97 سالہ خاتون نے کیلے کے تنوں سے بنے بیڑے پر سوار ہو کر جان لیوا سیلاب سے کیسے جان بچائی؟

آسام کے ضلع سیواساگر کے ایک گاؤں میں ایک خاتون اپنے زیرِ آب گھر کے باہر موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنآسام کے ضلع سیواساگر کے ایک گاؤں میں ایک خاتون اپنے زیرِ آب گھر کے باہر موجود ہیں
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, نامہ نگار، انڈیا
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

19 جولائی کو رات گئے جب سیلاب انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ایک گاؤں میں تیزی سے داخل ہو رہا تھا، بورنالی باروا اور ان کے شوہر اپنی 97 سالہ والدہ لوکاڈا دوارا کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

لوکاڈا دوارا تقریباً بستر تک محدود تھیں اور چل نہیں سکتی تھیں۔ نہ کوئی کشتی تھی، نہ امدادی ٹیم اور نہ ہی مدد کے لیے کوئی ہمسایہ موجود تھا۔ چنانچہ انھیں کیلے کے تنوں سے بنائے گئے ایک عارضی بیڑے پر لٹایا گیا اور بہتے پانی میں محفوظ مقام کی جانب لے جایا گیا۔

باروا کہتی ہیں: ’ہر شخص اپنی جان بچانے میں مصروف تھا۔‘

ان کے مطابق تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ تینوں سیواساگر ضلع کے چارنگ گاؤں سے کچھ فاصلے پر قومی شاہراہ کے کنارے قائم ایک امدادی کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ سیواساگر ان اضلاع میں شامل تھا جو سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

پانی کی گہرائی تین سے چار فٹ تھی اور بہاؤ اتنا تیز تھا کہ انھیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اور لاٹھیوں کے سہارے آہستہ آہستہ آگے بڑھنا پڑا۔

اس وقت تک باروا کا گھر سیلاب میں ڈوب رہا تھا۔ بعد میں گھر کے اندر پانی کی سطح تقریباً پانچ فٹ تک پہنچ گئی۔

باروا اپنی بکری کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنباروا نے مویشی پالنے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے صحافت چھوڑ دی تھی

چارنگ میں یہ منظر آسام بھر میں پھیلنے والی ایک وسیع تباہی کا حصہ تھا۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچ چکی ہے۔ 10 اضلاع اور 456 دیہات متاثر ہوئے جبکہ تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔

52 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر آسام کے 25 اضلاع میں تقریباً 12 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 19 ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا اور 75 ہزار سے زیادہ لوگ 252 امدادی کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

بالائی آسام کے بعض علاقوں میں سیلاب کی شدت غیر معمولی تھی۔ چارنگ جیسے گاؤں بھی زیرِ آب آ گئے، جہاں عموماً سیلاب نہیں آتا۔

گھر کے گرد پانی جمع ہونے کے بعد 97 سالہ لوکاڈا دوارا کو کیلے کے تنے پر بٹھا کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا
،تصویر کا کیپشنگھر کے گرد پانی جمع ہونے کے بعد 97 سالہ لوکاڈا دوارا کو کیلے کے تنے پر بٹھا کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا

40 سالہ باروا کے لیے یہ صدمہ خاص طور پر گہرا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم نے اپنی زندگی میں اس علاقے میں پہلی بار سیلاب دیکھا ہے۔‘

باروا اپنی پیدائش کے بعد سے ہی چارنگ میں رہ رہی ہیں اور ان کے آباؤ اجداد بھی یہیں آباد تھے۔ انھوں نے 1950 کے ایک بڑے سیلاب کے بارے میں سنا تھا، مگر اپنی زندگی میں کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔

ان کا گھر ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں متعدد دریا بہتے ہیں، اگرچہ کوئی دریا ان کے گھر کے بالکل قریب نہیں۔ ان کا ایک منزلہ آٹھ کمروں کا گھر سیواساگر شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے، جبکہ دریائے براہما پترا تقریباً 20 کلومیٹر، ڈکھو 12 کلومیٹر، جھانجی 10 کلومیٹر اور میتونگ محض پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر بہتے ہیں۔

وہ کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں کہ پانی ان کے گھر کی دہلیز تک پہنچ جائے گا۔ لیکن جب ایسا ہوا تو سیلاب نے نہ صرف ان کے گھر بلکہ اس ذریعۂ معاش کو بھی خطرے میں ڈال دیا جسے بنانے میں انھوں نے برسوں صرف کیے تھے۔

