’بابو‘: وہ ایک لفظ جس نے پولیس کو سکول پرنسپل کے قاتلوں تک پہنچایا

تلنگانہ: سکول پرنسپل روپا ریڈی کے قتل میں 10ویں جماعت کے دو طلبہ گرفتار کیے گئے

،تصویر کا ذریعہUGC

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

’بابو!‘

پولیس کے مطابق یہ وہ ایک لفظ تھا جس نے ایک ہولناک قتل کیس میں مشتبہ افراد کی شناخت اور تفتیش کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔

انڈین ریاست تلنگانہ کے نلگونڈا ضلع سے تعلق رکھنے والی سکول پرنسپل کالو روپا ریڈی کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے دو طلبہ کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شرت چندر پوار نے کہا: ’پُر تعیش طرزِ زندگی کے عادی ان طلبہ نے صرف پیسے کی خاطر پرنسپل کو بے دردی سے قتل کیا۔ وہ چوری کی نیت سے گئے تھے، لیکن جب پرنسپل نے انھیں پہچان لیا تو انھوں نے انھیں قتل کر دیا۔‘

واقعہ کیسے پیش آیا؟

تلنگانہ کے ضلع نلگونڈا میں واقع جے پی کالونی میں روپا ریڈی اپنے شوہر راجیندر ریڈی کے ساتھ رہتی تھیں۔

روپا ریڈی، رانی ریڈی کے ساتھ مل کر ’ناگارجنا گرامر کانسیپٹ سکول‘ چلاتی تھیں اور وہ اس سکول کی پرنسپل تھیں۔

11 اگست کی شام وہ سکول سے پیدل گھر واپس آئیں تو انھیں قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ان کے جسم پر چاقو کے متعدد زخم تھے۔

12 اگست کو تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ قتل کے وقت روپا ریڈی گھر میں اکیلی تھیں، جبکہ ان کے شوہر راجیندر ریڈی کام کے سلسلے میں حیدرآباد گئے ہوئے تھے۔

تلنگانہ: 10 ویں جماعت کے طلبہ نے سکول پرنسپل کو قتل کیا

،تصویر کا ذریعہUGC

مختلف زاویوں سے تفتیش

پولیس کو ابتدائی طور پر اس مقدمے میں خاطر خواہ شواہد نہیں مل سکے۔

تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک نوجوان کو سرخ رنگ کی ہوڈی پہنے مشتبہ انداز میں جاتے دیکھنے کے بعد پولیس نے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

ایس پی شرت چندر پوار نے کہا: ’ہم نے تقریباً 80 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور 70 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔‘

ان کے مطابق جائیداد کے تنازعات، خاندانی مسائل اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں سمیت مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی گئی۔

سکول پرنسپل روپا ریڈی

،تصویر کا ذریعہUGC

ایک لفظ سے سراغ کیسے ملا؟

پولیس کو معلوم ہوا کہ قتل سے قبل روپا ریڈی اپنی بہن سے فون پر بات کر رہی تھیں۔ ان کی بہن نے پولیس کو بتایا کہ روپا ریڈی نے اپنے سامنے کسی کو دیکھ کر ’بابو!‘ کہا تھا، جس کے فوراً بعد ان کا موبائل فون بند ہو گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صرف یہی ایک سراغ تھا کہ روپا ریڈی نے کسی کو سامنے دیکھ کر ’بابو‘ کہہ کر پکارا تھا۔

اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ روپا ریڈی عموماً سکول کے طلبہ کو ’بابو‘ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔

اسی کے بعد پولیس نے اس زاویے سے تحقیقات شروع کیں کہ اس قتل میں طلبہ ملوث ہو سکتے ہیں۔

ناگارجنا گرامر کانسیپٹ سکول

پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟

روپا ریڈی کے قتل کے بعد سکول میں چار دن کی تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔

ایس پی شرت چندر پوار نے بتایا کہ ’جب سکول دوبارہ کھلا تو 13 طلبہ غیر حاضر تھے۔ شک ہونے پر ہم نے ان میں سے 10ویں جماعت کے پانچ طلبہ سے پوچھ گچھ کی۔

’تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ روپا ریڈی کی موت کے بعد دو طلبہ نے غیر معمولی طور پر زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہوئے دعوتیں دی تھیں۔ جب انھیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی تو ابتدا میں انھوں نے کہا کہ یہ رقم ان کے والدین نے دی ہے، لیکن بعد میں انھوں نے قتل کا اعتراف کر لیا۔‘

