150 برس پرانے گھر میں دفن 40 ہزار لاشیں: ’آپ فرش توڑیں تو نیچے ہڈیاں مل جاتی ہیں‘

    • مصنف, جولیا دیاس کارنیرو
    • عہدہ, بی بی سی برازیل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

8 جنوری 1996 کو مرسیڈ گیمارائس دوس اینجوس بے تابی سے ان مزدوروں کو دیکھ رہی تھیں جو ریو ڈی جنیرو کے بندرگاہی علاقے میں سنہ 1866 میں تعمیر ہونے والے گھر میں توسیع کا کام شروع کر رہے ہیں۔

یہ مرسیڈ کا پہلا گھر تھا جس کی وہ مالک بنی تھیں اور چھ سال کی بچت آخرکار رنگ لا رہی تھی۔

لیکن چند ہی گھنٹوں میں مرمت کے دوران ایک غیر متوقع چیز سامنے آئی: ہڈیاں۔

مزدوروں نے ابتدا میں سمجھا کہ یہ کسی جانور کی ہڈیاں ہیں مگر مرسیڈ کو یقین نہیں آیا۔

ملبے کو کھنگالتے ہوئے انھیں ایک بالغ انسان کے مکمل دانت ملے۔

مرسیڈ نے بی بی سی برازیل کو بتایا کہ ’میں نے مزدور سے کہا کہ یہ کسی کتے کی نہیں بلکہ انسان کی ہڈیاں ہیں۔‘

چند لمحوں بعد مرسیڈ کو ایک اور نسبتاً چھوٹا دانتوں کا مجموعہ ملا۔

’میں نے کہا کہ یہ کسی بچے کے ہیں۔ تب وہ مزدور رونے لگا۔ ہم سب جیسے ساکت ہو گئے تھے۔‘

جوں جوں مزید باقیات سامنے آتی گئیں، جن میں سے بہت سی ٹوٹی ہوئی تھیں، مرسیڈ انھیں جمع کر کے الگ الگ ڈبوں میں رکھتی گئیں۔

ساتھ ہی قیاس آرائیاں بھی بڑھنے لگیں۔

’ہم نے ہزار طرح کی باتیں سوچیں کہ شاید سابق مالکان نے لوگوں کو قتل کر کے یہاں دفن کر دیا ہو، یا یہ کسی سلسلہ وار قاتل کا کام ہو۔‘

لیکن جواب جلد ہی مل گیا۔

علاقے کی تاریخ سے واقف ایک پڑوسی پرانا نقشہ لے کر آیا۔

’اس نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ آپ ایک قبرستان کے اوپر رہ رہی ہیں۔ یہاں غلام بنائے گئے لوگوں کو دفن کیا جاتا تھا۔‘

مرسیڈ نادانستہ طور پر ’نیو بلیکس قبرستانِ‘ میں پہنچ گئی تھیں، جسے تقریباً 1770 سے 1830 کے درمیان استعمال کیا گیا اور جہاں ان کے اندازے کے مطابق 40 ہزار افراد دفن کیے گئے تھے۔

مورخین چرچ کے ریکارڈز کی وجہ سے اس قبرستان کے وجود سے واقف تھے لیکن پھیلتے ہوئے شہر کے نیچے اس کا درست مقام کھو چکا تھا۔

’نیو بلیکس‘ کی اصطلاح ان افریقی غلاموں کے لیے استعمال ہوتی تھی جو اس زمانے میں برازیل پہنچے تھے اور جن میں سے بہت سے ابھی پرتگالی زبان بھی نہیں جانتے تھے۔

مرسیڈ کہتی ہیں کہ ’مجھے یہاں ہولوکاسٹ ملا، سیاہ فاموں کا ہولوکاسٹ۔۔۔‘

’ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا۔ کسی نے کبھی نہیں بتایا کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں لوگوں کو بیچا اور دفن کیا جاتا تھا۔ اس تاریخ کو چھپا دیا گیا تھا۔‘

قریب ہی والونگو گھاٹ تھا، جہاں غلام بنا کر لائے گئے افراد کو لانے والے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق 18ویں صدی کے اواخر میں اس کی بندش تک تقریباً 9 لاکھ افریقی افراد کو اس مقام کے ذریعے منتقل کیا گیا۔

ریو ڈی جنیرو نے برازیل کے کسی بھی دوسرے شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ غلام بنائے گئے افریقیوں کو وصول کیا۔

ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ٹرانس اٹلانٹک سلیو ٹریڈ ڈیٹا بیس کے مطابق تین صدیوں سے زائد عرصے میں تقریباً 48 لاکھ افریقی افراد کو زبردستی برازیل لایا گیا جو براعظم امریکہ میں کسی بھی دوسرے مقام سے زیادہ تعداد تھی۔

ایموری یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق تقریباً تین لاکھ افراد ساحل تک پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار گئے۔

دیگر بہت سے لوگ پہنچنے کے فوراً بعد بیماری یا شدید تھکن کی وجہ سے ان گوداموں میں مر گئے جہاں قیدیوں کو رکھا اور فروخت کیا جاتا تھا۔

