آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ آنے والے فٹبال شائقین کو ’کنجوسی‘ کے طعنے اور ’ٹپنگ کلچر‘ سے تنگ سیاح: ’پانی کی بوتل پر بھی ٹپ مانگی جاتی ہے‘
’کوئی اچھی سروس دے تو ٹپ بنتی ہے لیکن اگر آپ کسی سے پانی کی بوتل خریدیں اور وہ آپ سے ٹپ کا تقاضا کرے تو یہ عجیب لگتا ہے۔‘
یہ کہنا ہے کہ امریکہ میں ورلڈ کپ میچز دیکھنے کے لیے آنے والے برطانوی شہری جیف پرائر کا جو امریکہ میں ٹپ کلچر سے مایوس ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بار بار ٹپ کے تقاضے سے وہ تھک گئے ہیں۔
امریکہ میں کچھ ریستوران اور بارز میں عملے کو فی گھنٹہ صرف دو ڈالر یا اس سے کچھ زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے، لہذا وہ توقع کرتے ہیں کہ گاہک بل کی رقم کا تقریباً 20 فیصد ٹپ کی صورت میں اُنھیں فراہم کرے۔
امریکہ میں جہاں ورلڈ کپ میچز کے مہنگے ٹکٹوں اور دیگر معاملات پر شائقین کے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں تو وہیں ’ٹپنگ کلچر‘ پر بھی شائقین بالخصوص برطانیہ سے آئے ہوئے افراد سوال اُٹھا رہے ہیں۔
لیکن دوسری جانب بعض ریستوران اور بار مالکان کا گلہ ہے کہ ورلڈ کپ دیکھنے آنے والے بہت سے سیاح ٹپ کے معاملے پر کافی کنجوس ثابت ہوئے ہیں۔
آسٹریلیا سے کرس او فلن اور رابرٹ مک نامارا نے بی بی سی کو بتایا کہ فٹبال میچوں کے مہنگے ٹکٹوں نے ان کی مالی حالت پر دباؤ ڈالا اور ٹپ دینے کی وجہ سے اخراجات مزید بڑھ رہے ہیں۔
او فلن نے کہا کہ ’مجھے اب بھی یہ کچھ حد تک الجھا دینے والا لگتا ہے کہ یہ نظام کیوں موجود ہے، آسٹریلیا میں ایک مقررہ قیمت ہوتی ہے اور آپ وہ ادا کرتے ہیں۔ یہاں لوگ ٹپ مانگتے ہیں یا توقع رکھتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ کتنی ٹپ دینی چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کا کہنا تھا کہ عملے کو بہتر تنخواہ دینا ریستوران مالکان کی ذمے داری ہے نہ کہ گاہگ سے یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ آپ کے عملے کو مناسب اجرت مل رہی ہے۔
مک نامارا نے کہا کہ بطور مہمان وہ ’مقامی روایات پر عمل کرنے کی کوشش‘ کرتے ہیں، لیکن ٹِپنگ کلچر اُن کے لیے ثقافتی جھٹکا ثابت ہوئی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہر ڈرنک کے بعد ٹپ کی توقع کی جاتی ہے، اس لیے خرچہ بہت بڑھ جاتا ہے، آپ ایک مشروب خریدتے ہیں اور اس پر پانچ ڈالر مزید شامل ہو جاتے ہیں، یہ بہت مہنگا ہے۔
’ہمارے ہاں تو ٹپ کا رواج ہی نہیں‘
نورِچ سے تعلق رکھنے والے انگلینڈ کے حامی پرائر ٹورنامنٹ کے لیے امریکہ میں موجود ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ انھیں پانی کی بوتل پر بھی ٹپ مانگنے سے ناگواری ہوتی ہے لیکن وہ ریستورانوں میں ٹپ دینے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ شاید برطانیہ کے مقابلے میں امریکی ریستورانوں اور بارز میں عملے کو کم تنخواہ ملتی ہے لیکن مجموعی طور پر ان کی سروس اچھی ہوتی ہے اور جب ایسا ہو تو پھر آپ ٹپ کے مستحق ہوتے ہیں۔
