سپین کی وہ طاقت جو آج ہونے والے فیفا ورلڈ کپ فائنل میں ارجنٹینا پر بھاری پڑ سکتی ہے

Spain Argentine

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن سپین کی مضبوطی اس کی دفاعی لائن ہے۔ اس کے سٹار کھلاڑی لامین یمال پر سب کی نظریں ہوں گی۔
    • مصنف, سیزار ازپیلیکویٹا
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

یہ تحریر سیزار ازپیلیکویٹا کی ہے جو ہسپانوی فٹبال ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور اب بی بی سی سپورٹ کے لیے کالم لکھتے ہیں۔

فائنل کا لمحہ آ گیا ہے۔ سپین اب اپنے دوسرے ورلڈ کپ کے ٹائٹل سے صرف ایک قدم دور ہے۔

ورلڈ کپ جیتنے کے لیے ہمیں کوئی غیرمعمولی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں صرف پُرسکون رہنا ہے اور اب تک جس طرح کھیلے ہیں، اسی طرح کھیلتے رہنا ہے۔

میں بی بی سی کے لیے پورے ٹورنامنٹ کی کوریج کرنے کے بعد اب میڈرڈ واپس آ گیا ہوں۔

مجھے لگتا ہے کہ پورے سپین کو یقین ہے کہ اتوار کو ہم ارجنٹینا کو ہرا کر 2010 کی طرح ایک بار پھر ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کریں گے۔

یہ اعتماد کئی وجوہات کی بنا پر ہے۔ یورو 2024 کا ٹائٹل، مسلسل 37 میچوں سے ناقابلِ شکست رہنے کا سلسلہ اور سب سے بڑھ کر سیمی فائنل میں فرانس کے خلاف حاصل کی گئی فتح۔

اس ہسپانوی ٹیم کی سب سے بڑی طاقت اس کا اجتماعی کھیل اور اس کی ذہنی مضبوطی ہے۔

کھلاڑی ایک ٹیم کی طرح کھیلتے ہیں۔ ان کی اپنی ایک واضح شناخت ہے اور انھیں اس پر مکمل بھروسہ ہے۔ اسی لیے وہ ہر میچ میں اپنے ہی انداز سے کھیلتے ہیں۔

ایک ٹیم کے طور پر کھیلنا سب سے بڑی طاقت

Spain Argentine

،تصویر کا ذریعہCameraSport via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسپین نے اپنی شناخت نہیں بدلی ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ورلڈ کپ میں ہمارا پہلا میچ کیپ وردے کے خلاف ڈرا رہا تھا۔ یہ نتیجہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں تھا۔

لیکن ٹیم گھبرائی نہیں اور اس نے اپنا طریقہ نہیں بدلا۔

ناک آؤٹ مرحلے میں پرتگال اور بیلجیم کے خلاف بھی یہی دیکھنے کو ملا۔ جیت کا گول کرنے کے لیے آخری لمحے تک جدوجہد کرنا پڑی، لیکن ٹیم نے صبر نہیں کھویا۔

سیمی فائنل میں فرانس کے خلاف ابتدائی برتری حاصل کرنے کے بعد بھی ٹیم کا رویہ وہی رہا۔

فرانس اس ٹورنامنٹ کو جیتنے کا بڑا امیدوار تھا اور اس نے پہلے کے میچوں میں کافی گول کیے تھے۔

اس کے باوجود سپین نے صرف برتری بچانے کے لیے اپنا کھیل نہیں بدلا۔ ٹیم مثبت رہی اور اپنے انداز میں کھیلتی رہی۔

اپنی شناخت برقرار رکھنا اور اسی پر قائم رہنا ہی اس ٹیم کی سب سے بڑی طاقت ہے، خاص طور پر اب جبکہ فائنل سامنے ہے۔

سپین ٹیم میں کچھ کھلاڑیوں کو تبدیل کر سکتا ہے، لیکن اس کی حکمتِ عملی اور سوچ نہیں بدلتی۔

ٹیم کا ہدف ہمیشہ بال اپنے پاس رکھنا اور جتنا ممکن ہو میچ پر کنٹرول برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

یقیناً ہر میچ مختلف حالات لے کر آتا ہے۔ لیکن اس ورلڈ کپ میں اب تک کھیلے گئے ساتوں میچوں میں سپین کبھی بھی پیچھے نہیں رہا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک بہت خاص بات ہے۔

اگر فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف ہم پیچھے بھی ہو جائیں، تب بھی ہماری سوچ نہیں بدلے گی۔ ہم آغاز سے اختتام تک وہی صبر اور وہی اعتماد برقرار رکھیں گے جو اس پورے ٹورنامنٹ میں ہماری پہچان رہا ہے۔