ان کے مطابق پہلے طالب علم سے ایک لاکھ 54 ہزار روپے نقد اور ایک آئی فون برآمد کیا گیا۔ طالب علم نے بتایا کہ اس نے یہ آئی فون 60 ہزار روپے میں خریدا تھا۔

چونکہ دونوں ملزمان نابالغ ہیں، اس لیے پولیس نے ان کی شناخت، آبائی علاقے یا خاندان کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ اسی وجہ سے بی بی سی ان کے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر سکا۔

’مٹی اور پتھر کے ڈھیر پر چڑھ کر گھر میں داخل ہوئے‘

پولیس کے مطابق دو ملزم طلبہ میں سے ایک روپا ریڈی کے گھر کے اندر داخل ہوئے جبکہ دوسرے باہر نگرانی کرتے رہے۔

جے پی کالونی میں واقع روپا ریڈی کے گھر کے دونوں جانب خالی پلاٹ تھے۔ ایک طرف سڑک اور دوسری طرف مکان موجود تھا۔

گھر کے پچھلے حصے میں مٹی اور پتھروں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم انھی کے ذریعے گھر کے اندر داخل ہوئے۔ مبینہ طور پر انھوں نے کچن کے دروازے سے گھر میں داخل ہو کر قتل کیا۔

گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے۔ تاہم جارج ریڈی نے بتایا کہ جس سمت سے طالب علم گھر میں داخل ہوئے، اس طرف موجود کیمرے کا رخ چند روز پہلے بدل دیا گیا تھا۔

ان کے مطابق تعمیراتی سامان کی نگرانی کے لیے کیمرہ دوسری سمت موڑا گیا تھا، جس کے باعث کچن کے دروازے کے علاقے کی ریکارڈنگ نہیں ہو سکی۔

تاہم ملزم طالب علم کی نقل و حرکت پڑوسی گھروں کے سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ ہو گئی تھی۔

بی بی سی کی ٹیم جب روپا ریڈی کے گھر پہنچی تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ اساتذہ نے بتایا کہ خاندان کے افراد آخری رسومات میں مصروف تھے۔

تلنگانہ: 10 ویں جماعت کے طلبہ نے سکول پرنسپل کو قتل کیا

،تصویر کا ذریعہUGC

’برآمد شدہ نوٹوں پر خون کے دھبے تھے‘

ایس پی نے صحافیوں کو بتایا کہ طالب علم سے برآمد ہونے والے تین کرنسی نوٹوں پر خون کے دھبے موجود تھے، اور لیبارٹری جانچ سے تصدیق ہوئی کہ وہ انسانی خون تھا۔

پولیس کا خیال ہے کہ تقریباً 15 سے 20 روز قبل پیش آنے والا ایک واقعہ بھی اس قتل کا سبب بن سکتا ہے۔

ایس پی کے مطابق: ’ایک ملزم طالب علم کے بیگ سے موبائل فون اور رقم ملنے کے بعد انھیں ہاسٹل سے نکال کر ڈے سکالر بنا دیا گیا تھا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ وہ شراب کے عادی تھے اور پُر تعیش زندگی کے لیے کسی بھی طرح پیسہ کمانا چاہتے تھے۔ ایسے حالات میں ہاسٹل کی سہولت ختم کیے جانے پر پیدا ہونے والی ناراضی کے باعث انھوں نے ایک اور طالب علم کے ساتھ مل کر پرنسپل کے گھر ڈکیتی کا منصوبہ بنایا۔‘

ایس پی شرتھ چندر پوار نے کہا: ’ہم نے تقریباً 80 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور 70 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہUGC

،تصویر کا کیپشنایس پی شرتھ چندر پوار نے کہا: ’ہم نے تقریباً 80 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور 70 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔‘

’چار یا پانچ دن نگرانی کی‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پولیس کے مطابق قتل سے پہلے ملزمان نے چار یا پانچ دن تک علاقے کی نگرانی کی تھی۔

ایس پی نے کہا: ’جب انھیں معلوم ہوا کہ 11 اگست تک سکول فیس جمع کی جائے گی تو انھوں نے ڈکیتی کا منصوبہ بنایا۔ قتل سے پہلے انھوں نے چاقو، دستانے اور ماسک خریدے۔‘

’سکول ختم ہونے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ روپا ریڈی شام کو گھر واپس آتی ہیں، جس کے بعد وہ پچھلی طرف سے گھر میں داخل ہوئے۔ ایک طالب علم باہر کھڑے رہے جبکہ دوسرے اندر گئے۔‘

