مکہ معاہدہ: ’قدرتی شراکت دار‘ مصر کی اہم معاہدے میں عدم شمولیت پر سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟

Shehbaz Sharif, Muhammad Bin Salman, Turkish and Egyptian presidents

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان گذشتہ ہفتے طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر جہاں پاکستان میں سرکاری سطح پر جشن منایا جا رہا ہے وہیں عرب ممالک میں بھی اس معاہدے پر بحث مباحثے کا سلسلہ جاری ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اس صورتحال میں مصر کے بارے میں یہ اطلاع ہے کہ وہ اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے فی الحال تیار نہیں ہے۔

سنیچر کو ترکی کے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا تھا کہ مصر بعد کے مرحلے میں اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ اِن تینوں ممالک کا ’قدرتی شراکت دار‘ ہے۔

اطلاعات کے مطابق قاہرہ کو تشویش ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ اِسے یمن کے حوثی جنگجوؤں اور عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی میں لا سکتا ہے۔ تاہم مصر نے سرکاری طور پر ’مکہ معاہدے‘ سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعہ (سات جولائی) کو اس معاہدے پر سعودی عرب کے شہر مکہ میں دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے میں قرار دیا گیا ہے کہ ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے معاہدے کے بعد ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ یہ معاہدے کسی ملک کے خلاف نہیں ہے جبکہ گذشتہ روز (اتوار کو) پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے ایک وضاحت سامنے آئی تھی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔‘

اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ’مکہ معاہدہ میں خطے کا کوئی بھی ملک شامل ہو سکتا ہے، جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پرامن ذرائع سے اختلافات کے حل کے لیے آمادہ ہو۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’قاہرہ فی الحال دفاعی معاہدے میں شامل ہونے پر غور نہیں کر رہا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنیچر کو جب ترک وزیرِ خارجہ نے مصر کو اِس معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی تو اُسی روز برطانیہ میں قائم اور قطر کے مالی تعاون سے چلنے والی ویب سائٹ ’العربی الجدید‘ نے ایک باخبر مصری ذریعے کے حوالے سے کہا کہ ’قاہرہ فی الحال دفاعی معاہدے میں شامل ہونے پر غور نہیں کر رہا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مصر خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے مشترکہ مفادات کو تسلیم کرتا ہے، تاہم قاہرہ کا خیال ہے کہ یہ نیا معاہدہ مصر کو یمن کے حوثیوں اور عراق میں ایران نواز دھڑوں کے خلاف براہِ راست محاذ آرائی میں لا کھڑا کر سکتا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ قاہرہ کے بنیادی تحفظات میں سے ایک یمن اور بحیرہ احمر کی صورتحال ہے، کیونکہ ایسے دفاعی اتحاد میں شمولیت مصر کو سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم میں شامل کر سکتی ہے۔

مصر کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اس معاہدے میں شامل ہونے سے اُس کی علاقائی ثالث کی حیثیت بھی متاثر ہو گی جس کے ذریعے وہ خطے میں ہونے والے کسی بھی تنازع میں تمام فریقوں سے رابطہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب بعض مصری سفارتکار مصر کی اس معاہدے میں عدم شمولیت پر سوال بھی اُٹھا رہے ہیں۔

ویب سائٹ نے مصر کے سابق معاون وزیر خارجہ معصوم مرزوق کے حوالے سے کہا کہ مکہ معاہدے سے مصر کی غیر موجودگی وضاحت طلب ہے، خصوصاً اس لیے کہ مصر نے 21 جون کو ایک اہم مشاورتی اجلاس کی میزبانی کی تھی جس میں مصر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس چاروں ممالک کے درمیان سیاسی اور سکیورٹی مشاورت کے پہلے سے موجود راستے کی عکاسی کرتا تھا۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائِیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں وسعت دیکھنے میں آئی تھی۔ مارچ 2026 میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ بھی اسلام آباد میں جمع ہوئے تھے۔

مرزوق کے مطابق اس پیش رفت کا مطلب ہے کہ ان چار ریاستوں کے درمیان مکالمے کا ایک فریم ورک پہلے ہی تشکیل پانا شروع ہو گیا تھا۔ لہٰذا مکہ معاہدے پر دستخط کے وقت مصر کی غیر موجودگی ’ایسے سوالات اٹھاتی ہے جن کے واضح جوابات درکار ہیں۔‘