کسی وقت میں باروا کل وقتی صحافی تھیں۔ 2016 میں انھوں نے صحافت چھوڑ کر مویشی پالنے کا کام شروع کیا اور تین سال بعد انھیں آسام کی ’بہترین مویشی پال‘ قرار دیا گیا۔

ان کا فارم تقریباً 300 بکریوں، 500 بطخوں، ایک ہزار مرغیوں اور مچھلیوں تک پھیل گیا تھا، مگر سیلاب نے اس کا بڑا حصہ تباہ کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زیادہ تر بکریاں، 300 بطخیں، 300 مرغیاں اور بڑی مقدار میں مچھلیاں کھو بیٹھی ہیں۔ جانوروں کا چارہ تیار کرنے والی مشین بھی تباہ ہو گئی۔ اس کے علاوہ فرنیچر، لیپ ٹاپ، گاڑیاں اور خاندان کی کتابوں کا ذخیرہ بھی برباد ہو گیا۔

آسام کے سیلاب زدہ علاقے میں ایک لڑکا پانی میں سفر کے لیے کیلے کے تنے سے بنائی گئی عارضی کشتی استعمال کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشنآسام کے سیلاب زدہ علاقے میں ایک لڑکا پانی میں سفر کے لیے کیلے کے تنے سے بنائی گئی عارضی کشتی استعمال کر رہا ہے

ان کے کسی بھی مویشی کا بیمہ نہیں تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’یہاں مویشیوں، خاص طور پر بکریوں کے لیے بیمے کا کوئی نظام موجود نہیں۔‘

جب جھانجی دریا میں پانی بڑھنا شروع ہوا تو پہلا انتباہ 17 جولائی کو ملا۔

دو روز بعد براہما پترا اور اس سے منسلک دریاؤں میں تیزی سے پانی بڑھنے کے باعث ڈکھو اور میتونگ دریا بھی اپنے کناروں سے باہر آ گئے۔

باروا کے مطابق کئی دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے جس سے پانی کے طاقت ور ریلے قصبوں اور دیہات میں داخل ہو گئے۔

پانی بڑھنا شروع ہونے کے تقریباً ایک دن بعد وہ اور ان کا خاندان اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اس وقت تک گھر کے اندر پانی چار فٹ تک پہنچ چکا تھا۔ اگلے 10 دن انھوں نے ایک امدادی کیمپ میں گزارے۔

باروا خاندان کا پانی میں ڈوبا گھر
،تصویر کا کیپشنپانی بڑھنا شروع ہونے کے تقریباً ایک دن بعد باروا اور ان کے خاندان نے اپنا گھر چھوڑ دیا تھا

امدادی کیمپ میں پانچ روز تک نہ بجلی تھی اور نہ ہی موبائل سروس، جس کے باعث باروا اپنا فون بھی چارج نہیں کر سکیں۔ حکومت نے خاندان کو امدادی سامان فراہم کیا جس میں چاول، دال اور کھانا پکانے کا تیل شامل تھا۔

مدد اجنبی لوگوں کی جانب سے بھی ملی۔ ایک نوجوان خاتون، جس سے بورنالی کی پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، نے خوراک، صفائی ستھرائی اور ان کی بچ جانے والی 60 بکریوں کی دیکھ بھال میں مدد کی۔ ایک اور شخص نے بیمار جانوروں کے علاج اور انھیں خوراک فراہم کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔

لیکن پانی اس جگہ تک کیوں پہنچا جس کے بارے میں باروا کہتی ہیں کہ وہاں پہلے کبھی سیلاب نہیں آیا تھا؟

آسام کے ضلع سیواساگر میں ایک خاندان عارضی خیمے میں پناہ لیے ہوئے ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآسام کے ضلع سیواساگر میں ایک خاندان عارضی خیمے میں پناہ لیے ہوئے ہے

گوہاٹی یونیورسٹی کے سینٹر فار براہما پترا سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور جغرافیہ کے پروفیسر دھروبا جیوتی سہاریا کا کہنا ہے کہ براہما پترا وادی، جو آسام کا ایک نشیبی علاقہ ہے، میں سیلاب آنا ایک فطری عمل ہے۔ ان کے مطابق جو چیز بدل گئی ہے وہ ’سیلابوں کی شدت، تسلسل اور سنگینی میں اضافہ‘ ہے۔

براہما پترا دنیا کے سب سے بڑے کثیر الشاخہ دریاؤں میں سے ایک ہے اور پانی کے بہاؤ اور تلچھٹ (دریا کی تہہ میں بیٹھی مٹی) کے اعتبار سے دنیا کے پانچ بڑے دریاؤں میں شمار ہوتا ہے۔ اس تلچھٹ کا بڑا حصہ تبت سے آتا ہے، جہاں سے دریا کا آغاز ہوتا ہے۔

