جب زیورات کی دکان لوٹنے والے چوروں کو خود ہی موقعے پر پولیس بلوانی پڑی

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

چوری کی واردات ہو اور پھر چور رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں ایسے واقعات دیکھنے اور سننے میں تو اکثر آتے ہیں لیکن اس وقت صورتحال اور بھی دلچسپ ہوجاتی ہے جب خود چور پولیس کو فون کر کے بلوا لیں۔

ایسا ہی کچھ انڈیا کی ریاست گجرات کے امبرگاؤں میں پیش آیا جہاں ایک مبینہ چوری کے ایک منفرد واقعے کا کافی ذکر ہو رہا ہے۔

دراصل 19 اگست کی رات چوری کے دوران خود چوروں نے پولیس کی ہیلپ لائن پر فون کرکے انھیں موقعے پر بلایا۔

اس معاملے میں درج کی گئی ایف آئی آر بی بی سی گجراتی کو موصول ہوئی ہے، اور گواہوں اور حکام سے بات کرکے اس پورے واقعے کی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق، چوروں کی اطلاع کے بعد پولیس نے انھیں تقریباً 18 ہزار روپے مالیت کے چوری شدہ زیورات اور دیگر قیمتی اشیا سمیت گرفتار کر لیا۔

اصل واقعہ کیا تھا؟

اس واقعے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے اس مقدمے کے مدعی کے دوست اور گواہ آکاش بھائی نے کہا کہ ہمارے گھر کے قریب سنجان میں جیولری کی ایک ایک دکان ہے۔ میرا دوست منیش اور اس کا خاندان یہ دکان چلاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اس دکان کے بالکل سامنے رہنے والے میرے ایک دوست اور اس کے بھائی نے 19 تاریخ کی رات دیر سے مجھے اور میرے بھائی کو فون کیا اور بتایا کہ دو چور برقی کٹر سے تالا کاٹ کر دکان میں گھسنے اور چوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

آکاش بھائی نے کہا، ’نکھل کپاڈی اور اس کا بھائی، جو اسی دکان کے سامنے رہتے ہیں، انطوں نے ہمیں یہ اطلاع دی۔‘

انھوں نے تفصیل بتائی کہ ’جس دن یہ واقعہ پیش آیا، نکھل رات گئے تک موبائل دیکھتے ہوئے جاگ رہا تھا۔ اسے بار بار کٹر چلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔‘

’اتنی رات گئے کسی کے کام کرنے پر اسے شک ہوا۔ اس نے دیکھا کہ چور بہت احتیاط سے دکان کے شٹر کا تالا کاٹ رہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کچھ دیر تالا کاٹتے، پھر چھپ جاتے اور اس کے بعد دوبارہ تالا کاٹنا شروع کر دیتے تھے۔‘

’حیرت کی بات یہ ہے کہ الیکٹرک کٹر چلانے کے لیے انھوں نے دکان کے سامنے رہنے والے نکھل کے گھر کے باہر لگے میٹر سے بجلی کا کنکشن لیا ہوا تھا اور اسی کے ذریعے کٹر چلا رہے تھے۔‘

وہ مزید بولے کہ ’نکھل کو کٹر کی آواز سن کر نیچے آنے سے روکنے کے لیے انھوں نے احتیاطاً اس کے گھر کا بیرونی دروازہ بھی بند کر دیا تھا۔‘

آکاش بھائی نے مزید کہا، ’یہ معلوم ہوتے ہی ہم سب پانچ منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئے۔ اس وقت تک چور دکان کے اندر داخل ہو چکے تھے۔‘

’اندر جانے کے بعد انھوں نے شٹر تھوڑا سا کھلا چھوڑ دیا تھا۔ ہم پہنچتے ہی پہلے شٹر بند کیا اور پھر فوراً قریب کی پولیس چوکی جا کر پولیس کو پورے واقعے کی اطلاع دی۔‘

’یہ سب کچھ تقریباً 45 منٹ سے ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ تب تک صبح کے ساڑھے تین سے چار بج چکے تھے۔‘

’ہم نے فون کے ذریعے پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کال نہیں لگ رہی تھی۔‘

’اس لیے کچھ ہی دیر بعد میں قریب کی چوکی سے پولیس کو ساتھ لے آیا۔ لیکن اسی دوران دوسرے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ایک پولیس گاڑی بھی موقع پر پہنچ گئی۔‘

’تب ہمیں معلوم ہوا کہ چوروں نے دکان کے اندر سے ہی ہیلپ لائن پر فون کرکے پولیس کو بلا لیا تھا۔‘

پولیس نے کیا بتایا؟

اس پورے واقعے کے بارے میں امبرگاؤں کے پولیس انسپکٹر (پی آئی) ایچ ڈی توور نے بی بی سی گجراتی کو بتایا، ’یہ درست ہے کہ چوروں نے دکان سے پولیس کو فون کیا تھا۔ تاہم، مقامی لوگوں نے بھی اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’چور دکان کے اندر پھنس گئے تھے اور باہر مقامی لوگوں کا بڑا ہجوم جمع ہو گیا تھا۔ اس وجہ سے اپنی حفاظت کے خوف سے انھوں نے پولیس ہیلپ لائن پر فون کرکے پولیس کو موقع پر بلایا ہوگا۔‘

اس معاملے میں پولیس کی کارروائی کے بارے میں انھوں نے کہا، ’ہم نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔‘

’اگرچہ ملزمان نے پولیس کو فون کیا تھا، لیکن پولیس نے ان کے قبضے سے برآمد اشیا کی جانچ کی تو ان کے پاس سونے اور چاندی کے زیورات ملے۔ انھیں ضبط کر لیا گیا ہے۔ اب انھیں عدالت میں پیش کرکے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جائے گی۔‘

امبرگاؤں پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے پریس نوٹ کے مطابق، دونوں ملزمان دنیش پاٹھک اور وپن پاٹھک اس وقت مہاراشٹر میں رہتے ہیں، جبکہ ان کا تعلق اصل میں اتر پردیش سے ہے۔