’ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے‘: لیکن کیا ڈان 3 بننا اب بھی ممکن ہے؟

    • مصنف, یاسر عثمان
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 15 منٹ

فلم ’ڈان 3‘ کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازع اب صرف اداکار رنویر سنگھ اور ہدایت کار فرحان اختر کے درمیان اختلافات تک ہی محدود نہیں رہا۔ اس معاملے نے فلمی صنعت میں معاہدوں، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور جوابدہی سے متعلق کئی اہم سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ تنازع آئندہ کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

سرخیوں میں صرف تنازعات دکھائی دیتے ہیں لیکن اصل کہانی پردے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی کامیاب فلمی فرنچائز کی داستان ہے جس نے شاندار کامیابیاں تو حاصل کیں لیکن گذشتہ 48 برسوں کے دوران اسے مسلسل مختلف رکاوٹوں، تنازعات اور بدقسمتی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

’ڈان 3‘ کی موجودہ صورتحال نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ گویا یہ فرنچائز کسی ’نحوست‘ یا مسلسل مشکلات کے سلسلے کا شکار رہی ہے۔

رنویر سنگھ کے اس فلمی منصوبے سے الگ ہونے کی مکمل کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقریباً 48 سال پیچھے جانا ہوگا، جب ’ڈان‘ فلم کو پہلی مرتبہ ایک بڑے بحران اور بدقسمتی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی مقام سے ہی تو اصل کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔

ڈان کی بنیاد اور پہلا حادثہ

’ڈان‘ کی کہانی کا آغاز سنہ 1974 میں ہوتا ہے۔ اس وقت ہدایت کار منوج کمار اپنی مشہور فلم روٹی، کپڑا اور مکان کی تیاری میں مصروف تھے۔ اس فلم کی فلم بندی معروف سنیماٹوگرافر نریمن ایرانی کر رہے تھے۔

کچھ عرصہ قبل نریمن ایرانی نے سنیل دت کو مرکزی کردار میں لے کر زندگی زندگی (1972) کے نام سے ایک فلم بنائی تھی لیکن یہ فلم باکس آفس پر بری طرح ناکام ہو گئی۔ اس ناکامی کے نتیجے میں ایرانی بھاری قرضے میں ڈوب گئے اور شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔

نریمن ایرانی کی پریشان کن صورتحال دیکھتے ہوئے منوج کمار نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ان کے لیے ایک نئی فلم بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ روٹی، کپڑا اور مکان میں کام کرنے والے امیتابھ بچن اور زینت امان بھی ایرانی کی مدد کے لیے فوراً آمادہ ہو گئے۔

معروف اداکار پران نے بھی اس منصوبے میں شمولیت اختیار کی۔ فلم کی ہدایت کاری کی ذمہ داری منوج کمار کے نوجوان معاون ہدایت کار چندر باروٹ کو سونپی گئی۔

یوں ایک ایسے فلمی منصوبے کی بنیاد رکھی گئی جو بعد میں انڈین سینما کی تاریخ کی کامیاب ترین فرنچائزز میں شمار ہونے لگا، لیکن اس کا آغاز ہی مشکلات اور حادثات کے سائے میں ہوا۔

فلم کی تیاری شروع کرنے کے لیے ایک مضبوط کہانی اور سکرپٹ کی تلاش جاری تھی۔

اس سلسلے میں معروف مصنف سلیم جاوید سے رابطہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایک سکرپٹ موجود ہے، لیکن اسے متعدد پروڈیوسرز، ہدایت کاروں اور اداکاروں نے مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے یہ سکرپٹ نریمن ایرانی کو دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس سکرپٹ کا نام تھا ’ڈان۔‘

انتہائی محدود بجٹ کے ساتھ فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہوا۔ نریمن ایرانی کو امید تھی کہ یہ منصوبہ ان کی مالی مشکلات کا خاتمہ کرے گا، لیکن بدقسمتی نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک حادثہ پیش آیا جب ایک دیوار ان پر آ گری، جس کے نتیجے میں فلم کے پروڈیوسر نریمن ایرانی جان کی بازی ہار گئے۔

