سوٹ ٹائی کی جگہ پگڑیاں، بھیڑ کے گوشت کے پکوان اور مقبول مشروب ’دوغ‘: بی بی سی نے افغان صدارتی محل میں کیا دیکھا؟

ARG
    • مصنف, ببرک احساس
    • عہدہ, بی بی سی، کابُل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

اگست 2021 میں، یعنی لگ بھگ پانچ سال قبل، طالبان نے کابل میں واقع صدارتی محل پر قبضہ کر کے افغانستان کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

طالبان حکومت کے موجودہ دور میں صدارتی محل، جو ’ارگ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، عوامی نظروں سے مزید اوجھل ہو گیا اور اس تک میڈیا کی رسائی بھی محدود کر دی گئی۔

افغانستان حکومت کی سب سے اہم جگہ، جہاں کبھی مخصوص روایات اور طریقۂ کار کے مطابق امورِ ریاست چلائے جاتے تھے، اب ایک نام نہاد ’قومی طرز‘ کے مطابق چلائی جا رہی ہے۔

آپ کو یہ جان کر شاید حیرت نہ ہو کہ آج کل اس صدارتی محل میں ’دوغ‘ ایک مقبول مشروب بن چکا ہے، لیکن ممکن ہے آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ نئے حکمرانوں نے اس قلعہ نما محل میں داخلے کے پرانے طریقے دوبارہ رائج کر دیے ہیں۔

اس موسمِ گرما میں مجھے صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ صدارتی محل میں نئی سرکاری ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب دیکھنے کا ایک نادر موقع ملا۔ کیمرہ تو میرے پاس نہیں تھا، لیکن قلم اور نوٹ بُک کے ساتھ میں نے طالبان حکومت کے زیرِ انتظام صدارتی محل کے اندر جو کچھ دیکھا اسے قلم بند کیا۔

جو منظر میرے سامنے آیا وہ گذشتہ پانچ برسوں میں افغانستان میں رونما ہونے والی ایک بڑی تبدیلی کی مختصر جھلک تھا۔

حساس اور محفوظ ترین عمارت میں داخلہ

امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ موجودگی کے دوران صدارتی محل کی نگرانی ایک جانب اریانا چوک پر واقع اریانا ہوٹل پر نصب امریکی سنٹرل انٹیلیجنس ایجننسی (سی آئی اے) کے جدید کیمروں کے ذریعے کی جاتی تھی، جبکہ دوسری جانب عیدگاہ مسجد کی سمت میں نیٹو کے ایک بڑے سکیورٹی بیلون (غبارے) سے بھی اس پر نظر رکھی جاتی تھی۔

صدارتی محل کی سکیورٹی کی ذمہ داری اُس وقت کی وزارتِ دفاع کی پریزیڈنشل پروٹیکشن سروس (پی پی ایس)، نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی اور دیگر خصوصی سکیورٹی دستوں کے پاس تھی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس زمانے میں صدارتی محل ’ارگ‘ کے مہمان اور ملازمین زنبق چوک سے ارگ روڈ پر داخل ہوتے تھے، جہاں سے گزرتے ہوئے انھیں کم از کم تین سکیورٹی چوکیوں سے گزرنا پڑتا تھا اور پھر اریانا چوک کی جانب سے ارگ تک رسائی حاصل ہوتی تھی۔

اب امریکی سفارتخانے کے تمام سکیورٹی حصار اور دیواریں ہٹا دی گئی ہیں اور 20 برس میں پہلی بار زنبق چوک کے علاوہ ملازمین اور سرکاری مہمانوں کو ارگ تک مرکزی اور براہِ راست راستے سے داخل ہونے کی اجازت ہے۔

اریانا چوک، جہاں اب ارگ کی پہلی سکیورٹی چوکی قائم ہے، وہاں طالبان سے پہلے کے دور میں نظر آنے والے سنائپرز اور نگرانی کے کیمرے اب نظر نہیں آتے۔

اریانا چوک پر سکیورٹی چیکنگ کے لیے چند لمحے انتظار کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اگرچہ اس مقام کی ظاہری شکل بدل چکی ہے، لیکن یہ اب بھی افغانستان کی تاریخ کے دو بڑے واقعات کی یاد تازہ کروا دیتا ہے۔

اس بڑے چوک کے ایک جانب وہ مقام واقع ہے، جہاں طالبان نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں کابل پر قبضے کے بعد سابق صدر نجیب اللہ احمدزئی کو، جو اس وقت اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پناہ لیے ہوئے تھے، قتل کر دیا تھا اور پھر 27 ستمبر 1996 کو اپنے اقتدار کے پہلے ہی دن نجیب اور اُن کے بھائی کی لاشیں یہاں لٹکا دی تھیں۔

