چرواہے کو ملنے والا سونا اور گاؤں میں قیمتی دھات کی تلاش: ’درختوں کے نیچے سوتے ہیں، صبح ہوتے ہی دوبارہ کام شروع کر دیتے ہیں‘

- مصنف, اکیسا ونڈیرا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
مغربی کینیا کے ایک دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک چرواہے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب سے انھیں علاقے میں ایک سونے کا ٹکڑا ملا ہے اس کے بعد سے ان کے گاؤں کے دیگر لوگ بھی سونے کی تلاش کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔
33 سالہ مناسے لماچر کا خیال ہے کہ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ انہوں نے چند ہفتے قبل اپنے تین گرام سونے کو 36,000 کینین شلنگ میں فروخت کیا ہے، تو اس کے بعد سونے کی تلاش کے لیے ہزاروں افراد ان کے علاقے چیپورور پہنچ گئے۔
اور حقیقت یہی ہے کہ گذشتہ ماہ تک اس گاؤں کے قریب محض جھاڑیاں، مویشی اور کھردری زمین نطر آتی تھی، مگر اب وہاں گڑھے، مٹی کے ڈھیر اور کان کنوں کے عارضی کیمپ نظر آ رہے ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا لماچر کو ملنے والے سونے کے ٹکڑے نے اس جوش و خروش کو جنم دیا یا علاقے میں ہونے والی دیگر حالیہ دریافتوں نے۔ تاہم مقامی حکام کے اندازے کے مطابق تقریباً 10 ہزار افراد پر مشتمل ایک ہجوم اس گاؤں کے قریب موجود تھا۔
سونے کی معمولی مقدار بھی ان مردوں اور خواتین کے مستقبل کو بدل سکتی ہے، جو کینیا اور پڑوسی ملک یوگنڈا سے آئے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کی زندگیوں کا انحصار زراعت سے حاصل ہونے والی ایک غیر مستحکم آمدنی پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہEdwin Naitale / BBC
ان علاقوں میں لوگ کبھی کبھار سونے کی تلاش کے لیے دریائی ریت چھانتے ہیں، لیکن شاذ و نادر ہی انہیں کوئی قابلِ ذکر مقدار ملتی ہے۔
لماچر کا کہنا ہے کہ انھیں سونے کا ٹکڑا ملنا محص ایک اتفاق تھا۔ ایک گمشدہ بکری کی تلاش کے دوران ان کا سامنا خواتین کے ایک ایک ایسے گروہ سے ہوا جو دریا کے کنارے سونا تلاش کرنے کے لیے ریت چھان رہا تھا۔
’میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور اسی طرح [گاؤں] کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس علاقے میں سونا موجود ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پڑوسی گاؤں نپاوئی سے تعلق رکھنے والے کسان اور چرواہے پیٹرک لوکولیا اضافی آمدنی حاصل کرنے اور اپنے خاندان کی مدد کے لیے سونے کی تلاش کے اس کام شامل ہوئے ہیں۔
چیلسی فُٹبال ٹیم کی پرانی سے شرٹ پہنے اور دیگر کان کنوں کے درمیان کھڑے لوکولیو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے بچے اسکول میں پڑھتے ہیں اور اسکول کی فیس ادا کرنا میرے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔‘
اٹھارہ سالہ ابیگیل چیلنگاٹ کا کہنا ہے کہ چیپورور آنے سے پہلے انہوں نے کبھی کان کنی جیسا کام نہیں کیا ہے۔ وہ قریبی ضلع سے یہاں اس امید کے ساتھ آئی تھیں کہ انھیں بس اتنا سونا مل جائے کہ وہ اپنی اسکول کی فیس ادا کر سکیں اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد دے سکیں۔

،تصویر کا ذریعہEdwin Naitale / BBC
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کے پیچھے سینکڑوں لوگ شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں، جو کدالوں اور بیلچوں سے پتھریلی زمین کو کھود رہے ہیں۔
دیگر لوگ مٹی کو قریب واقع ایک دریا تک لے جاتے ہیں، جہاں زیادہ تر خواتین گدلے پانی میں جھکی ہوئی مٹی اور ریت کو دھو کر اور چھان کر سونے کا کوئی معمولی سا نشان تلاش کرنے کی امید رکھتی ہیں۔