سپین کے جولین الواریز کسی بھی وقت میچ کا رخ بدل سکتے ہیں

سپین میں ہر شخص فائنل کے حوالے سے پُراعتماد ہے، لیکن ارجنٹینا بھی یقیناً ایسا ہی محسوس کر رہا ہوگا۔

آخرکار وہ موجودہ عالمی چیمپیئن ہے اور اس نے بھی اس ٹورنامنٹ میں دوبارہ ٹائٹل جیتنے کے لیے اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

یہ مقابلہ انتہائی سخت ہونے والا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ لیونل میسی شاندار فارم میں ہیں۔

اُنھوں نے پورے ٹورنامنٹ میں اپنا جذبہ اور جیتنے کی بھوک واضح طور پر دکھائی ہے۔

سپین بخوبی جانتا ہے کہ میسی میچ کے کسی بھی لمحے کھیل کا رخ بدل سکتے ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف اُنھوں نے اپنی پوزیشن میں کچھ تبدیلی کی، دائیں جانب جا کر زیادہ جگہ بنائی اور وہیں سے میچ پر اثر ڈالا۔

Spain Argentine

،تصویر کا ذریعہNicolò Campo/LightRocket via Getty Images

،تصویر کا کیپشن

لیکن سپین صرف میسی کو ہی نہیں، ارجنٹینا کی باقی ٹیم کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔

یہ ٹیم کتنی خطرناک ہے اور ٹرافی جیتنے کے لیے کس حد تک لڑ سکتی ہے، اس کا بھی ہمیں مکمل اندازہ ہے۔

میں 2023 سے 2025 تک ایتلیٹیکو میڈرڈ میں تھا۔ اس دوران میں نے ارجنٹینا کے کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلا۔

اسی لیے میں ان کی ذہنیت اور ان کے معیار، دونوں کو قریب سے جانتا ہوں۔

ان میں سے ایک جولین الواریز ہیں۔

میرے خیال میں وہ ایک مکمل کھلاڑی ہیں۔

وہ صرف روایتی نمبر 9 سٹرائیکر نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے نمبر 10 ہیں جو پیچھے آ کر کھیل بناتے ہوں۔

وہ ونگ پر بھی کھیل سکتے ہیں اور میدان کے ہر حصے میں متحرک رہنا پسند کرتے ہیں۔

کئی بار وہ پیچھے آ کر پورے کھیل کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ لیکن جب گول کرنے کا موقع آتا ہے تو وہ درست انداز میں فِنش کرتے ہیں۔

میدان میں وہ کہیں بھی ہوں، ان کی کوشش ہمیشہ پینلٹی باکس میں پہنچ کر ٹیم کے لیے گول کرنے کی ہوتی ہے۔

Spain Argentine

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کلب اور ملک، دونوں کے لیے الواریز نے کئی بہترین گول کیے ہیں۔

میں ان کے ساتھ بھی کھیلا ہوں اور ان کے خلاف بھی۔

انھیں ایک جگہ روک کر رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ مسلسل دوڑتے رہتے ہیں، خالی جگہ تلاش کرتے رہتے ہیں اور ٹیم کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں۔

انھیں معلوم ہوتا ہے کہ کب بال اپنے پاس رکھنی ہے، کب تیزی سے پاس دینا ہے اور کب کسی ساتھی کھلاڑی کے ساتھ ون ٹو کھیل کر حملہ آگے بڑھانا ہے۔

جب میں ان کے خلاف کھیلا تو ان کی صلاحیت کا اندازہ ہوا۔ لیکن ایتلیٹیکو میڈرڈ میں جب ہم ایک ہی ڈریسنگ روم میں تھے تو ہم نے ساتھ پریکٹس بھی کی۔

تب سمجھ آیا کہ وہ حقیقت میں کتنے بہترین کھلاڑی ہیں۔

میسی کی طرح الواریز بھی ایسے کھلاڑی ہیں جو کسی بھی لمحے میچ کا نتیجہ بدل سکتے ہیں۔

ان کے پاس صلاحیت، تکنیک اور کھیل کو سمجھنے کی بہترین قابلیت موجود ہے۔

اسی لیے فائنل میں سپین کو ان پر خاص نظر رکھنی ہوگی۔

لامین یمال سمیت ہر کھلاڑی کے لیے ٹیم سب سے اوپر

Spain Argentine

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ارجنٹینا کو گول کرنے سے روکنا آسان نہیں ہوگا۔

لیکن سپین کی سب سے بڑی طاقت اس کی ٹیم کی ساخت اور مضبوط دفاعی فارمیشن ہے۔

اسی وجہ سے اس پورے ورلڈ کپ میں ٹیم نے اب تک صرف ایک گول کھایا ہے۔

سپین عموماً حریف ٹیم کے آدھے حصے میں کھیلنا پسند کرتا ہے اور آگے بڑھ کر دباؤ ڈالتا ہے۔

