آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برکت اللہ بھوپالی: افغانستان میں انڈیا کی پہلی جلاوطن حکومت کا قیام، لینن سے ملاقات اور برطانوی جاسوسوں کو چکمہ
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کون ہوئے تھے؟
ویسے تو آزاد انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو تھے۔ لیکن اس سے قبل دو بار جلاوطن عبوری حکومتیں بنیں اور ایسی ہی پہلی حکومت کے وزیر اعظم برکت اللہ بھوپالی تھے جن کے نام سے منسوب یونیورسٹی کو کوئی اور نام دینے کی تجویز پر بحث آج کل خبروں میں ہے۔
انڈیا کی آزادی کے لیے لڑنے والے اور ملک سے باہر افغانستان میں پہلی عبوری حکومت قائم کرنے والے مولانا برکت اللہ بھوپالی نے امریکہ میں بستر مرگ پر یہ آخری الفاظ کہتے تھے کہ ’ساری زندگی میں نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے کام کیا۔ مجھے بے پناہ خوشی ہے کہ میری زندگی میرے وطن کی بھلائی میں بسر ہوئی۔
’افسوس کہ میں اپنی زندگی میں اس کے ثمرات نہ دیکھ سکا، لیکن مجھے خوشی ہے کہ ہزاروں نوجوان صدق نیت اور قوت کے ساتھ آزادی کی لڑائی میں شامل ہونے کے لیے آگے آئے۔ میں پورے یقین کے ساتھ اپنے ملک کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں سونپ رہا ہوں۔‘۔
انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ان کے نام سے منسوب برکت اللہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے ان کے نام کو بدلنے کی تجویز نے بہت سے لوگوں کو پریشان کر دیا جس کے بعد سول سوسائٹی کی جانب سے اس کی مخالفت ہوئی اور بعد میں یہ تجویز مسترد کر دی گئی۔
اس سے پہلے کہ ہم مولانا برکت اللہ اور ان کے افغانستان، روس، انگلینڈ، جرمنی، جاپان اور امریکہ میں ہندوستان کی آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد پر بات کریں ہم ان کے نام پر ہونے والے تنازع پر بات کرتے ہیں۔
نام کی تبدیلی کے معاملے پر جہاں برکت اللہ یونیورسٹی کیمپس کے صدر دروازے پر متعدد طلبہ کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا وہیں سول سوسائٹی کی جانب سے اس کے خلاف آوازیں بلند کی گئیں اور مقامی اخبارات میں برکت اللہ کے حوالے سے مضامین بھی نظر آئے۔
بھوپال یونیورسٹی کو برکت اللہ کے نام پر رکھنے کی جدوجہد میں شامل اور شہر کے سابق میئر دیپ چند یادو نے نام بدلنے کی تجویز پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اس ذہنیت کی اپج ہے جو عوام کی بھلائی کے لیے تو کوئی خاطر خواہ کام نہیں کر رہی ہے لیکن نام بدلنے میں پیش پیش ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ نام بدلنے کی تجویز صرف اس لیے پیش کی گئی کیونکہ برکت اللہ مسلمان تھے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'یہ صرف ریاست مدھیہ پردیش تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں ایسی ہی صورت حال نظر آ رہی ہے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'راماین تو مغل دور حکومت لکھی گئی، جائسی کی پدماوت خلجی کے دور میں لکھی گئی، یہ ان کو پیارے ہیں لیکن مسلمان نہیں۔'
برکت اللہ کون تھے؟
برکت اللہ کے والدین سنہ 1857 کی بغاوت کے بعد اترپردیش کے ضلعے بدایوں سے ہجرت کرکے بھوپال پہنچے جہاں برکت اللہ بھوپالی کی پیدائش ہوئی۔ برکت اللہ کی سوانح کے مصنف ایم عرفان کے مطابق ان کی پیدائش سنہ 1858 یا 1859 میں ہوئی۔
