’ریپ والی بات میرے بھائی کو کیوں بتائی‘: سرگودھا میں 14 سالہ لڑکے کو گڑھا کھود کر زمین میں دبانے کا الزام، تین ملزمان گرفتار

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی - سرگودھا
    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو - لاہور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’بچے کی گمشدگی پر ہم ساری رات جاگتے رہے اور اسے تلاش کرتے رہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ کسی دوست کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا ہو گا، لیکن ہمارا دل نہیں مان رہا تھا کیونکہ بیٹے نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔‘

یہ کہنا ہے پنجاب کے ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں میں رہنے والے محنت کش کا، جن کے مطابق ان کے 14 سالہ بیٹے کو 25 جون کو زمین میں دبا دیا گیا تھا اور 26 جون کو اہلِ علاقہ نے اسے نیم بے ہوشی اور زخمی حالت میں زمین سے نکالا تھا۔

بچے کی والدہ کے مطابق ان کے بیٹے نے بتایا کہ ’اس کے ساتھ ریپ کیا گیا تھا اور اس نے یہ بات ملزم کے بڑے بھائی کو بتا دی تھی، جس کے بعد ملزموں نے بدلہ لینے کے لیے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زمین میں دفن کر دیا۔‘

بچہ اس وقت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال سرگودھا میں زیرِ علاج ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

سرگودھا پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ درج کر کے ملزموں کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔

تینوں ملزم آپس میں سگے بھائی ہیں۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے اس وقوعہ میں استعمال ہونے والی اشیا، زمین کھودنے کے آلات، اسلحہ، اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی یا موٹرسائیکل برآمد کی جانی ہیں، جبکہ کسی ممکنہ شریک ملزم کے بارے میں بھی تفتیش جاری ہے۔

ایف آئی آر میں واقعے کی کیا تفصیلات بتائی گئیں؟

واقعے کی ایف آئی آر بچے کی والدہ کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایف آئی آر میں درج واقعے کی تفیصلات کی مطابق بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ 25 جون کی شام 4:30 بجے ان کا بیٹا مجلس (محرم کی مجلس) کے لیے گھر سے گیا اور جب رات گئے تک واپس نہ آیا تو تلاش شروع کی گئی اور پولیس کو بھی آگاہ کیا گیا۔

ایف آئی آر میں درج ہے کہ 26 جون کو دن 11 بجے تلاش کے دوران اچانک بچے کے رونے کی آواز آئی، جب تلاش کرنے والے وہاں پہنچے تو بچہ نیم بے ہوشی کی حالت میں زمین میں دبا ہوا تھا اور ٹانگ نظر آ رہی تھی۔

ایف آئی آر میں والدہ نے بیان کیا ہے کہ بچے کو زمین سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا گیا اور ہوش میں آنے پر اس نے بتایا کہ 20 دن قبل ملزم نے اس کا ریپ کیا تھا اور ملزم کے بڑے بھائی کو اس کے متعلق آگاہ کرنے پر یہ واقعہ پیش آیا۔

والدہ نے ایف آئی آر میں درج کرایا ہے کہ ’ہوش میں آنے پر ان کے بیٹے نے بتایا کہ 25 جون کو شام پانچ بجے ملزم نے اسے پکڑ کر کہا کہ ریپ والی بات بڑے بھائی کو کیوں بتائی۔‘ ایف آئی آر کے مطابق اسی دوران ملزم کے دونوں بھائی بھی وہاں آ گئے اور مار پیٹ کرتے ہوئے بچے کو فصلوں میں لے گئے اور بچے کو زمین میں دبا دیا۔

سرگودھا پولیس کے ترجمان کے مطابق ملزموں کو معلوم نہیں تھا کہ گڑھے کا ایک حصہ کھلا رہ گیا تھا، جس کی وجہ سے بچے کی ٹانگ باہر رہ گئی۔

ترجمان کے بقول: ’بچے کو زخمی حالت میں نکالا گیا جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔‘ بعد ازاں بچے کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس نے بیان دیا کہ ’ملزم اور اس کے دو بھائیوں نے ریپ کی شکایت کا بدلہ لینے کے لیے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زمین میں دبا دیا۔‘

