’گمراہ کن نقشہ قابلِ قبول نہیں ہو گا‘: اقوام متحدہ میں دنیا کے نئے نقشے کی حمایت کے بعد انڈیا نے اعتراض کیوں کیا؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو دنیا کے موجودہ نقشے میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کا مقصد افریقہ کے حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھایا جانا تھا۔

اس ووٹنگ کے دوران امریکہ واحد ملک تھا جس نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی جبکہ فرانس، برطانیہ اور انڈیا سمیت 164 ممالک کے ووٹ اس تجویز کی حمایت میں آئے۔

تاہم اس نقشے میں انڈیا کی جغرافیائی حدود کو مختلف انداز میں دکھائے جانے کی بات کھلنے پر اب اس نئے نقشے نے ایک تنازعے کو جنم دے دیا اور اس بحث کی گونج سوشل میڈیا پر بھی سنائی دی۔

سینئر صحافی سوہاسنی حیدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’جاری کیے گئے نئے نقشے میں جموں و کشمیر کے بعض حصوں کو پاکستان اور چین کا حصہ دکھایا گیا ہے۔‘

اس تنازع کے باعث اتوار کو انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئے نقشے سے متعلق تنازعے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے وفاقی زیرِ انتظام علاقوں کو اقوام متحدہ کے مجوزہ عالمی نقشے میں صرف انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے اور کوئی بھی ’غلط‘ یا ’گمراہ کن‘ نقشہ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔

انڈین وزارت خارجہ نے کیا کہا؟

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئے نقشے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ ’اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے چار ستمبر کو مساوی رقبے کے عالمی نقشے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی تھی۔ اس کا مقصد ایسے نقشوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے جو براعظموں کے زمینی حجم کو محفوظ رکھتے ہوں۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’یہ قرارداد دنیا کے کسی مخصوص نقشے کی توثیق کرتی ہے۔ نیز یہ سیاسی نقشوں سے متعلق مسائل، جیسے بین الاقوامی سرحدوں، متنازع علاقوں یا مقامات کے ناموں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔‘

بیان میں کہا گیا کہ انڈیا نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا اور اپنے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے مساوی رقبے والے نقشوں کے استعمال کے بنیادی اصول پر زور دیا۔

تاہم اس کے بعد بیان میں وضاحت دی گئی اور کہا گیا کہ ’ہم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ قرارداد کسی مخصوص نقشے، پروجیکشن یا قومی سرحدوں کی عکاسی کی حمایت نہیں کرتی۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سمیت انڈیا کے خودمختار علاقے کو صرف انڈیا کے سرکاری نقشے کے مطابق ہی دکھایا جانا چاہیے۔‘

بیان کے مطابق ’کسی بھی قسم کی غلط یا گمراہ کن عکاسی قابلِ قبول نہیں۔ انڈیا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

پاکستانی وزارتِ خارجہ کا ردعمل

پاکستان نے جموں و کشمیر کے متنازع خطے کے نقشے سے متعلق انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا کے یکطرفہ اقدامات اور ’غیر قانونی قبضہ‘ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔‘

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ اور غیر جانب دار رائے شماری کے ذریعے ان کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

ترجمان کے مطابق ’اقوام متحدہ کے سرکاری نقشوں میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ ظاہر کیا گیا ہے اور یہی اس کی موجودہ قانونی حیثیت کی عکاسی کرنے والی نقشہ سازی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے ’سرکاری نقشے‘ اور خودمختاری کے یکطرفہ دعوے اس متنازع خطے کی حیثیت پر اثرانداز نہیں ہوتے۔‘

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انڈیا سے مطالبہ کرے کہ وہ انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول سے متعلق اپنے وعدوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پورا کرے۔‘

نئے نقشے کو متعارف کروانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو ایک قرارداد منظور کی، جس میں دنیا کے موجودہ نقشے کی جگہ ایک ایسا نقشہ متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے جو دنیا کو زیادہ درست انداز میں پیش کرتا ہے۔

اس قرارداد کو 164 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ امریکہ نے اس کی مخالفت کی اور چھ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

تاہم، اقوامِ متحدہ کی یہ قرارداد لازمی نہیں ہے، لیکن اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والے عالمی نقشوں میں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

16ویں صدی سے استعمال ہونے والے عالمی نقشے پر اس بنیاد پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ اس میں افریقہ کو گرین لینڈ کے برابر سائز کا دکھایا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں افریقہ اس سے 14 گنا بڑا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے خطِ استوا کے قریب واقع ممالک کی ترقیاتی ضروریات اور صلاحیتوں کو کم کرکے پیش کیا جاتا ہے۔

مرکیٹر نقشہ (گول زمین کو ایک سیدھےکاغذ پر دکھانے کا ایک سب سے مشہور طریقہ) 1569 میں فلیمش ماہرِ نقشہ سازی جیرارڈس مرکیٹر نے تیار کیا تھا

مرکیٹر نقشے میں زمین کو ایک قدرے جھکی ہوئی سطح پر دکھایا گیا ہے۔ اس میں خطِ استوا کے قریب واقع ممالک اپنے اصل حجم سے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ قطبین کے قریب ممالک بڑے نظر آتے ہیں۔

اس خامی کو دور کرنے کی کوشش میں ماہرینِ نقشہ سازی کی ایک ٹیم نے 2018 میں مساوی رقبے پر مبنی ایک نقشہ تیار کیا، جسے انھوں نے ’ایکوئل ارتھ پروجیکشن‘ کا نام دیا۔

فروری میں افریقی یونین کے 54 رکن ممالک نے اسے اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ’تمام براعظموں، خصوصاً افریقہ کے حجم کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے۔‘

آن لائن مہم چلانے والے گروپ ’ہیش ٹیگ کریکٹ دی میپ‘ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ امریکہ، چین، انڈیا، جاپان، میکسیکو اور یورپ کے بیشتر حصے کو افریقہ کے اندر سمو سکتے ہیں اور اس کے باوجود بھی زمین پر کچھ جگہ باقی رہے گی۔‘