آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ سے 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج سٹیبلائزیشن فیسیلٹی ملنے کی امید: کیا اس سے پاکستان کو عالمی مارکیٹ سے قرض حاصل کرنے میں مدد ملے گی؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج سٹیبلائزیشن فیسیلٹی (استحکام ایکسچینج سہولت) کے سلسلے میں جلد مثبت پیش رفت کا امکان ہے۔
بدھ کے روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ محکمہ خزانہ کی جانب سے اس سہولت کے سلسلے میں فیصلہ اگلے ماہ ستمبر تک آنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ وزیرِ خزانہ کے دورہ واشنگٹن کے دوران بین الاقوامی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے امریکہ سے دس ارب ڈالر کی ای ایس ایف کے لیے درخواست کی تھی۔ تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی تصدیق کی گئی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے محمد اورنگزیب اور امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ کی ملاقات بعد جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کی معاشی پیش رفت کے لیے امریکہ کی جانب سے زیادہ تعاون پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون کی بنیاد بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر ہونی چاہیے۔‘
تاہم اب وفاقی وزیر خزانہ کے بیان سے اس کی تصدیق ہو گئی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے بیان کا کیا مطلب ہے اور اس سے پاکستان کو بیرونی فنانسنگ کے شعبے میں کیسے مدد ملے گی؟ بی بی سی نے دس ارب ڈالر کی ای ایس ایف اور اس کے اثرات کے متعلق میں ماہرین معیشت اور حکومتی حکام سے بات کی ہے۔
امریکہ کی جانب سے ملنے والا 10 ارب ڈالر کی ای ایس ایف کیا ہے؟
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی ای ایس ایف کوئی قرضہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی مستحکم کرنسی کی طرف اشارہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سہولت کے ملنے کے بعد ہم بین الاقوامی مارکیٹ سے قرض حاصل کرنے کے لیے جا سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اس کے ذریعے مارکیٹ سے قرضہ لیا جائے گا جو پانچ، سات اور دس سال کی مدت کے لیے ہو گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت دوسرے ملکوں سے باہمی طور پر لیے جانے والے قرضوں سے نکل کر طویل مدت کے قرضے لینا چاہتی ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ای ایس ایف کوئی روایتی کمرشل قرضہ نہیں بلکہ ایک بیک سٹاپ ارینجمنٹ ہوتی ہے۔
امریکہ سے اس سہولت کی ضرورت کیوں پڑی؟
پاکستان کی امریکہ سے دس ارب ڈالر کی ای ایس ایف کی درخواست کے بارے میں معاشی امور کے صحافی شہباز رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ اس کے باہمی قرضے ہیں جنھیں رول اوور کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مجموعی فنانسنگ ضرورت 22 سے 23 ارب ڈالر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو پانچ، سات اور دس سال کی طویل مدتی قرضے چاہیے۔
شہباز رانا کے مطابق پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اتنی اچھی نہیں کہ وہ اس کی بنیاد پر طویل مدتی قرضے حاصل کر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای ایس ایف ملنے کی صورت میں جب امریکہ کی گارنٹی موجود ہوگی تو یہ قرضے آسانی سے پاکستان کو مل سکتے ہیں۔
ای ایس ایف کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کو ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے اور اس نوعیت کی سہولت زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی مالیاتی پوزیشن کو سپورٹ دینے کے لیے ہوتی ہے۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ اس سے بیرونی فنانسنگ اور ری فنانسنگ کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر پاکستان عالمی مارکیٹ سے کمرشل قرضہ یا فنانسنگ حاصل کرتا ہے تو ایک مضبوط امریکی بیک سٹاپ سے قرض دینے والوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ ای ایس ایف سے جہاں قرض حاصل کرنے اور عالمی مارکیٹ تک رسائی میں آسانی ہو گی وہیں رسک پریمیم اور فنانسنگ کی لاگت بھی کم ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے سابقہ مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان سے پہلے امریکہ کے ساتھ کچھ ملکوں کا ایسا انتطام ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس کی اہل مثال ارجنٹینا ہے جسے امریکہ نے یہ سہولت دے رکھی ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ارجنٹینا نے اس کے ساتھ ساتھ اصلاحات بھی کی ہیں اور حکومتی اور بیوروکریسی کے اخراجات کو کم کیا۔
ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں اب دیکھنا پڑے گا کہ کیا پاکستان کو بھی ایسی اصلاحات کرنی پڑیں گی کیونکہ پاکستان میں حکومتی اور بیوروکریسی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
کیا پاکستان کا بیرونی فنانسنگ کا شعبہ مشکلات کا شکار ہے؟
پاکستان کے بیرونی فنانسنگ کے شعبے کے متعلق بات کرتے ہوئے شہباز رانا کا کہنا ہے کہ جب تک تین مہینے اور ایک سال کے قرضوں کا چکر برقرار ہے، پاکستان کا بیرونی فنانسنگ کا شعبہ مشکلات کا شکار رہے گا۔
انھوں نے کہا کہ ملک کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا اور قرضوں پر انحصار ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال بیرونی فنانسنگ کےشعبے میں ضروریات ہیں جس کی وجہ سے اس شعبے کی صورت حال حوصلہ افزا نہیں۔
ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام میں ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے ٹیکس بڑھا کر پروگرام کے تحت طے شدہ پرائمری سرپلس کا ٹارگٹ حاصل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں ارہی اور نہ ہی معاشی ترقی ہو رہی ہے نتیجتاً برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا اور ملک میں ڈٓالر نہیں آ رہے۔
دوسری جانب پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کے متعلق بات کرتے ہوئے خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی شعبے میں کسی قسم کی مشکل یا دباؤ کا سامنا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ روپے کی قدر بھی گذشتہ دو سال سے مستحکم ہے۔
خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ماضی میں بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے بحرانوں کا باعث بنتے رہے ہیں، تاہم آج صورتحال مختلف ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بیرونی فنانسنگ کا شعبہ واضح طور پر زیادہ مستحکم اور مضبوط پوزیشن میں ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مشیر نے پاکستان کی بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگز اور آؤٹ لک کو اس کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ آج مجموعی طور پر گذشتہ نو سال کی بہترین سطح پر ہیں۔
پاکستانی حکومت کے ذمہ مجموعی طور پر کتنا بیرونی قرض ہے؟
30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال تک پاکستان کی مرکزی حکومت کے ذمہ 87 ارب ڈالر کا قرض تھا۔
پاکساتن کے مرکزی بینک کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ایک سال کے طویل مدتی قرضوں میں پیرس کلب کے رکن ملکوں کی جانب سے دیا جانے والا 5.2 ارب ڈالر کا قرضہ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے دیا جانے والا 43.5 ارب ڈالر کا قرضہ اور دوسرے ملکوں سے باہمی طور پر لیا جانے والا 14 ارب ڈالر کا قرضہ شامل ہے۔
اس کے ساتھ پاکستان کے مجموعی قرضے میں یورو، سکوک اور دوسرے بانڈز کی مدد سے عالمی کیپٹل مارکیٹ سے لیا گیا چھ ارب ڈالر کا قرضہ اور 6.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ بھی شامل ہے۔
ایک سال سے کم مدت کے قرضوں میں 8.3 ارب ڈالر کمرشل قرضے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ایک ارب ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرض کی مالیت 11 ارب ڈالر ہے۔