سیاحوں کی بڑی تعداد امریکہ جانے سے کیوں کترا رہی ہے؟

    • مصنف, لنڈسے گیلووے
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

حال ہی میں امریکہ بھر کے ہوائی اڈوں پر سفر کرنے والے مسافروں کو چار گھنٹے تک کا طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا، جو ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کی 24 سالہ تاریخ میں انتطار کا سب سے طویل وقت ہے۔

یہ صورتحال جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث پیش آئی، جو اب آٹھ ہفتوں سے جاری ہے اور یہ امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن بن چکا ہے۔

اس شٹ ڈاؤن کے سبب ٹی ایس اے کے اہلکاروں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک تنخواہیں نہیں دی جا سکیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں اہلکار کام سے غیر حاضر رہے جبکہ 500 سے زیادہ نے استعفیٰ دے دیا۔

30 مارچ کو دستخط کیے گئے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ہوائی اڈوں پر انتظار کے اوقات میں نمایاں کمی لانے کی کوشش کے تحت ٹی ایس اے کے اہلکاروں کی تنخواہیں بحال کر دی گئی تھیں لیکن طویل قطاروں سے متعلق سرخیاں اور تصاویر امریکہ کے ٹریول اور سیاحت کے شعبے کو درپیش مشکلات کے سلسلے کی تازہ ترین مثال ہیں۔

عالمی سفری نظام میں خلل اس سے زیادہ نامناسب وقت پر نہیں آ سکتا تھا۔ امریکہ اس موسمِ گرما میں فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے اور 2026 میں اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ منانے کی تیاری کر رہا ہے۔

عام حالات میں ان میں سے ہر ایک وقت امریکہ کی سیاحتی صنعت کے لیے جشن کا موقع ہوتا مگر اس کے برعکس ورلڈ ٹورازم بیرومیٹر کے مطابق ملک اس وقت خراب تاثر اور غیر مقبول پالیسیوں کے امتزاج کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں 2025 میں امریکہ کی سیاحت میں 5.4 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ دنیا کے باقی حصوں میں بین الاقوامی سیاحت میں چار فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سنہ 2025 میں کینیڈا سے امریکہ آنے والے مسافروں کی تعداد 2024 کے مقابلے میں 22 فیصد کم ہو گئی، جو کسی بھی مارکیٹ میں ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی کمی ہے۔

آئی سی ای ایجنٹس کی ہوائی اڈوں پر موجودگی

امریکی ہوائی اڈوں پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں کی مسلسل موجودگی بھی ملک کی شبیہ بہتر بنانے میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو رہی۔

ابتدا میں انھیں ٹی ایس اے کے عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا تاہم امریکہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ یہ اہلکار ’ضرورت کے مطابق‘ وہاں موجود رہیں گے۔

آئی سی ای کے ایجنٹس کو ایوی ایشن سکیورٹی کی تربیت نہیں دی جاتی، اس لیے مسافر ہوائی اڈوں پر ان کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

نائجیریا میں پیدا ہونے والی اور بعد میں امریکی شہریت حاصل کرنے والی سینڈرا اووڈیلی نے کہا کہ آئی سی ای کی ہوائی اڈوں پر موجودگی کے سبب وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’آئی سی ای شہریوں کو بھی حراست میں لے سکتی ہے اور انھیں بھی جو شہری نہیں ہوتے اور اگر غلطی ہو جائے تو بعد میں معذرت کر لیتی ہے، اس لیے مجھے کئی بار اپنے سفر کے منصوبے تبدیل کرنا پڑے ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب جس ہوائی اڈے پر میں پہنچ رہی ہوں وہاں آئی سی ای کی موجودگی زیادہ ہو۔‘

’مجھے کبھی کوئی مسئلہ تو پیش نہیں آیا، لیکن اب مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اب ایسا نہ ہو جائے کیونکہ اب ایسے طریقۂ کار اور ضوابط نافذ ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ یہ سوچ مجھے خوفزدہ کرتی ہے۔‘

