے تیل خرید سکے گا؟ اس بارے میں وفاقی وزیر پیٹرولیئم علی پرویز ملک نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا تھا کہ مفاہمتی یادداشت میں واضح ہے کہ ایران کو بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات لانے کی اجازت ہو گی اور امریکہ پابندیوں میں نرمی کرے گا۔ ان کے مطابق توانائی کی مارکیٹ میں سپلائی بڑھے گی تو قیمتیں کم ہونے کی توقع ہے۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم ایران کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کریں گے کہ ہماری توانائی کی ضروریات میں ایرانی گیس اور تیل کہاں بیٹھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کو خام تیل سپلائی کر سکے گا اور ان کے پاس ایل پی جی کے بھی ذخائر موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک سوچی سمجھی حکمت عملی اپنائے گا جو ملک کے مفاد میں بہتر ہو گی۔

جب علی پرویز ملک سے پوچھا گیا کہ ایران سے بھاری مقدار میں تیل سمگل ہو کر پاکستان آتا ہے جس سے ملک کو نقصان ہوتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ 'یہ ایک حقیقی چیلنج ہے اور اسے روکنے کے لیے سرحد پر کارروائیوں کے ذریعے کوشش ہو رہی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایران خود بھی ریفائنڈ پراڈکٹ امپورٹ کر رہا ہے کیونکہ ان کے پاس ریفائننگ کی صلاحیت نہیں ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیئم نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے سمگلنگ روکی جائے گی۔

آئل اینڈ گیس شعبے کے ماہر زاہد میر نے بتایا کہ پاکستان کی زیادہ تر خام تیل سپلائی تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہوتی ہے۔

تاہم ان کے بقول اِن معاہدوں میں ’کچھ گنجائش ہوتی ہے کہ کسی دوسرے ملک سے بھی تیل خریدا جا سکتا ہے جیسا کہ پاکستان نائیجریا سے بھی خام تیل خریدتا ہے اور روس سے بھی ماضی میں بھی خام تیل خریدا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ڈیزل کی مقامی پیداوار 70 فیصد ہے اور تیس فیصد امپورٹ ہوتا ہے اور وہ بھی زیادہ تر کویت سے درآمد کیا جاتا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ یہاں بھی کچھ گنجائش ہوتی ہے جیسے کہ ایک تیل کمپنی سعودی آرامکو سے بھی کبھی کبھار ڈیزل امپورٹ کرتی ہے۔

زاہد نے بتایا کہ پاکستان میں 30 فیصد تک پیٹرول مقامی طور پر پیدا ہوتا ہے اور باقی 70 فیصد سپاٹ مارکیٹ سے خریدتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیٹرول کی خریداری کے لیے ایران کا انتخاب کیا جا سکتا ہے تاہم ان کے مطابق اس کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ کے تحت ہو گی۔

ان کے مطابق ریلیف محض یہی ہو گا کہ پاکستان اور ایران پڑوسی ہیں لہذا فریٹ لاگت کم ہو گی جس کا تھوڑا سا فائدہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں ہو سکتا ہے۔

کیا پاکستان کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟

امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد اس کی جانب سے تیل مصنوعات کی فروخت اور اس کے پاکستان کے لیے کسی فائدے کے بارے میں تیل شعبے کے افراد نے اس امکان کو رد کیا کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں ڈیزل کی سرکاری قیمت 311 روپے فی لیٹر ہے اور پیٹرول کی قیمت 299 روپے فی لیٹر ہے۔ اس کے مقابلے میں ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب میں تقریباً 250 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ فروخت ہو رہا ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی خام تیل پراسس کر کے اس سے پیٹرولیئم مصنوعات تیار کرنے والی ریفائنری سنرجیکو ریفائنری کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایرانی تیل اس وقت سستا تھا جب اس پر پابندیاں تھیں۔

انھوں نے کہا کہ اب ایران بین الاقوامی مارکیٹ میں اسی قیمت پر تیل بیچے گا جو بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت ہو گی۔ انھوں نے کہا یہ تیل صرف پاکستان نے نہیں خریدنا بلکہ اس کے دوسرے بھی خریدار ہوں گے جیسے کہ ہندوستان اور چین۔ اسامہ نے کہا اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت گرتی ہے تو اس کا فائدہ، بشمول پاکستان، سب کو ہو گا، تاہم یہ کہنا کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل بھی سستا ہو جائے گا، اس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تیل و گیس شعبے کے ماہر زاہد میر نے بھی اس امکان کو رد کیا کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان میں صارفین کو تیل سستا ملنا شروع ہو جائے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کوئی ملک اسی وقت تیل سستا بیچتا ہے جب اس پر پابندیاں ہوں۔ ’ماضی میں روس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ جب روس پر تیل بیچنے پر پابندیاں تھیں تو اس نے بہت سستا تیل مارکیٹ میں بیچا۔ تاہم جب ان پابندیوں میں کچھ نرمی ہوئی تو اس نے بھی بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمت پر تیل فروخت کرنا شروع کر دیا۔‘

زاہد میر کے مطابق ایران کے اپنے معاشی مفادات ہیں اور ہمارے اپنے ہیں۔ انھوں نے کہا اگر دو طرفہ بنیادوں پر کوئی ایسا انتظام ہو کہ ایران پاکستان کو تیل کچھ رعایت پر دے تو وہ الگ بات ہے۔

زاہد میر نے مثال دی کہ پاکستان کے برادرانہ اور دیرینہ تعلقات تو سعودی عرب سے بھی ہیں لیکن سعودی عرب اسی قیمت پر تیل پاکستان کو فروخت کرتا ہے جو اس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت ہے۔

کیا ایرانی خام تیل پاکستانی ریفائنریوں میں پراسس ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں اس وقت پانچ ریفائنریاں خام تیل پراسس کر کے پیٹرولیئم مصنوعات تیار کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایرانی خام تیل بھاری ہوتا ہے جس سے زیادہ تر فرنس آئل پیدا ہوتا ہے۔ اس کی مقامی طور پر کھپت کم ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی اس کی قیمت کم ہے۔

اسامہ قریشی کے مطابق ایرانی خام تیل بھاری ہے جو زیادہ فرنس آئل پیدا کرتا ہے۔ انھوں نے کہا ’ایک بیرل ایرانی خام تیل سے 40، 45 فیصد فرنس آئل پیدا ہوتا ہے جو مالی طور پر زیادہ پُرکشش نہیں۔‘

زاہد میر نے بتایا کہ پاکستانی ریفائنریاں اپ گریڈ نہیں ہیں، اس لیے وہ لائٹ خام تیل استعمال کرتی ہیں جبکہ دوسری جانب ایرانی خام تیل سے زیادہ فرنس آئل پیدا ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا ایرانی خام تیل استعمال تو ہو سکتا ہے لیکن وہ مالی طور پر زیادہ فائدہ مند نہیں ہو گا۔