معذور افراد کا جنسی استحصال کرنے پر کیئر ہوم ڈائریکٹر کو 15 سال قید: ’وہ کمرے میں آتے اور میرا ریپ کرتے‘

    • مصنف, جونا مون
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، کوریا
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

’میں اندر ہی اندر بہت تکلیف میں تھی، اسی لیے میں نے اپنی کہانی سنانے کا فیصلہ کیا۔‘

پولیس کے سامنے سیو می ہیون کے یہ پہلے الفاظ تھے۔

ذہنی معذوری کے باعث سیو می ہیون لمبے جملوں میں بات کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہیں اور عموماً مختصر الفاظ اور اشاروں سے اپنی بات سمجھاتی ہیں۔ تاہم ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی یادیں بالکل واضح تھیں۔

وہ جنوبی کوریا کے ایک سرکاری نگہداشت مرکز میں رہنے والی ان تین خواتین میں شامل تھیں جنھیں مرکز کے ڈائریکٹر نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس مقدمے نے ملک بھر میں شدید ردِعمل پیدا کیا ہے اور معذور افراد کی سرکاری دیکھ بھال کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

اسی ماہ سیئول کی ایک عدالت نے مرکز کے ڈائریکٹر، جن کی شناخت صرف خاندانی نام کم سے ظاہر کی گئی ہے، کو 15 سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم کم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بعض خواتین کو ڈائریکٹر کو ’پاپا‘ کہہ کر پکارنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

استغاثہ کے مطابق یہ بات کم اور ان کی نگرانی میں رہنے والے افراد کے درمیان غیر مساوی طاقت کے تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب تقریباً دو برس قبل 40 برس سے زائد عمر کی سیو می ہیون نے پہلی بار اپنی والدہ کو اس مبینہ استحصال کے بارے میں بتایا تھا۔

اس رپورٹ میں متاثرہ خاتون سیو می ہیون اور ایک دوسری متاثرہ خاتون کے نام ان کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

’میں خاموشی سے سب کچھ سہتی رہی‘

سیو می ہیون 2016 میں سیک ڈونگ وون نامی ایک نگہداشت مرکز میں رہنے آئیں، جو ذہنی معذوری میں مبتلا افراد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

انچیون شہر میں واقع اس ادارے کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔ اگرچہ اس مقدمے کے بعد حکام نے اسے بند کرنے کی ہدایت دی ہے، تاہم وہاں اب بھی تقریباً 33 افراد مقیم ہیں۔

سیو کے مطابق ان کے ساتھ جنسی استحصال کا سلسلہ وہاں آنے کے کچھ ہی عرصے بعد شروع ہو گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کم رات کے وقت یا علی الصبح کمرے میں آتے اور میرا ریپ کرتے۔‘

اپنی وکیل کو ایون ینگ کے ذریعے بات کرتے ہوئے سیو نے بتایا کہ ادارے میں کوئی ایسا بالغ فرد موجود نہیں تھا جسے وہ اپنی تکلیف بتا سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ بھی یقین نہیں تھا کہ عملے کے دوسرے ارکان ان کی مدد کریں گے۔

بی بی سی کو اس کیئر ہوم نے اس الزام پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

سیو کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 برس تک ان کی زندگی اسی طرح گزری، یہاں تک کہ فروری 2025 میں یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ان کے سر پر چوٹ لگی۔

ان کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کم نے ایک بار پھر ان پر جنسی حملے کی کوشش کی۔ سیو نے خود کو بچانے کے لیے ہاتھوں سے روکنے کی کوشش کی تو کم نے غصے میں ان پر شیشہ پھینک دیا۔

ان کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نگہداشت مرکز نے سیو کو ہسپتال منتقل کیا اور ان کی والدہ کو واقعے کی اطلاع اس وقت دی جب سر کا زخم ٹانکوں کی مدد سے بند کیا جا چکا تھا۔