ہوائی اڈوں پر آئی سی ای کے اہلکاروں کی تعیناتی امریکہ کی مسلسل بدلتی پالیسیوں میں سے صرف ایک ہے، جو کچھ بین الاقوامی مسافروں کو الجھن میں ڈال رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دسمبر 2025 میں پیش کی گئی ایک تجویز کے تحت ویزا فری سہولت رکھنے والے 42 ممالک (جن میں برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک شامل ہیں) سے آنے والے مسافروں کے لیے امریکہ میں داخلے کے لیے گذشتہ پانچ برسوں کی اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی تفصیلات جمع کروانا لازمی ہو گا۔

یہ تجویز تاحال نافذ نہیں کی گئی لیکن بعض مسافروں کا خیال ہے کہ یہ پہلے ہی لاگو ہو چکی ہے۔

شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے وکیل اور اوشن اینڈ ایسوسی ایٹس کے مینجنگ پارٹنر ایون اوشن کہتے ہیں کہ ’قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی لیکن اب ماحول بدل چکا ہے۔‘

’جب وفاقی اہلکار حدود سے تجاوز کرنے کو اپنا اختیار سمجھ بیٹھیں تو اس کا مطلب پالیسی میں تبدیلی ہی ہوتا ہے، اس میں تبدیلی کے لیے کانگرس کے کسی قانونی کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

لمبی قطاریں اور امریکہ مخالف جذبات

صدر ٹرمپ کی بعض پالیسیوں کے سبب پیدا ہونے والے امریکہ مخالف جذبات اور کئی امریکی ہوائی اڈوں پر انتظار میں کھڑے مسافروں کی لمبی قطاروں نے بعض لوگوں کو اس بات پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا اس وقت امریکہ کا سفر کرنا واقعی درست فیصلہ ہے یا نہیں۔

ایمسٹرڈیم میں قائم ایک پبلک ریلیشنز فرم کے ڈائریکٹر یوہان کونسٹ عام طور پر کانفرنسوں اور اجلاسوں میں شرکت کے لیے سال میں تین یا چار بار امریکہ کا سفر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم اب وہ تاریخوں کے انتخاب میں زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’موجودہ صورتحال میں یورپ کے ساتھ ایک اتحادی کے بجائے ایک حریف کی طرح کا برتاؤ کیا جا رہا ہے، چاہے وہ ٹیرف ہوں، نیٹو سے متعلق بیانات ہوں یا یورپی ممالک کے حوالے سے مجموعی لہجہ۔‘

’ایسی بدلتی صورتِحال کی وجہ سے انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اسے خوش آمدید نہیں کہا جا رہا حالانکہ ذاتی طور پر کسی امریکی نے کبھی مجھے ایسا احساس نہیں دلایا۔‘

کونسٹ کہتے ہیں کہ محض یہ احساس ہی ان کی عادات بدلنے کے لیے کافی ثابت ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب میں اس بات پر بہت غور کرتا ہوں کہ کون سے سفر واقعی ضروری ہیں اور کون سے نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایمسٹرڈیم سے امریکہ جانے والی پروازیں نمایاں طور پر زیادہ خالی رہی ہیں۔

جرمنی میں مقیم بائیک شیئرنگ پلیٹ فارم بائیکس بکنگ کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر انیتا شریڈراس سال بھی امریکہ کے سفر کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

وہ اس سفر میں کاروباری ملاقاتوں کے ساتھ شکاگو کی سیر اور مغربی ساحل پر دیوہیکل سیکوئیا درخت دیکھنے کے لیے ایک روزہ دورہ بھی شامل کرنا چاہتی ہیں تاہم وہ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ وہ سمجھ سکتی ہیں کہ کچھ مسافر امریکہ نہ جانے کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’میں ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جنھوں نے بین الاقوامی سطح پر امریکی اقدامات سے اختلاف کی وجہ سے امریکہ کا سفر منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