مائیکو آسہی اور ان کا خاندان ٹوکیو سے ڈیلس جاپان کا میچ دیکھنے آئے ہیں۔
اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ہاں ٹپ دینے کا رواج نہیں۔
آسہی نے کہا کہ ’ٹپ کے بغیر بھی قیمتیں پہلے ہی بہت مہنگی ہیں اور ٹپ شامل کرنے سے یہ حد سے زیادہ ہو جاتا ہے۔‘
ایک اور جاپانی شائق اکیہیرو نے بھی زیادہ قیمتوں پر شکایت کی۔
اُنھوں نے کہا کہ ’ریسٹورنٹ میں سب سے سستا کھانا بھی تقریباً 30 ڈالر کا ہوتا ہے اور جب آپ اس پر 13 سے 20 فیصد ٹپ شامل کرتے ہیں تو آپ سوچتے ہیں کہ کاش اسی رقم میں ایک اور پلیٹ لے لیتے۔‘
’یورپی ممالک کے شہری امریکیوں کی طرح ٹپ نہیں دیتے‘
بروکلین میں واقع فٹبال بار ’بینٹر‘ ورلڈ کپ کے دوران برطانوی اور یورپی سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے۔
تاہم مالک کرس کیلر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لوگ عموماً ٹپ دینے میں کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا یہ لوگ ٹپ دینے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں یا بہت کم ٹپ دیتے ہیں اور لاعلمی ظاہر کرتے ہیں جیسے انھیں معلوم ہی نہ ہو۔
کیلر نے بتایا کہ اُنھوں نے نظام تبدیل کر دیا تاکہ ریزرویشن والے گاہک مشروبات کی پیشگی ادائیگی کریں، جس میں سروس چارجز شامل ہوں۔
اُنھوں نے کہا کہ ’یہ صرف ہمارے عملے کے تحفظ کے لیے ہے۔‘
نیو یارک سٹی کے ہرلیز ریسٹورنٹ اینڈ بار میں بھی ان دنوں سیاحوں کا رش ہے لیکن ریستوران کے شریک مالک این کالیمانو کا گلہ ہے کہ نئے گاہک ٹپ دینے کے عادی نہیں۔
اُنھوں نے گلہ کیا کہ ’یورپی لوگ امریکیوں کی طرح ٹپ نہیں دیتے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ جب گاہک 600 ڈالر کے کھانے پینے کا آرڈر دیتے ہیں اور عملے کو ٹپ نہیں دیتے تو ان سے بات کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ بار کا عملہ نرمی سے پوچھتا ہے کہ ’کیا سروس ٹھیک تھی‘ اور وہ کہتے ہیں کہ ’جی ہاں بالکل۔‘ پھر وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’سروس فیس بل میں شامل نہیں‘ جبکہ یورپ میں سروس چارجز بل میں شامل ہوتے ہیں۔
’عملے کو ٹپ نہ ملے تو گزارا ناممکن‘
این کالیمانو کا کہنا تھا کہ دُنیا بھر میں یہ بہت مختلف ہے لیکن امریکہ میں ہماری صنعت میں متوقع ٹپ کی مقدار منفرد ہے، یہاں 20 فیصد کو اچھی ٹپ سمجھا جاتا ہے۔
اُن کے بقول اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں کم از کم اُجرت اور تنخواہوں کا نظام مختلف ہے۔
مثال کے طور پر، اٹلانٹا میں ٹپ لینے والے ویٹر کی کم از کم نقد اجرت 2.13 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔
اگر ٹپس اور اجرت مل کر یہ رقم کم از کم 7.25 ڈالر تک نہ پہنچے تو آجر کو فرق پورا کرنا ہوتا ہے، لہذا ٹپ نہ ملے تو پھر گزارہ مشکل ہو جاتا ہے۔