سیو کی وکیل کے مطابق ان کی والدہ نے یہ جاننے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگی کہ ان کی بیٹی کو چوٹ کیسے لگی، لیکن ادارے نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ ویڈیو جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

اس کے بعد ان کی والدہ سیو کو اپنے گھر لے آئیں اور فیصلہ کیا کہ وہ انھیں ادارے سے نکال لیں گی۔ سیو نے مبینہ جنسی استحصال کے بارے میں اپنی والدہ کو اسی وقت بتایا جب انھیں یقین ہو گیا کہ انھیں دوبارہ سیک ڈونگ وون واپس نہیں جانا پڑے گا۔

اس کے بعد ان کی والدہ نے پولیس کو رپورٹ درج کرائی۔

سیو نے اپنی وکیل کے ذریعے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے بتایا گیا تھا کہ اب مجھے سیک ڈونگ وون واپس نہیں جانا پڑے گا، اس لیے مجھے لگا کہ اب سچ بتانے کا موقع آ گیا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اتنے برس تک اکیلے یہ سب کیسے برداشت کرتی رہیں تو ان کا مختصر جواب تھا کہ ’میں خاموشی سے سب کچھ سہتی رہی۔‘

اس کے بعد پولیس نے سیو کے الزامات کی تحقیقات کا دائرہ وہاں رہنے والے دیگر رہائشیوں تک بھی بڑھا دیا۔

تحقیقات کے دوران کم از کم دو اور مبینہ متاثرین سامنے آئیں جن میں لی مِینا بھی شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم نے ان کا بھی ریپ کیا تھا۔

اسی ماہ عدالت نے قرار دیا کہ تینوں متاثرہ خواتین کے بیانات قابلِ اعتبار ہیں۔

عدالت نے کم کو سیو اور لی کے ساتھ متعدد بار ریپ کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی۔

یہ سزا اس مدت سے پانچ سال کم ہے جس کا مطالبہ استغاثہ نے کیا تھا۔ کم نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

تیسری متاثرہ خاتون کے معاملے میں عدالت نے کم کو جنسی تشدد کے ایک نسبتاً کم سنگین جرم کا قصوروار قرار دیا۔

جج نے کہا کہ اس خاتون سے ریپ کے الزام میں کم کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ اس بات کے حتمی شواہد نہیں ملے کہ متاثرہ خاتون کو مزاحمت سے روکنے کے لیے طاقت یا دھمکی کا استعمال کیا گیا تھا۔

’وہاں کے رہائشی زیادہ تر شدید معذوری کا شکار تھے‘

معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور دیگر سماجی گروہوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ کسی متاثرہ شخص کی مزاحمت کرنے یا نہ کر پانے کی صلاحیت کو عدالتی فیصلے پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔

کمیٹی نے تحقیقات کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ممکنہ طور پر مزید متاثرین کی نشاندہی کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوا ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں ابتدائی الزامات سامنے آنے کے بعد گنگھوا کاؤنٹی کی مقامی انتظامیہ نے ووسُک یونیورسٹی کی ایک ٹیم کو سیک ڈونگ وون کے رہائشیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کی گئی اس رپورٹ میں اشارہ دیا گیا تھا کہ کم کے ہاتھوں کم از کم 10 مزید رہائشی بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنے ہونے کے امکانات سامنے آئے ہیں۔

تاہم مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے اس پہلو پر تفصیلی غور نہیں کیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس کو کیئر ہوم میں رہنے والوں سے پوچھ گچھ کے دوران مبینہ استحصال کی تفصیلات معلوم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ زیادہ تر وہاں رہنے والے رہائشی شدید معذوری کا شکار تھے اور اپنے خیالات واضح طور پر بیان نہیں کر سکتے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ کیئر ہوم کے بعض رہائشی سوال کے جواب میں غیر متعلق باتیں کرتے تھے جبکہ کچھ کوئی جواب ہی نہیں دے پاتے تھے۔