لیکن برکت اللہ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر حسان خان کے مطابق سان فرانسسکو کے سیکریمنٹو میں موجود ان کی قبر کے کتبے پر لکھا ہے کہ ان کی وفات 60 سال کی عمر میں سنہ 1927 میں ہوئی تو اس اعتبار سے ان کی پیدائش 1867 بنتی ہے۔
مورخ اشعر قدوئی کے ساتھ ہم نے اس محلے کا دورہ کیا جہاں برکت اللہ پیدا ہوئے تھے۔ برکت اللہ نے قاہرہ کے معروف ادارے جامعہ الاظہر میں استاد ابونصر سید احمد بھوپالی کو اپنے بارے میں ایک خط میں لکھا: 'موچیوں کے محلے میں کمنی گروں کی مسجد کے پاس مدرسہ سلیمانیہ کو جاتے ہوئے حکیم قادر علی خان کا مکان تھا، ان کے فرزند کا نام صادق علی ہے، اس مکان میں ہم تولد ہوئے تھے اور وہیں ہمارا نلہ گڑا ہے۔'
حکیم قادر علی کا یہ مکان طبہ میاں کے محل کے سامنے ہے اور اس کی ہیت بالکل بدل چکی ہے جبکہ طبہ میاں کا محل انتہائی بوسیدہ حالت میں تا دم تحریر کھڑا ہے۔
برکت اللہ نے اسی مدرسہ سلیمانیہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی جس کا انھوں نے خط میں ذکر کیا ہے۔ ہم نے اس ادارے کا دورہ کیا جو اب مڈل سکول میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انھوں نے بھوپال میں موجود اقبال میدان سے متصل موتی مسجد میں قیام کے دوران فارسی زبان سیکھی جبکہ سلیمانیہ میں عربی، دینیات، اخلاقیات اور فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ اسی اقبال میدان کے سامنے ایک عمارت نظر آتی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے 'شاعر مشرق' علامہ اقبال جب بھوپال کا سفر کرتے تو وہاں ٹھہرتے تھے۔
برکت اللہ نے عربی زبان میں مہارت حاصل کی لیکن انھیں جلد ہی اس بات کا احساس ہو گیا کہ انگریزی زبان سیکھے بغیر وہ اسلام اور مسلم امت کی خدمت نہیں کر سکتے۔ فراغت کے بعد وہ مدرسہ سلیمانیہ میں ہی مدرس کے فرائض انجام دینے لگے۔
شاہ ولی اللہ کے خیالات سے متاثر
کہتے ہیں کہ انھوں نے شاہ ولی اللہ دہلوی کی معروف کتاب 'حجۃ اللہ البالغہ' کا مطالعہ کیا اور اس سے ساری زندگی متاثر رہے لیکن 19ویں صدی کے عظیم اسلامی مفکر جمال الدین افغانی کے بھوپال دورے کے بعد اچانک ایک دن وہ کسی کو کچھ بتائے بغیر بھوپال سے غائب ہو گئے۔
بھوپال میں برکت اللہ کے نام پر تعلیمی اور فلاحی ادارہ چلانے والے محمد ہارون خان نے بتایا کہ وہ بھوپال سے نکل کر جبل پور چلے گئے جہاں انھوں نے انگریزی تعلیم حاصل کی لیکن مولانا برکت اللہ نے اپنے ایک خط میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ وہاں سے بمبئی (آج ممبئی) چلے گئے جہاں انھوں نے انگریزی کی باضابطہ تعلیم حاصل کی اور پھر انگلستان کے لیے رخت سفر باندھا۔
یہ بات واضح نہیں کہ انگلستان کے سفر اور وہاں قیام کے اخراجات برکت اللہ کو کہاں سے ملے کیونکہ بھوپال میں ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ بمبئی میں بھی اعلی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتے تھے۔
انگلینڈ میں قیام کے دوران انھیں جس چیز نے سب سے زیادہ پریشان کیا وہ وہاں کے لوگوں کی خوشحالی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ’ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی بھی ملکہ تھیں لیکن وہاں کے لوگ بھوکے مر رہے تھے۔ جبکہ ہندوستان سے آنے والی دولت کی چمک سے پورا برطانیہ جگمگا رہا تھا۔‘
