تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت جو تفتیش کاروں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے: ’حیران ہیں زہر پھل میں کیسے پہنچا‘

    • مصنف, گیتا پانڈے، دیپالی جگتاب اور الپیش کارکرے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، انڈیا
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا میں مبینہ طور پر ’تربوز‘ کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت کو تقریباً تین ہفتے گزر چکے ہیں تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ تفتیش کار اب تک اِن اموات کے پیچھے موجود اصل حقائق کو جاننے میں ناکام رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ممبئی کے علاقے پائیدھونی کے رہائشی عبداللہ، اُن کی اہلیہ نسرین اور اُن کی دو بیٹیاں عائشہ اور زینب 25 اپریل کو اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔

بدھ کو ممبئی پولیس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ زہر تربوز میں کیسے پہنچا۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم ابھی بھی شواہد جمع کر رہے ہیں اور ہر پہلو سے اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہم نے قتل، حادثاتی موت یا خودکشی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا ہے۔‘

پولیس افسر کے مطابق ’ہم اب بھی اس بات پر حیران ہیں کہ چوہے مار زہر پھل میں کیسے پہنچا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے 40 سے 50 افراد سے پوچھ گچھ کی ہے جن میں رشتہ دار، دوست، خاندان کے افراد اور پڑوسی بھی شامل ہیں۔ ہم نے کئی ٹیمیں بنائی ہیں جو اس کیس کو حل کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ ہم اس وقت تک کام جاری رکھیں گے جب تک ہمیں تمام سوالوں کے جواب نہیں مل جاتے۔‘

گذشتہ ہفتے ممبئی پولیس نے کہا تھا کہ انھیں فرانزک ٹیسٹ کی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ زنک فاسفائیڈ اس خاندان کی موت کی وجہ بنا ہے۔

یاد رہےزنک فاسفائیڈ ایک نہایت زہریلا کیمیکل ہے، جسے عام طور پر چوہے مارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ کیمیکل مرنے والوں کے اعضا اور پھل کے باقیات میں بھی پایا گیا۔ تاہم اس انکشاف کے باوجود یہ کیس اب بھی حل سے بہت دور دکھائی دیتا ہے اور اس میں کئی سوالات کے جواب تاحال نہیں ملے ہیں۔

اس واقعے کے بعد اپنے ابتدائی بیان میں پولیس نے کہا کہ اس رات متاثرہ خاندان نے کچھ رشتہ داروں کو رات کے کھانے پر بلایا تھا جہاں پہلے ان سب نے مل کر بریانی کھائی۔

پولیس کے مطابق ’مہمان رات ساڑھے دس بجے چلے گئے اور چند گھنٹوں بعد اس خاندان نے تربوز کھایا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ بیمار ہونا شروع ہو گئے۔‘

ڈپٹی کمشنر پولیس پروین مُندھے نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’ان سب کو الٹیاں اوراسہال شروع ہو گئے جس کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم بدقسمتی سے چاروں افراد کی موت ہو گئی۔‘

عینی شاہدین نے کیا دیکھا

یہ خاندان جنوبی ممبئی کے علاقے پائیدھونی میں ایک پرانی عمارت کی پہلی منزل پر رہتا تھا۔ اس خاندان کے افراد کی حالت جب غیر ہونا شروع ہوئی تھی اس وقت ان کے پڑوسی مدد کے لیے پہنچے تھے، جن میں اسی عمارت کی چوتھی منزل پر رہنے والے ڈاکٹر زید قریشی بھی شامل تھے۔

ڈاکٹر قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے دیکھا کہ سب سے کم عمر بچی کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔ میں نے سی پی آر دیا، لیکن حالت بہتر نہ ہونے پر اسے قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی موت ہو گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’باقی تین افراد کو مقامی ہسپتال سے جے جے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ بھی فوت ہو گئے۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹس ابھی تک نہیں آئی ہیں۔‘

