وینزویلا میں زلزلے سے 589 اموات: ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے دوران ایک خاتون کو زندہ نکالا گیا

    • مصنف, ٹفنی ٹرنبل، کیلی این جی، لیئرے وینتاس، وینیسا بششلٹر، کلیئر کینن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

وینزویلا میں شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے بتایا ہے کہ اب تک کم از کم 589 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ جبکہ 2,980 افراد زخمی ہیں۔

اس وقت مختلف علاقوں میں مقامی اور بین الاقوامی ریسکیو ٹیموں کی طرف سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔ ایسی ہی ایک تلاش کے دوران ایک خاتون کو ملبے سے زندہ نکالا گیا۔

کاراکس اور قریبی ساحلی شہر لا گوائیرا میں منہدم ہونے والی عمارتوں میں ملبے تلے دبے لوگوں کی مدد کے لیے آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ بہت سے افراد بے گھر ہو گئے ہیں یا تباہ شدہ اور غیر محفوظ عمارتوں میں رہنے سے خوفزدہ ہو کر سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق بدھ کے روز آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7.2 تھی اور اس کے چند ہی سیکنڈ بعد اس سے بھی زیادہ طاقتور 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔ پہلا زلزلہ زمین کی سطح سے 20.3 کلومیٹر نیچے جبکہ دوسرا 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا تھا۔

اس سے قبل ملک کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے گذشتہ روز ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے کئی ممالک نے تعاون کی پیشکش کی ہے، جن میں امریکہ کی جانب سے 15 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان بھی شامل ہے۔ ایک بیان کے مطابق امریکی فوج تلاش اور امدادی ٹیموں کی مدد اور ’تیز رفتار ریلیف آپریشنز‘ کے لیے بحری جہاز اور طیارے بھیج رہی ہے۔

ہورخے روڈریگز کے مطابق 250 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں یا انھیں شدید نقصان پہنچا۔ ان میں سے بیشتر عمارتیں لا گوائیرا میں واقع تھیں جہاں بی بی سی نے ایک 10 منزلہ ہوٹل کے ملبے میں تبدیل ہونے کی ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔

وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کاراکس میں بھی کئی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جبکہ تروخیلو، یاراکوئے، کارابوبو، اراگوا اور میراندا کی ریاستیں بھی زلزلے سے متاثر ہوئی ہیں۔

’جب زلزلہ آیا تو میں نے دروازے کے فریم کو زور سے پکڑ لیا‘

امدادی کارکن ملبے میں دبے افراد کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

کاراکس کے میٹروپولیٹن علاقے میں شامل شاکاؤ کے میئر گوستاوو ڈوکے نے جمعرات کو ایک تباہ شدہ عمارت کے باہر بتایا کہ وہاں 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 23 کو زندہ نکال لیا گیا۔

لا گوائرا میں گراسیلا مورا کو ایک منہدم عمارت کے ملبے سے ہنگامی امدادی کارکنوں اور رضاکاروں نے زندہ نکالا۔ نکالے جانے کے وقت وہ ہوش میں تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب زلزلہ آیا تو میں نے دروازے کے فریم کو جتنی مضبوطی سے پکڑ سکتی تھی، پکڑ لیا۔ اتنی زور سے کہ میری انگلی ٹوٹ گئی۔‘

انھیں زخمی حالت میں بچایا گیا اور ان کی ایک انگلی بھی ٹوٹ گئی تھی۔ لیکن زلزلے میں ان کے ساتھ موجود ایک دوست کی ہلاکت ہوئی ہے۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ امدادی کارکنوں کے پہنچنے تک وہ اپنی دوست کا ہاتھ تھامے رہیں تاکہ وہ مرتے وقت تنہا نہ ہوں۔

بچائے جانے کے چند لمحوں بعد، جب وہ ابھی سٹریچر پر تھیں، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ دروازے کے فریم کو پکڑے رہیں، حتی کہ عمارت کی تمام منزلیں گِر گئی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اور پھر میں نے ان کا ہاتھ اس طرح دیکھا اور اسے پکڑ لیا۔‘

’مجھے لگا عمارت میرے اوپر گِر جائے گی‘

کاراکس میں زیرِ تعلیم میڈیکل کے طالب علم ہوان اورتیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک قریبی دوست کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی جبکہ ایک اور دوست کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ساحلی علاقے میں رہنے والے ان کے جاننے والے تقریباً 20 افراد لاپتہ ہیں۔

’میں صدمے اور الجھن کا شکار ہوں اور اس بات پر مایوس ہوں کہ میں کوئی مدد نہیں کر پا رہا۔‘

جب بدھ کی شام وینزویلا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے جانے لگے تو ویرونیکا کو لگا کہ ان کے اپارٹمنٹ کی دیواریں انھی پر آ گریں گی۔

انھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’مجھے لگا میں مر جاؤں گی۔‘

وہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک سرکاری تعطیل منا رہی تھیں جب شہر میں زلزلوں کے دو شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس کی سڑکوں پر ملبہ بکھرا ہوا ہے جبکہ امدادی کارکن منہدم عمارتوں کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔

کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

وینزویلا کے دیگر متاثرہ حصوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش نے افراتفری بڑھا دی ہے۔