ورلڈ کپ کے ’ملٹی ملین ڈالر پیکجز‘
ورلڈ کپ کے چھ فرسٹ رو ٹکٹس، جو ہاف وے لائن کے عین سامنے تھے اور جن کے ساتھ ایوارڈز تقریب کے دوران میدان میں جانے کی خصوصی اجازت بھی شامل تھی، خاص طور پر اس لمحے کے لیے جب فاتح ٹیم ٹرافی اٹھاتی ہے، چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں چار ملین ڈالر میں فروخت ہو گئے۔
یہ ایک انتہائی مہنگے اور خصوصی پیکج کا حصہ تھا، جسے 'نائٹس برج سرکل' نے فروخت کیا۔ یہ کمپنی بہت امیر لوگوں کو خاص سہولیات فراہم کرتی ہے۔
اس موقع کو 'ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا' کہا گیا اور یہ صرف منتخب گاہکوں کو پیش کیا گیا تھا۔ اس کے لیے بھی پہلے ان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
نائٹس برج سرکل کے صدر سٹورٹ مک نیل نے بی بی سی برازیل کو بتایا کہ 'یہ پیکج اعلان کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی ہمارے ایک رکن نے خرید لیا۔'
نائٹس برج سرکل اُن کئی کمپنیوں میں شامل ہے جو ورلڈ کپ دیکھنے کے خواہش مند امیر افراد کے لیے لگژری پیکجز فراہم کرتی ہیں۔
اس بار پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور میچز تین ممالک یعنی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلے جا رہے ہیں۔
یہ ٹورنامنٹ 16 شہروں میں ہو گا اور اس میں کل 104 میچز شامل ہیں۔
دوسری طرف عام شائقین کے لیے ورلڈ کپ دیکھنا آسان نہیں رہا۔ انھیں ٹکٹوں اور سفر کے مہنگے اخراجات کے علاوہ امریکی ویزا حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔
لیکن بہت کم تعداد میں آنے والے افراد کے لیے تجربہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ میزبان شہروں میں نجی طیاروں پر پہنچتے ہیں، سٹیڈیم تک ہیلی کاپٹر یا لیموزین کے ذریعے جاتے ہیں اور وی آئی پی علاقے میں یقینی جگہ رکھتے ہیں، چاہے انھوں نے یہ سب آخری لمحے میں ہی کیوں نہ طے کیا ہو۔
مک نیل کہتے ہیں کہ 'میں گذشتہ 22 سال سے اس (لگژری) مارکیٹ میں کام کر رہا ہوں اور میرے لیے سب سے بڑی حیرت یہ ہے کہ اس ورلڈ کپ میں پیسہ عملاً ہر چیز خرید سکتا ہے، جو نئی بات ہے۔'
وہ اور لگژری شعبے کے ماہرین ورلڈ کپ میں دلچسپی رکھنے والے گاہکوں کے نام ظاہر نہیں کرتے لیکن وہ بتاتے ہیں کہ ان میں دنیا بھر سے آنے والی شخصیات، ارب پتی، کمپنی بانی، ٹیکنالوجی ایگزیکٹوز اور کھلاڑی شامل ہیں۔
لاگت
تمام لگژری پیکجز کی قیمت ملین ڈالر نہیں ہوتی لیکن بہت سے حسبِ ضرورت تیار کردہ سفری منصوبے 'آسانی سے چھ ہندسوں' کی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔
ان میں نجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے لے کر وی آئی پی ایئرپورٹ سروسز، سکیورٹی ٹیموں اور لگژری ہوٹلوں میں رہائش تک سب کچھ شامل ہوتا ہے۔
میگما گلوبل کی تفریحی ڈویژن کی نائب صدر نکول والچ کے مطابق ایک جوڑے کے لیے سب سے سستے آپشنز، جن میں فائیو سٹار رہائش، ایک میچ کا ٹکٹ، بزنس کلاس پروازیں اور نجی ٹرانسفر شامل ہیں۔۔۔ 25,000 ڈالر سے 75,000 ڈالرز تک کا پیکج ہوتا ہے۔
