آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان تک رسائی یا اُن کی رہائی: پاکستان تحریک انصاف مجوزہ احتجاجی تحریک کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟
- مصنف, تابندہ کوکب
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اُن کے اہلخانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینے کی صورت میں احتجاجی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ اگر اس معاملے پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو اُن سمیت کوئی بھی انھیں سنبھال نہیں پائے گا۔
پیر کے روز پی ٹی آئی کے دیگر سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم کوئی غیرآئینی، غیرقانونی مطالبہ نہیں کر رہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا اُن کے ذاتی ڈاکٹرز اور اہلخانہ کی موجودگی میں بہتر ہسپتال میں علاج ہو۔۔۔ اور اگر ملاقات کروائی جاتی ہے تو گارنٹی دیتے ہیں کہ باہر آ کر کوئی بھی شخص سیاسی بات نہیں کرے گا۔‘
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نوجوانوں کی آنکھ میں نفرت دیکھ رہا ہوں، انقلاب کا جذبہ دیکھ رہا ہوں۔ کاکروچ (جنتا پارٹی کا احتجاج) معمولی چیز ہے، میں اِن کو نہیں سنبھال پاؤں گا، تحریک انصاف کی لیڈرشپ میں کوئی انھیں سنبھال نہیں پائے گا۔‘
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ 11 اگست (منگل) اڈیالہ جیل میں ملاقات کا دن ہے اور اگر اس روز بھی ملاقات نہ کروائی گئی تو ’تحریک انصاف کے تمام اراکینِ پارلیمان سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر منگل کو ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کے دن تمام اراکین پارلیمان اڈیالہ جیل جائیں گے اور اگر جمعرات کے دن بھی حکومت کی ہٹ دھرمی قائم رہی، تو اُسی رات دس بجے پاکستان کے ہر چوک کو ڈی چوک بنائیں گے۔‘
اس موقع پر انھوں نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ اپنی جگہ موجود ہے۔ ’27 سے پہلے یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور 27 تاریخ کو پورے پاکستان کے لوگ نکلیں گے اور پھر کوئی نہیں سنبھال پائے گا۔‘
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ’ہماری اولین ترجیح عمران خان کی رہائی ہے۔ 27 ستمبر سے پہلے اگر عمران خان سے ملاقات ہو جاتی ہے تو اُس صورت میں لانگ مارچ کی قسمت کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔ مگر ہم 27 (ستمبر) کے لیے تیار رہیں گے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ چند روز سے پاکستان تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اِس مجوزہ احتجاج کو محض عمران خان تک رسائی تک محدود رکھنے کے بجائے، اُن کی رہائی سے مشروط کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر ایسا تاثر سامنے آیا ہے کہ اس معاملے پر تحریک انصاف مجموعی طور پر ایک پیج پر نہیں ہے اور اس مجوزہ احتجاج کے پس منظر میں پی ٹی آئی کا ایک گروہ عمران خان تک رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے تو دوسرا گروہ اُن کی رہائی کا۔
’رسائی ہو یا رہائی، دونوں کا مقصد عمران خان کو جیل سے نکالنا ہے‘
اسی معاملے پر بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے ’مطالبہ رسائی ہو یا رہائی کا، دونوں کا مقصد عمران خان کو جیل سے نکالنا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں ’اِس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ رسائی پہلے ہو یا رہائی۔ البتہ عوام چاہتی ہے کہ عمران خان جلد از جلد رِہا ہوں۔ اُن کی بہنیں پریشان ہیں۔ جیل میں عمران خان کا علاج نہیں ہو رہا۔ یہ سب بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ ہم اُن کی رہائی کی ہر وقت ڈیمانڈ کرتے ہیں، ہم پہلے دن سے یہی تو کہہ رہے ہیں۔‘
حالیہ مجوزہ احتجاج پر بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم اُس وقت تک احتجاج کریں گے، جب تک عمران خان کو بنیادی حقوق نہیں ملتے، اُن کے اہلخانہ کو اُن سے ملنے نہیں دیا جاتا اور انھیں بہتر علاج مہیا نہیں کیا جاتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس ملک میں قانون کی حکمرانی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ جس دن یہ ہو گیا عمران خان رہا ہو جائیں گے کیونکہ اُن کے خلاف تمام کیس غیرقانونی ہیں۔ ہم کوئی غیر قانونی کام نہیں کر سکتے، مگر پُرامن احتجاج ہمارا قانونی حق ہے۔ تشدد کے ماحول کو ہم بھگت چکے ہیں اس لیے جانتے ہیں کہ حکومت (اس بار بھی) کیا کرے گی۔‘
حکومت کو عمران خان تک رسائی دینے میں کیا مسئلہ ہے؟
بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا تھا ’اِس میں دو مسائل ہیں: ایک تو جیل کے کچھ اصول ہوتے ہیں، اور دوسرا عدالت ہے۔ اگر انھیں شکایت ہے تو وہ پہلے سے عدالت جا چکے ہیں، اور اب بھی جا سکتے ہیں۔ اس میں حکومت کا کوئی براہِ راست عمل دخل نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جیل کے اصولوں کے خلاف اگر اعتراض ہے تو عدالت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ملاقات کی اجازت دے گی یا نہیں۔ یہ لوگ اس سے پہلے بھی عدالت گئے اور جیل میں باقی قیدیوں کی نسبت سب سے زیادہ ملاقاتیں اُن (عمران خان) سے کی گئی ہیں۔‘
