افغان طالبان حکومت اور سعودی کمپنی کے درمیان تیل اور گیس کی تلاش کا معاہدہ اور زلمے خلیل زاد کی موجودگی

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ معدنیات و پیٹرولیم نے پیر کے روز کابل میں ’ڈیلٹا انٹرنیشنل‘ نامی سعودی کمپنی کے ساتھ تیل اور گیس تلاش کرنے اور اسے نکالنے کا معاہدہ کیا ہے۔

طالبان کے وزیرِ معدنیات و پٹرولیم ہدایت اللہ بدری اور ڈیلٹا انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو شاہر التقی نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ جبکہ طالبان حکومت کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر اور افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق نمائندے زلمے خلیل زاد معاہدے بھی تقریب میں موجود تھے۔

معاہدے کے تحت سعودی کمپنی کشک۔تیرپل کے علاقے میں تیل اور گیس تلاش کر کے اسے نکالے گی۔

طالبان کی وزارتِ معدنیات و پٹرولیم کے مطابق کشک۔تیرپل کا علاقہ تقریباً 22 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور ہرات اور بادغیس صوبوں میں واقع ہے۔ اس علاقے کے ذخائر کا بڑا حصہ قدرتی گیس پر مشتمل ہے۔

وزارت کے اعلان کے مطابق، ڈیلٹا انٹرنیشنل ابتدائی مرحلے میں گیس کے سات بلاکس کی تلاش اور نکالنے کے عمل کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس علاقے میں تلاش کی مدت آٹھ سال جبکہ معاہدے کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر افغانستان کے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں افغانستان بینک کے سربراہ نور احمد آغا اور حکومت کے ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد بھی موجود تھے۔

امید کی جا رہی ہے کہ یہاں سے تیل کی اور گیس نکلنے کی صورت میں افغانستان کو درکار پیٹرولیم مصنوعات کی ضرورت پوری ہو سکے گی اور منصوبے پر کام کے آغاز سے بے روزگار افغانوں کی بڑی تعداد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

زلمے خلیل زاد نے اس معاہدے پر دستخط کو سرمایہ کاری کے حصول کے لیے افغانستان کی آمادگی کی علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک اپنے قدرتی وسائل، بالخصوص گیس کو نکالنے اور اس کی ’افغانستان سے باہر ترسیل اور برآمد کے لیے قابلِ ذکر اور بہت بڑی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ خلیل زاد طالبان حکام اور ڈیلٹا انٹرنیشنل کمپنی کے ذمہ داران کے درمیان ملاقات میں موجود رہے ہوں۔ گذشتہ سال نومبر میں بھی شاہر التقی نے خلیل زاد کے ہمراہ کابل میں ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی تھی اور تیل و گیس کی تلاش، اس نکالنے اور ترسیل کے لیے لائنز کے بارے میں گفتگو کی تھی۔

زلمے خلیل زاد افغان نژاد امریکی سفارت کار اور خارجہ پالیسی کے ماہر ہیں۔ وہ افغانستان مفاہمتی عمل کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رہے ہیں۔ گذشتہ سال مارچ میں طالبان نے دو سال سے یرغمال امریکی شہری کو رہا کیا تھا تو اس موقع پر بھی زلمے خلیل زاد نے امریکی وفد کے ہمراہ افغانستان کا سفر کیا تھا۔

تاہم، سعودی کمپنی اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات میں خلیل زاد کے کردار کی سرکاری طور پر وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

معاہدے پر سوشل میڈیا پر بھی تبصرے سامنے آئے ہیں، جن میں اس معاہدے کو افغانستان میں اقتصادی سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

افغان صحافی سمیع یوسفزئی نے ایکس پر لکھا کہ طالبان اور سعودی سرمایہ کاری کا یہ معاہدہ ’جتنا نظر آتا ہے اس سے کہیں بڑا ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’جہاں ایک طرف سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنی سٹریٹیجک اور عسکری شراکت داری کو مزید گہرا کر رہا ہے، وہیں سعودی عرب سے وابستہ سرمایہ کاری افغانستان کا رخ بھی کر رہی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر تبصرے میں سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ سعودی عرب کی ’دوبارہ شروع ہونے والی اقتصادی شمولیت‘ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، 2001 کے بعد ’ریاض نے عمومی طور پر طالبان سے فاصلہ برقرار رکھا تھا، جبکہ پاکستان کے ساتھ اپنے قریبی سٹریٹیجک تعلقات قائم رکھے تھے۔‘

سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’اب صورتحال بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ سعودی عرب اسلام آباد اور کابل، دونوں کے ساتھ رابطہ بڑھا رہا ہے، لیکن دونوں کے ساتھ مختلف انداز میں۔‘

ساتھ ہی انھوں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا کہ ’کابل اور اسلام آباد کے درمیان موجودہ کشیدگی کے تناظر میں شاید طالبان کے لیے سعودی عرب کی اقتصادی اور سیاسی شمولیت کو پاکستان میں خوش دلی سے قبول نہ کیا جائے۔‘

افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق سفیر منصور احمد خان نے ایکس پوسٹ میں اس معاہدے کو جہاں ایک ’اہم پیش رفت‘ قرار دیا وہیں یہ بھی لکھا کہ ’افغانستان اور خطے میں طویل المدت امن اور استحکام‘ کے لیے اقتصادی روابط قائم کرنا ایک مناسب حکمتِ عملی ہے۔

تجزیہ کار عبداللہ خان کے مطابق طالبان اور سعودی کمپنی کے درمیان معاہدے کے موقع پر زلمے خلیل زاد کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ اس ڈیل کو ’امریکی اشیرباد بھی حاصل ہے۔‘

تجزیہ کار ضیغم خان نے اپنے تبصرے میں تیل اور گیس کی تلاش کے معاہدے کا افغانستان کی کوئلے کی برآمد کے حجم سے موازنہ کیا۔ انھوں نے لکھا کہ 2022 میں افغانستان نے تقریباً 47 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مالیت کا کوئلہ برآمد کیا تھا، جس کا تقریباً سارا حصہ پاکستان کو فروخت کیا گیا۔ جبکہ سعودی کمپنی کے ساتھ سرمایہ کاری کا حجم محض 20 کروڑ ڈالر ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’افغانستان میں تانبے، لیتھیم یا لوہے کے وسیع ذخائر کا چرچا تو بہت ہے، تاہم جو معدنیات آسانی سے نکالی جا سکتی ہیں وہ کوئلہ اور ٹالک ہی ہیں۔‘

ضیغم خان کے مطابق افغانستان کے کوئلے کی برآمدات کے لیے 'واحد بڑی منڈی' پاکستان ہی ہے، 'جب پاکستان میں طلب کم ہوئی تو افغان کوئلے کی برآمدات بھی تیزی سے گر گئی تھیں۔