مصنف منگل مورتی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ 'مجھے پتہ چلا کہ انگلینڈ میں وہ (انڈین مجاہد آزادی کے رہنما) گوپال کرشن گھوکھلے کی تقاریر سنتے اور ان سے متاثر بھی تھے لیکن انھوں نے اس عظیم رہنما کی نرم پالیسیوں کی وجہ سے انھیں چھوڑ دیا۔ برکت اللہ نے ایک آزاد ہندوستان کا خواب دیکھنا شروع کر دیا تھا جس سے گوکھلے نابلد رہے۔'
ایرانی نژاد پروفیسر آغا مرزا شاستری انگلینڈ میں اپنی تعلیم کے زمانے میں برکت اللہ سے رابطے میں آئے تھے۔ بعد میں وہ میسور میں ایرانی زبان کے استاد مقرر ہوئے۔
انھوں نے برکت اللہ کی سوانح کے مصنف ایم عرفان کو بتایا کہ ’برکت اللہ انگریزی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کی بڑی امیدوں کے ساتھ انگلینڈ پہنچے لیکن وہ ہندوستان کے مقابلے میں وہاں کے لوگوں کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ وہ اس بڑے فرق میں ایسے الجھے کہ انھوں نے انگریزی زبان پر توجہ دینے کے بجائے جرمن، فرانسیسی، ٹرکش اور جاپانی زبانیں سیکھ لیں۔'
ان کے مطابق وہ وہاں عربی زبان پڑھانے لگے اور وہاں سے شائع ہونے والے اخباروں کے لیے مختلف مسائل پر مضامین لکھنے لگے اور اس پر ان کا گزربسر تھا۔
ان کی زندگی بہت سادہ تھی۔ وہ ایک پرانے سے مکان میں ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کے ساتھ رہائش پذیر تھے اور کبھی کبھی کئی کئی دن فاقے کے بھی گزرتے تھے جس کے آثار ان کے چہرے سے ظاہر تھے۔
عبداللہ کویلیام سے رفاقت
برکت اللہ اپنی عربی دانی اور اپنے مضامین کی وجہ سے انگلینڈ کے شمال مغربی علاقے میں مشہور ہو گئے یہاں تک کہ لیورپول کے اورینٹل کالج میں انھیں درس و تدریس کا موقع ملا۔
اسی زمانے میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ولیم ہنری کویلیم نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام عبداللہ کویلیام رکھا۔ ان کی اسلامی علوم میں مہارت اور اسلام کی خدمت کے اعتراف میں ترکی کے خلیفہ نے انگلینڈ کے 'شیخ الاسلام' کے خطاب سے نوازا۔
مسٹر کویلیام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے لیورپول میں ڈربی روڈ پر اپنے گھر کو مسجد اور مدرسے میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام مسلم انسٹی ٹیوٹ رکھا جہاں سے وہ دو میگزن 'دی کریسنٹ' اور 'اسلامک ورلڈ' نکالتے تھے۔
وہاں ترکی، ایرانی، افریقی مسلمانوں نے انجمن اسلام قائم کیا۔ عبداللہ کویلیام کی دعوت پر مولانا برکت اللہ نے مسلم انسٹی ٹیوٹ میں شمولیت اختیار کی جہاں وہ عربی اور ترکی زبانیں پڑھانے اور ميگزین کی تیاری اور اشاعت میں ہاتھ بٹانے لگے۔
انھیں جریدوں سے بھوپال والوں کو یہ معلوم ہوا کہ مولانا برکت اللہ انگلینڈ میں ہیں۔
ہندو مسلم اتحاد کے سفیر
بھوپال میں تاریخ کے پروفیسر اشعر قدوئی نے بتایا کہ ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد میں برکت اللہ کے لکھے مضامین ان کی موت کے بعد بھی اپنا کام کرتے رہے جبکہ برکت اللہ کے نام پر کئی ادارے چلانے والے اور جمیعت علمائے ہند کے رکن محمد ہارون نے بتایا کہ انھوں نے معروف مجاہد آزادی اور شاعر حسرت موہانی کو ایک خط لکھا جس میں انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کو انڈیا کی آزادی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور انھوں نے مستقبل کے آزاد ہندوستان کا ایک خاکہ پیش کیا جو آج بھی بہت حد تک حسب حال ہے۔