اس المناک واقعے کے باوجود پوری ٹیم نے مشترکہ کوششوں سے فلم مکمل کی تاکہ نریمن ایرانی کے خاندان کو مالی سہارا مل سکے۔ بالآخر 12 مئی 1978 کو ’ڈان‘ ریلیز ہوئی اور یہ امیتابھ بچن کے کیریئر کی پہلی بڑی سولو بلاک بسٹر فلم ثابت ہوئی۔

تاہم سب سے افسوسناک حقیقت یہ تھی کہ جس شخص کے خواب کو پورا کرنے کے لیے یہ فلم بنائی گئی تھی، وہ خود اس کامیابی کو دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہا۔

شاہ رخ خان اور پہلے بڑے اختلافات کی داستان

آج ’ڈان 3‘ ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہے، لیکن اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس دور میں جانا ضروری ہے جب اس فرنچائز میں پہلی مرتبہ بڑے اختلافات سامنے آئے تھے۔ اس کی شروعات اس وقت سے ہوتی ہے جب شاہ رخ خان نے ’ڈان 3‘ سے خود کو الگ کر لیا۔

سنہ 2011 میں ریلیز ہونے والی ڈان 2 کامیاب ثابت ہوئی اور اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شامل رہی۔ فلمی حلقوں میں یہ تاثر تھا کہ شاہ رخ خان کو ’ڈان‘ کے کردار سے خاص لگاؤ تھا اور وہ اسے ایک طویل المدتی فرنچائز کے طور پر دیکھتے تھے۔ دوسری جانب فرحان اختر نے بھی اعلان کر رکھا تھا کہ وہ ’ڈان 3‘ پر کام کر رہے ہیں۔

تاہم پردے کے پیچھے حالات بتدریج تبدیل ہو رہے تھے۔ شائقین فلم کے تیسرے حصے کے منتظر تھے لیکن اسی دوران دو اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

پہلی تبدیلی یہ تھی کہ سنہ 2011 میں ریلیز ہونے والی ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘ میں فرحان اختر کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا جبکہ ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ نے انھیں بطور ہیرو بھی شناخت دلائی۔ اداکاری میں بڑھتی مصروفیات کے باعث ان کی ہدایت کاری کی سرگرمیاں پس منظر میں چلی گئیں، جس کے نتیجے میں ’ڈان 3‘ کی سکرپٹ پر کام برسوں تک جاری رہا اور منصوبہ التوا کا شکار ہو گیا۔

دوسری جانب شاہ رخ خان کے لیے یہ دور باکس آفس کے لحاظ سے مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ ان کی متعدد فلمیں توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہ کر سکیں جبکہ بالی ووڈ میں فرنچائزز اور سیکوئلز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا تھا۔

سنہ 2017 میں فلم ’رئیس‘ کی تشہیری مہم کے دوران شاہ رخ خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شاید ’ڈان‘ ہی میری واحد فلم ہے، جس کا ایک اور سیکوئل بن سکتا ہے لیکن فرحان کے پاس ابھی تک اس کی سکرپٹ تیار نہیں۔‘

اگرچہ شاہ رخ خان فلم کے سکرپٹ کے منتظر تھے لیکن فلمی صنعت کے ذرائع کے مطابق پس پردہ صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔ اس دوران ’فین‘، ’جب ہیری میٹ سیجل‘ اور ’زیرو‘ جیسی فلموں کی ناکامی کے بعد میڈیا اور فلمی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی کہ شاہ رخ خان کا سپر سٹار دور زوال پذیر ہو رہا ہے۔

ان حالات میں فرحان اختر اور ان کی پروڈکشن کمپنی نے ’ڈان 3‘ پر بڑی سرمایہ کاری کرنے سے گریز کیا۔ فلمی مبصرین کے مطابق یہ ذاتی اختلاف نہیں بلکہ ایک پروڈیوسر کا محتاط کاروباری فیصلہ تھا، جو مناسب وقت اور مرکزی اداکار کی مضبوط باکس آفس پوزیشن کا انتظار کر رہا تھا۔