ARG

سابق افغان صدر کی لاش لٹکائے جانے کی جگہ کے بالکل سامنے اریانا ہوٹل واقع ہے۔

زرد رنگ کی یہ عمارت کابل کی ایک معروف علامت سمجھی جاتی ہے اور ایک زمانے میں یہ دارالحکومت کے قدیم ترین اور شاندار ترین شادی ہالوں میں شمار ہوتی تھی۔

جمہوریت کے 20 سالہ دور میں اریانا ہوٹل امریکی خصوصی سکیورٹی دستوں کے زیرِ استعمال تھا اور اسے زیادہ تر سی آئی اے کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔

جمہوری دور میں ارگ جانے والے صحافیوں سے اہلکار اکثر کہا کرتے تھے: ’ہم اتنے بااختیار نہیں ہیں۔ اگر آپ اریانا ہوٹل کی طرف بار بار یا مشکوک انداز میں دیکھیں گے تو بھی آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے یا تفتیش کے لیے روکا جا سکتا ہے۔‘

طالبان کے موجودہ پانچ سالہ دورِ حکومت میں یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ سی آئی اے اب بھی اریانا ہوٹل میں موجود ہے۔ تاہم ایک سال قبل مجھے اس عمارت کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔

یقیناً وہاں نہ کوئی امریکی موجود تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا غیر ملکی۔ اب یہ عمارت خالی پڑی ہے، لیکن اریانا ہوٹل کے کمرے، خصوصاً تہہ خانے اور ان میں موجود غیر معمولی برقی تاروں کا جال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ عمارت کبھی غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی ہے۔

ایک سال قبل جب میں نے اریانا ہوٹل کا دورہ کیا تو وہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔ بظاہر طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع کی ملکیت اس عمارت میں اب ایک پُرتعیش سرکاری مہمان خانہ بنایا جا رہا ہے۔

اگرچہ میں نے وزارتِ دفاع کے ترجمان سے درخواست کی تھی کہ وہ مجھے بی بی سی کے لیے اس ہوٹل پر ایک تفصیلی ویڈیو رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دیں، لیکن مجھے اس حوالے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ارگ کی طرف جانے والے راستے پر طالبان انٹیلیجنس اور پولیس کے سکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جن میں سے بہت سے فوجی وردی میں نہیں تھے۔

اریانا ہوٹل اور ارگ کے مرکزی دروازے کے درمیان ایک اور مقام پر چیکنگ کی جاتی ہے اور یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ آنے والے شخص کا نام یہاں داخلے کے مجاز افراد کی فہرست میں شامل ہو۔

پگڑیوں اور مخمل کی چادروں کی حکمرانی

سابق حکومت کے خاتمے کے دن (یعنی 15 اگست 2021) ایک ازبک کمانڈر صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں طالبان فورسز ارگ میں داخل ہوئی تھیں۔ لوگوں نے الجزیرہ کی ایک براہِ راست اور خصوصی نشریات کے ذریعے دیکھا کہ صدر محمد اشرف غنی کا دفتر، کانفرنس ہال اور کابینہ کے اجلاسوں کی وہ جگہیں، جہاں عموماً سوٹ اور ٹائی پہنے افراد شریک ہوتے تھے، اب پگڑی پہنے مسلح طالبان کے کنٹرول میں آ چکی ہیں۔

اس کے بعد سے ارگ کے اندر اور اس کے اطراف کے معاملات کی فلم بندی پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، اور بہت سے مواقع پر اسے مکمل طور پر ممنوع بھی قرار دے دیا گیا ہے۔

ارگ کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک جانا پہچانا مگر مختلف منظر دکھائی دیتا ہے۔ ڈیوٹی پر مامور دو اہلکار نیلے رنگ کی وردیوں، سفید دستانوں اور ٹوپیاں پہنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ منظر جمہوری دور کی ایک یادگار کی مانند ہے، لیکن اس بار ایک نمایاں فرق بھی نظر آتا ہے: یعنی ان دونوں اہلکاروں کی مکمل داڑھیاں ہیں۔

ARG

،تصویر کا ذریعہGetty Images

طالبان کے سفید پرچم سے مزین گھڑیال نما مینار کے پاس سے گزر کر جب مرکزی دروازے کے اندر داخل ہوتے ہیں تو تلاشی کا آخری مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہاں موبائل فون سمیت ذاتی اشیا جمع کروا دی جاتی ہیں۔ تاہم ماضی کے برعکس تلاشی کا یہ عمل نسبتاً نرم اور کم دباؤ والے انداز میں انجام دیا جاتا ہے۔

یہاں بھی اسی وردی، سفید دستانوں اور ٹوپی میں ملبوس دو اہلکار دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ غالباً یہی چار اہلکار ارگ میں مکمل سرکاری وردی پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ ایک دو ٹریفک پولیس اہلکار بھی وردی میں دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی وضع قطع اور لباس وہ نہیں جو ارگ کی ٹریفک پولیس کے لیے مروجہ سمجھا جاتا تھا۔