انھوں نے فارسی زبان میں لکھے اس خط کا اردو اور ہندی ترجمہ ہمیں بھی دکھایا جس میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہندوستان میں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔
خط میں برکت اللہ لکھتے ہیں: 'دنیا میں (اس وقت) 30 کروڑ مسلمان آباد ہیں، یعنی روئے زمین کی آبادی میں پانچواں حصہ مسلمان ہیں۔ اسلامی آبادی کی نصف سے زائد تعداد غیر اسلامی حکومتوں کی رعایا ہے۔ لیکن مسلمانوں کا شمار کسی ملک میں ہندوستان سے زائد نہیں، جہاں سات کروڑ مسلمان ہیں۔ پس مسلمانان عالم کی فلاح و بہبود مسلمانان ہند کی صلاح وفلاح سے وابستہ ہے۔۔۔'
اشعر قدوئی نے بتایا کہ انڈیا ترکی اور جرمنی کا متحدہ مشن 3 اکتوبر سنہ 1915 کو کابل پہنچا جہاں اس نے افغانستان کے بادشاہ امیر حبیب اللہ خان سے 'قصر دلکشا' میں ملاقات کی۔
برکت اللہ بھوپالی کی سوانح میں درج ہے کہ امیر حبیب اللہ خان کے فارسی اشعار پر برکت اللہ کے جواب نے ماحول کو خوشگوار بنا دیا اور انھوں نے سب سے فرداً فرداً ملاقات کی۔ اسی زمانے میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے حکم پر مولانا عبیداللہ سندھی اپنے بہت سے طلبہ کے ساتھ کابل پہنچ چکے تھے۔
پہلی جلاوطن عبوری حکومت
ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں یکم دسمبر 1915 کو جلاوطن عبوری حکومت قائم ہوئی جس میں افغانستان کے حکمراں سے یہ وعدہ کیا گيا کہ جب راجہ مہیندر پرتاپ (صدر عبوری حکومت) اور برکت اللہ (وزیر اعظم عبوری حکومت) کی ہندوستان میں حکومت قائم ہوگی تو بلوچستان اور دوسرے فارسی بولنے والے علاقے افغانستان کو دے دیے جائیں گے۔
اس میں مولانا عبیداللہ سندھی کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا اور اسی دوران ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کی ریشمی رومال تحریک جاری تھی۔
اس کے بعد برکت اللہ نے امریکہ کا سفر کیا اور وہاں وہ غدر پارٹی کے اہم رکن کے طور پر فرائض انجام دیے۔ غدر پارٹی کے سربراہ کی غیر موجودگی میں انھوں نے نہ صرف تنظیم کے میگزین کی ادارت کی بلکہ ایک طرح سے پارٹی کی کمان بھی سنبھال لی۔
سنہ 1919 میں جب افغانستان کے حکمراں امیر حبیب اللہ خان کا قتل ہو گیا تو ان کے بیٹے امان اللہ خان نے برکت اللہ کو افغانستان طلب کیا اور ان کی مدد سے انھوں نے انگریزوں کے خلاف لشکر کشی کا منصوبہ بنایا۔
خیال رہے کہ دوسری عبوری حکومت سبھاش چندر بوس نے 21 اکتوبر سنہ 1943 کو سنگاپور میں قائم کی تھی۔
مورخ اشعر قدوئی نے بی بی سی کو بتایا: 'یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ جو راستہ برکت اللہ نے ہندوستان سے باہر جانے کے لیے استعمال کیا اسی راستے سے برسوں بعد سبھاش چندر بوس بھی گزرے۔ برکت اللہ کی طرح وہ بھی پہلے افغانستان پہنچے اور کابل کے اسی بابر باغ میں ٹھہرے جہاں برکت اللہ کا قیام تھا۔ یعنی دونوں کے دفاتر بھی وہیں تھے۔ دونوں وہاں سے نکل کر جاپان اور جرمنی گئے اور ہندوستان کی آزادی کی توجہ پوری دنیا کو دلائی۔‘
ان کے مطابق برکت اللہ نے جاپان کی یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے تھے اور بعضوں کے مطابق انھوں نے بہت سے لوگوں کو اسلام سے متعارف بھی کرایا۔
اسی دوران برکت اللہ کو افغانستان کا سفیر بنا کر روس بھیجا گیا۔
لینن کی چھڑی کا تحفہ
