شوہر کو قتل کر کے لاش کنکریٹ میں دفن کرنے والی بیوی کو سزائے موت

پولیس ملزم ساحل کو لے گئی
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

(تنبیہ: اس خبر کی بعض معلومات آپ کو پریشان کر سکتی ہیں)

میرٹھ کی ایک عدالت نے اپنے شوہر کے قتل کے بعد لاش کے ٹکڑے کرکے انھیں ایک ڈرم میں بھرنے کے مقدمے میں ایک خاتون مسکان اور ان کے ساتھی ساحل کو سزائے موت سنا دی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلنواز پاشا نے استغاثہ کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

ضلع جج اروند کمار نے تقریباً ڈیڑھ سال بعد یہ فیصلہ سنایا۔ مسکان اور ساحل دونوں جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت میں شامل ہوئے اور پوری کارروائی کے دوران خاموش رہے۔

استغاثہ کے وکیل وجے بہادر نے بتایا کہ قتل کے مقدمے میں ساحل اور مسکان کو سزائے موت سنائی گئی ہے اور عدالت نے دونوں مجرموں پر 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

اس کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت دونوں کو سات سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

معاملہ کیا تھا؟

مقتول سوربھ راجپوت کی فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنمقتول سوربھ راجپوت کی فائل فوٹو

مارچ 2025 میں اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک ہولناک قتل کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ پولیس کے مطابق، سوربھ راجپوت نامی شخص کو ان کی اپنی بیوی نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر قتل کر دیا تھا۔

29 سالہ سوربھ راجپوت لندن میں ملازمت کرتے تھے اور فروری 2025 میں ہی واپس آئے تھے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سوربھ کے اہل خانہ نے میرٹھ پولیس میں ان کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی تھی۔

جب پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو اس لرزہ خیز جرم سے متعلق چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آنے لگیں۔

میرٹھ پولیس نے بتایا کہ 28 سالہ مسکان رستوگی نے اپنے بوائے فرینڈ ساحل شکلا کے ساتھ مل کر 3 مارچ کو اپنے شوہر سوربھ راجپوت کو قتل کر دیا تھا۔

پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ لاش کو ایک ڈرم میں رکھ کر اس میں کنکریٹ بھر دیا گیا تھا۔

پولیس نے اس ڈرم کو قبضے میں لے کر تھانے منتقل کیا، جس کے بعد کٹر کی مدد سے ڈرم کاٹ کر لاش کو باہر نکالا گیا۔

سوربھ راجپوت کے بڑے بھائی راہول عرف ببلو کی شکایت پر پولیس تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) میرٹھ آیوش وکرم سنگھ نے میڈیا کو بتایا، ’سوربھ راجپوت کو 4 مارچ کے بعد کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ شبہے کی بنیاد پر ان کی بیوی مسکان اور اس کے عاشق ساحل شکلا کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا۔‘

انھوں نے کہا، ’تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ساحل نے مسکان کے ساتھ مل کر سوربھ کو قتل کر دیا تھا۔ قتل کے بعد لاش کے مختلف حصے ایک ڈرم میں ڈال کر اس میں سیمنٹ اور ریت کا آمیزہ بھر دیا گیا۔ اس کے بعد دونوں ملزمان سیر و تفریح کے لیے شملہ، منالی اور کساولی چلے گئے تھے۔‘

میرٹھ کے برہم پوری علاقے کے رہائشی سوربھ راجپوت نے 2016 میں اپنے گھر کے قریب رہنے والی مسکان رستوگی سے پسند کی شادی کی تھی۔

دونوں خاندانوں کی مخالفت کے باوجود یہ شادی ہوئی تھی۔ 2019 میں مسکان نے ایک بیٹی کو جنم دیا تھا۔

طلاق تک نوبت کیوں پہنچی؟

پولیس کے مطابق، خراب مالی حالات کی وجہ سے سوربھ کی اپنے والدین سے کہا سنی ہو گئی تھی، جس کے بعد وہ مسکان کے ساتھ قریبی علاقے اندرا نگر میں رہنے لگے تھے۔

سوربھ کی غیر موجودگی میں مسکان اور ساحل شکلا کے درمیان قربت بڑھ گئی۔

اے ایس پی آیوش وکرم سنگھ کے مطابق، 27 سالہ ساحل سوربھ کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر رہتا تھا۔ وہ اور مسکان آٹھویں جماعت میں ایک ساتھ پڑھ چکے تھے۔ ساحل نے بی کام تک تعلیم حاصل کی تھی اور آن لائن ٹریڈنگ کے کاروبار سے وابستہ تھا۔

ان کے مطابق، جب سوربھ کو اپنی بیوی اور ساحل کے تعلقات کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے 2021 میں طلاق کے لیے قانونی کارروائی شروع کی تھی، لیکن بیٹی کے کم عمر ہونے اور گھر والوں کی سمجھانے بجھانے کے بعد انھوں نے اپنی شکایت واپس لے لی تھی۔