ارگ میں گھڑیال نما مینار سے آگے صحن میں اور مختلف دفاتر کی کھڑکیوں کے پار نظر ڈالیں تو بہت سے عہدیدار عمامے باندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ ٹوپیاں اور شالیں اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس ماحول میں ارگ کے اہلکاروں، سائلین اور مہمانوں میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

میں، جو ماضی میں سوٹ کے بغیر ارگ جانے کا تصور بھی نہیں کرتا تھا، اس بار مقامی طرز کا قمیص اور پتلون پہن کر آیا تھا، حالانکہ سوٹ پہننے والوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

چارچنار محل: ارگ کے قلب میں ایک سبز داستان

ارگ اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ شاید کابل میں باقی رہ جانے والی آخری سرسبز پناہ گاہوں میں سے ایک ہے، جہاں پرانے چنار کے درخت اپنی مضبوط قامت کے ساتھ آج بھی ہوا میں سرگوشیاں کرتے ہیں اور ان کے پتے ماضی کی شان و شوکت کی کہانیاں سُناتے محسوس ہوتے ہیں۔

اس علاقے کے وسط میں چارچنار محل واقع ہے، جو جمہوری دور میں جدید طرزِ تعمیر کے مطابق تعمیر کی گئی ایک عمارت ہے۔ چارچنار محل کے اندرونی حصوں کی دیواریں ماضی میں افغان بادشاہوں اور صدور کی تصاویر سے آراستہ تھیں۔

تاہم اب محل کے نئے مکینوں نے ان تصاویر کو دیواروں سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ نستعلیق رسم الخط میں قرآنی آیات کی خطاطی اور ایسی منی ایچر پینٹنگز کے فریم آویزاں کر دیے ہیں، جن میں انسانی تصاویر شامل نہیں ہیں۔

پکوانوں میں تبدیلی

جمہوری دور میں صدارتی محل کے ماہر باورچیوں کے تیار کردہ کھانوں کی لذت خاصی مشہور تھی۔

ایک وقت میں یہ افواہ بھی خبروں کی زینت بنی تھی اور عوامی تنقید کا نشانہ بھی کہ صدر محمد اشرف غنی کے دور میں صدارتی محل کے مینیو میں ’18 اقسام کے گوشت کے پکوان‘ شامل تھے۔

ارگ میں اب بھی مہمان نوازی کی روایت قائم ہے اور میں بھی دیگر مہمانوں کے ہمراہ کھانا کھانے کے لیے سلام خانہ محل کے وسیع اور شاندار ہال میں گیا۔

Food

پلاؤ اب بھی ارگ کی دسترخوان کا بنیادی پکوان ہے۔ گوشت صرف دو اقسام میں پیش کیا گیا: بھیڑ کا گوشت اور چکن، جو سالن کی صورت میں پیش کیے گئے۔

ارگ میں طویل عرصے سے کام کرنے والے بعض ملازمین نے مجھے بتایا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ’دوغ‘ کو بھی مینیو کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

کابل میں دوغ نامی مشروب عموماً گرمیوں کے موسم میں پیا جاتا ہے، لیکن قندھار اور اُس سے ملحقہ صوبوں میں دوغ چاروں موسموں میں استعمال ہونے والا مشروب ہے اور دسترخوان کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔

نئی مسجد

ظہر کی اذان کے وقت میں ارگ میں طالبان کی جانب سے تعمیر کی گئی نئی مسجد کی طرف گیا۔ یہ مسجد اپنی شان و شوکت اور طرزِ تعمیر کے اعتبار سے ارگ کے دیگر حصوں کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔ نماز کی امامت ایک نوجوان طالبان امام نے کی۔

ارگ کی پرانی مسجد اب بھی موجود ہے اور غالباً اسے اعلیٰ حکام استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ قصرِ دلگشا کے قریب واقع ہے، جہاں طالبان حکومت کے وزیرِ اعظم کا دفتر ہے۔ ارگ کی پرانی مسجد کے مرکزی امام قاری محمد حنیف ہیں۔

نئی مسجد میں زیادہ تر نمازی سکیورٹی اہلکار اور عملے کے ارکان تھے، جبکہ اعلیٰ سرکاری عہدیدار وہاں کم دکھائی دیے۔

امیر کا محل

طالبان کے دوسرے درجے کے متعدد سرکاری عہدیدار ارگ میں رہائش پذیر ہیں۔ تاہم اہم حکومتی فرمان ارگ سے نہیں بلکہ قندھار سے جاری ہوتے ہیں۔ اس طرح صدارتی محل افغانستان میں اقتدار کے دوسرے اہم مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

ارگ گذشتہ پانچ برس سے کسی امیر کی مستقل موجودگی سے محروم ہے۔ اس کے باوجود اس بلند و بالا محل کی سیاسی اہمیت برقرار ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق جو شخص بھی اس 80 ایکڑ رقبے پر تعمیر شدہ ان چار سنگی دیواروں کے اندر سے حکومت کرتا رہا، وہی افغانستان کا حکمران بھی سمجھا گیا۔