اسی مقصد کے لیے زیادہ تجربہ کار کان کنوں میں سے افراد کچھ گہرے گڑھوں میں اتر کر زمین کھود رہے ہیں اور چٹانوں میں سوراخ کر رہے ہیں۔
امید ان کہانیوں سے زندہ رہتی ہے، جن میں ایسے لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جن کی محنت رنگ لائی ہے، جیسے لماچر۔
مغربی پوکوٹ کاؤنٹی کے ڈپٹی کمشنر سیموئیل کیاری کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں سونے کی تلاس کی یہ دوڑ دو اہم واقعات کے بعد شروع ہوئی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نوجوان مردوں کو سونے کی ایک قابلِ ذکر مقدار کی موجودگی کا علم ہوا۔ اگلے ہی دن خواتین کو بھی اسی علاقے سے کچھ سونا ملا۔‘
کیاری وضاحت کرتے ہیں کہ خواتین برسوں سے اسیدریا کے خشک حصے میں سونے کی معمولی مقدار تلاش کرتی رہی ہیں، جس سے وہ عموماً ہفتے میں آٹھ سے 23 ڈالر تک کما لیتی تھیں۔

لیکن اگست کے آغاز میں نسبتاً بڑی مقدار میں سونا ملنے کا واقعہ ہی وہ سبب بنا جس نے بہت سے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
کیاری کے مطابق جیسے جیسے افواہیں پھیلتی گئیں، دریافت ہونے والے سونے کی مقدار اور اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جانے لگا، جس کے نتیجے میں ایسے لوگوں کے بڑے بڑے گروہ وہاں پہنچنے لگے جنہیں کان کنی کا بہت کم یا بالکل بھی تجربہ نہیں تھا، لیکن وہ ابتدائی کامیابیوں کی رپورٹوں کو دہرانا چاہتے تھے۔
ابتدائی ہجوم کے بعد تلاش کنندگان کی تعداد کم ہو کر تقریباً 2,500 رہ گئی ہے کیونکہ بعض افراد نے سونے کی تلاش ترک کر دی ہے۔
اگرچہ اس بات میں شک نہیں کہ اس علاقے میں کچھ مقدار میں سونا دریافت ہوا ہے، لیکن زمین میں موجود ذخیرے کے بارے میں سوالات اب بھی برقرار ہیں۔
ڈپٹی کمشنر مزید کہتے ہیں کہ ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ چھوٹے تاجر ہمیں بتا چکے ہیں کہ انہیں اوسطاً روزانہ تقریباً 100 افراد ملتے تھے جو یہاں سے ملنے والی اشیا فروخت کرنا چاہتے تھے۔‘
تاہم یہ معلوم نہیں کہ ملنے والی تمام اشیا واقعی سونا تھیں یا نہیں۔
اطلاعات کے مطابق سونے کی انفرادی دریافتوں کی مالیت چند سو کینین شلنگ سے لے کر ایک ایسی دریافت تک رہی ہے جس کی قدر تقریباً 78,000 شلنگ بتائی گئی۔
ویسٹ پوکوٹ کاؤنٹی کی سرحد یوگنڈا سے ملتی ہے اور دونوں جانب کی برادریوں کے درمیان طویل عرصے سے سماجی اور خاندانی تعلقات موجود ہیں۔
مشرقی یوگنڈا کے علاقے بوسیا سے تعلق رکھنے والے کان کن موگیشا گوڈفرے ایک دوست سے سونے کی دریافت کے بارے میں سننے کے بعد چیپورور پہنچے۔
وہ فوراً اس گاؤں کی جانب روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچنے کے لیے تقریباً 100,000 یوگنڈا شلنگ خرچ کیے۔
تاہم ان کے بقول چیپورور میں رہائش کے حالات سازگار نہیں ہیں۔
گوڈفرے نے بی بی سی کو بتایا ’ہم درختوں کے نیچے سوتے ہیں اور جب صبح ہوتی ہے تو دوبارہ کام شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات ہم دن اور رات دونوں وقت کام کرتے ہیں۔‘
اب تک انہیں کچھ بھی نہیں ملا۔ لیکن وہ مایوس نہیں ہیں۔
’ہم کچھ حاصل کیے بغیر واپس نہیں جا سکتے۔ صرف اس وقت جب ہمیں اپنی مطلوبہ چیز مل جائے گی، ہم گھر واپس جائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہEdwin Naitale / BBC
دیگر لوگ ایسے بھی ہیں جن کے لیے سونے کی تلاش نے کمائی کے دوسرے طریقے پیدا کر دیے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق اس مقام کے اردگرد 200 سے زائد چھوٹے کاروبار وجود میں آ چکے ہیں، جو گاؤں کی اس نئی آبادی کو خوراک، پانی اور دیگر ضروری اشیا فروخت کر رہے ہیں۔