کچھ گاہک اس سے کہیں زیادہ ادائیگی کرتے ہیں، خاص طور پر جب پروگرام کئی دن اور متعدد میزبان شہروں پر مشتمل ہو۔
کچھ لوگ ورلڈ کپ کے ساتھ دیگر مقامات کے سفر کو بھی شامل کرتے ہیں۔
نکول والچ کا کہنا ہے کہ 'میرے ایسے گاہک ہیں جو لاس اینجلس میں میچ دیکھتے ہیں اور پھر چند راتیں ہوائی میں گزارنے کے لیے پرواز کرتے ہیں۔'
فائنل ویک اینڈ کے لیے، نیویارک میں لگژری رہائش کے ساتھ، وہ اندازہ لگاتی ہیں کہ اخراجات آسانی سے چھ ہندسوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
نیویارک میں قائم ایجنسی 'فرسٹ ان سروس ٹریول' کی سٹریٹجی ڈائریکٹر جینا گیبارڈ، جو عالمی لگژری نیٹ ورک 'ورچوسو' کا حصہ ہے، نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ انتہائی مالدار شائقین کے لیے آپشنز میں وی آئی پی ٹکٹس اور میچ کے دوران شیف کے تیار کردہ کھانوں سے لے کر مزید جامع پیکجز ہوتے ہیں۔
جینا گیبارڈ کہتی ہیں کہ 'ان میں کھلاڑیوں سے خصوصی ملاقاتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔'
وی آئی پی ٹکٹس، میچ کے لحاظ سے، فی کس 5,000 ڈالر سے شروع ہو سکتے ہیں اور پیکجز کئی لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں جب ان میں متعدد میچز اور شہر شامل ہوں۔
رازداری اور رسائی
نکول والچ کے مطابق اس درجے کے صارفین کے لیے سہولت، پرائیویسی اور رسائی قیمت سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔
'وہ اپنے عملے کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور اس نوعیت کے بڑے ایونٹ میں انتہائی ذاتی نوعیت کے تجربے کی توقع رکھتے ہیں۔'
تاہم کچھ میچز میں سٹیڈیم تک پہنچنے کے سفری وسائل کی دستیابی محدود ہو سکتی ہے۔
نکول والچ کہتی ہیں کہ طیاروں اور لینڈنگ سائٹس کی تعداد محدود ہوتی ہے۔
اس صورت میں حل ایک نجی ڈرائیور کے ساتھ لگژری کار ہوتی ہے۔ نکلول والچ کے مطابق ایسے گاہک صرف وی آئی پی ٹکٹ سے زیادہ چاہتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ 'ہر شخص فرنٹ رو میں بیٹھنا نہیں چاہتا۔ بہت سوں کے لیے ترجیح رازداری اور خصوصی خدمات تک رسائی ہوتی ہے۔ وہ مکمل وی آئی پی ماحول چاہتے ہیں۔'
'جہاں عام شائقین لمبی قطاروں میں وقت ضائع کرتے ہیں اور دن بھر کھانے پینے پر خرچ کرتے ہیں، یہ گاہک عموماً خصوصی داخلہ اور نجی لاؤنجز تک رسائی رکھتے ہیں جہاں اعلیٰ درجے کا کھانا فراہم ہوتا ہے۔'
نکول والچ کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ وہ بہت خرچ کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ اس کے بدلے بلا تعطل اور بہت وی آئی پی سہولیات چاہتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ انھیں ہجوم سے نہیں گزرنا پڑتا یا شیڈول کی تفصیلات کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔
مک نیل کہتے ہیں کہ 'وہ خصوصی سلوک چاہتے ہیں، وہ انتظار نہیں کرنا چاہتے۔ یہ حقیقی معنی میں ریڈ کارپٹ ٹریٹمنٹ ہے اور وہ اس کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہیں۔'
ان گاہکوں کے ساتھ سفر کرنے والی معاون ٹیموں میں مختلف پیشہ ور افراد شامل ہو سکتے ہیں، جیسے سکیورٹی گارڈز سے لے کر نجی شیف تک۔
جینا گیبارڈ بتاتی ہیں کہ 'بہت سے معاملات میں، ٹریول کنسلٹنٹ براہِ راست گاہک کے ذاتی اسسٹنٹ اور دیگر ٹیم ممبران کے ساتھ مل کر انتظامات کو مربوط کرتا ہے۔'
آخری لمحے کے فیصلے
ان مسافروں کو عام شائقین سے الگ کرنے والا ایک اور پہلو پیشگی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔
نکول والچ کہتی ہیں کہ 'وہ اپنے وقت کو پیسے سے کہیں زیادہ اہم سمجھتے ہیں اور اکثر آخری لمحے میں فیصلے کرتے ہیں'
مک نیل کے مطابق ابتدا میں ان کے گاہکوں کی دلچسپی کم تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ 'امریکہ سے باہر کے مسافروں میں سیاسی ماحول کے باعث واضح ہچکچاہٹ تھی۔
تاہم حالیہ ہفتوں میں طلب میں تیزی آئی اور توقع ہے کہ جیسے جیسے ناک آؤٹ مرحلہ قریب آئے گا اور واضح ہو گا کہ کون سی ٹیمیں آگے بڑھیں گی، اس میں مزید اضافہ ہو گا۔
مک نیل کہتے ہیں کہ 'حقیقت میں، ہمارے لیے تو یہ ابھی شروع ہی ہوا ہے کیونکہ ہمارے گاہک اکثر آخری لمحے میں اپنے منصوبے حتمی شکل دیتے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ 'چونکہ بہت سے نجی طیاروں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے تمام میچز میں شرکت آسان ہو جاتی ہے۔'
نکول والچ کہتی ہیں کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد سے طلب میں اضافہ دیکھا گیا۔ 'سچ کہوں تو یہ ہماری توقع سے زیادہ ہے۔'
مک نیل کے مطابق میچز کے علاوہ دیگر خصوصی تجربات کی بھی بہت طلب ہے، جیسے ان کی کمپنی کی جانب سے سابق ورلڈ کپ کھلاڑیوں کے ساتھ ظہرانوں کا اہتمام، جہاں عالمی فٹبال کے نامور افراد سے قریبی گفتگو کا موقع ملتا ہے۔
کچھ مواقع پر، ستاروں کو قریب سے دیکھنے کے خواہش مند گاہک متعلقہ کھلاڑیوں کی حمایت میں کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کو عطیہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔
مک نیل کہتے ہیں کہ 'بہت سے کھلاڑی فلاحی کاموں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔'
'اپنے فارغ دن پر وہ کچھ گاہکوں سے ٹریننگ سینٹر میں ملنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ہمارے گاہک عطیہ دیتے ہیں، اور شاید وہ ان کے ساتھ تصاویر لے سکتے ہیں، گیند کو کِک کر سکتے ہیں یا کچھ اور۔'
جو لوگ ورلڈ کپ فائنل تک 'انتہائی خصوصی' رسائی کے خواہاں تھے لیکن چار ملین ڈالر والا پیکج حاصل نہ کر سکے، ان کے لیے مک نیل یاد دہانی کراتے ہیں کہ نیا موقع موجود ہے، جس میں میدان کے بالکل کنارے دو خصوصی نشستیں شامل ہیں۔
ان میں سے ہر ایک کی قیمت 'صرف' 1.5 ملین ڈالر ہوگی۔