آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تہلکہ میگزین کے سابق مدیر کو انڈیا میں برسوں پرانے ریپ کے مقدمے میں 10 سال قید کی سزا
انڈیا کے معروف صحافی اور تہلکہ میگزین کے سابق چیف ایڈیٹر ترون تیجپال کو بامبے ہائی کورٹ نے جمعرات کو ریپ کے 13 سال پرانے مقدمے میں مجرم قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے گوا ریاست کی نمائندگی کرنے والی وکیل سنڈیانا سلوا نے کہا: 'ان (تیجپال) کو اُن تمام جرائم میں مجرم قرار دیا گیا ہے جن کے تحت ان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ انھیں 10 سال قید با مشقت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔
'انھیں عدالت میں خود کو حکام کے حوالے کرنے (سرینڈر کرنے) کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔'
فیصلے کے بعد ترون تیجپال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم یقیناً سپریم کورٹ جائیں گے۔ یہ لوگ سیاسی انتقام اور تہلکہ کی صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔‘
'ہم نے نچلی عدالت میں ساڑھے سات سال تک یہ مقدمہ لڑا اور بری ہو گئے تھے۔ جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے ہیں وہ بری ہو جاتے ہیں، لیکن جو ان کے خلاف لکھتے ہیں، وہ ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ عمر خالد اور شرجیل امام کئی برسوں سے جیل میں ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’تہلکہ کی رپورٹنگ سے شاید انھیں سیاسی نقصان پہنچا ہو یا ان کے ذاتی مفادات کو ٹھیس پہنچی ہو۔ گذشتہ 13 برسوں سے وہ انتقامی ذہنیت کے ساتھ میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ مجھے عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہاں ایسے جج موجود ہوں گے جو سچائی کو دیکھیں گے۔ ہم تمام شواہد سب کے سامنے پیش کریں گے۔‘
جن دفعات کے تحت ترون تیجپال کو مجرم قرار دیا گیا تھا اُن کے تحت کم از کم 10 سال قید کی لازمی سزا تھی جو کہ عمر قید تک بھی بڑھائی جا سکتی تھی۔
کم از کم دس سال کی سزا
یاد رہے کہ نومبر سنہ 2013 میں ترون تیجپال کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور ذیلی عدالت نے سنہ 2021 میں انھیں بری کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق بامبے ہائی کورٹ کے گوا بینچ نے گوا حکومت کی طرف سے از سر نو دائر کردہ اپیل کی سماعت کی اور تیجپال کو سزا سنائی ہے۔
جب فیصلہ سنایا گیا تو ترون تیجپال کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
اپیل انڈین تفتیشی ادارے سی آئی ڈی نے دائر کی تھی۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے اس معاملے میں ریاستی حکومت کی نمائندگی کی۔
آج صبح عدالت میں تیجپال نے اپنی عمر کا حوالہ دیتے ہوئے نرمی کی درخواست کی۔ انھوں نے کہا: ’میری عمر 62 سال ہے، میرا ماننا ہے کہ میں خود ہی ایک متاثرہ شخص ہوں۔ میری بیوی ہے۔ اس کے علاوہ میرے پاس کہنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ براہِ کرم میرے ساتھ نرمی برتی جائے۔‘
قانونی خبروں کی ویب سائٹ 'بار اینڈ بنچ' کے مطابق، عدالت نے کہا: ’ہم نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے اور حکم کو ایک طرف رکھ دیا ہے اور تیجپال کو مجرم قرار دیا ہے۔ ہم نے انھیں تعزیرات ہند کی دفعہ 376 (2 ایف) اور (کے) 354 (اے) اور 354 (بی) کے تحت مجرم قرار دیا ہے۔‘
تعزیرات ہند کی دفعہ 354 (اے) جنسی ہراسانی کو جرم قرار دیتی ہے۔ اس میں ناپسندیدہ جسمانی رابطہ، جنسی تعلقات کے لیے واضح الفاظ، یا جنسی خواہشات کے مطالبات یا درخواستیں شامل ہو سکتی ہیں۔
جبکہ دفعہ 354 (بی) کسی عورت کے خلاف حملہ یا اس کے کپڑے اتارنے کے ارادے سے طاقت کے استعمال کو جرم قرار دیتی ہے۔
دوبارہ اپیل
واضح رہے کہ ترون تیجپال فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔ وکیل نے زور دے کر کہا کہ تیجپال کبھی مفرور نہیں ہوئے اور انھوں نے تمام عدالتی احکامات کی تعمیل کی ہے۔ ان کا پاسپورٹ سرکاری افسران کے پاس ہے۔ بری ہونے کے باوجود، انھوں نے ابھی تک اسے دوبارہ حاصل نہیں کیا۔ لہٰذا عدالت کو اس حقیقت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ انھوں نے گرفتاری کے بعد سے کسی موقع پر بیرون ملک کا سفر نہیں کیا۔
سالیسیٹر جنرل تشار مہتا، جو ریاستِ گوا کی جانب سے پیش ہوئے، نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے عملاً شکایت کنندہ ہی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ جرح کے دوران شکایت کنندہ سے ایسے 'شرمسار کرنے والے' سوالات پوچھے گئے کہ آیا باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرنا، شراب نوشی کرنا یا سگریٹ پینا غیر اخلاقی ہے، یا آیا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ 'جنسی نوعیت کے اشاروں' پر مبنی گفتگو کرتی تھی۔ ان کے مطابق ایسے سوالات نہ تو پوچھے جانے چاہیے تھے اور نہ ہی ٹرائل کورٹ کو انھیں اپنے فیصلے میں مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔
مہتا نے مبینہ واقعے کے بعد تیجپال کی جانب سے شکایت کنندہ کو بھیجی گئی ایک ای میل کا حوالہ دیا، جس میں انھوں نے اپنی غلط فہمی یا غلط فیصلے پر معذرت کی تھی اور شرمندگی کا اظہار کیا تھا۔ مہتا نے استدلال کیا کہ اس قسم کے بیانات اس بات کا اعتراف سمجھے جا سکتے ہیں کہ دونوں کے درمیان کوئی واقعہ پیش آیا تھا۔
ریاست کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے تیجپال کے وکیل سینیئر ایڈووکیٹ آباد پونڈا نے دعویٰ کیا کہ شکایت کنندہ کے بیان میں تضادات موجود ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی فریق نے مؤقف اختیار کیا کہ کیمروں کی ریکارڈنگ اس الزام کی تائید نہیں کرتی کہ تیجپال نے شکایت کنندہ کو لفٹ میں کھینچا تھا یا زبردستی دوبارہ لفٹ کے اندر لے گئے تھے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
گوا پولیس نے تقریباً 3,000 صفحات پر محیط ایک چارج شیٹ داخل کی، جس میں ترون تیجپال پر 'غلط طریقے سے کنٹرول کرنے، یرغمال بنانے، جنسی ہراسانی، حملہ اور عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی استحصال' جیسے جرائم کا الزام لگایا۔
ترون تیجپال نے تمام الزامات سے انکار کیا اور خود کو بے قصور بتایا ہے۔
استغاثہ نے 156 گواہوں کی فہرست پیش کی جس میں سے تقریباً 70 سے جرح کی گئی۔
یاد رہے کہ نومبر سنہ 2013 میں انویسٹیگیٹو جرنلزم کے لیے معروف 'تہلکہ' میگزین نے گوا کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں تقریب کا اہتمام کیا۔ اس تقریب کے دوران، ایک نوجوان خاتون ساتھی (جن کی شناخت قانوناً ظاہر نہیں کی جا سکتی) نے ترون تیجپال پر ہوٹل کی لفٹ کے اندر ریپ کا الزام لگایا۔
ابتدا میں تیجپال نے کہا تھا کہ انھوں نے ’سمجھنے میں غلطی‘ کی تھی اور ’صورتحال کا غلط مطلب نکالا تھا‘ جس کے نتیجے میں ’یہ بدقسمت واقعہ‘ رونما ہوا۔
لیکن بعد میں انھوں نے ایک بیان جاری کیا جس میں حکام پر زور دیا گیا کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کریں ’تاکہ واقعات کے پورے سلسلے کی حقیقت مزید درست طریقے سے سامنے آسکے۔‘ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب دہلی میں چلتی بس میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی ریپ اور قتل کے بعد ریپ کے حوالے سے انڈیا میں پہلے سے ہی شدید بحث چھڑی ہوئی تھی۔
ناقدین نے الزام لگایا کہ ’تہلکہ‘ ایک ایسی اشاعت ہے جو صنفی عدم مساوات اور بدگمانی کو اجاگر کرنے والی کہانیوں کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ خود منافقت اور دوہرے معیار کا مرتکب ہوا ہے۔
خواتین کے گروپ اور اے بی وی پی (بی جے پی کی سٹوڈنٹ ونگ) کے ارکان ترون تیجپال کے خلاف احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل آئے۔
انھیں 30 نومبر سنہ 2013 کو گرفتار کر لیا گیا اور سات ماہ بعد جولائی میں جیل سے ضمانت پر رہا کیا گیا۔
اس کے بعد انھوں نے گوا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے بری ہو جائيں لیکن وہ اس وقت ناکام رہے۔
ترون تیجپال کون ہیں؟
انڈیا کے سب سے مشہور صحافیوں میں سے ایک، ترون تیجپال نے ملک کے کچھ معروف اخبارات اور رسائل کے ساتھ دہائیوں تک کام کرنے کے بعد سنہ 2000 میں 'تہلکہ' نامی میگزین کا آغاز کیا۔
بہت کم وقت میں تہلکہ نے بہترین تحقیقاتی صحافت کے لیے شہرت حاصل کی اور انڈین میڈیا میں کچھ بڑی کہانیوں کو بریک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
سٹنگ آپریشن تہلکہ کی پہچان بن گئی جس کے تحت اس میگزین کے رپورٹرز جھوٹی شناخت کے ذریعے روزمرہ کی زندگی میں بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کے لیے خفیہ کیمرے استعمال کرنے لگے۔
تہلکہ میگزین نے سنہ 2001 میں اپنے 'آپریشن ویسٹ اینڈ' کے ساتھ سب سے زیادہ اہمیت حاصل کی جس میں رپورٹرز نے ہتھیاروں کے ڈیلر کے طور پر خود کو پیش کیا، رشوت اور لڑکیوں کی پیشکش کی، اور فوج کے اہلکاروں، بیوروکریٹس، اور یہاں تک کہ حکمراں جماعت بی جے پی کے اس وقت کے صدر بنگارو لکشمن کو فرضی ہتھیاروں کے سودے کو آسان بنانے کے لیے رشوت لیتے ہوئے بھی خفیہ کیمرے میں قید کر لیا۔
اس میں سمتا پارٹی کی رہنما جیا جیٹلی کو بھی ملوث دکھایا گیا تھا جو کہ اس وقت کے وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کے قریب مانی جاتی تھیں
جیسے ہی یہ انکشافات سامنے آئے، انڈیا کی اس وقت کی حکومت گھبرا گئی اور وزیر دفاع کو مستعفی ہونا پڑا جبکہ تیجپال کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
برطانوی اخبار دی گارڈین نے انھیں اس وقت 'انڈیا کا سب سے باوقار صحافی' قرار دیا تھا۔