کم نے ان الزامات پر کوئی ردِعمل نہیں دیا تاہم عین ممکن ہے انھوں نے کیئر ہوم کے مزید رہائشیوں کے ساتھ بھی جنسی استحصال کیا ہو۔

ووسوک یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر جیون جی سو نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش کاروں نے ’صرف ان افراد کے بیانات کو قبول کیا جو مکمل جملوں میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی بیان کر سکتے تھے۔‘

تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ زبانی گواہی پر اس حد تک انحصار کرنے کی وجہ سے پولیس ایسے رہائشیوں کو متاثرہ فریق کے طور پر تسلیم نہیں کر سکی جنھیں بات چیت میں زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔

معذور افراد کے خلاف جنسی تشدد سے متاثرہ لوگوں کی معاونت کے ادارے ہان ساہوئے سے وابستہ بیک اِن سونگ نے کہا کہ ’اگر متاثرین اپنے تجربات اس انداز میں بیان کرتے ہیں جو ہماری توقعات سے مختلف ہو، تو کیا ریاست کو ان کی آواز سننے کے لیے زیادہ کوشش نہیں کرنی چاہیے؟‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ بعض انفرادی معاملات میں کوتاہیاں ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر پوری تفتیش کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

حقوقِ انسانی کے گروپوں نے ان افراد اور اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنھوں نے کم کی سزا کے لیے نرمی کی اپیل کی۔

فیصلے سے قبل عدالت میں کم از کم 13 درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں جن میں سزا میں نرمی کی استدعا کی گئی۔

ان میں سے سماجی بہبود کے ادارے کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک درخواست میں عدالت سے کہا گیا تھا کہ ملزم کی ’فلاحی شعبے میں خدمات‘ کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔

’سنگین اور قابلِ مذمت جرم‘

معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم گیول نے سزا میں نرمی کے حق میں دائر کی جانے والی درخواستوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’فلاحی شعبے میں ماضی کی خدمات کسی شخص کو جوابدہی سے مستثنیٰ نہیں کرتیں۔‘

کم کو سزا سناتے ہوئے جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان کا جرم ’خاص طور پر سنگین اور قابلِ مذمت‘ تھا، کیونکہ وہ متاثرین کے ’حقوق اور مفادات کے تحفظ اور ان کے خلاف بدسلوکی روکنے کے ذمہ دار تھے، لیکن اس کے برعکس انھوں نے اپنی حیثیت اور اختیار کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور اپنے زیرِ نگہداشت افراد کے ساتھ طاقت کے غیر مساوی تعلق کو استعمال کیا اور اپنی جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے انھیں نشانہ بنایا۔‘

عوامی غصہ اور احتجاج

اس مقدمے نے جنوبی کوریا میں بہت سے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آخر اس جنسی استحصال کو پہلے ہی کیوں نہیں روکا جا سکا۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے جب ملک میں معذور افراد کو جنسی تشدد سے بچانے کے لیے قوانین کو پہلے ہی سخت کیا جا چکا تھا۔

یہ قوانین 2011 میں ایک مشہور فلم دوگانی (Dogani) کی نمائش کے بعد متعارف کرائے گئے تھے۔ یہ فلم سماعت سے محروم بچوں کے ایک سکول میں ہونے والے جنسی تشدد کے حقیقی واقعات پر مبنی تھی۔

فلم کی نمائش کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا، احتجاج ہوئے اور متعلقہ سکول کو بند کر دیا گیا۔

اس عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے قوانین مزید سخت کیے۔ ان اصلاحات میں معذور افراد کے خلاف جنسی جرائم کی الگ اور واضح قانونی درجہ بندی، نگہداشت مراکز کے منتظمین اور عملے کی جانب سے کیے جانے والے جرائم کے لیے سخت سزائیں، اور معذور متاثرین سے ریپ کے بعض مقدمات میں قانونی مدتِ سماعت (سٹیچو آف لمیٹیشنز) کا خاتمہ شامل تھا۔