تاہم، اس کے بعد بھی دونوں کے درمیان اکثر کشیدگی اور اختلافات برقرار رہے۔

تین اور چار مارچ کو کیا ہوا؟

میرٹھ میں جائے وقوعہ کے باہر جمع ایک بڑی بھیڑ کی تصویر۔
،تصویر کا کیپشنمیرٹھ میں جائے وقوعہ کے باہر جمع ایک بڑی بھیڑ کی تصویر

پولیس کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران مسکان نے اپنا جرم قبول کر لیا تھا۔

مسکان نے پولیس کو بتایا تھا کہ دو سال پہلے سوربھ ملازمت کے لیے لندن گئے تھے۔ اس دوران مسکان اور ساحل کے درمیان دوستی گہری ہو گئی تھی۔

مسکان کے مطابق، سوربھ کا پاسپورٹ ختم ہونے والا تھا اور وہ اسے تجدید کرانے کے لیے 24 فروری کو انڈیا واپس آنے والے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مسکان اور ساحل نے پہلے ہی پوری منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ دونوں نے چاقو اور بے ہوشی کی دوا بھی خرید رکھی تھی۔

پولیس کے مطابق، قتل والے دن یعنی 3 مارچ کی رات مسکان نے سوربھ کے کھانے میں بے ہوشی کی دوا ملا دی۔ جب سوربھ بے ہوش ہو گئے تو ساحل نے انھیں قابو میں رکھا اور مسکان نے ان پر چاقو سے کئی وار کیے۔

پولیس کے مطابق، اس کے بعد دونوں سوربھ کی لاش کو باتھ روم میں لے گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہاں لاش کے ٹکڑے کیے گئے اور ثبوت مٹانے کے لیے کمرے کو بلیچنگ پاؤڈر سے صاف کیا گیا۔

پولیس کے مطابق، 4 مارچ کو مسکان بازار سے ایک ڈرم اور سیمنٹ خرید کر لائی۔ بعد ازاں انسانی باقیات کو ڈرم میں رکھا گیا اور اس میں سیمنٹ کنکریٹ بھر دیا گیا۔

قتل کا راز کیسے سامنے آیا؟

پولیس نے بتایا کہ سوربھ کی لاش نیلے ڈرم میں رکھی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنپولیس نے بتایا کہ سوربھ کی لاش نیلے ڈرم میں رکھی گئی تھی

پولیس کے مطابق، سوربھ کی لاش چھپانے کے بعد مسکان اپنی بیٹی کو اپنی والدہ کے پاس چھوڑ کر خود ساحل کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے نکل گئی تھی۔

شادی کے بعد سوربھ کے اپنے خاندان سے تعلقات زیادہ نہیں رہے تھے، اسی لیے کئی دنوں تک کسی کو ان کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہوا۔

17 مارچ کو جب مسکان واپس آئی تو اس کی چھ سالہ بیٹی نے اپنے والد سوربھ کے بارے میں پوچھا۔ اس پر مسکان جذباتی ہو گئی۔

بعد میں وہ اپنے میکے گئی اور اپنے سسرالی رشتہ داروں پر سوربھ کے قتل کا الزام لگایا، لیکن اس کے اہل خانہ کو اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔

اس کے بعد مسکان کے گھر والے خود اسے پولیس سٹیشن لے گئے۔

پولیس کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران مسکان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، جس کے بعد لاش چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا ڈرم بھی برآمد کر لیا گیا۔

سوربھ کے بھائی نے کیا کہا تھا؟

سوربھ اپنے تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے بھائی راہول عرف ببلیو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ظالموں نے میرے بھائی کو قتل کر دیا۔ مسکان ہی وہ فرد تھی جس نے میرے بھائی کو خاندان سے دور کیا تھا۔ اس معاملے میں کوئی بڑا سازشی منصوبہ بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے مسکان کے خاندان کی شمولیت کا شبہ ہے۔ جو بھی قصوروار ہو، اسے سخت سزا ملنی چاہیے۔‘

سوربھ جس مکان میں رہتے تھے، اس کے مالک اوم پال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے بالکل یقین نہیں آ رہا تھا کہ مسکان ایسا کچھ کر سکتی ہے۔‘

مقامی کونسلر راجیو گپتا نے کہا ’مسکان کا ساحل کے ساتھ تعلق تھا اور سوربھ کے ساتھ اس کے تعلقات پہلے ہی خراب چل رہے تھے۔‘

دوسری جانب مسکان کا اپنا خاندان بھی اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ مسکان رستوگی کے والدین نے اپنی بیٹی کو معاشرے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو میں کہا ’میری بیٹی نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اپنے ہی کمرے میں اپنے شوہر کو قتل کر دیا۔ وہ اس معاشرے میں رہنے کے قابل نہیں اور دوسروں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اسے سزائے موت ملنی چاہیے۔‘

مسکان کی والدہ نے بھی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوربھ بہت اچھا لڑکا تھا اور ان کی بیٹی نے اس کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا ہے۔

بدھ کے روز جب پولیس ساحل شکلا اور مسکان رستوگی کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے لے جا رہی تھی تو کچھ وکلا نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے دونوں کو ہجوم سے بچایا اور وہاں سے بحفاظت نکال لیا۔