دوسری طرف شاہ رخ خان جلد از جلد ’ڈان 3‘ کو مکمل کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک طاقتور کم بیک پروجیکٹ کی تلاش میں تھے۔ اسی لیے فلم میں مسلسل تاخیر انھیں ناگوار گزر رہی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی عرصے میں فرحان اختر کی بطور اداکار فلمیں ’راک آن 2‘، ’لکھنؤ سینٹرل‘، ’طوفان‘ بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں، لیکن اس کے باوجود ’ڈان 3‘ کا منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔

سنہ 2023 میں ریلیز ہونے والی ’پٹھان‘ کی غیرمعمولی کامیابی نے شاہ رخ خان کے کیریئر کو نئی زندگی دی۔

رپورٹس کے مطابق ہدایت کار فرحان اختر نئی سکرپٹ کے ساتھ شاہ رخ خان سے ملے، لیکن اس وقت تک شاہ رخ کی ترجیحات بدل چکی تھیں۔ وہ اب بڑے بجٹ کی ایکشن فلموں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے تھے، جبکہ ’ڈان 3‘ کے حوالے سے ان اور فرحان اختر کے خیالات میں ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکی۔

بالآخر مئی سنہ 2023 میں شاہ رخ خان نے ’ڈان‘ فرنچائز سے خود کو الگ کر لیا۔ یوں وہ سپر سٹار جس نے ’ڈان‘ کو جدید پاپ کلچر کا ایک اہم حصہ بنایا تھا، اس مشہور سیریز سے جدا ہو گیا۔

اگرچہ اس موقع پر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ شاید ’ڈان‘ کی کہانی یہیں ختم ہو جائے گی لیکن ایکسل انٹرٹینمنٹ نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے فرنچائز کو نئے انداز میں آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ کمپنی نے نئے ’ڈان‘ کے کردار کے لیے رنویر سنگھ کا انتخاب کیا۔

’ڈان 3‘ کے ٹیزر میں رنویر سنگھ کو نئے ڈان کے طور پر پیش کیا گیا، جس کے بعد فلمی حلقوں اور میڈیا میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آیا وہ اس مشہور کردار کے لیے موزوں انتخاب ہیں یا نہیں تاہم رنویر خود اس کردار کے حوالے سے بے حد پُرجوش تھے کیونکہ یہ موقع انھیں براہِ راست امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسے بڑے ستاروں کی صف میں لا سکتا تھا۔

’دھرویندھر‘ کی کامیابی نے ’ڈان 3‘ کو متاثر کیا؟

فلمی صنعت میں گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق رنویر سنگھ کا ’ڈان 3‘ سے الگ ہونا کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کئی عوامل بتدریج اس صورتحال کا سبب بنے۔

’ڈان 3‘ کے اعلان کے بعد سکرپٹ اور فلم کی تیاری پر کام جاری تھا لیکن اسی دوران رنویر سنگھ اپنی دوسری بڑی فلم ’دھرویندھر‘ میں مکمل طور پر مصروف ہو گئے۔ دوسری جانب فرحان اختر بھی مصروف تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران ’ڈان 3‘ کے سکرپٹ میں مسلسل تبدیلیاں کی جاتی رہیں اور متعدد نئے مسودے تیار ہوئے تاہم جیسے ہی منصوبہ اپنی آخری تخلیقی منزل کے قریب پہنچا، پرانے اختلافات اور خدشات دوبارہ سامنے آنے لگے۔

بالی وڈ میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا ’دھرویندھر‘ کی غیرمعمولی کامیابی نے ’ڈان 3‘ کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی؟ مبصرین کے مطابق جس طرح ’پٹھان‘ اور ’جوان‘ نے شاہ رخ خان کے کیریئر کا رخ بدل دیا تھا، اسی طرح ’دھرویندھر‘ کی کامیابی نے رنویر سنگھ کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کر دیے اور ان کی پیشہ ورانہ ترجیحات تبدیل ہو گئیں۔

