آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
معرکہِ حق اور میزائل چوک
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
خیر سے سات تا دس مئی بنیان المرصوص المعروف معرکہِ حق کی پہلی سالگرہ ہے۔
دیگر شہروں کا تو معلوم نہیں البتہ کراچی کی شاہراہِ فیصل موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کی تصاویر سے مزین ہورڈنگز اور پوسٹرز سے بھری ہوئی ہے۔
ٹی وی چینلز پورا ہفتہ خصوصی ہدایات کے تحت خصوصی پروگرام خصوصی اشتہارات سمیت پیش کر رہے ہیں۔اخبارات میں بھی کم و بیش یہی سماں ہے۔
اسلام آباد میں معرکہِ حق کے شایانِ شان یادگار تعمیر کرنے کی بھی شنید ہے۔ یقیناً دیگر شہر و قصبات کے سیاسی اشراف بھی چاغی کے ایٹمی پہاڑی نمونوں کی روایت آگے بڑھاتے ہوئے معرکہِ حق یاد کرواتے رہنے کے لیے کچھ نہ کچھ تعمیر کر کے قومی یکجہتی کے تازہ بیانیے کی لڑی میں پروئے جانے کے متمنی ہوں گے۔
یہ محض حسنِ اتفاق ہے کہ معرکہِ حق بھی مئی کے مہینے میں ہوا۔
ہم کئی برس تک 12 مئی 2007 کو یاد کرتے رہے جب کراچی میں سیاسی مخالفین کی 50 سے زائد لاشیں صرف ایک دن میں گری تھیں اور تب کے سیاہ و سفید کے مالک جنرل پرویز مشرف نے اس کارنامے کا اسلام آباد کے ایک جلسے میں مکہ لہرا کر خیر مقدم کیا تھا۔
پھر 12 مئی کے سانحے پر نو مئی 2023 کی عمرانی گڑبڑ غالب آ گئی۔
اس تاریخ کو ایک ڈنڈے کی شکل دے کر پی ٹی آئی کی کمر ادھیڑ دی گئی اور اٹھتے بیٹھتے لعن طعن و شب و ستم کے زریعے ہمیں یاد دلایا جاتا رہا کہ ادارے کتنے مقدس ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاست کے بہانے اداروں سے چھیڑ چھاڑ دراصل ان ستونوں کو ہلانے کی غدارانہ کوشش ہے جن ستونوں پر یہ ریاست روزِ اول سے ٹکی ہوئی ہے۔
اب معرکہِ حق کی خوشی کے وزن نے نو مئی کے بیانیے کو نہ صرف دبا دیا بلکہ ایک نئے خوشگوار بیانیے کی نیو رکھ دی گئی ہے کہ جو پاکستان کچھ عرصے پہلے تک علاقائی و بین الاقوامی امور کی گیم سے باہر معاشی و خارجی لحاظ سے ترس کا مارا باسکٹ کیس سمجھا جاتا تھا نہ صرف تنہائی سے نکل آیا بلکہ آس پاس اور دور دراز تک پھیلی بین الاقوامی برادری کی سراہنا بھی سمیٹ رہا ہے۔
الٹا انڈیا اب اس تنہائی کی تپش محسوس کر رہا ہے جو وہ پاکستان کو محسوس کروانا چاہتا تھا جبکہ مغربی سرحد پر افغانستان کو بھی بہت سی حدود و قیود ٹھیک سے سمجھا دی گئی ہیں اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی قدرے کمی آئی ہے ۔
ایسا نہیں کہ پہلی بار کچھ اچھا اچھا سا لگ رہا ہے۔ نیک نامی، عزت، داد و تحسین ہم نے ماضی میں بھی کئی بار کمائی ہے۔ ہمارا قومی البم لیاقت علی خان سے شہباز شریف تک اور فیلڈ مارشل ایوب خان سے فیلڈ مارشل عاصم منیر تک غیر ملکی خیر سگالیوں، پپیوں جپھیوں سے بھرا پڑا ہے ۔
اس کے بدلے اسلحے، امداد ، قرضوں، گرانٹس، ترقیاتی سکیموں اور منصوبوں کی بھی کوئی خاص کمی نہیں رہی۔مگر کیا وجہ ہے کہ یہ آٹھ عشروں پر پھیلی داد و تحسین بھی اتنے برس کی خیرسگالی و خوش نیتی کے باوجود قومی معیشت کو اپنے پاؤں پر پوری طرح کھڑا کرنے میں آج تک کامیاب نہیں ہو پائی۔
ہمارا ہر معاشی، سماجی اور انسانی انڈیکیٹر نہ ختم ہونے والے گرداب میں ہی چک پھیریاں لگا رہا ہے ۔
اگر ہمارے پاس کوئی ایسا جادوئی ڈنڈہ ہے جسے گھماتے ہی باقی دنیا کے چہرے پر ہم اطمینان لے آتے ہیں تو یہ ڈنڈہ داخلی سطح پر ویسا ہی چمتکار کیوں نہیں دکھا پا رہا۔
جب ساڑھے سات کروڑ تھے تب بھی بنیادی مسائل وہی تھے جو آج 24 کروڑ کو درپیش ہیں اور کچھ زیادہ ہی درپیش ہیں۔
تقریباً ہم سب نے راجوں مہاراجوں کی کہانیوں میں سن رکھا ہے کہ جب جب بھی کوئی خوشی کا موقع آتا یا کوئی جنگ جیتی جاتی تو رعایا بھی جشن میں شریک کی جاتی تھی، سینکڑوں قیدی رہا ہوتے تھے، ہزاروں کی سزاؤں میں کمی ہو جاتی تھی۔
چند ہفتوں کے لیے ہی سہی شاہی گوداموں کے منہ کھول دیے جاتے تھے۔ بہانے بہانے سے اشرفیاں اچھالی جاتی تھیں، اہلِ فن کی دل کھول کے پذیرائی ہوتی تھی۔
جگہ جگہ شاہی لنگر قائم ہو جاتے تھے، شاہی مالیاتی وظائف کا اجرا ہوتا تھا، یادگاریں بھی اٹھائی جاتی تھیں مگر یادگاری شفا خانے اور مدارس بھی بنائے جاتے تھے اور پرانوں کی امداد میں اضافہ ہو جاتا تھا۔
یعنی جشن صرف محلات اور امرا کے دیوان خانوں اور آنگنوں تک ہی محدود نہ تھا، غریب کی کٹیا کا سستے تیل سے بھرا دیا بھی تادیر کچی دیواریں روشن رکھتا تھا۔ چنانچہ رعایا بحکم نہیں ناچتی تھی، ازخود تھرکتی تھی اور بادشاہ کی درازیِ عمر کے نعرے لگاتی تھی ۔
میڈیا بتا رہا ہے کہ 24 کروڑ رعایا معرکہِ حق جیتنے والی ریاست کی خوشیوں میں برابر کی شریک ہے۔ یہ خبر بھی تو کسی دن نشر ہو کہ اس بار ریاست بھی 24 کروڑ عوام کی خوشیوں میں برابر کی شریک ہے ۔
تمام امن و آشتی، ثالثی و خیر سگالی ایکسپورٹ نہ کریں کچھ اپنے لوگوں کے لیے بھی بچا کے رکھیں۔ یادگاریں ضرور بنائیے مگر یاد رہ جانے کا بھی کچھ سامان تیار کیجیئے۔
میڈیا کے لیے خصوصی اشتہاری بجٹ، اپنے لیے میزائل اور ہمارے لیے بس میزائل چوک۔ ایسے تو نہ کریں۔ ہم کیا کم محبِ وطن ہیں؟