’جب وہ گھر سے رقم نکال رہے تھے تو روپا ریڈی نے انھیں دیکھ لیا اور شور مچایا۔ اس پر طالب علم نے اپنے پاس موجود چاقو سے انھیں زخمی کر دیا۔ اس دوران ان کا موبائل فون نیچے گر گیا۔ طالب علم کو خدشہ تھا کہ وہ کسی کو فون کر کے واقعے کی اطلاع دے سکتی ہیں، اس لیے وہ موبائل بھی ساتھ لے گئے۔‘

ایس پی کے مطابق روپا ریڈی نے انھیں چوری کرتے دیکھ لیا تھا، اسی خوف کے باعث طالب علم نے ان کو قتل کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں طلبہ یوٹیوب پر تیزی سے پیسہ کمانے کے طریقے تلاش کرتے تھے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک ماہ قبل گوا کی سیر پر گئے تھے۔ ملزمان سے روپا ریڈی کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے۔

تلنگانہ: سکول پرنسپل روپا ریڈی کے قتل میں 10ویں جماعت کے دو طلبہ گرفتار کیے گئے

،تصویر کا ذریعہUGC

روپا ریڈی 1999 سے سکول چلا رہی تھیں

روپا ریڈی اور رانی ریڈی نے ناگارجنا گرامر کانسیپٹ سکول 1999 میں قائم کیا تھا۔ اس سے قبل دونوں ایک نجی سکول میں بطور معلمہ کام کرتی تھیں اور بعد میں الگ ہو کر انھوں نے یہ ادارہ قائم کیا۔

رانی ریڈی نے کہا: ’جب ہم نے سکول قائم کرنے کا خیال پیش کیا تو روپا ریڈی بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئیں۔ تب سے ہم بغیر کسی مسئلے کے سکول چلا رہے تھے۔‘

بی بی سی نے رانی ریڈی کے شوہر جارج ریڈی سے بھی بات کی، جو سرکاری سکول میں استاد رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ہم روپا ریڈی کو بچپن سے جانتے تھے۔ اسی لیے جب ہم نے سکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو میں اور میری اہلیہ رانی ریڈی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ پہلے ہم ایک ہاسٹل بھی چلاتے تھے، لیکن کورونا کے بعد چند سال کے لیے اسے بند کر دیا گیا تھا۔ دو سال قبل اسے دوبارہ شروع کیا گیا اور اس کی ذمہ داریاں دو اساتذہ کے حوالے کر دی گئیں۔‘

جارج ریڈی نے بتایا کہ روپا ریڈی نے آخری بار چھ یا سات اگست کو ان سے بات کی تھی اور اپنے بھائی کی وفات کے بعد وہ کام میں زیادہ مصروف تھیں۔

’ہم نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ ایسا افسوس ناک واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ واقعے کے اگلے روز صبح جب راجیندر ریڈی نے ہمیں فون کیا تو ہم شدید صدمے میں آ گئے۔‘

جارج ریڈی نے انھیں یاد کرتے ہوئے کہا: ’یہ جان کر ہمیں بہت دکھ ہوا کہ اس واقعے میں طلبہ ملوث تھے۔ روپا ریڈی ہمیشہ طلبہ سے بہت شفقت سے پیش آتی تھیں۔‘

تلنگانہ: سکول پرنسپل روپا ریڈی کے قتل میں 10ویں جماعت کے دو طلبہ گرفتار کیے گئے

،تصویر کا ذریعہUGC

’بچوں کے رویے پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے‘

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ماہرِ نفسیات اور کونسلر انیتا آرے نے بی بی سی کو بتایا کہ رویے سے متعلق مسائل کم عمری ہی میں بچوں میں غیر معمولی رجحانات پیدا کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’بچپن سے ہر مانگی گئی چیز فوراً فراہم کرنا درست نہیں۔ جب بچوں کو ایسی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے جہاں انھیں آسانی سے سب کچھ نہیں ملتا، تو ان میں انتہا پسندانہ یا غلط رویوں کی طرف مائل ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

’بچوں کو کم عمری ہی سے سکھانا چاہیے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔ انھیں یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ ہر چیز محنت سے حاصل ہوتی ہے اور کچھ بھی آسانی سے نہیں ملتا۔‘

انیتا آرے کے مطابق نظم و ضبط برقرار رکھنے میں والدین سے لے کر اساتذہ تک سب کی ذمہ داری ہے، اور سب کو بچوں کے رویے پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے۔