اسی دوران ’ڈان 3‘ کی تیاری بھی آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ منصوبے کے مطابق فلم کی شوٹنگ جنوری سنہ 2026 میں شروع ہونا تھی اور تقریباً چھ ماہ تک جاری رہنی تھی لیکن اس سے قبل ہی منصوبہ ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔

’ایکسل انٹرٹینمنٹ‘ سے وابستہ ذرائع کے مطابق رنویر سنگھ نے ’ڈان 3‘ کے لیے باقاعدہ تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ نومبر سنہ 2025 میں انھوں نے فلم کے لیے خصوصی ایکشن اور سٹنٹ ٹریننگ حاصل کی، جس کے تمام اخراجات ایکسل انٹرٹینمنٹ نے برداشت کیے تھے۔

تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’ڈان‘ فرنچائز کی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔

دسمبر سنہ 2025 کے آخری دنوں میں صورتحال نے غیر متوقع رخ اختیار کیا، جب رنویر سنگھ نے خود پروڈیوسرز کو فون کر کے ’ڈان 3‘ سے الگ ہونے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان کی فلم ’دھرویندھر‘ 5 دسمبر کو ریلیز ہوئی تھی اور باکس آفس پر بڑی بلاک بسٹر ثابت ہوئی تھی۔

یہیں سے نئے تنازع کا آغاز ہوا۔

ذرائع کے مطابق ایکسل انٹرٹینمنٹ کا مؤقف ہے کہ وہ فلم کی پری پروڈکشن پر تقریباً 45 کروڑ روپے خرچ کر چکی تھی۔ ان اخراجات میں بین الاقوامی لوکیشنز کا انتخاب، فلمی عملے کے انتظامات، اداکاروں کی تربیت، ملبوسات اور سیٹ ڈیزائن کے ابتدائی مراحل شامل تھے۔

اسی دوران ایک اور افواہ نے بھی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ رنویر سنگھ کو مرکزی کردار کے لیے منتخب کرنے کے باوجود پروڈیوسرز نے مبینہ طور پر ’ہریتک روشن‘ سے بھی ’ڈان‘ کے کردار کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

ذرائع کے مطابق ان خبروں نے رنویر سنگھ کے لیے صورتحال کو مزید غیر آرام دہ بنا دیا۔ افواہیں اس قدر پھیل گئیں کہ فروری سنہ 2026 میں ہریتک روشن کو باقاعدہ وضاحت جاری کرنا پڑی۔

ہریتک روشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جو بات ابتدا میں محض ایک افواہ تھی، اب اس نے ایک مختلف شکل اختیار کر لی ہے، اس لیے حقیقت سامنے لانا ضروری ہو گیا ہے۔ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ’ڈان 3‘ کے لیے مجھ سے کبھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ میری میڈیا سے درخواست ہے کہ غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے۔‘

اس بیان کے باوجود ’ڈان 3‘ کے مستقبل اور رنویر سنگھ کے فلم سے نکلنے کی وجوہات کے بارے میں سوالات بدستور زیر بحث ہیں جبکہ بالی ووڈ حلقوں میں اس منصوبے کے اگلے مرحلے کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔

تخلیقی صلاحیتوں پر اختلاف اور بڑھتا ہوا تنازع

رنویر سنگھ کے قریبی ذرائع کے مطابق فلم ’ڈان 3‘ کے حوالے سے تخلیقی اختلافات اور سکرپٹ سے متعلق خدشات وقت کے ساتھ بڑھتے گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ڈان‘ فرنچائز کا ورثہ امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسے بڑے ستاروں سے جڑا ہوا ہے اور رنویر سنگھ کو محسوس ہوتا تھا کہ ’ڈان 3‘ کی حتمی سکرپٹ اتنی مضبوط نہیں کہ وہ ان لیجنڈری اداکاروں کے قائم کردہ معیار پر پورا اتر سکے۔