شام ڈھلتے ہی بہت سے مقامی لوگ عملی طور پر بے گھر ہو چکے تھے۔ وہ سڑکوں پر گھومتے رہے اور اپنے گھروں یا عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر رہے۔

ویرونیکا بی بی سی منڈو کی نامہ نگار ویلنٹینا اوروپیزا کی بہن ہیں۔ صحافی نے زلزلوں کے بعد کئی گھنٹے اپنے خاندان کا سراغ لگانے میں گزارے۔

ویلنٹینا کے فون پر ویرونیکا کا ایک گھبرایا ہوا وائس نوٹ موصول ہوا جس میں وہ حقیقی وقت میں ’خوفناک‘ جھٹکوں کی تفصیل بیان کر رہی تھیں جبکہ پس منظر میں ان کی والدہ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔

خوف زدہ ویلنٹینا نے اپنے رابطوں سے مدد مانگنا شروع کر دی کیونکہ ان کے فون پر ان کی گلی میں تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر آنے لگی تھیں۔

جب وہ آخرکار ان سے رابطہ کر سکیں تو ویرونیکا نے تصدیق کی کہ وہ اور ان کی والدہ محفوظ ہیں لیکن کہا کہ غالباً ان کا گھر تباہ ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔‘

یہ پہلا موقع نہیں جب وییزویلا کے دارالحکومت کو کسی بڑے زلزلے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

1967 کے دوران کاراکس میں 6.6 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لیکن ویلنٹینا کی والدہ کے مطابق بدھ کے زلزلے زیادہ طویل اور شدید محسوس ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم ایسی کسی چیز کا سامنا کریں گے۔‘

مشرقی کاراکس کی رہائشی کورو مارٹینیز نے بھی خبر رساں ادارے روئٹرز کو یہی بات بتائی۔

56 سالہ خاتون نے کہا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا کچھ محسوس نہیں کیا۔‘

’ایک بہت زور دار دھماکے جیسی آواز آئی۔ گھر میں چیزیں گر گئیں، فریج کے اندر رکھے جگ بھی۔‘

بی بی سی منڈو کی صحافی نیکول کولسٹر نے دیکھا کہ وسطی کاراکس کے اہم علاقے پالوس گراندیس میں واقع ساتویں منزل پر اپارٹمنٹ کی کھڑکیاں لرزنے لگیں اور ان کے پاس پناہ لینے کے لیے صرف چند لمحے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے ذہن میں صرف یہی آیا کہ سامنے والے دروازے اور پتھر کی دیوار کے درمیان کھڑی ہو جاؤں تاکہ خود کو محفوظ رکھ سکوں۔‘

’مجھے لگا عمارت میرے اوپر گر جائے گی۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب وہ سڑک پر نکلیں تو ملبے کے ڈھیروں میں سے آوازیں آ رہی تھیں۔

بچ جانے والے لوگ، جو فرار ہونے کی اتنی جلدی میں تھے کہ جوتے پہننا بھی بھول گئے تھے، ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے اور رو رہے تھے۔

کئی گھنٹے بعد بھی بہت سے لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے یا بعد کے جھٹکوں کے خوف سے واپس جانے کی ہمت نہیں کر رہے تھے۔

شہر بھر میں سیکڑوں افراد نے چوراہوں اور سڑکوں پر رات گزاری۔ فٹ پاتھوں کے حصے خیموں سے بھر گئے جبکہ کھڑی گاڑیاں عارضی بستروں میں تبدیل ہو گئیں۔

لاس پالوس گراندیس کی ایک خاتون، جو سونے کی کوشش بھی نہیں کر رہی تھیں، نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ وہ صدمے میں ہیں۔

جمعرات کی ابتدائی ساعتوں میں انھوں نے کہا کہ ’آپ ایسے حالات میں دوبارہ زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ یہ تو کسی فلم جیسا منظر ہے۔‘

مضافاتی علاقے کے چند لوگ، جو کراچیس کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ نکلنے میں کامیاب رہے۔

ملک کے دیگر حصوں میں استاد ایلن چنگ جیسے کئی افراد بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں کہ آیا ان کے پالتو جانور زندہ بچ سکے ہیں یا نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میرے پاس دو بلیاں ہیں۔ بدقسمتی سے میں اب تک اپنے اپارٹمنٹ واپس نہیں جا سکا تاکہ دیکھ سکوں کہ وہ ٹھیک ہیں یا نہیں۔ دعا ہے کہ سب خیریت ہو۔‘

لا گوائرا جیسے علاقوں سے اطلاعات کی ترسیل، جو کاراکس کے شمال میں واقع سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے متاثر ہوئی۔

تاہم علاقے سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں منہدم عمارتیں، بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ اور ریاستی دارالحکومت کے فیلڈ ہسپتالوں میں زخمیوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔

عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ شہر میں ’درجنوں‘ عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور اسے ’آفت زدہ علاقہ‘ اور ’حقیقی سانحہ‘ قرار دیا۔

صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ حکام ابھی تک ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگا سکے۔

شدید متاثر ہونے والے دیگر علاقوں میں میرانڈا، اراگوا، کارابوبو اور فالکون ریاستیں شامل ہیں۔