لیکن اس ورلڈ کپ میں جب بھی مشکل حالات آئے اور ٹیم کو پیچھے ہٹ کر زیادہ گہری دفاعی لائن (مِڈ یا لو بلاک) میں کھیلنا پڑا، تب بھی اس نے یہ کام مؤثر انداز میں کیا۔

یہ بھی پوری ٹیم کی اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہے۔

اس دفاعی ذمے داری کو تمام کھلاڑیوں نے مل کر شاندار انداز میں نبھایا ہے۔

روڈری اور فابیان روئز مکمل نظم و ضبط کے ساتھ بیک فور کے سامنے حفاظتی ڈھال کی طرح کھیلتے ہیں اور حریف حملوں کو روکتے ہیں۔

لیکن صرف مڈفیلڈر ہی نہیں، فرانس کے خلاف لامین یامال نے بھی دفاعی لائن میں شاندار کردار ادا کیا۔

ان کی محنت کی وجہ سے فرانس کوئی واضح گول کا موقع پیدا نہیں کر سکا۔

دوسری جانب بائیں ونگ پر الیکس بائینا نے بھی اسی طرح مکمل وابستگی کے ساتھ دفاعی ذمے داری نبھائی۔

Spain Argentine

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لامین یمال کا کھیل مسلسل نکھرتا گیا ہے۔

گیند ان کے پاس نہ ہونے کے باوجود جس طرح وہ محنت کرتے ہیں، اس سے ان کی سوچ اور ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

یہی اس ہسپانوی ٹیم کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔

ممکن ہے کہ ان کی کارکردگی کا اثر ابھی تک گول کی صورت میں زیادہ نظر نہ آیا ہو۔

اب تک اُنھوں نے صرف ایک گول کیا ہے، جو گروپ مرحلے میں سعودی عرب کے خلاف 4-0 کی فتح کے دوران کیا گیا تھا۔

اُنھوں نے بہت زیادہ گول بھی نہیں بنوائے ہیں۔

لیکن یہ واضح ہے کہ وہ ٹیم کی مدد کرنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے میچ پر اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔

کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ گیند ان کے پاس نہیں ہوتی، لیکن وہ اپنے ساتھ مخالف ڈیفینڈرز کو کھینچ لے جاتے ہیں۔

دو شاندار فل بیکس کا کردار

Spain vs Argentine

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن سپین کے دو شاندار فل بیکس پیڈرو پورو اور مارک کوکوریلا کی وجہ سے سپین کا دفاع بہت مضبوط ہے.

اسی طرح ہمارے فل بیکس پیڈرو پورو اور مارک کوکوریلا صرف دفاع میں ہی مضبوط نہیں ہیں بلکہ اٹیک میں بھی ان کا اہم کردار رہتا ہے۔

اُنھوں نے گول کروانے، خود گول کرنے اور پیچھے سے کھیل بنانے یعنی بلڈ اپ پلے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

سپین جیسی جارحانہ ٹیم میں فل بیکس اکثر کافی آگے تک کھیلتے ہیں۔

ایسی صورت میں ان کے پیچھے جگہ خالی ہو جاتی ہے اور دفاعی چیلنج بڑھ جاتا ہے۔

لیکن پورو اور کوکوریلا نے دکھایا ہے کہ وہ میدان کے دونوں حصوں میں اپنی ذمے داری بخوبی نبھا سکتے ہیں، چاہے سامنے کتنا ہی خطرناک ونگر کیوں نہ ہو۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ٹیم کا ہر کھلاڑی اضافی محنت کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

اب فائنل میں بھی ہم اسی اجتماعی جذبے اور اسی کھیل کو دہرانا چاہیں گے۔

ٹورنامنٹ کے آغاز میں ہمیں معلوم تھا کہ ٹیم کے کچھ کھلاڑی مکمل طور پر فٹ نہیں تھے۔

لیکن ورلڈ کپ ایک طویل ٹورنامنٹ ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ کوچ لوئس دے لا فوئنٹے نے ابتدا ہی سے اس بات کو ذہن میں رکھ کر اپنی منصوبہ بندی کی تھی۔

اس کے بعد جیسے جیسے ٹورنامنٹ آگے بڑھا، ٹیم کا اعتماد بڑھتا گیا۔

کھلاڑیوں کی فٹنس بہتر ہوتی گئی اور فتوحات کے سلسلے نے بھی ان کے حق میں ماحول بناتا گیا۔

اب ان کھلاڑیوں کے پاس پورے سپین کو خوش کرنے کا موقع ہے۔ ارجنٹینا کے خلاف فائنل آسان نہیں ہوگا، لیکن سپین اس مقابلے میں شاید پورے ورلڈ کپ کے دوران اپنی بہترین حالت میں اتر رہا ہے اور کسی بھی ٹیم کے لیے اس سے بہتر وقت نہیں ہو سکتا۔