پولیس نے تربوز کے چھلکے سمیت تمام کھانے کی چیزیں قبضے میں لیں تاکہ ملاوٹ کی جانچ کی جا سکے۔ چونکہ خاندان کے بیمار ہونے سے پہلے تربوز کھایا گیا تھا اس لیے ان کی بھی توجہ اس پھل پر تھی۔

تربوز کے چھلکے اور معدے میں زنک فاسفائیڈ کیمیکل کی موجودگی

گذشتہ ہفتے ممبئی کی فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی رپورٹ نے توجہ تربوز سے ہٹا کر زنک فاسفائیڈ پر کر دی۔

ایف ایس ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وجے تھاکرے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ کیمیکل مرنے والے افراد کے اندرونی نمونوں خاص طور پر جگر، گردے اور تلی میں پایا گیا، اس کے ساتھ ساتھ معدے کے مواد، صفرا اور پیٹ کی چربی کے نمونوں میں بھی یہ کیمیائی مادہ موجود تھا اور تربوز کے نمونے میں بھی زنک فاسفائیڈ ملا۔‘

اس کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر نے بھی تصدیق کی کہ’یہ کیمیکل تفتیش کے دوران جمع کیے گئے تربوز کے نمونوں میں پایا گیا جبکہ تجزیے کے لیے بھیجے گئی دیگر کسی خوراک میں اس کی موجودگی کے اثرات نہیں ملے۔‘

ممبئی میں مقیم ڈاکٹر بھوشن روکڑے کے مطابق چوہوں کو مارنے کے لیے استعمال ہونے والے کچھ زہروں میں زنک فاسفائیڈ شامل ہوتا ہے جو ’انتہائی زہریلا کیمیائی مرکب‘ ہے۔

ان کے مطابق یہ کیمیکل جب جسم میں داخل ہوتا ہے یا نمی کے ساتھ ملتا ہے تو فاسفین گیس پیدا کرتا ہے، جو جسم کے خلیوں کو آکسیجن استعمال کرنے سے روک کر کئی اعضا پر شدید اثرات ڈالتا ہے۔

ڈاکٹر روکڑے نے بتایا کہ ’ان علامات میں الٹی، سینے میں جکڑن، سانس لینے میں دشواری اور جسم کا بے سدھ ہو جانا شامل ہے جبکہ بہت کم مقدار میں بھی یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔‘

انڈین میڈیا میں تربوز کھانے سے متعلق انتباہ

انڈین ایکسپریس اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق جس عمارت میں یہ خاندان رہتا تھا وہاں چوہوں کا مسئلہ ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے خاندان ان چوہوں سے نجات کے لیے ریپیلنٹس، زہر ملے کیک اور گلوپیڈ استعمال کرتے ہیں۔

یاد رہے چند روز قبل جب یہ خبر سامنے آئی تھی تو انڈین میڈیا کی جانب سے فوری طور پر ان اموات کو تربوز کھانے کے جوڑا جانے لگا کیونکہ اس روز اس متاثرہ خاندان نے اپنی موت سے پہلے یہی پھل کھایا تھا۔

انڈیا میں ان اموات کو مسلسل میڈیا کوریج ملی یہاں تک کے کئی سرخیوں میں متنبہ کیا گیا گرمیوں کے پھلوں میں سر فہرست مقبول اور پسندیدہ پھل تربوز کو کھاتے وقت محتاط رہیں۔

ان رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس پھل میں ملاوٹ تھی یا وہ زہر آلود تھا اس لیے اس کے کھانے سے میاں بیوی اور ان کی نوعمر بیٹیاں ہلاک ہوئیں۔ اس خبر کے بعد ممبئی کی پھل منڈیوں میں تربوز کی طلب میں کمی کے باعث اس کی قیمتیں گر گئیں۔

یہ بھی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ آیا یہ اموات حادثاتی تھیں یا جان بوجھ کر کی گئی تھیں۔

زنک فاسفائیڈ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق زنک فاسفائیڈ ایک انتہائی زہریلا کیمیائی مرکب ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کو مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ کیمیکل زراعت اور اناج کے ذخیروں میں چوہا مار دوا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔

زنک فاسفائیڈ ایک غیرنامیاتی مرکب ہے جو زنک (Zn) اور فاسفورس (P) پر مشتمل ہے۔ اس کا کیمیائی فارمولا Zn₃P₂ ہے اور یہ گہرے سرمئی یا سیاہ پاؤڈر یا دانے دار شکل میں استعمال ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زنک فاسفائیڈ اگر پیٹ میں داخل ہو جائے تو سب سے پہلے معدے کے تیزاب کے ساتھ ردعمل کے نتیجے میں فاسفائن نامی انتہائی زہریلی گیس پیدا کرتا ہے۔ یہ گیس جسم کے خلیوں کو توانائی پیدا کرنے سے روکتی ہے اور یہ دل، پھیپھڑوں اور جگر پر سنگین اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

زنک فاسفائیڈ کا حادثاتی طور پر جسم میں داخل ہو جانا اور فاسفائن گیس کا سبب بننا مہلک ہو سکتا ہے۔ لہذا اس کیمیکل کا استعمال بہت سے ممالک میں سخت ضابطوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہ عام لوگوں کو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا۔

’تربوز ہضم ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے‘

تربوز کو دنیا کے گرم علاقوں میں رہنے والے شدید گرمی کے ذیلی اثرات سے بچنے کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسی لیے انڈیا اور پاکستان جیسے گرم ممالک میں یہ ایک پسندیدہ پھل ہے۔

پاکستان اور انڈیا میں جہاں گرمی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی تربوز اور خربوزے یعنی میلن فیملی کے پھلوں کو شوق سے کھایا جاتا ہے وہیں اس نوعیت کے جملے بھی عام ہیں کہ تربوز کو کھا کر پانی پینے سے بھلا چنگا شخص بیمار پڑ جاتا ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں تربوز کے لال رنگ کو مزید گہرا کرنے کی خاطر اس کو انجیکشن لگانے کی غیر تصدیق شدہ خبریں بھی رپورٹ ہو رہی ہیں۔

رواں سال بھی سوشل میڈیا پر تربوز کے ’بے وقت‘ کھانے اور بیمار پڑنے کی بحث عام ہے تو ہم نے سوچا کہ ان توہمات اور غلط فہمیوں پر ماہرین کی رائے آپ کے گوش گزار دیں۔

اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے منسلک ماہر امراض ہاضمہ (گیسٹرو انٹیرولوجسٹ) ڈاکٹر معاذ بن بادشاہ سے ہم نے پوچھا کہ کیا واقعی تربوز اور خربوزے کو خالی پیٹ یا بھرے پیٹ کھانے کے باعث ہیضہ یا اسہال جیسے امراض ہو سکتے ہیں؟

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اگر نظر دوڑائی جائے تو بہت سے لوگ اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ موسم گرما میں فوڈ پوائزننگ، ہیضے اور دوسری بیماریوں کی وجہ بھی ایسے تربوز ہیں جن کو سرخ اور میٹھا بنانے کے لیے انجیکشن لگائے گئے۔

صارفین کو مختلف چیزوں پر آگاہی فراہم کرنے والی تنظیم کنزیومر سالیڈیرٹی سسٹم کے صدر محسن بھٹی کے مطابق اس کی وجہ تربوز نہیں بلکہ ’ہماری کھانے پینے کی عادات ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب ہم بازار سے تربوز خریدتے وقت اس کا رنگ دیکھنے کے لیے اسے کٹ لگواتے ہیں تو چھری صاف نہیں ہوتی اور نجانے کتنے روز پہلے اسے دھویا گیا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے صحت کو مسئلہ ہو سکتا ہے۔‘

پروفیسر ڈاکٹر شاہد جاوید بٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ کسان پھل کی کاشت کے دوران مختلف کیمیکلز استعمال کرتے ہیں تاکہ اسے جلدی تیار کیا جا سکے۔