بزرگ جوڑا جس کے کھیت میں دفن پانچ لاکھ روپے دیمک کھا گئی

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA
- مصنف, موہر سنگھ مینا
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
سوشل میڈیا پر ایک بزرگ شخص اور ایک خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں دونوں کو پانچ، پانچ سو روپے کے گلے ہوئے اور خراب حالت میں موجود نوٹوں کو کھنگالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بزرگ 60 سالہ مانگی لال میگھوال اور ان کی اہلیہ سیالی دیوی ہیں، جو انڈین ریاست راجستھان کے ضلع پچپدرا کے گاؤں نیوَین کے رہائشی ہیں۔
مانگی لال میگھوال کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپنی زمین کا ایک حصہ فروخت کیا تھا، جس کے عوض انھیں پانچ لاکھ روپے ملے تھے۔
اس بزرگ جوڑے کا کہنا ہے کہ ان کٹے پھٹے اور خراب حالت میں موجود نوٹوں کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق نہ انھیں کھانے پینے کا ہوش رہتا ہے اور نہ ہی کسی اور کام کا خیال کیونکہ ان کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کرتا رہتا ہے: یہ نوٹ اب تبدیل کیسے ہوں گے؟
یہ معاملہ کیا ہے؟
مانگی لال میگھوال اپنے خاندان کے ساتھ ضلع بالوترا کے گاؤں نیوَین کی ایک چھوٹی بستی میں رہتے ہیں۔
وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد بی بی سی نیوز ہندی نے مانگی لال سے رابطہ کیا۔ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’تقریباً ایک سال پہلے میں نے پچپدرا میں اپنی ایک زمین پانچ لاکھ روپے میں فروخت کی تھی۔ اسی رقم سے مجھے اپنے خاندان کے لیے ایک پکا گھر بنانا تھا۔‘
’اس وقت برسات کا موسم تھا اور میرے پاس پکا مکان نہیں تھا، اس لیے مجھے ڈر تھا کہ کہیں رقم بارش میں خراب نہ ہو جائے۔ رات کے وقت میں نے پانچ لاکھ روپے ایک تھیلے میں رکھے اور کھیت میں دفن کر دیے۔ بعد میں شدید بارش ہوئی۔ جب صبح کھیت میں گیا تو مجھے وہ جگہ ہی نہیں ملی جہاں میں نے رقم دفن کی تھی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے یہ رقم بینک میں کیوں جمع نہیں کروائی، تو مانگی لال نے جواب دیا کہ ’میں نے سوچا تھا کہ اگلی صبح رقم نکال کر بینک میں جمع کرا دوں گا، لیکن میں یہ بھول گیا کہ میں نے پیسے کہاں چھپائے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA
مانگی لال کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی دنوں تک اس جگہ کو تلاش کرنے کی کوشش کی جہاں انھوں نے رقم دفن کی تھی، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ابتدا میں وہ یہ بات اپنے گھر والوں کو بھی نہیں بتا سکے۔ تاہم چند روز بعد انھوں نے یہ بات اپنی اہلیہ اور بیٹے کو بتائی۔
مانگی لال میگھوال کے سب سے چھوٹے بیٹے دیپک میگھوال نے بی بی سی نیوز ہندی کو بتایا کہ ’ہم نے بہت تلاش کیا، لیکن کھیت میں کہیں بھی پیسوں سے بھرا ہوا تھیلا نہیں ملا۔‘
’بینک والے کہہ رہے ہیں کہ اب یہ رقم قابلِ استعمال نہیں۔ اگر ایسا ہے تو میں اپنا گھر کیسے بناؤں گا؟‘
مانگی لال میگھوال کو ایک برس بعد اپنی رقم کیسے ملی؟
پچپدرا کے علاقے میں کھیتی باڑی کے کام کا مکمل انحصار بارش پر ہے، اسی لیے یہاں کے کسان عموماً سال میں صرف ایک ہی فصل اُگا پاتے ہیں۔
مانگی لال کا کہنا ہے کہ حال ہی میں علاقے میں اچھی بارش ہوئی تھی، جس کے بعد کسان کاشت کاری کی تیاری کے لیے اپنے کھیت جوت رہے تھے۔
