’انصاف کے لیے کھڑے ہونے والے میرے اکلوتے بیٹے کو گولی مار دی گئی‘: راولاکوٹ میں بی بی سی نے کیا دیکھا

- مصنف, کیری ڈیویز
- عہدہ, بی بی سی پاکستان نامہ نگار، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ڈاکٹر انور کا عارضی کلینک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولا کوٹ میں اُس مقام سے زیادہ دور نہیں جو احتجاج کا مرکز ہے۔ اس عارضی کلینک کے ایک کمرے میں طبی سامان موجود ہے جبکہ باہر لال رنگ کی ترپال کے نیچے ایک بیڈ (چارپائی) پڑا ہے۔
اس بیڈ پر شفقت حسین لیٹے ہیں جنھیں چھاتی میں گولی لگی تھی۔ بیڈ پر موجود جس چادر پر وہ لیٹے ہیں اُس پر اُن سے پہلے یہاں لیٹنے والے مریضوں کے خون کے دھبے ہیں۔
گذشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی حکام اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تقریبا 45 لاکھ آبادی والے اس خطے میں مرحلہ وار انداز میں انتخابات جاری ہیں۔
بی بی سی وہ پہلی میڈیا تنظیم ہے جسے راولا کوٹ تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور احتجاج کے مرکز میں لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا ہے۔
ڈاکٹر انور، جن کا نام اس رپورٹ میں شامل دیگر افراد کی طرح حفاظت کے پیش نظر تبدیل کیا گیا ہے، نے ہماری ٹیم کو بتایا کہ ’ہمارے پاس ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کافی سامان موجود ہے، ہم بہتے خون کو روک سکتے ہیں، زخموں کو صاف اور پٹی کر سکتے ہیں، اور اگر گولی زیادہ اندر نہیں گئی تو اسے نکال بھی سکتے ہیں۔ لیکن جن افراد کو چھاتی، پیٹ، سر یا دیگر اہم اعضا پر شدید نوعیت کے زخم ہیں، انھیں بہتر طبی مدد اور ہسپتال کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’بڑے ہسپتال میں بھی ایک ہی وقت میں ایسے زیادہ مریض پہنچیں تو انھیں مشکل درپیش ہوتی ہے۔‘
27 جولائی سے اب تک ڈاکٹر انور کے مطابق اُن کے اس عارضی کلینک پر 50 سے 60 شدید زخمی مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں سے 15 سے 20 ایسے تھے جنھیں گولیاں لگی تھیں۔
مظاہرین کے مطابق وہ کسی بڑے یا مرکزی ہسپتال اِس خوف کی وجہ سے نہیں جاتے کہ انھیں گرفتار کر لیا جائے گا یا گولی مار دی جائے گی۔ تاہم حکام اِن دعووں کو درست قرار نہیں دیتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر انور کہتے ہیں کہ زیادہ تر ہلاک اور شدید زخمی ہونے والے 15 سے 16 سال کے نوجوان یا 32 سے 35 سال تک کی عمر کے لوگ ہیں۔ ’میں نے 40 سال سے زیادہ عمر کے بہت کم مریض دیکھے ہیں۔‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈاکٹر انور کے عارضی کلینک کے بیڈ پر موجود شفقت حسین کے ساتھ اُن کے دوست علی موجود ہیں۔ انھوں نے اپنی چادر سے آنسو خشک کرتے ہوئے کہا ’ہم نے صرف سستا آٹا، بجلی اور بنیادی حقوق مانگے تھے، لیکن ہمارے بھائی مارے جا رہے ہیں۔ ہمارا جرم کیا تھا؟ ہم پر گولیاں کیوں برسائی جا رہی ہیں؟‘
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے اُن کے حقوق کے بارے میں ہیں، جن میں بجلی کی قیمت، تعلیم اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں حکومت کے ساتھ اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
تاہم مقامی حکومت اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ مقامی حکومت کا موقف ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی گروپ مسلح ہے اور اس کا مقصد انتخابات میں خلل ڈالنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین کو دارالحکومت مظفرآباد نہیں جانے دے گی۔
جون 2026 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور اسے بیرون ملک سے مالی مدد لینے والے دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ تاہم ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ پرامن ہیں اور انڈیا سے مالی مدد نہیں لیتے۔ ان کے مطابق تنظیم کو بیرون ملک مقیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی امداد حاصل ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ تشدد کا آغاز کرنے والے وہ نہیں ہیں، بلکہ وہ اس کا شکار ہوئے ہیں اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ان پر گولیاں چلائی ہیں۔
انٹرنیٹ اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے علاقے سے معلومات کا حصول مشکل رہا ہے۔ راولاکوٹ میں پہنچنے کے بعد بی بی سی نے متعدد خاندانوں سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کو مظاہروں کے دوران گولیاں لگیں اور وہ ہلاک ہوئے۔
عاصمہ نے کہا کہ وہ ایک مظاہرے میں خود شریک تھیں جب اُن کو علم ہوا کہ اُن کے اکلوتے بیٹے کو گولی لگی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم صرف اپنا حق مانگ رہے تھے۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔‘
اپنے بیٹے کے بارے میں بات کرتے ہوئے عاصمہ نے کہا کہ ’کوئی ماں اس سے بہتر بیٹا نہیں مانگ سکتی۔ اسے خطرات کا علم تھا لیکن وہ سمجھتا تھا کہ انصاف کے لیے کھڑے ہونا اہم ہے۔ وہ کہتا تھا حق کے لیے مرنا عزت کی بات ہے۔‘
سلمان نامی شخص نے بھی اپنا بھائی کھویا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اُن کا بھائی اُن کے گھر میں سب سے چھوٹا تھا اور ’سب اس سے پیار کرتے تھے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔‘
’لیکن مجھے اس بات پر فخر بھی ہے کہ اس نے لوگوں کے حقوق کے لیے جان دی۔ وہ کسی پر حملہ آور نہیں ہوا، وہ کسی سے لڑ نہیں رہا تھا۔‘
ایوب سابق فوجی ہیں۔ انھوں نے بھی اپنا بیٹا کھویا ہے۔ وہ پاکستان کی حکومت یا فوج کو الزام نہیں دیتے بلکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت پر انگلی اٹھاتے ہیں جس نے، اُن کے مطابق، پیراملٹری فورس یعنی نیم فوجی دستے یہاں بلائے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں ریٹائرڈ فوجی ہوں۔ میں نے جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا دیکھا ہے، لیکن کبھی ایسا نہیں دیکھا جو اب ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ شدید ناانصافی ہے۔‘
’میرے بیٹے نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ مظاہروں میں شریک کسی شخص نے کچھ غلط نہیں کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے پُرامن مظاہرین پر اندھا دھند گولی چلائی۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی جنھوں نے اُن پر حملے کیے، عوام کی جان کو خطرے میں ڈالا یا حکومت کی رٹ کے راستے میں رکاوٹ ڈالی۔
بی بی سی نے اس علاقے میں خوراک کی کمی بھی دیکھی، اور مظاہرین اپنے پاس موجود سامان ایک دوسرے کو فراہم کر رہے تھے۔ چند لوگوں نے بی بی سی کو ان کوششوں کے بارے میں بھی بتایا کہ کیسے انھوں نے موٹر سائیکلوں پر لاد کر چاول سمگل کرنے کی کوشش کی۔
راولا کوٹ میں شہر کی جانب جانے والے چند راستے گرے ہوئے درختوں کی وجہ سے بند تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کیا ہے۔ شہر کے چند داخلی راستوں پر سکیورٹی چوکیاں قائم تھیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کہنا جھوٹ ہے کہ ان چوکیوں پر خوراک اور طبی سامان راولاکوٹ پہنچانے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ضرورت کے سامان کی رسد میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
حکام نے متعدد بار یہ کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پرتشدد گروہ ہے اور ان کی جانب سے ڈرون کی مدد سے حاصل شدہ فوٹیج بھی دکھائی گئی ہے جس کے بارے میں اُن کا کہنا ہے اس فوٹج میں مسلح افراد عمارتوں پر نظر آ رہے ہیں۔
نیوز کانفرنسس کے دوران پولیس حکام نے ایسی رائفلیں بھی دکھائی ہیں جو ان کے مطابق گروہ کے اراکین سے ضبط کی گئی ہیں، ان کانفرنسس میں سکیورٹی حکام کی ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اُن کے مطابق تفتیش کے دوران ایک شخص نے بیان دیا کہ اسے کسی پیرا ملٹری فورس کے اہلکار کو قتل کرنے کے عوض ایک کروڑ روپے کا انعام دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی کے رُکن عمر نذیر راولاکوٹ میں موجود ہیں اور وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کشیدگی کے دوران کئی سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اس بارے میں عمر نذیر کہتے ہیں کہ ’دیکھیں، ممکن ہے کہ اُن کی اموات ہوئی ہوں۔ میں اس بارے میں بات نہیں کروں گا۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں چند مخصوص عناصر، جو اُن کے زیرِ اثر ہیں، ہماری صفوں میں داخل کیے گئے۔ ایسے لوگ یقینا ہمارے درمیان موجود ہیں۔‘
’میرا ماننا ہے کہ ایسے افراد نے یہ کام کیا تاکہ اُن کے بیانیے کو درست قرار دیا جائے۔ میں کوئی حتمی دعویٰ نہیں کرتا لیکن ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ ہماری جانب سے ایسی پرتشدد کارروائی ہوئی۔‘
عمر نذیر نے اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کی غرض سے کوئی شواہد نہیں دکھائے کہ اُن کی صفوں میں مبینہ طور پر لوگ گھس آئے ہیں، جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بالخصوص سوشل میڈیا پر اُن کے خلاف غلط معلومات کا پرچار کر رہی ہے۔
بی بی سی نے راولا کوٹ میں جس احتجاج میں شرکت کی وہاں ہتھیار نہیں تھے اور نہ ہی وہاں فائرنگ ہوئی۔ رات میں گولیاں چلنے کی آوازیں ضرور سنائی دیں، لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ یہ کس نے چلائیں اور کس پر چلائی گئیں۔
ماحول میں غیر یقینی اور تناؤ ہے اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ صورتحال کب خراب ہو سکتی ہے۔
عمر نذیر کہتے ہیں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن فی الحال مزید احتجاجی مظاہروں کی تیاری ہو رہی ہے۔



