تاہم سیک ڈونگ وون کے معاملے میں استحصال اس وقت بھی جاری رہا جب گنگھوا کاؤنٹی کی جانب سے ادارے کے باقاعدہ معائنے کیے جا رہے تھے۔

کاؤنٹی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان معائنوں میں زیادہ توجہ انتظامی ریکارڈ اور دستاویزات کے جائزے پر دی جاتی تھی، جبکہ وہاں مقیم افراد سے براہِ راست بات چیت عموماً اسی صورت میں کی جاتی تھی جب کسی مخصوص مسئلے کی نشاندہی ہو۔

انھوں نے کہا کہ ادارے کی نگرانی کے لیے ایک بیرونی مانیٹرنگ ٹیم بھی موجود تھی، تاہم عملے کی جانب سے کسی شکایت یا تشویش سے انھیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

اہلکار کے مطابق بعد میں سامنے آنے والی معلومات کی روشنی میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ صورتحال کا مزید تفصیل سے جائزہ لیا جا سکتا تھا، جس سے ایسے مسائل کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکتی تھی۔

نگہداشت مراکز میں رہنے والے بعض متاثرین کی مدد کرنے والی مشاورتی تنظیم کی نمائندہ جو ہا کہتی ہیں کہ جن خاندانوں سے انھوں نے بات کی، ان میں سے بعض کو خدشہ تھا کہ ادارے میں بدسلوکی ہو رہی ہےتاہم وہ اس بارے میں آواز اٹھانے سے ہچکچا رہے تھے۔

ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اگر خاندان اپنے عزیز کو ایسے ادارے سے نکال لیتے تو پھر ان کی دیکھ بھال کی پوری ذمہ داری خود انھیں اٹھانی پڑتی جبکہ کسی دوسرے مناسب ادارے میں جگہ ملنا آسان نہیں ہوتا۔

معذور افراد کے رہائشی مراکز میں مقیم افراد کے والدین کی ایک قومی تنظیم کے سروے کے مطابق، ایسے مراکز میں داخلہ حاصل کرنے والے تقریباً 10 میں سے 6 افراد کو کم از کم تین سال انتظار کرنا پڑا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مناسب نگہداشت کی سہولت حاصل کرنا بہت سے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

معذوری،غربت، اور سماجی تنہائی

ووسُک یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف کاگنیٹو سائنس کے سربراہ پروفیسر کم یون تائے کہتے ہیں کہ ایسے نگہداشت مراکز میں رہنے والوں کی زندگی کے بیشتر معاملات ادارے کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ بھی وہی طے کرتے ہیں کہ وہاں رہنے والے کیا کھائیں گے، کہاں رہیں گے، انھیں طبی سہولتیں کیسے ملیں گی اور آیا انھیں باہر جانے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

جو ہا کے مطابق سیک ڈونگ وون کا معاملہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ استحصال اور بدسلوکی ایک طویل عرصے تک جاری رہی اور اس کا دائرہ بھی وسیع تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں۔

2023 میں ایک اپیل عدالت نے یونگ چیون کے ایک نگہداشت مرکز کے ملازم کی آٹھ سال قید کی سزا برقرار رکھی تھی۔ اسے ذہنی معذوری کا شکار دو خواتین کے ساتھ زیادتی اور جنسی تشدد کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

اسی طرح ایک اور مقدمے میں آنسیونگ کے ایک نگہداشت مرکز کے ملازم کو حال ہی میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر ایک معذور خاتون رہائشی کو بار بار زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ثابت ہوا تھا۔

جو ہا کہتی ہیں کہ ’معذور خواتین کے خلاف تشدد کو صرف انفرادی واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔‘

ان کے بقول، ’یہ ایک گہرا سماجی مسئلہ ہے، جس کی جڑیں صنفی عدم مساوات، معذوری، اداروں پر انحصار، غربت اور سماجی تنہائی جیسے عوامل میں پیوست ہیں۔‘