تقریباً ایک سال بعد 6 اگست کی شام مانگی لال کے خاندان نے بھی اپنے کھیت کی جوتائی کے لیے ایک ٹریکٹر کرائے پر لیا۔
مانگی لال بتاتے ہیں ’کھیت تقریباً پانچ گھنٹے تک جوتا گیا۔ جب رات ہو گئی تو سب لوگ گھر واپس آ گئے۔‘
اگلی صبح مانگی لال کی اہلیہ سیالی دیوی اور ان کا بیٹا کھیت پر پہنچے۔
سیالی دیوی بتاتی ہیں ’کھیت جوتے جانے کے بعد مجھے مٹی میں ایک تھیلا نظر آیا، جس کا کچھ حصہ باہر نکلا ہوا تھا۔ جب میں نے اسے نکالا تو اس کے اندر نوٹ تھے، لیکن انھیں دیمک لگ چکی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ جب غور سے دیکھا تو ایک بھی نوٹ صحیح حالت میں نہیں بچا تھا۔‘
مانگی لال کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ گذشتہ دو روز سے ٹھیک طرح کھانا بھی نہیں کھا سکے۔
وہ کہتے ہیں ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اب کیا کروں۔‘
مانگی لال محنت مزدوری کر کے گھر چلاتے ہیں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مانگی لال کے پاس تقریباً 37 ایکڑ آبائی زمین ہے۔ برسات کے موسم میں وہ اس زمین پر باجرہ اور دالیں کاشت کرتے ہیں۔ اگر بارش اچھی ہو جائے تو فصل حاصل ہو جاتی ہے، ورنہ کچھ بھی نہیں اُگ پاتا۔
مانگی لال اور ان کی اہلیہ سیالی دیوی دونوں ناخواندہ ہیں۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
ان کی بیٹی نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور شادی کے بعد اپنے سسرال میں رہتی ہے۔ تین بیٹوں میں سے سب سے چھوٹے دیپک نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، جبکہ باقی دو بیٹے صرف آٹھویں جماعت تک پڑھ سکے۔
اس وقت یہ خاندان ایک کچے گھر میں رہتا ہے، جس کی چھت بارش کے دنوں میں ٹپکتی رہتی ہے۔
مانگی لال کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لیے ایک پکا مکان بنانا چاہتے تھے۔
انھوں نے کہا ’میرے پاس پچپدرا میں گھر بنانے کے لیے ایک پلاٹ تھا، جسے میں نے فروخت کر دیا۔ لیکن اب وہ رقم بھی ضائع ہو گئی ہے۔ نوٹوں کو دیمک کھا گئی ہے۔‘
مانگی لال کے بیٹے دیپک میگھوال نے بتایا کہ ان کی والدہ دیمک سے خراب ہو جانے والے نوٹ لے کر پچپدرا کے ایک بینک گئیں، لیکن بینک حکام نے کہا کہ نوٹ اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ انھیں بالوترا لے جانا پڑے گا۔
مانگی لال کی اہلیہ سیالی دیوی کہتی ہیں ’ہم بالوترا بھی گئے، لیکن وہاں بھی بینک والوں نے کہا کہ یہ نوٹ قابلِ استعمال نہیں ہیں۔ بینک نے ہمیں جے پور جانے کا مشورہ دیا۔ ہم ناخواندہ لوگ ہیں اور اب ہمیں یہ فکر لاحق ہے کہ یہ نوٹ تبدیل کیسے ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہMOHAR SINGH MEENA
سیالی دیوی اب بھی پُرامید ہیں کہ ان کے نوٹ تبدیل ہو جائیں گے اور ان کے خاندان کو ایک پکا گھر نصیب ہوگا۔
مانگی لال اور ان کے اہلِ خانہ کو اب بھی امید ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان دیمک زدہ نوٹوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور بینک ان کی رقم تبدیل کر دے گا۔
ریزرو بینک آف انڈیا (جے پور زون) کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’اگر نوٹ بری طرح خراب ہو چکے ہوں، تب بھی ریزرو بینک آف انڈیا کے پاس ایک خصوصی طریقۂ کار موجود ہے، جس کے تحت ایسے نوٹوں کی تبدیلی کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔‘



