ذرائع کے مطابق ’دھرویندھر‘ کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد رنویر سنگھ نے اپنے نئے حاصل ہونے والے مقام اور شہرت کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی اور ایک ایسے منصوبے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا جس کے بارے میں وہ مکمل طور پر مطمئن نہیں تھے۔

دوسری جانب پروڈیوسرز کا مؤقف اس سے مختلف بتایا جاتا ہے۔ ایکسل انٹرٹیمننٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر رنویر سنگھ کو فلم کے بنیادی نکات پر اعتراضات تھے تو پھر انھوں نے آخری مرحلے تک تیاریوں میں حصہ کیوں لیا اور فلم کے لیے کام جاری کیوں رکھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ محض تخلیقی اختلافات تک محدود نہ رہا بلکہ ایک بڑے صنعتی تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔ مبینہ مالی نقصان کے بعد فرحان اختر اور رتیش سدھوانی نے فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سین ایمپلائز سے رجوع کیا اور باضابطہ شکایت درج کرائی۔

اس کے بعد ایف ڈبلیو آئی سی ای نے رنویر سنگھ کے خلاف ’نان کوآپریشن ڈائریکٹو‘ جاری کر دیا، جسے فلمی صنعت میں غیر رسمی طور پر ایک قسم کا ’شیڈو بین‘ تصور کیا گیا۔

رنویر سنگھ نے اس اقدام کے جواب میں قانونی نوٹس بھیجا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک نجی معاہدے کا تنازع ہے، جس میں فیڈریشن کے اختیارات محدود ہیں۔

بعد ازاں ایک ہفتے کے اندر فیڈریشن نے اپنے احکامات واپس لے لیے۔ 3 جون کو ایف ڈبلیو آئی سی ای کے چیف ایڈوائزر اشوک پنڈت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپیلوں اور فلمی صنعت کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے نان کوآپریشن ڈائریکٹو فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس تنازع کو حل کرنے کے لیے پردے کے پیچھے متعدد کوششیں کی گئیں۔ رواں سال کے آغاز میں ایکسل انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوسر گلڈ آف انڈیا سے رابطہ کیا، جس کے بعد فریقوں کے درمیان مذاکرات اور ثالثی کی کوششیں شروع ہوئیں۔

اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کی کئی معروف شخصیات نے بھی رسمی اور غیر رسمی طور پر اس عمل میں حصہ لیا۔ عامر خان، سلمان خان، انیل کپور، آشوتوش گواریکر، روہت شیٹی اور کرن جوہر مختلف ملاقاتوں اور مشاورتی نشستوں میں شریک ہوئے تاکہ تنازع کا کوئی قابلِ قبول حل نکالا جا سکے اور ’ڈان 3‘ کے مستقبل کو بچایا جا سکے۔

فلم ’ڈان 3‘ سے متعلق تنازع میں اب مزید چونکا دینے والے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ثالثی کے دوران ہونے والی ایک اہم ملاقات میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر رنویر سنگھ کی فلم ’دھرویندھر‘ بلاک بسٹر ثابت نہ ہوتی تو کیا وہ پھر بھی ’ڈان 3‘ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے؟

ایک بین الاقوامی تفریحی ویب سائٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ثالثی کی ایک نشست کے دوران رتیش سدھوانی نے رنویر سنگھ سے براہِ راست سوال کیا کہ اگر ’دھرویندھر‘ کامیاب نہ ہوتی تو کیا وہ ’ڈان 3‘ چھوڑتے؟

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں موجود بعض افراد کا کہنا ہے کہ رنویر سنگھ نے جواب میں اعتراف کیا کہ ایسی صورت میں شاید وہ یہ فیصلہ نہ کرتے۔

ذرائع کے مطابق ایک اور غیر رسمی ملاقات میں رنویر سنگھ نے اپنی تشویش کھل کر بیان کیں۔ ان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ ’ڈان 3‘ کا سکرپٹ ان کی توقعات کے مطابق مضبوط اور مؤثر نہیں تھی۔

