گوجرانوالہ میں حاملہ اہلیہ پر مبینہ تشدد کرنے والے شوہر کے خلاف مقدمے میں اقدام قتل اور چوری کی دفعات شامل

Woman domestic violence
،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)
    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انتباہ: اس رپورٹ میں شامل کچھ تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

گوجرانوالہ پولیس نے پانچ ماہ کی حاملہ اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار شخص کے خلاف مقدمے میں چوری اور اقدام قتل کی دفعات بھی شامل کر دی ہیں۔

ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنی اہلیہ پر تشدد کر کے اسے اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ خاتون پر مبینہ تشدد کا یہ واقعہ 27 اور 28 ستمبر کی درمیانی شب پیش آیا تھا۔

جمعرات کو جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عثمان کی عدالت میں پولیس نے ملزم کو پیش کیا اور بتایا کہ اس نے وہ قینچی برآمد کر لی ہے، جس سے ملزم طیب نے اپنی اہلیہ کے چہرے پر زخم لگائے۔

دوسری جانب ملزم کے وکلا نے عروج کے چہرے پر آنے والی چوٹوں کو ’خود ساختہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل معاملہ پیسوں کے لین لین کا ہے اور الزام عائد کیا کہ مدعی مقدمے کے ذریعے ’بلیک میلنگ‘ کرکے مزید رقم حاصل کرنا چاہتا ہے۔

تاہم مبینہ تشدد کا شکار عروج کے وکلا نے الٹرا ساؤنڈ میں دوسری بیٹی کے بارے علم ہونے کی وجہ سے تشدد کرنے کے مؤقف کو دہرایا اور خاتون کو آنے والی چوٹوں کے بارے عدالت کو آگاہ کیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عثمان نے وکلا کے دلائل اور تفتیشی افسر کو سننے کے بعد ملزم طیب کو مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

ملزم کے والد نے کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے بیٹے پر لگنے والے الزامات کی تردید کی ہے کہا کہ ان کی ’گیارہ پوتیاں ہیں، میں نے سب کی پیدائش پر عقیقے کیے اور خوشی سے مٹھائیاں بھی بانٹی تھیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی بہو کے بھائی نے ان کے بیٹے سے ڈیڑھ کروڑ روپے ادھار لے رکھے تھے اور بطور گارنٹی چیک بھی دیے ہوئے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ادھار لی گئی رقم واپس نہ کرنے پر ’میاں اور بیوی میں جھگڑے ہوا۔‘

معاملہ ہے کیا؟

گوجرانوالہ پولیس نے 28 ستمبر کو پانچ ماہ کی حاملہ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں ان کے شوہر کو گرفتار کیا تھا، جس نے مبینہ طور پر پہلے اپنی اہلیہ کو اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

ملزم کی اہلیہ اور متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد اُن کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی اور اب جب وہ دوبارہ حاملہ ہوئیں تو الٹراساؤنڈ رپورٹ میں پتا چلا کہ اُن کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش ہو گی جس پر ابتدا میں اُن کے شوہر نے مبینہ طور پر انھیں اسقاطِ حمل پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور انکار پر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

سی پی او گوجرانوالہ کے آفس سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ خواتین پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کرتے ہوئے ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا ہے؟

اس واقعے کا مقدمہ 28 ستمبر کو گوجرانوالہ کے تھانہ صدر میں متاثرہ خاتون کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق اُن کی بیٹی کی شادی چار سال قبل ملزم کے ساتھ ہوئی تھی اور اس جوڑے کی ایک سال کی بیٹی ہے۔ مدعی مقدمہ کے مطابق اُن کی بیٹی دوبارہ دوبارہ حاملہ ہیں اور حمل کی مدت لگ بھگ پانچ ماہ ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق والد نے پولیس کو بتایا کہ 27 ستمبر کی رات انھیں اپنی بیٹی کا فون موصول ہوا جس نے بتایا کہ اُس کا شوہر مار پیٹ کر رہا ہے۔ بیٹی نے والد سے استدعا کی کہ اسے بچایا جائے۔

File photo

والد کے مطابق وہ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ بیٹی کے سسرال پہنچے، جہاں وہ شدید زخمی حالت میں تھیں۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اُن کے شوہر پہلی بیٹی کی پیدائش پر بھی ناراض تھے اور اب پھر حاملہ ہونے پر جب الٹراساؤنڈ کروایا گیا تو ڈاکٹر نے حمل میں بیٹی کی موجودگی کا بتایا جس پر شوہر ناراض ہوا۔

ایف آئی آر کے مطابق ’یہ پتہ چلنے کے بعد سے ملزم اپنی اہلیہ کو ہراساں کرتا اور اسقاط حمل کی ترغیب دیتا رہا اور کہتا رہا کہ ’میں نے بیٹی نہیں لینی۔‘

مدعی مقدمہ کے مطابق متاثرہ خاتون کے لگاتار انکار پر ملزم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور مبینہ طور پر ٹانگیں مار کر خود سے حمل ضائع کرنے کی کوشش کی۔

متاثرہ خاتون نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے گریجویشن کر رکھی ہے جبکہ اُن کے شوہر انٹر پاس ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اُن کے مطابق اُن کے شوہر پہلی بچی کی پیدائش پر بھی خوش نہیں تھے اور جب دوسرے حمل کے بارے میں بھی یہی پتہ چلا تو ’اس نے پہلے بچہ ضائع کروانے کی بات کی اور انکار پر تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

دوسری جانب زیر حراست ملزم کے اہلخانہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاملہ سکریپ کے کاروبار میں دونوں خاندانوں کے لین دین کے تنازع کا شاخسانہ ہے۔

ملزم کے اہلخانہ کے مطابق پیسوں کے لین دین کے معاملے کی وجہ سے اُن کے بھائی پر تشدد کا الزام لگا کر اسے جھوٹے مقدمے میں الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق وکیل کی خدمات حاصل کر کے وہ اس مقدمے کا عدالت میں سامنا کریں گے۔

ملزم کے اہلخانہ کے اس دعوے پر گوجرانوالہ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ سامنے آیا ہے کہ خاتون پر تشدد کیا گیا ہے جس کے باعث وہ زخمی ہیں تاہم یہ دعویٰ کہ دونوں خاندانوں کے درمیان لین دین کا تنازع تھا، اس کو علیحدہ سے دیکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ فی الحال خاتون کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال سے میڈیکل کروا لیا گیا ہے، اور اسی کی بنیاد پر اس کیس میں تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