Pakistan Saudi Arabia Turkey

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجمعہ کے روز مکہ میں ہونے والے اس دفاعی معاہدے کو خطے کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے

چھ اگست کو قطری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ مصر اور متحدہ عرب امارات سعودی قیادت میں قائم کیے جانے والے بحری اتحاد میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے تھے، حالانکہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب قاہرہ کو قائل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ قاہرہ یمن کے حوثیوں اور ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہتا ہے۔

نیوز ویب سائٹ ’یوم 7‘ نے اس سے قبل ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا تھا کہ متعلقہ حکام اتحاد میں شامل ہونے کے لیے ضروری طریقہ کار مکمل کرنے پر کام کر رہے ہیں جبکہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل پارلیمانی منظوری حاصل کرنے کی اہمیت کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ قاہرہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ مستقبل میں اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم آئینی دفعات اور قومی قانون سازی کے مکمل مطابق ہو، ساتھ ہی مصر کے قومی مفادات کا تحفظ کرے اور متعلقہ ادارہ جاتی تقاضوں کو بھی پورا کرے۔

مصر اور ترکی کے تعلقات میں بڑھتی گرمجوشی

Turkey Egypt

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/EGYPTIAN MILITARY SPOKESPERSON

مصر اور ترکی نے سنہ 2023 میں سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد دفاعی تعاون میں نمایاں توسیع کی ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسا تعلق جو کبھی علاقائی رقابت سے متعین ہوتا تھا، اب بڑھتے ہوئے عسکری رابطے اور ہم آہنگی کی علامت بن گیا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2023 سے قبل لگ بھگ 10 سال تک دونوں ممالک کے تعلقات میں علاقائی تنازعات پر مختلف آرا اور سنہ 2013 میں مصر کے صدر محمد مرسی کو معزول کیے جانے کے باعث تناؤ تھا۔

گذشتہ دو برسوں کے دوران دونوں ممالک بحریہ، فضائیہ اور خصوصی افواج کی مشترکہ مشقوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون بھی بڑھا ہے۔

اس پیش رفت کی رفتار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلامتی کے شعبے میں تعاون ان کے وسیع تر باہمی تعلقات میں بہتری کے عمل کا ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرنے والا پہلو بن چکا ہے۔

یہ گہرا ہوتا ہوا تعلق ایسے وقت میں فروغ پا رہا ہے جب قاہرہ اور انقرہ دونوں کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ فوجی کارروائیوں اور خطے کی بڑھتی ہوئی غیر مستحکم صورتحال پر تشویش لاحق ہے۔

مصری تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

سات اگست کو مصر کے سرکاری ٹی وی چینل ’القاہرہ نیوز‘ نے اس معاہدے کو نمایاں کوریج دی جبکہ اپوزیشن سے وابستہ تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ مصر اس اتحاد کا حصہ کیوں نہیں ہے۔

تجزیہ کار محمد عباس نے کہا کہ اس مرحلے پر مصر کی عدم شمولیت ’منطقی‘ ہے جبکہ ترکی میں مقیم دفاعی ماہر مؤمن اشرف نے اسے ’واضح سفارتی ناکامی‘ قرار دیا۔

امریکہ میں مقیم صحافی محمد شہود نے فیس بُک پر لکھا کہ دستخطی تقریب میں مصر کی غیر موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ مستقبل میں اس کی شمولیت کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔

مصنف یحییٰ الجبلی نے اس معاہدے کو ’ایک تاریخی واقعہ اور ایک نیا اتحاد قرار دیا جو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا اور جس کا پیغام صرف خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔‘

دوسری جانب برطانیہ میں مقیم صحافی عبد المنعم محمود نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ یہ اتحاد عملی طور پر کتنا قابلِ عمل ہے اور آیا یہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔

تجزیہ کار عبدو فاید نے اس معاہدے کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے اسے ’ایران کو روکنے کی سعودی کوشش‘ قرار دیا۔