امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر ’الیکٹرانک دستخط‘ کی توقع: کن نکات پر اتفاق ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, گیری او ڈونیہیو اور جیک برگیز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان قیام امن کے معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل دے دی جائے گی اور اس سلسلے میں ’الیکٹرانک دستخط‘ کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ایکس پر پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکٹرانک دستخط کے بعد ’اگلے ہفتے تکنیکی سطح پر بات چیت ہو گی۔‘
پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ پائیدار امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔‘
دریں اثنا لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی حملے کیے ہیں اور 20 مقامات میں لوگوں کے انخلا کا حکم دیا گیا تھا۔
جبکہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ لڑائی ختم کرنے کا معاہدہ قریب ہے۔ عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کا بھی تصور شامل ہے۔
عراقچی نے کہا کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔ انھوں نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اس معاہدے میں ایران پر امریکہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہے تاہم انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں شروع ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی حکام نے معاہدے کی کچھ تفصیلات کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ایران کے لیے معاشی فوائد کا انحصار تہران کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر ہو گا۔
امریکہ نے ماضی میں کہا تھا کہ ممکن ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہ ہو جبکہ اطلاعات کے مطابق ایران اس پر اصرار کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر حملے کیے اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان وقفے وقفے سے حملوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے جس میں اس ہفتے جوابی حملوں کے دو ادوار بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ انھوں نے ایران کے خلاف طے شدہ حملے منسوخ کر دیے ہیں۔ ان کے بقول مذاکرات کاروں کے درمیان ایک ’شاندار معاہدہ‘ ہونے جا رہا ہے جو کہ ممکنہ طور پر جلد دستخط کے لیے تیار ہو گا۔
جمعے کو ایرانی میڈیا نے ممکنہ 14 نکاتی معاہدے کی کچھ تفصیلات شائع کیں جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ان نکات کا طے شدہ شرائط سے کوئی تعلق نہیں۔ چند گھنٹوں بعد پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر اتفاق ہو گیا اور یہ حتمی شکل کے قریب ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں معاہدے کی تازہ شرائط کے حامی اور مخالف دونوں موجود ہیں۔
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ کوئی اجتماعی فیصلہ نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’فی الحال ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ اگر منظوری دی گئی تو معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط کیے جائیں گے۔‘
اسرائیل ان مذاکرات میں شامل نہیں، جن کا مقصد جنگ بندی میں توسیع اور اہم امور پر مذاکرات کا آغاز ہے۔ معاہدے کے بعد ہونے والی بات چیت میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہو گا۔
مغربی ممالک دہائیوں سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن مقاصد جیسے تحقیق اور بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے میں کیا ہو سکتا ہے؟
جمعے کی دوپہر صحافیوں کے ساتھ ایک تفصیلی بریفنگ میں امریکی حکام نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا، اس کے بدلے میں امریکہ ایرانی ساحلوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا۔
یہ اقدامات کم و بیش فوری طور پر نافذ ہو جائیں گے۔ اس کے بعد 60 دن کی مذاکراتی مدت ہو گی جس کی توجہ ایران کے افزودہ یورینیئم پر ہو گی۔ افزودہ یورینیئم ایٹم بم بنانے کے لیے ایک اہم جزو ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔
امریکی حکام نے کہا کہ اگلے مذاکرات کے نتیجے میں تمام افزودہ یورینیئم کو موقع پر ہی تباہ کیا جائے گا یا پھر ملک سے باہر منتقل کر دیا جائے گا تاہم اس کا درست طریقہ کار ابھی طے ہونا باقی ہے۔
معاشی پہلو کے حوالے سے امریکی حکام نے زور دیا کہ کوئی پیشگی رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔ یہ بظاہر اُن ایرانی میڈیا کی خبروں کی تردید ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے کچھ منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے۔
امریکی حکام نے کہا کہ ایران کو عالمی معیشت میں مرحلہ وار دوبارہ شامل کیا جائے گا، جس میں پابندیاں ہٹانے اور اثاثوں کو ممکنہ طور پر مرحلہ وار بحال کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں عسکری گروہوں کی مالی معاونت بند کرے جن میں لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی شامل ہیں۔
امریکی حکام نے زور دیا کہ مفاہمتی یادداشت اعتماد یا وعدوں پر نہیں بلکہ کارکردگی پر مبنی ہے اور ایران کو معاشی فوائد اسی وقت ملیں گے جب اس بات کی تصدیق ہو گی کہ اس نے اپنے وعدوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
تمام فریقین کی جانب سے محتاط امید کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ثالثی میں پاکستان اور قطر نے مدد فراہم کی ہے تاہم ابھی کچھ فاصلہ طے کرنا باقی ہے۔ گذشتہ ایک دو ماہ میں اس معاہدے کی مختلف صورتوں کی کئی بار توقع کی گئی مگر بعد کے مراحل میں وہ آگے نہ بڑھ سکیں۔
امریکی حکام کے مطابق اب فرق یہ ہے کہ معاہدے کے مواد کے بارے میں زیادہ امید اور شفافیت موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جیسے ہی مذاکرات کے آخری مراحل مکمل ہوں گے، اس معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے اور اس کا اعلان کیا جائے گا۔
عراقچی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ یہ آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے اور انھیں اس کی امید ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ مفاہمتی یادداشت میں پہلا نکتہ ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔
جہاں تک آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز کا تعلق ہے تو عراقچی نے کہا کہ اس کا انتظام پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بعد ایران نے اس سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول لینے پر اصرار کیا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ تمام جہازوں کو آزادانہ گزرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔



























