ٹرمپ کے لیے سوشل میڈیا پر پیغامات ٹائپ کرنے والی نیٹلی ہارپ جو اچانک مرکز نگاہ بن گئیں

ٹرمپ اور نیٹلی ہارپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, برینڈ ڈیبسمن جونیئر
    • عہدہ, وائٹ ہاؤس رپورٹر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

حالیہ برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں بہت کم ہی لوگ ایسے رہے ہیں جو ان کے ساتھ بار بار نظر آئے ہوں اور ان چند افراد میں ایک نیٹلی ہارپ بھی شامل ہیں۔

ٹرمپ کے لیے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے اور انتہائی وفادار معاونین میں 35 سالہ نیٹلی ہارپ بھی شامل ہیں۔ ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر کی پوسٹس ٹائپ کرنے کی ذمہ داری بھی انھی کے پاس ہے۔

جارجیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر اور ٹرمپ کے ناقد جون اوسوف نے ایک تقریر کے دوران نیٹلی ہارپ کا دوبارہ نام لے کر انھیں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا اور اس تقریر کی ویڈیو بعد میں وائرل ہو گئی۔

اوسوف نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ’نیٹلی کے ساتھ اس بظاہر غیر محفوظ اُڑنے والے محل میں سفر کر رہے ہیں، جو قطر کے امیر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا ہے۔‘

وہ صدر ٹرمپ کے نئے ایئر فورس ون طیارے کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور ساتھ ہی اُن میڈیا رپورٹس کا بھی جن کے مطابق گذشتہ ماہ ترکی سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا اور ان کے ساتھ نیٹلی اور چند دیگر افراد موجود تھے۔

ٹرمپ کی معاون نیٹلی کون ہیں، جنھیں امریکی صدر کا ’گیٹ کیپر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے لیے روایتی راستے سے ہٹ کر سفر

قدامت پسند مسیحی خاندان سے تعلق رکھنے والی اور کیلیفورنیا میں پیدا ہونے والی ہارپ نے کئی حوالوں سے غیر معمولی سمجھے جانے والے وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے لیے ایک غیر روایتی راستہ اختیار کیا۔

وہ اس وقت نمایاں ہوئیں جب انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ان کی جان بچائی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ٹرمپ نے ’رائٹ ٹو ٹرائی‘ ایکٹ منظور کروایا جس کا مقصد بعض مریضوں کو تجرباتی علاج تک زیادہ رسائی فراہم کرنا تھا۔

ہارپ نے ہڈیوں کے کینسر کے علاج کے لیے اسی قانون سے فائدہ اٹھایا۔

اس تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ کے میگا (میک امریکہ گریٹ اگین) دھڑے میں تیزی سے مقبول اور بااثر ہو گئیں۔ وہ جلد ہی ٹرمپ کی 2020 کی انتخابی مہم کے لیے قائم ایک مشاورتی بورڈ میں شامل ہو گئیں۔

انھوں نے 2020 کے ریپبلکن نیشنل کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب دستیاب کیموتھراپی علاج میرے لیے مؤثر ثابت نہ ہوئے تو کسی نے بھی مجھے اپنے کلینیکل ٹرائلز میں شامل کرنا نہیں چاہا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ مجھے تجرباتی علاج آزمانے کا حق نہیں دیا گیا۔ جناب صدر، آپ نے مجھے یہ حق دیا اور اگر آپ نہ ہوتے تو اس علاج کی منظوری کا انتظار کرتے ہوئے میری موت ہو جاتی۔‘

اس تقریب کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’اس نے ٹیلی وژن کی سکرین کو اس انداز میں روشن کر دیا جیسا میں نے بہت کم لوگوں کے بارے میں دیکھا ہے۔‘

اس تقریر کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’اُنھوں نے ٹی وی سکرین پر ایسی دھاک بٹھائی تھی جیسی میں نے بہت کم لوگوں میں دیکھی ہے۔‘

Natalie Harp walks off Air Force One wearing a sleeveless printed red dress. She is smiling and has a laptop and several phones in her hands.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹرمپ کی اس انتخاب میں شکست کے بعد ہارپ نے قدامت پسند ٹی وی نیٹ ورک ون امریکہ نیوز نیٹ ورک (او اے این) میں ایک پروگرام کی میزبانی شروع کی۔

وہاں وہ ٹرمپ کی پُرجوش حمایتی کے طور پر پہچانی جانے لگیں اور اس دعوے کی بھی حمایت کرتی رہیں کہ ٹرمپ نے 2020 کا صدارتی انتخاب جیتا تھا۔

2022 میں انھوں نے یہ نیٹ ورک چھوڑ دیا اور ٹرمپ کی اگلی صدارتی انتخابی مہم میں شامل ہو گئیں۔

ٹرمپ کے ہارپ کے بارے میں خیالات سے متعلق زیادہ تر معلومات صحافیوں میگی ہیبرمین، جوناتھن سوان اور مائیکل وولف کی کتابوں میں شامل گمنام ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ ہارپ کی نجی زندگی کے بارے میں عوامی طور پر بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

ہارپ کے بھائی پریسٹن ہارپ نے منگل کے روز سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ ان تمام باتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کا احترام کرنا ہماری والدہ نے ہمیں سکھایا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ٹرمپ کے لیے ان کی غیر معمولی پسندیدگی کی یہی وجہ ہے۔‘