جو زندہ نہ بچ سکے، ان میں سے بہت سے اسی قبرستان میں دفن کیے گئے جو آج مرسیڈ کے گھر کے نیچے واقع ہے۔

’تاریخی خزانہ‘

برازیل مغربی دنیا کا وہ آخری ملک بھی تھا جس نے سنہ 1888 میں غلامی کا خاتمہ کیا۔ اس کے باوجود، کئی دہائیوں تک اس خطے کی اس تاریک تاریخ کا عوامی سطح پر بہت کم اعتراف کیا گیا۔

یہ صورتحال 2011 میں بدلنا شروع ہوئی، جب اولمپک کھیلوں سے قبل ترقیاتی منصوبوں کے دوران والونگو گھاٹ دوبارہ دریافت ہوا۔

بعد ازاں اسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا، جس سے اس علاقے کی تاریخ پر توجہ مبذول ہوئی۔

مرسیڈ جانتی تھیں کہ ان کی ملکیت پر ’ایک تاریخی خزانہ‘ موجود ہے لیکن وہ نہیں جانتی تھیں کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے۔

ابتدا میں وہ صرف بعض عوامی تعطیلات پر ہی اپنا گھر لوگوں کے لیے کھولتی تھیں۔ ’یہ مشکل تھا۔ آخر کون قبرستان دیکھنے آنا چاہے گا؟‘

لیکن دلچسپی بڑھتی گئی اور اس مقام کے تحفظ کے لیے حوصلہ افزائی بھی ملتی رہی۔

2005 میں مرسیڈ اور دیگر افراد نے انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ میموری آف پریتوس نووس (IPN) قائم کیا۔

یہ جگہ بتدریج ترقی کرتی گئی۔

گیراج کو مستقل نمائش والی یادگار میں تبدیل کر دیا گیا۔ پچھلا صحن، جہاں کبھی سوئمنگ پول بنانے کا منصوبہ تھا، اب ایک کیفے، ایک چھوٹی دکان اور بحرِ اوقیانوس کے پار ہونے والی غلاموں کی تجارت اور افریقی تارکینِ وطن برادری سے متعلق خصوصی لائبریری پر مشتمل ہے۔

فرش میں نصب شیشے کا ایک پینل سیاحوں کو آثارِ قدیمہ کی باقیات دیکھنے کی اجازت دیتا ہے، سرخی مائل مٹی جس میں ہڈیوں کے بے شمار ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں۔

مرسیڈ کے مطابق اسے قبرستان کہنا گمراہ کن ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ گڑھے تھے جن میں لاشیں پھینکی جاتی تھیں۔‘

’بدبو کی وجہ سے بعض لاشوں کو جلا بھی دیا جاتا تھا۔ گڑھے اتنے بھر جاتے تھے کہ ایک لاش دوسری کے نیچے دب جاتی تھی۔‘

چرچ کے ریکارڈز اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ کوئی خفیہ مقام نہیں تھا۔

اموات سرکاری طور پر درج کی جاتی تھیں، اگرچہ زیادہ تر مرنے والوں کے نام معلوم نہیں۔ ان کی شناخت صرف تاریخوں، جہازوں یا جائے پیدائش کے ذریعے کی گئی۔

مرسیڈ کہتی ہیں کہ ’یہ قبرستان چار گھروں کے نیچے پھیلا ہوا ہے۔ یہاں شیر خوار بچے، نوجوان، حاملہ خواتین اور انگولا، کانگو اور موزمبیق سے تعلق رکھنے والے لوگ دفن ہیں۔‘

69 سالہ مرسیڈ اب بھی اسی گھر میں رہتی ہیں، جو یادگار کے ساتھ واقع ہے اور روزانہ وہاں کام کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ فرش توڑیں تو سطح کے بالکل نیچے ہڈیاں مل جاتی ہیں۔

تقریباً تین لاکھ افراد اس ادارے کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ اس سے کہیں زیادہ لوگ آس پاس کے علاقے کی سیر کرتے ہیں۔

ادارے کی 21ویں سالگرہ کے موقع پر ایک نئے ثقافتی مرکز کا افتتاح کیا گیا۔

مرسیڈ کہتی ہیں کہ یہاں محفلیں، فن پاروں کی نمائشں، ورکشاپس، کتابوں کی رونمائی اور بچوں کے لیے مطالعے کے کلب منعقد ہوں گے۔‘

اب وہ عمارت کی دوسری منزل کی مرمت کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان کا کام ابھی ختم نہیں ہوا۔

مرسیڈ کہتی ہیں کہ یہ بہت نازک معاملہ ہے۔

’اگر ہم ایک دن بھی اس کے بارے میں بات کیے بغیر گزار دیں تو یادداشت دھندلا جائے گی۔‘

’یہ کوئی عام جگہ نہیں بلکہ منفرد مقام ہے۔ کسی نہ کسی طرح انھوں نے (افریقہ سے آئے لوگوں نے) مجھ سے کہا کہ میں انھیں فراموش نہ ہونے دوں۔‘