پولیس کے مطابق اس بیان کے بعد کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں بچے کا طبی معائنہ کروایا گیا تو اس کے جسم پر تشدد کے نشانات اور زخم موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ریپ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے نمونے حاصل کر کے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مبینہ ریپ کا واقعہ پیش آئے 20 روز سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، اس لیے مشکل ہے کہ سیمن رپورٹس میں یہ ظاہر ہو پائے۔

سرگودھا کے سپرنٹنڈنٹ پولیس انویسٹی گیشن عمران عباس چدھڑ نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’واقعے کے تمام قانونی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ہم ایک مضبوط مقدمہ تیار کر رہے ہیں تاکہ ملزموں کو عدالت سے قرار واقعی سزا دلائی جا سکے۔‘

ہتھکڑیوں کی علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی‘

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے بچے کے والد کہتے ہیں کہ ’بیٹے نے یہ نہیں بتایا تھا کہ تقریباً 20 روز قبل ملزم نے اس کے ساتھ ریپ کیا تھا۔ وہ بچہ تھا، شاید ڈر گیا ہو گا اور اس وجہ سے کچھ روز خاموش رہا۔ پھر ایک روز اس کی ملاقات ملزم کے بڑے بھائی سے ہوئی تو بچے نے بتایا کہ آپ کے چھوٹے بھائی نے میرے ساتھ بُرا کام کیا ہے اور اسے منع کریں۔‘

والد کے بقول 25 جون کی سہ پہر جب ان کا بیٹا محرم کی مجلس عزاداری سننے جا رہا تھا، تو ملزم اسے پکڑ کر قریبی کھیتوں میں لے گئے اور مار پیٹ کے بعد نیم بے ہوشی کی حالت میں گڑھا کھوں کر زمین میں دبا دیا اور اس پر مٹی ڈال کر چلے گئے۔

وہ مزید بتاتے ہیں: ’بچے کو مجلس سننے کا بہت شوق تھا۔ وہ صبح سے انتظار کر رہا تھا کہ دوپہر کے بعد مجلس ہو گی تو وہاں جائے گا۔ تقریباً ساڑھے چار بجے وہ گھر سے نکلا اور پھر واپس نہیں آیا۔ جب گاؤں کے باقی لوگ رات کو مجلس سے واپس آ گئے تو ہمیں تشویش ہوئی کہ ہمارا بیٹا کیوں نہیں آیا۔‘

والد کے مطابق بچے کی والدہ نے ارد گرد کے گھروں میں جا کر پوچھا، مگر کوئی واضح بات معلوم نہ ہوئی۔

’کسی نے کہا کہ وہ مجلس میں آیا ہی نہیں۔ یہ سن کر ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ پوری رات تلاش میں گزر گئی۔ اگلی صبح فجر کے بعد مساجد میں اعلانات کروائے گئے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ 26 جون کی صبح کچھ محلے داروں نے بھی مدد کی، لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔

’تقریباً 11 بجے گاؤں میں شور مچ گیا کہ بچہ مل گیا ہے اور اسے کھیت سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ سن کر اس کی والدہ بے ہوش ہو گئیں اور میری ٹانگیں بھی جواب دے گئیں۔ گھر سے کھیت کا فاصلہ ڈیڑھ کلومیٹر ہو گا، مگر وہ بہت طویل محسوس ہو رہا تھا۔

’جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ کچھ لوگوں نے اسے چارپائی پر لٹا رکھا ہے اور پانی پلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

والد کہتے ہیں کہ ملزمان نے گڑھا کھود کر ان کے بیٹے کو دبانے کے بعد اوپر مٹی ڈال دی تھی لیکن جسم کا کچھ حصہ باہر رہ گیا۔

والد کے مطابق ان کا بیٹا تقریباً ساری رات اس گڑھے میں مٹی تلے دبا رہا اور اسے ’زندہ دیکھ کر مجھے لگا جیسے میں دوبارہ زندہ ہو گیا ہوں۔ لوگوں نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دے دی تھی، اس کی گاڑی چند ہی منٹوں میں پہنچ گئی اور بچے کو طبی امداد دے کر ہسپتال منتقل کر دیا۔‘