گلے میں منگل سوتر اور ادھ جلی لاش کا معمہ: اپنے ہی قتل کے الزام سے باپ اور بھائی کو بچانے لاپتہ لڑکی پولیس سیٹشن پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہUGC
- مصنف, بھاگیہ شری راوت
- عہدہ, بی بی سی نیوز ، مراٹھی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پولیس کو 26 اپریل 2026 کو جلگاؤں میں ایک جزوی طور پر جلی ہوئی لاش ملی تھی۔ لاش کا سر جھلس چکا تھا اس لیے شناخت ممکن نہیں تھی۔
پولیس کو کیس کی تفتیش کے دوران ایک لڑکی کے لاپتہ ہونے کے معاملے کا پتا چلا اور اسی کھوج میں پولیس مدھیہ پردیش کے ضلع برہانپور کے علاقے خاکنار پہنچی۔
خاکنار پولیس سٹیشن میں شیوانی کالمیکر نامی نوجوان خاتون کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر پولیس خڈکی میں ان کے گھر پہنچی اور اہلِ خانہ کو بتایا کہ شاید ان کا قتل ہو چکا ہے۔
جیسا کے بیشتر کیسز میں ہوتا ہے پولیس نے تفتیش کے دوران اہل خانہ کو ہی شک کی بنیاد پر پوچھ گھچ کا نشانہ بنایا۔
اس کے بعد پولیس نے شیوانی کے والد باپورام کالمیکر اور ان کے بھائی کو قتل کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
دوران تفتیش پولیس کے سامنے ان دونوں نے قتل کا ’اعتراف‘ بھی کر لیا۔
کیس میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب اپریل میں درج ہونے والے قتل کے ایک مقدمے میں مئی کے آخری ہفتے میں شیوانی کالمیکر نامی خاتون خود پولیس کے سامنے زندہ پیش ہو گئی اور کہا کہ ’میں زندہ ہوں، براہِ کرم میرے والد اور بھائی کو رہا کیا جائے۔‘
اس پیشرفت کے سامنے آنے کے بعد پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ پولیس نے ڈی این اے نمونے کی رپورٹ کی تصدیق سے پہلے ہی لڑکی کے والد اور بھائی کو جیل بھیج دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جلگاؤں جامود پولیس نے شیوانی کالمیکر نامی خاتون کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے تاہم اپنی تفتیش پر اٹھائے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ملزم نے انھیں گمراہ کیا تاہم اب مزید تحقیقات کی جائیں گی۔
لڑکی کے والد اور بھائی اس وقت جیل میں ہیں۔ پولیس کے سامنے پیش ہونے والی خاتون کے تمام دستاویزات اور خون کے نمونے جمع کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اسی کے مطابق مزید تفتیش کر رہی ہے۔
’تشدد کر کے اعتراف جرم کے الزامات‘

،تصویر کا ذریعہUGC
پولیس نے 10 مئی کو ایک پریس نوٹ جاری کیا تھا جس میں انھوں نےاس کیس کو حل کرنے سے متعلق تفصیلات جاری کی تھیں۔
تاہم اس کے 20 دن بعد جس شیوانی کو پولیس نے مقتول قرار دیا تھا وہ 28 مئی کو خود پولیس کے سامنے زندہ پیش ہو گئیں اور کہا کہ ’مجھے میرے والد اور بھائی واپس دیے جائیں۔‘
باپورام کالمیکر کے رشتہ داروں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ دوران تفتیش دونوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جرم قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔
جلگاؤں جامود پولیس سٹیشن کے انسپکٹر نتن پاٹل نے کہا کہ ’ملزم نے ہمیں گمراہ کیا۔ انھوں نے پولیس حراست میں تفتیش کے دوران پہلے دن سے ہمیں کیوں گمراہ کیا؟ ہم اس کی مزید تحقیقات کریں گے۔ کسی سنگین جرم میں ایک نامعلوم خاتون کی شناخت کرنا ہمارے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔‘
باپورام کالمیکر کے بھائی نرائن کالمیکر نے میڈیا کو بتایا کہ ’جب ہمیں لگا کہ ہماری بیٹی گھر سے چلی گئی ہے تو ہم نے مدھیہ پردیش کے خاکنار پولیس سٹیشن میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔‘
انھوں نے کہا کہ چند دن بعد پولیس گھر آئی اور بتایا کہ لڑکی کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس کی لاش جلگاؤں جامود میں ملی ہے۔
ان کے مطابق ’دو دن بعد میرے بھائی اور اس کے بیٹے کو پولیس لے گئی اور کہا کہ انھوں نے لڑکی کو قتل کیا ہے اور وہاں سے ان کی انگلیوں کے نشانات ملے ہیں۔ پھر انھیں جیل بھیج دیا گیا۔ لیکن اب جب ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری بیٹی زندہ ہے تو ہم اسے پولیس کے پاس لے آئے ہیں۔‘
تاہم جلگاؤں جامود پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف لڑکی کے والد اور بھائی پر الزام عائد کیا ہے۔
بی بی سی نے انسپکٹر نتن پاٹل سے پوچھا کہ جب نامعلوم خاتون کی لاش ملی اور ملزمان کو گرفتار کیا گیا تو کیا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تھا؟
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تھا، لیکن رپورٹ ابھی تک نہیں آئی۔ ضروری کارروائی کے تحت ہم نے لڑکی کے والد اور بھائی کو گرفتار کیا۔‘
’جزوی طور پر جلی ہوئی لاش‘
انڈیا کے ضلع بلڈھانا کے علاقے جلگاؤں جامود میں ایک جزوی طور پر جلی ہوئی لاش ملی تھی۔
20 سے 25 سال عمر کی ایک خاتون کی اس لاش کے گلے میں منگل سوتر موجود تھا، جبکہ کھوپڑی بھی جلی ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے خاتون کی شناخت کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ یہ لاش 26 اپریل 2026 کو ملی تھی۔
اس بنیاد پر جلگاؤں جامود پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔ لاش کی شناخت کے لیے پولیس نے انڈیا کے اکولا، امراؤتی، جلگاؤں اور پڑوسی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع برہانپور میں ٹیمیں بھیجی تھیں۔
اس دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ برہانپور میں ایک نوجوان خاتون کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج ہے۔ پولیس نے اس بارے میں معلومات حاصل کیں اورخڈکی پہنچی۔
شیوانی باپوراؤ کالمیکر کے والد اور بھائی اجے کو پولیس نے حراست میں لیا۔ پولیس کے ایک پریس نوٹ کے مطابق انھوں نے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہUGC
پولیس نے 10 مئی کو اپنی کارکردگی کے حوالے سے ایک پریس نوٹ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے یہ مقدمہ کامیابی سے حل کر لیا ہے۔ اس میں واقعات کی یہ ترتیب بیان کی گئی تھی۔
’لڑکی کے والد اور بھائی دونوں سے اعتماد میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی تو انھوں نے قتل کا اعتراف کیا۔‘
پولیس کے مطابق شیوانی کی شادی ضلع امراؤتی کے دھارنی میں ہوئی تھی مگر وہ سسرال جانے کے بجائے اپنے میکے چلی گئی تھی۔
پریس نوٹ کے مطابق چونکہ لڑکی کا مبینہ طور پر اپنے کزن کے ساتھ تعلق تھا اور شادی کے بعد بھی وہ نہ سمجھی، اس لیے اس کے والد باپورام اور بھائی نے اسے بانس کی لاٹھی سے سر پر وار کر کے قتل کر دیا۔
پولیس نے پریس نوٹ میں کہا۔ کہ ’23 اپریل کو لڑکی کا قتل کیا گیا اور لاش ایک دن گھر میں رکھی گئی، جس کے بعد اسے ضلع بلڈھانا کے جلگاؤں جامود لایا گیا۔ شواہد مٹانے کے لیے لاش کو جلا دیا گیا۔‘
دوسری جانب ملزمان نے بعد میں یہ بھی اعتراف کیا کہ انھوں نے پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔


