پڑوسی باریِنگو کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والی ارینے ماریجا اس ہجوم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہاں آئی ہیں۔ وہ پانی کی بوتلیں، سافٹ ڈرنکس، ڈبل روٹی، دودھ اور دیگر غذائی اشیا فروخت کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ جب میں یہاں سے جاؤں گی تو اتنی آمدنی حاصل کر چکی ہوں گی کہ اپنے کاروبار کو جاری رکھنے اور اسے وسعت دینے کے قابل ہو جاؤں۔‘
لیکن اس بستی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے علاقے میں بنیادی سہولیات کی کمی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
وہ کہتی ہیں ’یہ ایک جنگلاتی علاقہ ہے اور ہم پہاڑوں کے درمیان موجود ہیں۔ ہمارے پاس نہ پینے کے لیے صاف پانی ہے اور نہ ہی نہانے کے لیے۔‘
ارینے کہتی ہیں کہ خواتین کے لیے رات کے بعد مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں: ’آپ کو ٹھہرنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ تلاش کرنا پڑتی ہے کیونکہ یہاں سونے والے زیادہ تر لوگ مرد ہیں۔‘
مقامی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ لوگوں کی یہاں آمد نے ایک ایسے علاقے پر بے حد دباؤ ڈال دیا ہے، جہاں بنیادی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے، پائپوں کے ذریعے پانی کی فراہمی موجود نہیں اور صفائی ستھرائی کی سہولیات محدود ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام کو حالات کی نگرانی اور بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کے خدشات اور اس مقام پر موجود خواتین اور لڑکیوں کی موجودگی کے باعث سکیورٹی گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEdwin Naitale / BBC
حکام کو یہ تشویش بھی ہے کہ ستمبر میں سکول دوبارہ کھلنے کے بعد بچے کان کنی کی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
نئے تعلیمی سال کے آغاز کے بعد نوجوانوں کو اس مقام پر رکنے سے روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اب بھی سونے کی تلاش میں مصروف افراد بڑی تعداد میں زیادہ گہری کھدائی کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔
پہلے ہی اس مقام سے ملنے والا مواد کئی ٹرکوں میں بھر کر قریبی شہر اورٹم منتقل کیا جا چکا ہے تاکہ اس کی پروسیسنگ کی جا سکے اور حکام نتائج کے منتظر ہیں۔
اس وقت تک کان میں موجود سونے کے کسی بھی ممکنہ ذخیرے کے حجم کے بارے میں غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔
لماچر سمجھتے ہیں کہ کان کنی روکنی نہیں چاہیے بلکہ اسے زیادہ منظم بنانا چاہیے۔
وہ چاہتے ہیں کہ حکومت مقامی کان کنوں کی مدد کرے تاکہ سونے کی تلاش اور اس کے استخراج کے لیے زیادہ محفوظ اور مؤثر طریقے اپنائے جا سکیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم حکومت سے درخواست کریں گے کہ وہ ہمیں میٹل ڈیٹیکٹر جیسی سہولتیں فراہم کرے، جو یہ معلوم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ آیا یہاں دیگر معدنیات بھی موجود ہیں، تاکہ ہماری برادری ترقی کر سکے۔‘
وہ قریبی گھروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے بتاتے ہیں کہ اس علاقے میں غربت کے علاوہ فی الحال کچھ نہیں۔
’اگر آپ اردگرد نظر ڈالیں تو آپ کو شاید ہی کوئی ایسا گھر نظر آئے گا، جہاں لوہے کے چادروں کی چھت موجود ہے۔ یہاں موجود زیادہ تر گھر گھاس پھوس سے بنائے گئے ہیں۔‘



