ان کے مطابق ہارپ کم عمری سے ہی وائٹ ہاؤس میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور عراق جنگ کے دوران جارج ڈبلیو بش سمیت سابق صدور کو خطوط بھی لکھتی رہی تھیں۔

پریسٹن ہارپ نے سی این این کو بتایا کہ جب ان کی بہن وائٹ ہاؤس پہنچیں تو ’آخرکار ان کا خواب پورا ہو گیا۔‘

ان کے بقول ’ان کی بہن ٹرمپ کی سب سے بڑی مداح ہیں اور شاید اسی وجہ سے ٹرمپ بھی انھیں پسند کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ خوبصورت ہیں، ان کی شخصیت بھی اچھی ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ٹرمپ نے ان کی جان بچائی، اس لیے جو شخص اس طرح کے احساسِ تشکر کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو، وہ یقیناً اچھا محسوس کرتا ہوگا۔‘

وائٹ ہاؤس میں ہارپ کا سرکاری عہدہ صدر کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ کا ہے۔ عام طور پر اس عہدے پر فائز فرد انتظامی امور، شیڈول، رابطوں اور دیگر اہم دفتری ذمہ داریوں کو سنبھالتا ہے۔

تاہم مختلف اطلاعات کے مطابق ہارپ نے اس کردار کو ایک نئی اہمیت دی ہے اور ان کی عوامی شناخت اپنے پیش روؤں، جیسے ٹرمپ کی پہلی حکومت میں خدمات انجام دینے والی میڈلین ویسٹرہاؤٹ، کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں ہے۔

ہارپ کتنی بااثر ہیں؟

جب سی این این کی ایک رپورٹر نے ٹرمپ سے اوسوف کے بیان کے بارے میں سوال کیا تو بعد میں وائٹ ہاؤس نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹر کرسٹن ہومز نے ایک عملے کے رکن پر گھٹیا حملہ کیا ہے۔

ہومز کے نام ایک اور پیغام میں کہا گیا کہ ’کسی دن آپ کے بچے آپ کا یہ ناگوار اور غیر انسانی سوال دیکھیں گے۔ وہ اس بات پر شرمندہ اور افسردہ ہوں گے کہ ان کے والدین اتنے بے حس اور انتقامی مزاج تھے۔‘

ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران ہارپ تقریباً ہر وقت ان کے ساتھ نظر آتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں موجود صحافی اکثر انھیں اوول آفس میں ٹرمپ کے قریب کھڑا دیکھتے ہیں یا پھر ان کے اندرونِ ملک اور غیر ملکی دوروں کے لیے ایئر فورس ون میں سوار ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ ہمیشہ موجود ہوتی ہیں، حقیقتاً ہمیشہ۔‘

وائٹ ہاؤس کے اندرونی حلقوں اور صحافیوں میں ہارپ کو اکثر ’ہیومن پرنٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ عموماً ایک پورٹیبل پرنٹر ساتھ رکھتی ہیں تاکہ ٹرمپ کو خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس کی پرنٹ شدہ نقول دے سکیں، جنھیں وہ پسند کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے امور سے واقف ایک اور ذریعے کے مطابق اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ ہارپ کے پاس اس بات پر غیر معمولی اثر و رسوخ ہے کہ ٹرمپ تک کون سی معلومات یا تازہ صورتحال پہنچتی ہے۔

ٹرمپ، نیٹلی ہارپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیگر گمنام ذرائع نے ہارپ کو ’نگہبان‘ اور ’باعثِ اطمینان ساتھی‘ قرار دیا ہے۔

ہارپ ٹرمپ کے لیے سوشل میڈیا پر تحریری معاون کا کردار بھی ادا کرتی ہیں اور ان کی جانب سے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر پوسٹس شائع کرتی ہیں۔

اوسوف کے حالیہ بیانات کے بعد گردش کرنے والی ایک معروف تصویر میں ہارپ کو ایک پوسٹ ٹائپ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ 2024 میں کملا ہیرس کی ایک تقریر دیکھتے ہوئے انھیں اپنے اندازِ تحریر میں الفاظ لکھوا رہے ہیں۔

حالیہ توجہ کے دوران وائٹ ہاؤس نے ہارپ کو ٹیم کی ایک قابلِ اعتماد اور قابلِ قدر رکن قرار دیا ہے تاہم ٹرمپ نے کیمرے کے سامنے ان کے بارے میں بہت کم بات کی ہے۔

اوسوف ان متعدد ناقدین میں شامل تھے جنھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اطلاعات کے مطابق ہارپ اس طیارے میں بھی موجود تھیں جس میں ٹرمپ ایران سے مبینہ خطرے کی اطلاع ملنے کے بعد ترکی سے روانہ ہوئے تھے۔

ٹرمپ کی صدارت پر وسیع رپورٹنگ کرنے والی صحافی میگی ہیبرمین سے جب نیوز نیٹ ورک ایم ایس ناؤ میں پوچھا گیا کہ ٹرمپ ہارپ کو اس خفیہ پرواز پر اپنے ساتھ کیوں لے گئے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’کیونکہ وہ ایک طرح سے ان کے لیے اطمینان کا ذریعہ ہیں، بہتر لفظوں میں کہیں تو ایک طرح کا سہارا۔‘

ہیبرمین اور جوناتھن سوان نے 2024 میں نیویارک ٹائمز کے لیے رپورٹ کیا تھا کہ ہارپ نے مبینہ طور پر ٹرمپ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا: ’آپ ہی میرے لیے سب کچھ ہیں۔‘