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے بیٹے پاکستان آ کر اپنے والد سے مل سکتے ہیں۔ انھیں ویزے کی ضرورت نہیں ہے، اُن کے اوورسیز پاکستانیوں کے طور پر قومی شناختی کارڈ ابھی مستند ہیں۔ وہ آئیں اپنے والد سے ملیں، کون روکتا ہے انھیں۔ انھیں آئین اور قانون کے مطابق سب سہولتیں دی جائیں گی۔‘
تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ سے پہلے عمران خان تک رسائی دے دینے سے اِس لانگ مارچ اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے؟ اِس سوال پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اِس سے پہلے کیے گئے مارچز اور نو مئی سمیت دیگر واقعات میں آگ لگائی گئی اور تشدد ہوا۔ اگر (اس بار) وہ پُرامن رہتے ہیں تو اچھی بات ہے، بصورت دیگر ریاست کو آئین اور قانون میں جو طاقت حاصل ہے وہ استعمال ہو گی۔‘
اُنھوں نے اپنی بات دہرائی کہ ’عمران خان تک رسائی جیل حکام دے سکتے ہیں یا عدالت دے سکتی ہے۔ اگر جیل مینوئل کے مطابق یہ ممکن نہیں تو وہ (پی ٹی آئی) عدالت جائیں۔‘
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ’احتجاج اُن کا حق ہے، لیکن قانون کی کچھ ریڈ لائنز ہیں اور وہی حکومت کی بھی ہے۔ احتجاج اگرچہ ایک جمہوری حق ہے جو آئین میں دیا گیا ہے، لیکن اُس کا ایک طریقہ کار بھی دیا گیا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھے گا کہ وہ کسی ریڈ زون یا کسی ایسی سڑک پر آ کر بیٹھے گا جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہو گی، کاروبارِ زندگی متاثر ہو گا، تو حکومت کا فرض ہے کہ ہر ایک کے جان و مال کا تحفظ کرے۔‘
’کسی ڈیل کے بغیر رسائی ممکن ہے، نہ رہائی‘
تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا ہے کہ ’عمران خان تک رسائی روکے جانے کی وجہ یہ تھی کہ سیاسی خطرہ پیدا ہو رہا تھا۔ ایسے معالات ہو رہے تھے جو قابو سے باہر ہو سکتے تھے۔ اُن سے رابطہ توڑنے کا مقصد یہی تھا کہ عمران خان پی ٹی آئی کی سیاست کو کنٹرول نہ کر سکیں۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’حکومت چاہتی ہے کہ عمران خان پارٹی سے قطع تعلق رہیں، جبکہ تحریک انصاف کے سینیئر رہنما چاہتے ہیں کہ اُن سے رابطہ بحال ہو اور پھر اِسی رابطے کو آگے بڑھا کر ایسی تحریک چلائی جائے کہ اُن کی رہائی کا راستے نکل سکے۔‘
ضیغم خان کہتے ہیں کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھے۔ یہ دباؤ کی پالیسی عمران خان کی ہے، اُن کی بہن بھی یہی پالیسی لے کر چل رہی ہیں اور پارٹی بھی، لیکن یہ پالیسی اب تک کام کرتی نظر نہیں آ رہی۔‘
انھوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ ’تحریک انصاف عمران خان سے شروع ہوتی ہے اور اُن پر ہی ختم ہوتی ہے۔ اُن کے بغیر شاید کوئی تحریک ممکن نہیں۔‘
ضیغم خان کے مطابق ’گذشتہ عرصے میں پی ٹی آئی کارکنوں کا اپنی لیڈر شپ پر اعتماد بہت خراب ہوا ہے، جس میں پارٹی کے اندرونی جھگڑوں کا بہت کردار ہے۔ اس میں علیمہ خان کا بھی کردار ہے کہ جس طرح وہ سب کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتی ہیں۔ ایسے میں کوئی تحریک اگر چلانی ہے، تو انھی لیڈرز نے چلانی ہے اور یہ تبھی کامیاب ہو گی جب کارکن لیڈرشپ پر اعتماد کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ پارٹی کے سبھی رہنما عمران خان کے ساتھ ہیں لیکن بظاہر یہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ہیں۔‘
اس کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب رہنما نئے سیاستدان ہیں، جن کی بڑی تعداد سیاست میں نسبتاً نووارد ہے۔ جماعت میں سیاسی درجہ بندی نہیں ہے۔ عمران خان نے کوشش نہیں کی کہ یہ بتائیں کہ اُن کے بعد کون ہے، کوئی ترتیب نہیں۔ ایسے میں ہر بندہ کہتا ہے کہ میں باقیوں سے بہتر ہوں۔ اس رویے کا پارٹی کی تحریک پر اثر پڑتا ہے۔‘
27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ’ریاست انھیں کسی بھی صورت اجازت نہیں دی گی کہ وہ یہاں آئیں اور دھرنا دیں۔ شاید طاقت استعمال ہو گی اور نتیجتاً کارکن مزید بددل ہوں گے۔‘
صحافی اور تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کو اندرونی اختلاف اور نطقہ نظر کے اختلاف کا بہت زیادہ سامنا ہے۔ ہم نے کسی بھی پارٹی کو اتنا منتشر نہیں دیکھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اپنے بانی کی رہائی کے معاملے پر بھی ایک پیج پر نہیں ہیں۔ انھوں نے بہت کنفیوژن پھیلا دی ہے۔‘
انھوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ بظاہر ’کسی ڈیل کے بغیر عمران خان نہ تو رسائی ممکن ہے، اور نہ ہی رہائی۔‘
27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے تازہ موقف سے ’یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ بظاہر تحریک انصاف رہائی والے مطالبے سے تو پیچھے ہٹ گئی ہے اور عین ممکن ہے اس (27 ستمبر) سے پہلے کچھ لوگوں کو رسائی مل جائے۔‘