صدر ٹرمپ کی ترکی میں نیٹو اجلاس سے واپسی پر مختلف طیارے میں سفر کی تصدیق

    • مصنف, جیسیکا رونسلے
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ماہ ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر اپنے تحفظ کے پیشِ نظر انھوں نے خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسری پرواز اور مختلف طیارے میں سفر کروں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے وہی کرنا ہوتا ہے، جو وہ (سیکرٹ سروس اور فوجی حکام) کہتے ہیں۔‘

اس موقع پر صحافی کی جانب سے خطرے سے متعلق مزید استفسار کیا گیا تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہاں کسی قسم کا خطرہ موجود تھا۔ میں نے اِس بارے میں (سیکرٹ سروس سے) زیادہ سوال نہیں کیے۔ مجھے اکثر دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی میڈیا نے اس حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ نیٹو ممالک کے سربراہی اجلاس سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے ممکنہ ایرانی خطرے کے پیشِ نظر اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر پہلے ٹی وی کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے لیکن بعد میں انھیں خاموشی سے ہوائی اڈے پر موجود ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک فوجی طیارے تک پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی خفیہ طریقے سے دوسرے طیارے میں منتقلی سے ایئرفورس ون میں موجود صحافی اور حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کے ارکان بھی لاعلم رہے تھے۔

بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کی جانب سے طیارے پر میزائل حملے کے ایک قابلِ اعتبار خطرے کی اطلاع ملی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ وہ ایران کا ’نمبر ون ہدف‘ ہیں۔

خفیہ طریقے سے ٹرمپ کی دوسرے طیارے میں منتقلی ایک ایسے وقت ہوئی تھی حب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔

ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک نئے بوئنگ طیارے 747-8 میں ترکی پہنچے تھے، جو قطر کی جانب سے صدر ٹرمپ کو فراہم کیا گیا تھا، تاہم ترکی سے واپس روانہ ہونے سے قبل انھوں نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ ’پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے‘ اپنے پرانے ایئر فورس ون طیارے میں سفر کریں گے۔

آٹھ جولائی کو نشر ہونے والی ویڈیوز میں ڈونلڈ ٹرمپ کو انقرہ ہوائی اڈے پر صدارتی طیارے میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بعد ازاں انھیں خفیہ طور پر ایک نسبتاً چھوٹے فوجی طیارے سی 32 اے میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ بوئنگ 757 کا ترمیم شدہ ماڈل ہے، جو عموماً امریکی نائب صدر کے زیرِ استعمال رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو ہوائی اڈے کے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے، جسے طیارے کے دروازے کی سطح تک بلند کیا گیا تھا، اس جانب سے منتقل کیا گیا جہاں اُن کی بورڈنگ عوام کی نظروں سے اوجھل رہی۔

اخبار کے مطابق وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بھی علیحدہ طور پر بیرونی سیڑھیوں کے ذریعے سی 32 اے طیارے میں سوار ہوئے تاکہ پرواز معمول کے مطابق نظر آئے اور کسی غیر معمولی حفاظتی اقدام کا تاثر نہ ملے۔

رپورٹس کے مطابق صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کے ارکان کو ایئر فورس ون میں سوار کر لیا گیا تھا اور انھیں مبینہ طور پر اپنی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ صدر ٹرمپ اب اس طیارے میں موجود نہیں ہیں۔

بعد ازاں ٹرمپ برطانیہ روانہ ہوئے، جہاں سے انھیں امریکہ جانا تھا۔ برطانیہ پہنچنے پر وہ دوبارہ پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے اور آر اے ایف ملڈن ہال پر طیارے کے اُترنے کے بعد انھیں اس سے اُترتے ہوئے دیکھا گیا۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ کو سی 32 اے فوجی طیارے سے دوبارہ روایتی ایئر فورس ون جہاز تک کس طریقے سے منتقل کیا گیا تھا۔

بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن واپسی کے سفر کے لیے قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے ایئر فورس ون طیارے میں پرواز کی۔

اس پرواز کے دوران ٹرمپ نے اپنے ہمراہ موجود صحافیوں سے گفتگو کی۔ انھوں نے ایران کی جانب سے لاحق خطرات کا ذکر تو کیا، لیکن مبینہ طور پر اس سے قبل طیارہ تبدیل کرنے کے خفیہ آپریشن کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ترکی سے روانگی کے وقت طیارے میں سوار صحافیوں کو کھڑکیوں کے پردے نیچے کرنے کی ہدایت کیوں دی گئی تھی، تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ جن لوگوں سے ہمیں نمٹنا پڑتا ہے، ان کی وجہ سے آپ غالباً ایک خطرناک پرواز کر رہے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اُن کی جان کو ’ہر وقت خطرات لاحق رہتے ہیں‘ اور یہ کہ ایران کی مبینہ ہٹ لست میں وہ ’نمبر ون ہدف‘ ہیں۔

ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں کہا ’لیکن اگر میرے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو پھر آپ بھی ساتھ ہی جائیں گے، ٹھیک ہے؟‘

پھر انھوں نے مزید کہا ’شاید کسی دن آپ لوگ اپنا پیشہ بدلنے کے بارے میں سوچیں۔‘

سی بی ایس نیوز کی سابقہ رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ادارے پہلے ہی ایک مخصوص خطرے سے خبردار کر چکے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کے زیرِ استعمال طیارے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے صدارتی طیارے سے متعلق سکیورٹی خدشات پر بھی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سیکرٹ سروس نے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر ٹرمپ کو اپنا طیارہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

اس رپورٹ کے بعد اخبار کے متعدد صحافیوں کو حلف کے تحت گواہی دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ بعد میں امریکی محکمۂ انصاف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خفیہ معلومات کی مبینہ غیر قانونی لیک کی تحقیقات کر رہا ہے۔

امریکہ نے 400 ملین ڈالر مالیت کے بوئنگ 747-8 طیارے کو صدر کے استعمال کے قابل بنانے کے لیے کئی ماہ تک اس میں تبدیلیاں اور حفاظتی اپ گریڈز کیے ہیں۔

سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا تھا کہ پرانے ایئر فورس ون طیاروں میں ایسی لیزر ٹیکنالوجی نصب ہوتی ہے، جو آنے والے میزائلوں کو گمراہ کر سکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے طیارے میں بھی اسی نوعیت کے حفاظتی نظام موجود ہیں یا نہیں۔

سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ ’نیا ایئر فورس ون طیارہ صدر کے سفر کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے، تاہم موسمِ خزاں میں اس میں مزید اپ گریڈز کی جائیں گی، جنھیں مکمل ہونے میں تقریباً ایک ماہ لگے گا۔‘