سہ فریقی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کی سری لنکا کے خلاف جیت، سلمان آغا کے اشارے اور گیری کرسٹن کی مایوسی کا احوال

Pakistan Cricket
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان نے سلمان علی آغا کی جارحانہ بلے بازی اور فاسٹ بولرز کی نپی تلی بولنگ کے باعث سہ فریقی سیریز کے پہلے میچ میں سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دی ہے۔

اتوار کو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں سری لنکا کی ٹیم پاکستان کی جانب سے دیے گئے 306 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 268 رنز بنا سکی۔

میچ کی خاص بات پاکستان کے سابق کپتان سلمان علی آغا کی سینچری تھی، جنھوں نے 90 گیندوں پر 107 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں ایک چھکا اور 10 چوکے شامل تھے۔

سری لنکا کی جانب سے پون رتنائیکے 79، جنیتھ لیانگے 60، کامینڈو مینڈس 44 اور دسن شناکا 28 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ ایک موقع پر سری لنکا کو میچ جیتنے کے لیے 68 رنز درکار تھے اور اس کی پانچ وکٹیں باقی تھیں۔ لیکن سری لنکن بلے باز اہم مواقع پر اپنی وکٹیں گنواتے رہے۔

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی 10 اوورز 55 رنز دے کر تین جبکہ نسیم شاہ 10 اوورز میں 43 رنز دے کر نمایاں رہے۔ حارث رؤف نے 48 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔

Pakistan cricket

سلمان علی آغا کا منفرد جشن اور پاکستانی بیٹنگ کا احوال

سری لنکن کپتان کوشال مینڈس نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان کو پہلا نقصان اُس وقت اُٹھانا پڑا جب 23 کے مجموعی سکور پر آؤٹ آف فارم صائم ایوب صرف سات رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان کی دوسری وکٹ 32 رنز پر گری جب فخر زمان بھی 16 رنز بنا کر اپنی وکٹ کھو بیٹھے۔

تیسری وکٹ کی شراکت پر سابق کپتان بابر اعظم اور اپنا ون ڈے ڈیبو کرنے والے وکٹ کیپر بلے باز سعد بیگ نے محتاط انداز میں پاکستان کی اننگز کو آگے بڑھایا۔

Salman Ali Agha
،تصویر کا کیپشنسلمان علی آغا راولپنڈی میں جارحانہ سینچری کرنے کے بعد منفرد انداز میں جشن منا رہے ہیں

پاکستان کا سکور جب 106 ہوا تو بابر اعظم 45 رنز بنا کر ملنگا کی گیند پر رتنائیکے کو کیچ تھما بیٹھے۔ اُنھوں نے 57 گیندوں پر محیط اپنی اننگز میں چھ چوکے لگائے۔ اننگز کا 22 واں اوور جاری تھا کہ 118 کے مجموعی سکور پر سعد بیگ بھی ہمت ہار گئے اور 39 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

راولپنڈی کی بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر چار وکٹیں گنوانے کے بعد ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ پاکستان کی اننگز جلدی سمٹ جائے گی، لیکن کریز پر آنے والے سلمان علی آغا کے عزائم کچھ اور ہی تھے۔

سلمان علی آغا نے نہ صرف رنز بنانے کی رفتار کو تیز کیا بلکہ حسن نواز کے ساتھ مل کر پاکستان کی ڈگمگاتی بیٹنگ لائن کو سہارا دیا اور ٹوٹل 215 رنز پر پہنچا دیا، جہاں حسن نواز کی وکٹ گر گئی۔ اُنھوں نے 37 رنز بنائے۔

حسن نواز کے بعد سلمان علی آغا کا ساتھ دینے آل راؤنڈر عرفات منہاس آئے، جو 15 گیندوں پر 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

Pakistan Salman Ali Agha

سلمان علی آغا 90 گیندوں پر 107 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ان کی اننگز میں ایک چھکا اور 10 چوکے شامل تھے۔ سینچری کے بعد سلمان علی آغا نے ڈریسنگ روم کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی آنکھوں کی جانب اشارہ کیا۔

سری لنکا کی جانب سے ایشان ملنگا 10 اوورز میں 46 رنز دے کر چار جبکہ اسیتھا فرنینڈو 10 اوورز میں 59 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کر کے نمایاں رہے۔

سلمان علی آغا کا شاندار کم بیک

خیال رہے کہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان سلمان علی آغا اُن سات کھلاڑیوں میں شامل تھے، جنھیں اگست میں لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان واپس بھجوا دیا گیا تھا۔

سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی تھی، دوسرے سے اُنھیں ڈراپ کر دیا گیا تھا جبکہ تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل اُنھیں واپس بھجوا دیا گیا تھا۔ لہذا سری لنکا کے خلاف میچ اس متنازع واقعے کے بعد اُن کا پہلا میچ تھا۔

یہ ون ڈے میچز میں سلمان علی آغا کی چوتھی سینچری تھی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سوشل میڈیا پر جہاں سلمان علی آغا کی سینچری کا چرچا ہے تو وہیں اچھے آغاز کے باوجود بابر اعظم کے جلد آؤٹ ہونے پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔

اُسامہ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ سلمان آغا کو سیریز کے دوران ڈراپ کر دیا گیا، ٹی 20 کپتانی سے ہٹایا گیا۔ ٹی 20 ٹیم سے باہر ہوئے۔ لیکن کوئی شکایت نہیں کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ سلمان علی آغا جس انداز سے ہر ناکامی یا مشکل مرحلے کے بعد دوبارہ سنبھلے ہیں، وہ بھرپور داد کے مستحق ہیں۔

ایک انڈین صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’ون ڈے کرکٹ میں سلمان آغا، شریاس آئیر اور کے ایل راہول سے بہتر ہیں۔ اگر وہ باقاعدگی سے انڈین وکٹوں پر کھیلے ہوتے، تو اب تک 15 ون ڈے سینچریاں بنا چکے ہوتے۔‘

ولید نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’بابر اعظم کو سلمان علی آغا سے سیکھنا چاہیے کہ جدید کرکٹ میں، محض ذاتی اعداد و شمار بڑھانے کے بجائے، اننگز کی رفتار کو کیسے تیز کیا جائے۔‘

عروج جاوید نامی صارف نے لکھا کہ جب بھی ہم بابر اعظم سے توقع کرنے لگتے ہیں، وہ اپنی وکٹ گنوا دیتے ہیں۔

عاطف نامی صارف نے لکھا کہ سلمان علی آغا اپنی سینچری کا جشن مناتے ہوئے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ’سوچتا ہوں، یہ اشارہ کس کے لیے تھا؟‘

سری لنکا کا سکور جب چھ وکٹوں پر 256 تھا تو کریز پر موجود بلے باز دسن شناکا شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر اُونچا شاٹ کھیلتے ہوئے کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اس دوران سری لنکا کے کوچ گیری کرسٹن ہاتھ کے اشارے سے بلے باز کی جلد بازی پر مایوسی کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔

عبداللہ نامی صارف نے لکھا کہ اس موقع پر سری لنکا کو 34 گیندوں پر 50 رنز درکار تھے، لہذا گیری کرسٹن کا مایوس ہونا بنتا ہے۔

باسط سبحانی نامی صارف نے گیری کرسٹن سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش کی کوچنگ کرنا آسان کام نہیں ہے۔

سہ فریقی سیریز کا دوسرا میچ 20 اکتوبر کو راولپنڈی میں پاکستان اور انگلینڈ کے مابین کھیلا جائے گا۔