سیواساگر میں اپنے سیلاب سے متاثرہ گھر کے باہر امیت گیری موبائل فون پر اپنے والد شیو شنکر گیری کی تصویر دکھا رہے ہیں جو اس سیلاب میں جان سے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسیواساگر میں اپنے سیلاب سے متاثرہ گھر کے باہر امیت گیری موبائل فون پر اپنے والد شیو شنکر گیری کی تصویر دکھا رہے ہیں جو اس سیلاب میں جان سے گئے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آسام کے وسیع میدانوں میں داخل ہونے کے بعد، جہاں تقریباً دو کروڑ 80 لاکھ افراد آباد ہیں، دریا کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور تلچھٹ جمع ہونے لگتی ہے، جس سے کٹاؤ اور سیلاب بڑھتے ہیں۔

آسام میں سالانہ بنیادوں پر آنے والے سیلاب زندگی کا ہیں، لیکن بعض برس صورتِ حال کہیں زیادہ سنگین ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر 2004 کے سیلاب سے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے اور 251 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سہاریا کے مطابق بالائی آسام اور ہمسایہ ریاست ناگالینڈ کے ضلع مون میں مسلسل شدید بارشوں سے سیواساگر، چڑائی دیو اور جورہاٹ میں بڑے پیمانے پر تلچھٹ جمع ہوئی اور شدید سیلاب آیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب سیلاب ان علاقوں تک بھی پہنچ رہے ہیں جو پہلے محفوظ سمجھے جاتے تھے، کیونکہ مزید لوگ ایسے علاقوں میں آباد ہو گئے ہیں جو پانی کی گزر گاہ ہیں، جنگلات کاٹ دیے گئے ہیں، کان کنی اور پہاڑوں کی کٹائی نے دریاؤں میں تلچھٹ بڑھا دی ہے، جبکہ سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ علاقائی آبی نظام کو مدنظر رکھے بغیر تعمیر کیا گیا ہے۔

تاہم آسام اکیلے براہما پترا کو نہیں سنبھال سکتا۔ اس کے کئی ذیلی دریا اردگرد کی پہاڑی ریاستوں سے نکلتے ہیں، جبکہ سیلاب سے نمٹنے کی منصوبہ بندی زیادہ تر آسام کے اندر کی جاتی ہے۔

سہاریا کہتے ہیں: ’ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے دریائی نظام کی سطح پر منصوبہ بندی کی جائے،‘ ساتھ ہی ریاستوں کے درمیان بہتر رابطے اور دریاؤں کے بدلتے ہوئے جغرافیے کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔

لیکن باروا کے لیے یہ سائنسی بحث ذاتی سطح پر ایک تلخ تجربہ بن چکی ہے۔

آسام میں پانی میں موجود ایک شخص نے بکری تھام رکھی ہے
،تصویر کا کیپشنباروا کی صرف 60 بکریاں ہی سیلاب سے بچ سکیں

وہ اپنے سیلاب سے متاثرہ گھر کے قریب علاقے میں واپس آ چکی ہیں۔ فی الحال وہ اور ان کا خاندان پڑوسی کے ایک گھر میں مقیم ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر اپنے گھر واپس منتقل ہو جائیں گے۔

باروا کہتی ہیں کہ ان کا چارنگ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کے لیے جن معاشی اور سماجی حالات کی ضرورت ہوتی ہے، ان کا خاندان ان سے محروم ہے۔

اسی لیے اب وہ اس خطرے کے ساتھ جینا سیکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں جو اب تک ان کی زندگی میں تقریباً موجود ہی نہیں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ شدید بارش ہوئی تو انھیں اپنے گھر کو مزید بلند کرنا ہو گا، شاید اس کی بنیاد اونچی کر کے۔ ابھی انھیں معلوم نہیں کہ وہ یہ کیسے کریں گی یا اس کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے۔

خاندان کو ایک اونچا پلیٹ فارم بھی درکار ہو گا جہاں وہ خطرے کی صورت میں پناہ لے سکیں، اور وہ پہلے سے خوراک اور پینے کا پانی ذخیرہ کر کے رکھیں گے۔

باروا مزید سیلابوں کے امکان کے ساتھ جینا اور ان کے لیے تیاری کرنا سیکھ رہی ہیں۔

کیا وہ خود کو ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بے گھر ہونے والی فرد سمجھتی ہیں؟

وہ کہتی ہیں: ’نہیں۔ اگر ہم اپنی معاشی اور ذہنی طاقت دوبارہ حاصل کر لیں تو زندگی پہلے جیسی ہو جائے گی۔‘

’ہمیں سیلابوں کے ساتھ جینا سیکھنا ہو گا۔‘