جو لوگ اپنا سفر منسوخ کر چکے ہیں کسی خاص سیاسی تبدیلی سے مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ مجموعی بے چینی سے پریشان ہیں۔

انیتا کہتی ہیں کہ وہ اس وقت امریکہ کا سفر کرتے ہوئے خود کو مطمئن نہیں محسوس کر رہے تھے۔

سفر کے انتظامات

امریکہ کے کچھ ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ جب بین الاقوامی سیاح وہاں پہنچتے ہیں تو جو کچھ وہ وہاں دیکھتے ہیں اس پر اکثر حیران رہ جاتے ہیں۔

نیش وِل ایڈونچرز کے بانی اور مؤرخ پال وِٹن نے کہا کہ ’لوگ مشکلات کی توقعات کے ساتھ آتے ہیں لیکن انتشار کے بجائے انھیں یہاں ایسا نظام ملتا ہے جو مکمل تو نہیں ہوتا مگر ایسا ہوتا ہے جسے ہینڈل کیا جا سکتا ہے۔‘

’سفر سے پہلے اپنی تمام دستاویزات مکمل اور درست رکھیں اور سفر کے لیے وافر وقت رکھیں۔ ایک پریشان کن سفر اور ایک بہترین سفر کے درمیان فرق اکثر پالیسیوں کے بجائے تیاری کا ہوتا ہے۔‘

ایون اوشن اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور بین الاقوامی مسافروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ روانگی سے قبل اپنے سفر کے مقصد کو ثابت کرنے والی دستاویزات اپنے پاس رکھیں اور جہاز پر سوار ہونے سے پہلے اپنے حقوق سے اچھی طرح آگاہ ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سرحد پر سی بی پی (امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن) کو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں لیکن امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد آپ کے آئینی حقوق برقرار رہتے ہیں۔‘

’ان حقوق کا مطالبہ کرنا چاہیے اور جب ان کی خلاف ورزی ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنا بھی اہم اور ضروری ہے۔‘

امریکی ٹریول ایسوسی ایشن (جو امریکہ کی سیاحتی صنعت کا لابنگ گروپ ہے) میں گورنمنٹ ریلیشنز کے سربراہ ایرک ہینسن کہتے ہیں کہ وہ مسافروں کے خدشات اور ان کے حقیقی تجربات کے درمیان پائے جانے والے فرق کو کم کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔

تاہم انھوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بہت سے ہوائی اڈوں پر تیز رفتار کسٹمز کے طریقۂ کار نافذ کیے گئے ہیں، جن کے باعث بین الاقوامی مسافروں کے لیے قطاریں کم ہو گئی ہیں۔

پال وِٹن اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں لیکن یہ اکثر کسی بڑی ثقافتی تبدیلی کی نشاندہی نہیں کرتیں، کم از کم ایسی بنیادی تبدیلیوں کی تو نہیں جو ایک عام مسافر کے روزمرہ تجربے کو متاثر کریں۔‘

’آخر کار امریکہ دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے، جو سب سے زیادہ قابلِ رسائی اور خوش آمدید کہنے والے سیاحتی مقامات سمجھے جاتے ہیں۔‘

فی الحال سرکاری اطمینان اور مسافروں کی بے چینی کے درمیان خلا برقرار ہے۔

ٹی ایس اے کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ نئے اہلکاروں کی تربیت میں چار سے چھ ماہ لگتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ فٹبال ورلڈ کپ کا آغاز عملے کی مکمل بحالی سے پہلے ہی ہو سکتا ہے۔

اسے نہ تو حکومتی شٹ ڈاؤن کا حل سمجھا جا رہا ہے اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع کا، جو بے چینی کو ہوا دے رہا ہے اور فضائی سفر کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

تاہم تمام تر خدشات کے باوجود کونسٹ کے لیے امریکہ کی کشش اب بھی برقرار ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اب بھی امریکہ اور اس کے لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ پالیسیاں مجھے اس بات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ کیا میں پہلے کی طرح بار بار وہاں سفر کروں یا نہیں۔‘