رنویر سنگھ نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ فرحان اختر ’ڈان 3‘ کو مطلوبہ وقت نہیں دے پا رہے تھے۔ مزید یہ کہ انھوں نے فلم کے بجٹ اور اپنے معاوضے میں کمی کیے جانے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا، جس سے ان کے تحفظات مزید بڑھ گئے۔

تاہم پروڈیوسرز نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ رنویر سنگھ سکرپٹ کی تیاری کے پورے عمل میں نہ صرف مسلسل شامل رہے بلکہ متعدد سکرپٹ ریڈنگ سیشنز میں بھرپور دلچسپی اور جوش و خروش کے ساتھ شریک بھی ہوتے رہے۔

ذرائع کے مطابق متعدد ملاقاتوں اور ثالثی کی کوششوں کے باوجود تنازع حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔

تنازع کے اثرات ذاتی تعلقات تک پہنچ گئے

فلمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ’ڈان 3‘ کا تنازع صرف معاہدوں اور مالی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے کئی برسوں پر محیط ذاتی اور پیشہ ورانہ تعلقات کو بھی متاثر کیا۔

رنویر سنگھ کے فرحان اختر اور ان کی بہن زویا اختر کے ساتھ قریبی اور دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ زویا اختر نے رنویر سنگھ کے کیریئر کی دو اہم اور کامیاب فلموں ’دل دھڑکنے دو‘ اور ’گلی بوائے‘ کی ہدایت کاری کی تھی۔

تاہم فلمی ذرائع کے مطابق ’ڈان 3‘ کے تنازع نے ان تعلقات میں بھی دراڑ ڈال دی اور برسوں پر قائم اعتماد کو متاثر کیا، جس کے اثرات آئندہ بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایکسل انٹرٹینمنٹ سے وابستہ ذرائع کے مطابق تنازع کے حل کے لیے رنویر سنگھ نے مبینہ طور پر 10 کروڑ انڈین روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے اور مستقبل میں کسی بھی مشترکہ منصوبے میں اپنے معاوضے میں رعایت دینے کی پیشکش کی تھی۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پروڈیوسرز نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور وہ مبینہ طور پر 45 کروڑ روپے کے مکمل نقصان کے ازالے کے مطالبے پر قائم رہے۔

رنویر سنگھ نے ان دعوؤں اور الزامات پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ 25 مئی کو ان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’رنویر سنگھ نے ’ڈان 3‘ سے متعلق حالیہ پیش رفت پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ پیشہ ورانہ معاملات اور ذاتی تعلقات کو وقار اور باہمی احترام کے ساتھ نمٹایا جانا چاہیے۔‘

اس تنازع کے بعد ایک بار پھر یہ سوال سامنے آ گیا ہے کہ ’ڈان 3‘ میں مرکزی کردار کون ادا کرے گا۔ فلم کی پروڈکشن کمپنی کے سامنے اب نئے اداکار کے انتخاب کا چیلنج موجود ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ڈان‘ فرنچائز کا مشہور مکالمہ ’ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے‘ اس صورتحال پر بھی کسی حد تک صادق آتا دکھائی دیتا ہے۔ فلمی مبصرین کے مطابق اب ’ڈان‘ جیسے کردار کے لیے ایسا بڑا ستارہ تلاش کرنا بھی تقریباً اتنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’ڈان 3‘ کی مشکلات محض ایک کاسٹنگ تنازع تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی برسوں پر محیط تاریخ، بار بار تبدیل ہونے والا سکرپٹ، پیشہ ورانہ تعلقات، ٹوٹا ہوا اعتماد اور قانونی پیچیدگیاں بھی شامل ہیں۔

اسی لیے فلمی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ’ڈان 3‘ ایک ایسے منصوبے میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے گرد تنازعات اور رکاوٹوں کا سایہ مسلسل منڈلا رہا ہے،اور یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین اسے غیر رسمی طور پر ’ڈان کا بدقسمتی کا سلسلہ‘ بھی قرار دے رہے ہیں۔