بھوپال کے صحافی اقبال مسعود نے بتایا کہ اس وقت تک روس کا انقلاب آ چکا تھا اور ساری دنیا کے لوگ بہت ہی امیدوں کے ساتھ روس کی جانب دیکھ رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ بطور خاص سامراجی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والی تنظیمیں روس کے انقلاب کو مشعل راہ کے طور پر دیکھ رہی تھیں۔
اقبال مسعود کے مطابق مولانا برکت اللہ روس کے معروف انقلابی لیون ٹراٹسکی کے ساتھ روس کے قائد ولادیمیر لینن سے ملے۔
برکت اللہ کی سوانح میں انھیں ہندوستان اور روس کے درمیان دوستی قائم کرنے والے پہلے رہنما کے طور پر بیان کیا گيا ہے۔ اس میں درج ہے کہ صندل کی لکڑی کی بنی چھڑی جو لینن استعمال کرتے رہے وہ انھیں ہندوستان کے عوام کی جانب سے سنہ 1917 کے روسی انقلاب کے بعد دی گئی تھی۔
اس کے بارے میں جب چھان بین ہوئی تو پتا چلا کہ اسے کسی محمد ہادی نامی شخص نے ہندوستانیوں کو تحفے میں دی تھی لیکن پھر یہ پتا چلا کہ محمد ہادی کوئی اور نہیں بلکہ خود برکت اللہ تھے اور انھوں نے انگریز جاسوسوں کو چکمہ دینے کے لیے یہ نام اختیار کیا تھا۔
بعد میں راجہ مہیندر پرتاپ نے ذکر کیا ہے کہ یہ چھڑی برکت اللہ نے بھجوائی تھی۔
اس کے بعد مئی سنہ 1919 میں برکت اللہ کی قیادت میں انڈین نیشنل کانگریس نے لینن سے ملاقات کی۔ اس میں راجہ مہیندر پرتاپ، مولوی عبدالرب اور پرتیوادی آچاریہ وغیرہ شامل تھے۔
راجہ مہیندر پرتاپ نے اس دورے کے بارے میں لکھا: میں روسی حکومت کا مہمان بنا، وہاں میں اپنے وزیر اعظم برکت اللہ سے ملا جو پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے روسیوں کے ساتھ اچھے روابط قائم کر لیے تھے۔ وہ بھی روسی حکومت کے مہمان تھے اور ہم لوگوں کو شاہی محل میں ٹھہرایا گیا۔
نہرو اور برکت اللہ کی برسلز میں ملاقات
بہر حال افغان کے امیر اور تاج برطانیہ کے درمیان معاہدے کے بعد انڈیا کی جلاوطن عبوری حکومت تحلیل ہو گئی۔ لیکن برکت اللہ بولشیوک انقلاب کو مسلم دنیا میں متعارف کرنا چاہتے تھے اور لینن نے انھیں اس معاملے میں ہر طرح کی مدد کا وعدہ کیا جس کا اظہار اس وقت کے وزیر خارجہ مسٹر چیرین کے نام ان کے خط سے ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ 1922 میں جب برکت اللہ بیمار پڑے تو وہ روس سے جرمنی کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے علاج کے لیے امریکہ کے سان فرانسسکو سے ایک ہزار ڈالر کی رقم بھیجی گئی اور راجہ مہیندر پرتاپ بھی وہاں پہنچے۔
انھوں نے اس دوران یورپ کے کئی شہروں کا دورہ کیا اور فروری سنہ 1927 میں برکت اللہ نے برسلز میں عالمی کانفرنس میں شرکت کی جہاں ان کی ملاقات نہرو سے ہوئی۔
نہرو نے اس کا ذکر اپنی سوانح میں کیا ہے کہ 'یہ ہندوستان کی پہلی پروویژنل حکومت کے وزیر اعظم اور آزاد ہندوستان کے مستقبل کے وزیر اعظم کی پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ اور ملاقات سامراج وادی نظام کے خلاف کھڑے ممالک کی عالمی کانفرنس میں ہوئی۔
اس کے بعد برکت اللہ تیسری اور آخری بار امریکہ کے لیے روانہ ہوئے جہاں سان فرانسسکو میں ہندوستان کی آزادی کی شمع کو لے کر ملکوں ملکوں پھرنے والے اس مجاہد نے آخری سانسیں لیں۔
برکت اللہ یونیورسٹی میں عربی زبان کے سابق پروفیسر حسان خان نے بتایا کہ انھوں نے سان فرانسسکو کے پاس سیکریمنٹو میں ان کی قبر دیکھی جس پر ان کی تاریخ وفات 20 ستمبر سنہ 1927 درج ہے۔